Let we struggle our way

Posts Tagged ‘war techniques’

چھاپہ مار جنگ – شہری ماحول- حکمت عملی (حصّہ دوم )

In case study, gurriella warfare on January 4, 2011 at 1:15 am

گزشتہ سے پیوستہ ……
چھاپہ مار جنگ – شہری ماحول- حکمت عملی

تحریر نواز بگٹی

گزشتہ مضمون میں آئرش ریپبلکن آرمی کی جنگی حکمت عملی کا بغور جائزہ لیا گیا ، اس مضمون میں ماضی قریب کی مشہور زمانہ افغان چھاپہ مار جنگ یا افغان مجاہدین کی اختیار کردہ حکمت عملیوں پر غور کیا جاۓ گا  – واضح رہے روسی افواج کے خلاف اس جنگ میں افغانوں کو امریکہ ، سعودی عرب، اور پاکستان کی واضح حمایت بھی حاصل تھی – اور افغان چھاپہ ماروں کی تربیت امریکی و پاکستانی افواج نے انتہائی پیشہ ورانہ خطوط پر کی تھی –

افغان جنگ کے بارے میں امریکی عسکری تجزیہ نگار “بمن . روبرٹ. ایف ” لکھتے ہیں ” روسی افواج نے تقریباً تمام بڑی شاہراہوں پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں ، خاص طور پر شمالی صوبہ جات کابل اور تمریز کے مابین تو واضح طور پر انتہائی فعال نظر آتے تھے – اس اہتمام کے باوجود کابل میں حکام اپنے عہدیداران کی حفاظت کے لئے سخت مشکلات کا شکار تھے ، جنھیں دارلحکومت  ہی میں آۓ روز حملوں کا سامنا تھا – مزاحمتی تحریک کی جانب سے نشانہ بازی ، بم حملے ،اور قتال کا سلسلہ جاری تھا-“

مجاہدین کی نسبتاً چھوٹی ٹکڑیاں گھات لگا کر حملہ آور ہوتی تھیں – ایسے حملوں کی اہمیت عسکری کم ، سیاسی و نفسیاتی زیادہ ہوتی تھی -ایسے حملوں کی زد میں زیادہ تر حکومتی و سیاسی ڈھانچہ ہی رہتا تھا – روسی ہمیشہ ایسے حملوں کو دہشت گردی اور سبوتاژ کی کاروائیوں کا نام دیتے رہے –   روسیوں کے خیال میں یہ ایسے رجعت پسند دہشت گردوں کا ٹولہ تھا جنھیں پڑوسی ملک پاکستان سے ایسے حملوں کی تربیت دے کر بھیجا جاتا تھا-

اگرچہ مجاہدین کو شہر کے مضافاتی علاقوں اور اہم شاہراہوں سے ذرا ہٹ کے اندروں شہر کے گلی کوچوں میں آمد و رفت میں کوئی خاص مشکل درپیش نہیں تھی ، اور اکثر وہاں وہ  اپنی کاروائیاں بھی کرتے تھے ، لیکن انھیں با سلیقہ اور مناسب منصوبہ بندی کی نا کافی صلاحیتوں کی بنا پر بہت کم کامیابی نصیب ہوتی تھی –

