Let we struggle our way

Posts Tagged ‘true face of Pakistani nation’

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

In abductions, baloch, Current Political, FC, isi, mi on January 12, 2011 at 11:19 pm

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

تحریر نواز بگٹی

اطلاع آئ ہے کہ بلوچستان کے دو معروف گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ کے ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا – فن و ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو چیزیں فطرت نے ابتداء ہی سے انسان کو تحفے میں دی ہیں – انسان پیدائشی طور پر بولنے اور رابطہ رکھنے کی صلاحیتوں کا مالک ہے – انسان اپنے ابتدائی دنوں سے ہی آواز اور تصویری ذرائع کو باہمی رابطے کے اوزاروں کی حیثیت سے بخوبی استعمال کرتا آیا ہے – شعر و شاعری کا استعمال  اپنے ماحول کی بھر پور  عکاسی اور  معاشرے کی ان سنی آواز کی نمائندگی کے حوالے سے فنون لطیفہ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں – کہتے ہیں کہ اچھا شاعر وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہو

شاعری کو عوامی زبان اور مقبولیت ہمیشہ گلوکاری کے صنف نے دی- یعنی اگر شاعر معاشرے کی آواز ہے تو  گلوکار شاعر کی زبان- قومی احساسات اور شعور کو اجاگر کرنے میں سب سے اہم کردار  شاعری اور گلوکاری نے ادا کیا- اور فن کو ثقافت کا درجہ ہمیشہ فن کے معاشرے میں رچ بس جانے کے بعد حاصل ہوتا ہے – جب ہم  فن و ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسا فن ہوتا ہے جو مکمل طور معاشرے کے دوسرے اجزاء میں تحلیل ہو کر روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاۓ
اگر قوم اپنے جہد آزادی کے ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شاعر معاشرے کے ان احساسات کی عکاسی میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو – اور ایک ایماندار شاعر کو نظر انداز کرنا کسی بھی گلوکار کے بس کی بات نہیں – ایسے میں قابض قوتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی طرح معاشرے کے ان اجتماعی آوازوں کو خاموش کروا دیا جاۓ
بلوچ گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کا اغوا بھی انہی غاصبانہ حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے – لیکن تاریخ سے بے بہرہ ، سماجی سائنس سے نا بلد ، طاقت کے نشے میں چور ان ریاستی افواج کو نہیں معلوم کہ تنگ و تاریک کوٹھریوں سے گونجنے والی آوازیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیں – دو معصوم گلوکاروں کو اغوا کرنے ، انھیں انسانیت سوز مظالم کا شکار بنانے سے ایک قوم کی آواز دبے گی تو کیا بلکہ مزید اونچی ہو کر ان کے ایوانوں کو زمین بوس کر دے گی
ہم مغوی علی جان اور شہزاد ندیم کی با سلامت واپسی کی دعا ہی کر سکتے ہیں

 

نوٹ ( ١٧ جنوری ٢٠١١) :  بلوچ قوم کی دعاؤں میں بھی شاید کوئی اثر نہیں رہی ، متذکرہ بالا بلوچ گلوکاروں کی مسخ شدہ لاشیں بسیمہ ( بلوچستان ) کے پاس مل گئی ہیں

 

Advertisements

سلمان تاثیر کا بہیمانہ قتل – پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مذہبی انتہا پسندوں کی طاقت کا جنونی مظاہرہ

In obsessive religious society on January 5, 2011 at 8:05 pm

سلمان تاثیر کا بہیمانہ قتل – پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مذہبی انتہا پسندوں کی طاقت کا جنونی مظاہرہ

تحریر نواز بگٹی –

آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے ، اور غلبان سب سے طاقتور صوبے کے گورنر سلمان تاثیر کو ملک کے دارلحکومت اسلام آباد کے ایک مصروف بازار میں انکے اپنے باڈی گارڈ ملک ممتاز نامی شخص نے سرکاری ہتھیار سے فائرنگ کر کے موت کے گھات اتار دیا –
واضح رہے کہ مقتول گورنرکا تعلق ایک تعلیم یافتہ ، اعتدال پسند گھرانے سے تھا – مقتول کے والد ایک معروف استاد ، اور شاعرہونے کے ساتھ ساتھ ،  اردو کے معروف شاعر جناب فیض احمد فیض  کے ہم زلف بھی تھے- انکی پرورش ایک سیکولر اور لبرل ماحول میں ہوئی تھی – مقتول اپنی جماعت کے صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے ، انھیں جماعت کے بانی رہنما ذوا لفقار بھٹو کے  چند معتمد ین میں شمار کیا جاتا تھا – پاکستان کے اعتدال پسند حلقوں میں اونچے قد کاٹھ کا حامل ، سلمان تاثیر ،اعلیٰ تعلیم یافتہ ، ایک کامیاب اور