وقت ، تجربے ، اور بیرونی پیشہ وارانہ تربیت نے مجاہدین کی صلاحیتوں کو واضح طور پر نکھارنا شروع کیا – کچھ ایسے قصبے بھی چھاپہ مار کاروائیوں کا نشانہ بنے جو نہ تو براہ راست روسی افواج کے قبضے میں تھے نہ ہی وہاں روسی حمایت یافتہ افغان افواج کے – ان لڑائیوں کی شدّت بھی کچھ زیادہ ہی ہوتی تھی ، اور ایسی لڑائیوں کا بنیادی مقصد شاید مذکورہ قصبے پر اپنے اختیار کو مستحکم کرنا ہوتا تھا .ان لڑائیوں میں بھی معروف چارہ ڈالنے والی حکمت عملی ہی استعمال ہوتی تھی ، مجاہدین قصبے کے باہر گزرتی  ہوئی روسی افواج کے کاروانوں پر فائرنگ کرتے ہوے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق پیچھے ہٹتے ، اور روسی افواج کو اپنے پیچھے لگا کر قصبے میں داخل ہونے پر مجبور کرتے ، قصبے کی کچی دیواریں کسی مضبوط مورچے کا کام دیتی تھیں –
نسبتاً بڑی کاروائیوں کی منصوبہ بندی میں حفاظتی پہلووں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانے لگا ، جس کی واضح مثال کابل میں ” میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی ” پر کیا جانے والا مشہور حملہ  ہے- افغان مجاہدین کے مربی امریکہ کے ایک عسکری مبصر ” ڈبلیو .گرو ” اپنی تصنیفات میں اس حملے کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ اس حملے میں کم و بیش ١٢٠ مجاہدین نے حصّہ لیا ، اور حقیقی منصوبے کا علم سواۓ چند کمانداروں کے کسی کو نہ تھا ، حصّہ لینے والی سپاہ جوں جوں مقررہ جگہ پر پہنچتی گئی انھیں ان کے انفرادی فرائض کے براۓ میں اختصار سے بتا دیا جاتا نہ کہ مکمل منصوبے کے بارے میں – ( واضح رہے کہ مذکورہ مصنف کو مجاہدین کی صفوں میں واضح اثر و رسوخ حاصل تھا اور مجاہدین کی منصوبہ بندی کے بارے میں انکی انکشافات یا معلومات کو بہت حد تک منطقی اور حقیقت سے قریب تر سمجھا جاتا ہے – )
افغان جنگ میں شہری معرکوں کے اہداف کا انتخاب دوراندیشی سے کیا جاتا تھا ، اور ان سے کوئی فوری نتائج کا حصول شاید منصوبہ سازوں  کا مطمع نظر نہیں تھا -دور رس نتائج کے حصول میں مختلف چھاپہ مار تنظیمیں نظریاتی اختلافات کے باوجود متحد نظر آتی تھیں – یہاں تک کہ بعض مواقع پر شیعہ اور سنی ، روایتی طور پر حریف مذہبی  مسالک کی  شناخت رکھنے کے باوجود اکٹھی کاروائیوں میں مصروف عمل نظر آے-
مجاہدین کو یہاں بھی تربیتی مسائل کا سامنا بڑی شدت سے رہا ، اور اکثر معرکوں کے دوران ہی نئی پود کی تربیت کی جاتی تھی -صرف مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے یا پڑوسی ممالک کی سرحدوں کے قریب رہائشی چھاپہ ماروں کو نشانے بازی اور آر.پی-جی- چلانے کی معمولی تربیت دینا ممکن تھا ، لیکن جنگی مہارت کا فقدان اور ضروری تربیت کی کمی افغان چھاپہ ماروں کی بھی سب سے بڑی کمزوری شمار کی جاتی ہے –
افغانستان کی روایتی طرز رہائش کی بنا پرشہری عمارتوں کی کم بلندی اور ایک دوسرے سے نسبتاً زیادہ فاصلے کی وجہ سے بلندیوں کی روایتی بر تری سے افغان چھاپہ مار تقریباً محروم ہی رہے ، بہر حال تمام تر محرومی کے باوجود حسب حال بلندی سے استفادہ بھی کیا جاتا رہا -چونکہ افغان شہری ماحول سه جہتی جنگ کے لیۓ کم سازگار تھی ، لہذا زیادہ تر معرکے زمین یا پھر عمارتوں کی پہلی منزل ہی سے لڑے جاتے تھے – اکثر روسی فضائیہ ، توپ خانے یا بکتر بند حملوں سے بچنے کی خاطر چھاپہ مار گلیوں میں لڑنے کو ترجیح دیتے تھے – زیر زمین مورچوں کے کوئی خاص شواہد نہیں مل پاۓ-
گھات لگانے کے لیۓ ایسے مصروف مضافاتی بازاروں کا انتخاب کیا جاتا تھا جہاں روسی افواج کی آمد و رفت نسبتاً زیادہ ہوتی تھی -چھاپہ مار ایسی کاروائیوں کے لیۓ اکثر چھوٹے گروہوں کی شکل میں لڑنا پسند کرتے تھے – عام طور پر ایسے گروہ چار سے پانچ افراد پر مشتمل ہوتے تھے – افغان چھاپہ ماروں کی امتیازی خصوصیات شاید یہ بھی ہے کہ ایسے ہر گروہ کے پاس کم از کم ایک آر -پی-جی- ضرور ہوتی تھی – ایسے کوئی شواہد دستیاب نہیں کہ چھاپہ ماروں نے روسی افواج کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیۓ آر-پی-جی- کا دانستہ استعمال کیا ہو، بلکہ اس ہتھیار کو دوران جنگ بکتر بند گاڑیوں سے سامنا ہونے کی صورت میں ہی استعمال کیا جاتا تھا  – ضروری نہیں کہ ہر معرکے میں انکا سامنا بکتر بند گاڑیوں سے ہوتا ، لیکن ہر معرکے میں آر-پی-جی کا ہونا انکی احتیاط پسندی کہی جا سکتی ہے –
مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیۓ عمارتوں میں گھسنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا تھا ، افغان چھاپہ مار عمارتوں کی چھت سے اندر آنے کو پسند کرتے تھے ، اس مقصد کے لیۓ قرب و جوار کی کچی پکّی دیواروں کو استعمال کیا جاتا ، اور اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوتا تو رسی یا سیڑھی بھی استعمال کی جاتی تھی -اگر کسی غیر مقبوضہ قصبے یا دیہات میں کوئی لڑائی مقصود ہوتی تو مجاہدین چھتوں پر نسبتاً بھاری ہتھیار بھی نصب کر لیتے تھے-
چھاپہ مار کسی بھی عمارت کو محفوظ کرنے یا وہاں سے عام افراد کو حملے سے قبل ہٹانے کی زحمت نہیں کرتے تھے – افغان چھاپہ مار حادثاتی طور پر ہونے والے غیر فوجی نقصانات پر بھی کسی تاسف کا شکار نظر نہیں آۓ – بم حملوں میں ہونے والے نا دانستہ غیر عسکری اموات سے اگرچہ چھاپہ ماروں کو سیاسی نقصان سے دو چار ہونا پڑتا تھا لیکن انھیں مخصوص اہداف کے حصول کی خاطر یہ سب گوارا تھا- چھاپہ ماروں کی بمباری / آر-پی-جی حملوں کے بنیادی اہداف روسی افواج ، انکی حمایت یافتہ افغانی افواج یا پھر کمیونسٹ پارٹی کے عھدے دار ہی ہوتے تھے – چونکہ فطری طور پر عوام کے درمیان بسنے والے اہداف پر  ایسے حملوں میں معصوم لوگوں کو بھی موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچایا جا سکتا ،افغان چھاپہ مار بھی اس سلسلے میں بے بس ہی تھے –
اگرچہ نشانہ بازی چھاپہ مار جنگ میں ایک کلیدی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس جنگ میں کوئی خاص نشانہ بازی یا سنیپنگ نظر نہیں آتی ، شاید اس کی وجہ حریف طاقتوں کی صفوں میں مشاق نشانہ بازوں کی کمی تھی –
افغان سرزمین پر لڑی جانے والی اس تاریخی جنگ میں چھاپہ ماروں کی غیر متوقع حملہ کرنے کی صلاحیت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا – اگر چہ یہ سب عوامی تائید کے بل بوتے ہی پر ممکن تھا ، لیکن بعض مواقع پر ایسے حملوں کے لیۓ مطلوبہ مقام سے باہر سرگرم چھاپہ ماروں کو بھی مدعو کیا گیا   – افغان چھاپہ مار اہداف تک پہنچنے اور با حفاظت واپسی کے لیۓ انتہائی عرق ریزی سے منصوبہ بندی کے عادی تھے – اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کی غرض سے حملوں کے لیۓ چھاپہ ماروں کی عام گزرگاہوں کا انتخاب کیا جاتا تھا تا کہ حملے کے لیۓ موافق موقع کے منتظر کسی چھاپہ مار کی سرگرمی روسی افواج یا ان کے جاسوسوں کی نظروں سے محفوظ رہے- مضافاتی آبادی میں موجود چھاپہ ماروں کے  ہمدرد اور شہروں کے بارے میں ان کی جامع معلومات ، منصوبہ بندی میں بہت  کارآمد ثابت ہوتی تھیں – زیادہ تر نقل و حرکت پیدل ہی ہوتی تھی اور عام افغانوں کے دور دراز علاقوں سے شہروں تک پیدل آنے اور پیدل واپسی کی عادت کے پیش نظر یہ ایک کامیاب حکمت عملی تھی – عام طور پر قرب و جوار  کے دیہاتوں میں رہ کر کسی بھی مہم کی منصوبہ بندی کی جاتی ، ضروری ہتھیاروں اور افرادی قوت کے بارے میں حتمی تسلی کے بعد پیش قدمی کا فیصلہ کیا جاتا – شہر میں داخل ہونے کے بعد وہ (اپنی جامع معلومات کی بدولت ) تیزی سے اپنے مطلوبہ مقام کی جانب پیش قدمی کے قابل ہوتے تھے – روسی افواج عام طور پر غیر محفوظ علاقوں میں محتاط نقل و ہرقت کی عادی تھی ، اور بلا ضرورت گشت کرنے سے گریز کرتے تھے ، ایسے علاقوں سے بخوبی واقف چھاپہ مار دشمن کی نظروں میں آۓ بغیر با آسانی ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے تھے – اور با وقت ضرورت مختصر سے وقت میں چھاپہ ماروں کی بڑی تعداد کا جمع ہونا غیر معمولی نہیں تھا -بسا اوقات کسی کاروائی میں زیادہ افرادی قوت کے پیش نظر مختلف چھاپہ مار تنظیمیں علاقے میں موجود اپنی اپنی افرادی قوت کو جمع کرتے تھے ، اور متحد ہو کر ہدف پر دھاوا بول دیا جاتا تھا – کاروائی کے بعد ممکنہ شدید رد عمل کا خوف چھاپہ ماروں کے جلد از جلد منتشر ہونے کا متقاضی ہوتا ہے ، جس کے لیۓ افغان چھاپہ مار ممکنہ کم وقت میں مقامی لوگوں میں گھل مل کر اپنے پرانے راستے سے محفوظ مقامات کی طرف چلے جاتے تھے –
جیسا کہ افغان چھاپہ ماروں کی تربیت کے بارے میں دو طاقتور افواج (امریکہ و پاکستان ) کا ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیں ، اسی تربیت کا اثر تھا کہ افغان چھاپہ ماروں نے میدان جنگ کے بارے میں اپنے تصور کو روایتی فلسفوں کی حدود سے زیادہ وسیع کر لیا – اب چھاپہ مار بہتر منصوبہ بندی کے اہل ہونے لگے تھے ، وہ اپنے منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کو پہلے سے کہیں زیادہ  اہمیت دینے لگے – ایک وقت تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ مہم میں سرگرم ٨٠ فی صد افرادی قوت کو صرف حفاظت پر ہی تعینات کیا جانے لگا-  چونکہ اکثر شہروں میں رات کو کرفیو کا نفاذ رہنے لگا اور بڑی تعداد میں روسی افواج رات بھر شہر کی گلیوں میں تعینات رہنے لگیں، جس کی وجہ سے  چھاپہ ماروں کو مشکلات بھی پیش آنے لگیں-
مجاھدین/چھاپہ ماروں کی  انہی عادات کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد روسی افواج لڑائی کے بعد گرفتاریوں ، یا استعمال شدہ اسلحہ کی برآمدگی پر بہت کم ہی وقت زیاں کرتی تھیں -اگرچہ شہر میں مصروف عمل چھاپہ مار تنظیموں کو دیہاتوں میں مصروف گوریلا تنظیموں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سستی اور نا اہلی کے الزامات کا سامنا بھی رہا ، لیکن ان کی اہداف کی نشاندہی ، جاسوسوں سے ملنے والی معلومات کا بروقت اور مناسب استعمال کرنے کی صلاحیت ، اور دشمن کو اخلاقی و نفسیاتی طور پر پستی کی طرف دھکیلنے میں شاید ہی کوئی دیہات کی تنظیم مقابلہ کر سکی – اصل میں شہری چھاپہ ماروں کی  ان صلاحیتوں میں اضافے کی وجہ انہیں  دستیاب مقامی آبادی میں گھلنے ملنے کے خاطر خواہ مواقع تھے ، انہیں اپنے اہداف کو قریب سے دیکھنے ، انکی کمزوریوں کا بغور جائزہ لینے کے متعدد مواقع میسر تھے – یہی وجہ تھی کہ انکی  تباہ کن منصوبہ بندی کے سامنے دیہی علاقوں میں برسر پیکار تنظیموں کا قد انتہائی گھٹ جاتا ہے –  جبکہ انکے برعکس دیہاتوں میں سرگرم عمل چھاپہ مار تنظیموں کے ارکان اپنی کمین گاہوں میں تنہائی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے –  انکے فطری حدود و پیشہ وارانہ مجبوریاں انکی صلاحیتوں کے محدود ہونے کی وجہ تھیں ، لیکن دیہی علاقوں میں بر سر پیکار تنظیموں کی پوری تحریک میں اہمیت چنداں کم نہیں ہوتی – دیہی تنظیموں کے منصوبوں میں اہداف کے انتخاب کا طریقہ کار بھی ذرا مختلف ہوتا تھا ، جہاں شہری تنظیمیں گنجان آباد علاقوں کو پسند کرتے تھے وہیں دیہی تنظیمیں غیر آباد علاقوں میں کاروائی کو زیادہ سہل اور قابل عمل سمجھا جاتا تھا – اگر قابض افواج کے کسی کارواں کو کوئی لمبا سفر درپیش ہوتا تو حتیٰ لا مکان تمام راستوں پر مناسب فاصلے پر مشاہداتی چوکیاں تعینات کی جاتی تھیں ، اور مستقل گشت کا ضروری اہتمام بھی کیا جاتا تھا – تاکہ دیہی چھاپہ مار تنظیموں کے ممکنہ حملوں سے بچا جا سکتا-  ایسے بندو بست سے نمٹنے کے لیۓ چھاپہ مار تنظیمیں ہر ایسی چوکی کو مصروف رکھنے کے لیۓ ایک الگ گروہ ترتیب دیا جاتا تھا جو  ممکنہ طور پر چھاپہ مار کاروائی کے لیۓ کوئی مسائل پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا – تھوڑی سی نفری کو اصل ہدف پر حملے کے لیۓ استعمال کیا جاتا تھا ، جبکہ حفاظتی اقدامات اور ممکنہ جوابی کاروائی کے لیۓ آنے والی افواج کا راستہ روکنے پر تعینات کیا جاتا تھا –
دیہی تنظیموں کا ضمنی ذکر ذرا طویل ہو گیا جس کے لیۓ معذرت ، بات ہو رہی تھی شہروں میں بر سر پیکار گوریلا تنظیموں کی ، مقامی آبادی میں انکے گھلنے ملنے کی صلاحیت انھیں روسی افواج اور روسی حمایت یافتہ افغان حکّام کو با آسانی ہدف بنانے کا موقع فراہم کرتی تھی ، جس سے کما حقہ فائدہ بھی اٹھایا جاتا تھا – روسی افواج کی خدمات پر مامور غیر فوجی افغانوں کو لالچ ، دھونس ، دھمکی یا پھر فطری ہمدردی کی بنا پر اپنے حق میں استعمال کرنا چھاپہ ماروں کے لیۓ نسبتاً آسان اور سود مند ثابت ہوا- ایسے افراد کے تعاون سے انھیں اہم روسی / روس کے حمایتی افراد کو ان کے محفوظ عمارتوں میں کامیابی سے نشانہ بنانے کافی مدد ملتی تھی – عمارت میں موجود افراد ، انکی مصروفیات ، انکے اوقات کار ، عمارت کی حفاظت پر مامور عملے کی تعداد ، حفاظتی عملے کے تعیناتی کے جگہوں کی درست نشاندہی ، غرضیکہ تمام ضروری معلومات ان ایجنٹوں سے حاصل کی جاتی تھی –
شہری چھاپہ مار کسی بھی تیرہ کی جداگانہ شناخت نہیں رکھتے تھے نہ ہی  کوئی شناختی علامت اور  وردی استعمال کرتے تھے – انکی دانستہ کوشش ہوتی تھی کہ عسکریت پسندوں اور عام شہری آبادی میں تفریق کسی کے لیۓ بھی انتہائی دشوار ہو -اس حکمت عملی کی وجہ سے وہ عام طور پر روسی افواج کے سامنے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے روز مرّہ کے کام انجام دیتے تھے -عام طور پر بزرگ شہریوں کو ہتھیاروں کی نقل و حمل اور پیغام رسانی کے لیۓ استعمال کیا جاتا تھا – کچھ مخصوص مواقع پر تو برقع پوش خواتین سے بھی  سرکاری عمارتوں میں بم نصب کرنے کا کام لیا گیا – ایک روسی فوجی صلاحکار کو اغوا کرنے کے لیۓ چھاپہ مار افغان فوجیوں کی مخصوص وردی میں آے تھے ، چند دیگر مواقع  پر بھی  چھاپہ ماروں نے دھوکہ دینے کے لیۓ روسی / سرکاری سپاہ کی مخصوص وردی استعمال کی –
ایک مرتبہ تو کچھ لوگ  مقامی کسانوں کی تیرہ کے کپڑے پہنے ، کئی روز تک روسی افواج کے لیۓ مخصوص بس اڈے پر ،  ریڑھی لگا کر تازہ پھل اور سبزیاں بیچتے رہے ، کئی روز کی مشق کے بعد انھوں نیں پھلوں کے نیچے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز بارود رکھ کر ریڑھی کو اس وقت بذریعہ  ریموٹ اڑا دیا ، جب آس پاس روسی سپاہ کی بڑی تعداد موجود تھی –  ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب چھاپہ ماروں نے غیر متوقع طور پر روسی افواج / سرکاری عھدے داروں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بغیر کوئی نقصان اٹھاۓکامیاب کاروائیاں کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور روسی افواج بے بسی سے تماشہ دیکھتی رہی-

جاری ہے ……….

(اگرچہ افغان تحریک ،   دیہی  علاقوں میں گوریلا تنظیموں کے شدید مزاحمت کے ذکر کے بغیر ادھورہ ہی رہ جاتا ہے کیونکہ تحریک کی ٧٠ فیصد جنگیں دیہی خطوں میں خالص دیہی ماحول میں لڑی گئیں، لیکن دیہی جنگی حکمت عملیوں کا ذکر کسی دوسرے مضمون میں مفصل رہے گا )

Advertisements

انقلابی تحریک براۓ قومی آزادی اور اس کے اجزا ترکیبی

In Baloch Freedom movement on January 1, 2011 at 2:34 am

انقلابی تحریک  براۓ  قومی  آزادی اور اس  کے  اجزا ترکیبی

 

تحقیق و ترتیب ، نواز بگٹی

 

آزاد منش انسانوں کی انقلابی تحاریک کو شدت پسندی کا نام دیا جاتا  ہے- اپنے جوہر میں یہ  تحریکیں اپنی مدد آپ کے نظریے کے تحت پھلتی پھولتی اور بار آور  ہوتی  ہیں- اپنی سرزمین پر انسان جب اپنے آپ کو محکوم و مفتوح سمجھنا شروع کر دے تو یہی اس انقلاب کا نقطہ آغاز ہوتا  ہے جسے جنگ آزادی کہا جاتا ہے-انسان جب آزادی کے جذبے سے سرشار کفن باندھ کرمیدان عمل میں اترتا ہے تو دنیا کی طاقتور استعماری قوتیں اپنے اور اپنی حواریوں کی مفادات کے تحفظ کی خاطر مد مقابل آتی ہیں. یوں بیرونی امداد کے بل بوتے پر جارح افواج کو اپنا قبضہ قائم رکہنے  کے لیے  نہ صرف مزید وقت مل جاتا ہے، بلکہ اس کی جارحانہ اقدامات میں مزید تیزی آ جاتی ہے .اپنا اقتدار ا علی   قائم رکہنے  کے لئے وہ نسل کشی جیسے انتہائی اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتا -( موجودہ پاکستان کی مثال ، یا پھر ماضی قریب میں یوگوسلاویہ) دوسری جانب آزادی کی تحریک کو بیرونی امداد اگرچہ مہمیز ضرور کرتی ہے لیکن یہ بیرونی امداد کی محتاج نہیں ہوتی – عام طور پر یہ امداد مادی وسائل کی فراہمی تک محدود ہوتی ہے اور بسا اوقات پر عزم انقلابی افردی قوت کو منظم کرنے  کے لئے با صلاحیت افراد بھی مہیا کیے جاتے ہیں ( جیسا کہ بولیویا میں ” ڈاکٹر چے ” کی آمد )  جو انقلابی قوت کو بہتر انداز میں منظم کر لیتی ہیں تا کہ انہیں جا رح طاقت کی بر بریت  کا مقابلہ کر نے  کے لئے مناسب طور پر تیار کیا جا سکے –  کسی بھی تحریک  میں درمیانے طبقے کی کلیدی  اہمیت ہوتی ہے -اس طبقے کی اکثریت اگرچہ فطری طور پر تحریک ہی سے وابستہ ہوتی ہے لیکن ایک قلیل تعداد  متاثر کن انفرادی مراعات کی لالچ میں اپنے آقاؤں کی تقلید میں سجدہ ریز ہوتی ہے (جیسے کہ بلوچستان میں نام نہاد پارلیمانی سیاست کے علمبردار ) ، اور یہ طبقہ قومی مفادات کو کمینگی کی حد تک نقصان پہنچاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہر تحریک نے ہمیشہ ان ناسوروں سے پہلے جان چھڑائی ہے

 

واضح اور غیر مبہم انقلابی نظریہ کی حامل  کسی بھی کامیاب تحریک کی اجزا  ترکیبی کچھ یوں ہوتی ہے

طویل المعیاد  منصوبہ / مستقل مزاجی

تحریک سے وابستہ سیاسی قوت کا بنیادی کردار

پر عزم و ہم آہنگ عسکری قوت

اور گوریلا انداز جنگ

 

طویل المعیاد  منصوبہ / مستقل مزاجی

 

ایک فاتح کو سرعت سے بے دخل کرنا کسی بھی تحریک کے لئے نہ صرف غیر معمولی  بلکہ اکثر نا ممکنات میں سے ہوتا ہے – وقت ، کو ہمیشہ دو دھاری تلوار  کی مانند استعمال کرنا چاہیے ، وہ  بھی کچھ اس انداز میں کہ دونوں دھار جا رح افواج کوکاٹیں – وقت کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ  ایک جانب تحریک کو جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا خاطر خواہ موقع ملتا ہے ، اور اپنی سیاسی و عسکری قوت کو بھی منتشر ہونے سے بچا لیتا ہے – تو دوسری طرف جتنی دیر تک مزاحمت جاری رہتی ہے قابض افواج کی حکومت کرنے اور تحریک آزادی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت دم توڑتی جاتی ہے. اور یوں تحریک  جلد کامیابی  کے منازل طے کرتی ہے

آزادی کے مشہور مفکر “ہو چی منہ ” وقت کے بارے میں رقمطراز ہیں ” وقت ہی حالت فتح ہے، کہ جس سے ہم دشمن کو شکست سے دو چار کرتے ہیں -وقت  فتح کے تینوں بنیادی اجزا میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ،   جغرافیہ اور عوامی اعانت کی باری بعد میں آتی ہے -صرف وقت ہی کے بل بوتے پر ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں

 

ماؤ زے تنگ ، جو کہ جدید مزا حمت میں ا علی مقام رکھتے ہیں ، وہ بھی طویل المدت مزاحمت کے قائل نظر آتے ہیں -ماؤ کی مشہور زمانہ اصول مزاحمت ،   ” پیچھے ہٹو ، جب وہ (دشمن ) آگے بڑھے- جب وہ رکے تو اسے خوفزدہ کرو – اس پر ہلہ بول دو جب وہ تھکا ماندہ ہو – اور اسکا پیچھا کرو جب وہ پیچھے ہٹے -”  آج بھی مشعل راہ سمجھی جاتی ہے

 

تحریک سے وابستہ سیاسی قوت کا بنیادی کردار

 

مزاحمتی تحریک کی عسکری قوت وقت کے ساتھ ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے جب کہ تحریک کا   مضبوط سیاسی ڈھانچہ  مستقل  بنیادوں پر قائم رہتا ہے – بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ سیاسی ڈھانچہ ، تحریک کی بقا ، نشو نما ، اور کامیابی کے مد میں  کم از کم  درج زیل  چھ (٦) بنیادی فرائض ادا کرتا ہے

 

معلومات جمع کرنا اورمتعلقہ افراد تک پہنچانا –

مالی و مادی امداد بہم پہنچانا-

افرادی قوت کا بندو بست کرنا-

تحریک کی سیاسی آثر پذیری-

عسکری قوت کو حسب ضرورت تخریبی سہولیات بہم پہنچانا –

متوازی حکومت کا قیام –

 

تحریک کی سیاسی و عسکری کامیابی میں  درست اور بروقت معلومات  بنیادی اہمیت کا حامل ہوتی ہیں – جارح افواج کی صفوں میں شامل کردہ اپنے وفادار ایجنٹوں کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کر کے نہ صرف دشمن کی چالوں کو نا کام بنایا جا سکتا ہے بلکہ شاطرانہ چالوں سے دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے – حتیٰ کہ وہ ہمدرد  جو کہ دشمن کی صفوں میں جگہ نہ پا سکے صرف دشمن افواج کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتے ہوے بروقت معلومات فراہم کر کے تحریک کے لئے انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں

ہمدردوں کی بڑی تعداد میں موجودگی سے عسکریت پسندوں کو اپنی روز مرہ ضروریات زندگی کے علاوہ طبی ضروریات کے بارے میں بھی نسبتاً کم پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے – اکثر ہمدردوں کی جانب سے کی جانے والی  رضاکارانہ مالی معاونت  عسکری تنظیم کے معاشی مسائل کو بھی کم کر دیتی ہے

اگر تحریک کی عوامی پذیرائی بڑھتی ہے تو اس سے جارح افواج کا کمزور ہونا فطری امر ہے -بڑھتی ہوئی عوامی پذیرائی گوریلا تنظیم کو افرادی قوت کی پریشانی سے بھی نجات دلاتی ہے ، یہی وجہ کہ جارحیت کا شکار گوریلا تنظیمیں نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں بلکہ پھل پھول رہی ہوتی ہیں-  عوام میں موجود ہمدردی کا یہ  عنصر غداروں کی بروقت نشاندہی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی تنظیم کا دست و بازو ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے غدار اپنے خوفناک انجام کو پہنچ کر دوسروں کے لئے عبرت کا سامان ہوتے ہیں

آخر کار آزادی پسند اپنی متوازی حکومت قائم کرنے میں  قامیاب ہو جاتے ہیں ، یوں تحریک ایک نۓ دور میں داخل ہو جاتی ہے -یہاں سیاسی و عسکری تنظیم کی ذمداریاں بڑھ جاتی ہیں – ایک طرف تو اپنے زیر اثر علاقوں میں لوگوں کو سماجی و سیاسی انصاف اور ان کے جان و مال کی حفاظت اس دور میں تحریک کی ذمداری بن جاتی ہے اور ذرا سی بے احتیاطی تحریک کے تمام کیئے کراۓ  پر پانی پھیر سکتی ہے –  دوسری طرف طاقتور جارح افواج کی جانب سے متوقع  شدید جارحیت  کا مقابلہ – متوازی حکومت کا دور اصل میں تحریک کے حقیقی امتحان کا دور ہوتا ہے

متوازی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے ہم خیال عالمی قوتوں کی نشاندہی کرے ، ان سے عسکری ، مالی و اخلاقی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے

اگر ہوشیاری اور احتیاط سے کم لیا جاتےتو یہ سیاسی   ڈھانچہ اپنے جوہر میں زرہ بندہوتا ہے – کسی بھی قابض قوت کے لئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ہوشیاری سے پروئ ہوئی گوریلا تنظیم کی لڑیوں کے خلاف مخبروں اور روایتی پولیس کی مدد سے خاطر خواہ کاروائی کر سکے -(جیسے کہ  تنظیم کی عسکری چھاپہ ماروں کا ایک  دوسرے کے بارے میں ممکنہ حد تک غیر متعلق ہونا یا ایک دوسرے کے بارے میں انتہائی کم معلومات / معلومات کا نہ  ہونا ).ایسے میں جارح اپنی با قاعدہ افواج کو میدان میں اتارنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، جارحیت کا بڑھتا ہوا استعمال ہمیشہ آزادی پسندوں کے حق میں ثابت ہوتا ہے

پر عزم و ہم آہنگ عسکری قوت

 

اس پر کوئی دو راۓ نہیں ہو سکتیں کہ ایک پر عزم عسکری قوت کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیابی سے ہمکنارنہیں ہو سکتی ہے – آزادی کے بنیادی اور رضاکارانہ حق کا تصور محض کتابی ہے کوئی بھی قابض رضاکارانہ طور پر مفتوحہ قوم کو اس کی آزادی نہیں لوٹاتا- ایک کامیاب تحریک کی بنیادی جز ہونے کے ناطے عسکری قیادت کا اپنے سیاسی قیادت سے ہم خیال ، مربوط اور  اکثر اس کے تا بیع ہونا ضروری ہوتا ہے

آزادی کی تحریک کے عسکری شاخ کے لئے یہ بلکل بھی ضروری نہیں کہ ہر عسکری معرکے میں کامیابی  ہی تحریک کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہو ، اس کے بلکل بر عکس جارح و قابض افواج کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اسے ہر معرکے میں کامیابی نصیب ہو وگرنہ افواج کی گرتی ہوئی ساکھ اس کے یقینی شکست میں بدل جاتی ہے.  اسی لیۓ اکثر تحریکوں کی قیادت اپنے سپاہ کی تحفظ  کو اولیت دیتے ہیں – گوریلا طرز جنگ “اپنی حفاظت اولین ترجیح ” ہی کے بنیادی اصول کی پیروی میں ہی کامیابی سے لڑی جا سکتی ہے

معروف  جرمن عسکری ماہر کلازوٹزشاید اس صورت حال کی بہتر توجیہ پیش کرتے ہیں ” جنگ — دار اصل سیاسی سرگرمیوں کے جاری رہنے کو کہتے ہیں – سیاسی سرگرمی لیکن کچھ اور طرح کی  ” – آزادی کی جنگ کے سیاسی و عسکری شاخوں کا مکمل ہم آہنگ و مربوط ہونے ہی میں دراصل کامیابی کا راز پنہاں ہے -ہم آہنگ سیاسی و عسکری قوتیں با ہم مل کر ہی معنی خیز جدو جہد کر سکتی ہیں

 

گوریلا انداز جنگ

 

چوتھا جز یعنی گوریلا طرز جنگ شاید آج تک کی تمام تحریکوں کا قدر مشترک ہی رہی ہے -ہمیشہ کمزور اقوام نے  طاقتور دشمن کے مقابلے میں   یہ تاریخی طریقہ استعمال کیا -جنگوں کے مروجہ زود فتح طریقوں کے بر عکس گوریلا اپنی جنگ کو کچھ اس انداز میں ڈیزائن کرتا ہے کے اسے اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کے مقابلے میں شکست کی ہزیمت سے دو چار ہونا نہ پڑے اگرچہ مروجہ جنگی طریقہ کار میں بڑے عساکر کو حرکت میں لانے کی ضرورت پڑتی ہے جب کہ گوریلا انفرادی سپاہ کے متحرک رکھنے اور نسبتاً انتہائی چھوٹی ٹکڑیوں کی لڑائی کو ترجیح دیتا ہے –  گوریلا حتیٰ الا مکان کوشش کرتا ہے کہ وو دشمن کی نظروں میں آۓ بغیر اپنی کاروائیاں جاری رکھے – جب کہ جارح افواج گوریلا تنظیم کی تلاش میں ہوتی ہیں -گوریلا اپنی مرضی سے ، اپنی منتخب جگہ ، اور اپنے حق میں حالات کو دیکھتے ہوے لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے ، جب کہ قابض افواج کے پاس انتخاب کا کوئی حق نہیں ہوتا انھیں گوریلا سپاہ سے ہر جگہ ہر حال میں لڑنا ہوتا ہے

یہی وجہ ہے کہ قابض افواج کی کسی چھوٹی سی ٹکڑی کو بسا اوقات بہت بڑے نقصان  سے دو چار ہونا پڑتا ہے – گوریلا جتنی سرعت سے برآمد ہو کر حملہ آور ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے غائب بھی ہو جاتا ہے – گوریلا سپاہ کا حملے کی جگہ کے آس پاس  رہنے کا مطلب اپنے لیۓ بہت بڑے دشمن کے ہاتھوں تباہی کو دعوت دینا ہوتا ہے ، اس لیۓ یہ توقع عبث ہے کہ گوریلا معرکے کے بعد جاۓ وقوعہ کے پاس پایا جاۓ- ایسی صورت حال میں اگر قابض افواج بعد از واقعہ کسی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے عوامی نقصان ، جس کے غیظ و غضب  کا سامنا بھر حال قابض قوت ہی کو کرنا ہوگا

جنوبی ویتنام جنگ میں شامل ایک امریکی جنرل ولیم کا کہنا ہے ” ایک علاقے میں گوریلا کمین گاہوں کی موجودگی کا پتا لگاۓ بغیر ٣٠،٠٠٠ سپاہ کی تعیناتی بری افواج کے ریکارڈ میں داخل دفتر کرنے کے مترادف ہے -” ( یعنی ٣٠،٠٠٠ سپاہ کی ایسی دانستہ تباہی کہ ان کا وجود صرف بری افواج کے ریکارڈ ز میں ہی مل پاۓ)

گوریلا جنگ ایک کثیر المقاصد جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے – اس کے کچھ بنیادی مقاصد کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ،

پہلے مرحلے میں ،

 

تحریک کی عسکری کاروائیاں قابض افواج و حکومت کی توجہ تحریک کے سیاسی سرگرمیوں سے ہٹا لیں تا کے تحریک کے سیاسی ڈھانچے کو اپنی جگہ بنانے اور پھلنے پھولنے کے لیۓ درکار مناسب وقت مل سکے

 

تحریک کی عسکری کاروائیاں قابض افواج کو ہراساں کرنے ، انھیں اخلاقی اور ذہنی طور پر پست کرنے کے لیۓ بھی کی جاتی ہیں

 

گوریلا عساکر کی کامیاب  کاروائیاں  اکثر قابض افواج کے اعصاب پر بہت بری  طرح  اثر انداز ہو کر تحریک کے اخلاقی  فتح پر منتج ہوتی ہیں

 

گوریلا کاروائیوں کی وجہ سے دشمن کے متحرک رہنے کے اخراجات دشمن کی اقتصادی تباہی کا بیس ہوتی ہیں ، اور اقتصادی زبوں حالی کی وجہ سے اوم پر عائد کردہ ٹکسیز   میں مزید اضافہ قابض افواج کی پرشانی کا فطری سبب  بن سکتی ہیں

نقل و حمل کی تنصیبات کی تباہی ، جس سے جارح افواج سرعت سے حرکت کرنیں کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے

 

دوسرے مرحلے میں ،

 

گوریلا عساکر کی کامیاب کاروائیوں سے متاثر ہو کر لوگوں کی اکثریت یا تو ان سے جا ملتی ہے یا پھر غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتی ہے ، کیوں کہ نظر آ آرہا ہوتا ہے کہ  قابض افواج اپنی حفاظت نہیں کر پاتیں تو عوام کی کیا کریں گی

 

قابض افواج تھکاوٹ اور اعصابی کمزوری کا شکار ہونے لگیں گی ، جیسے جیسے لڑائی طول کھینچتی جاۓ گی ، قابض افواج کی جارحیت میں فطری کمی آتی رہے گی

 

قابض افواج کی تھکاوٹ اور اعصابی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہووے تحریک کی سیاسی شاخ کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا ، در حقیقت یہی آزادی کی جانب پہلا سنگ میل ہے جو اس مرحلے پر عبور ہوتا ہے اور آزادی کی منزل  قدم بہ قدم قریب آتی جاتی ہے

 

آخری مرحلہ ،

 

اب وقت آ جاتا ہے جب گوریلا عساکر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ایک منظم اور بڑے فوج کی صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے – اس مرحلے پر مقبولیت اور عوامی پذیرائی سے لطف اندوز ہوتی یہ فوج قابض افواج پر باقاعدہ حملہ کر کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے – ایک فیصلہ کن جنگ تحریک کو آزادی کے منزل سے ہمکنار کر لیتا ہے

 

(اردو ٹائپنگ سے اپنی عدم واقفیت کی بنا پر پروف کی غلطیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جس کے لئے دلی معذرت )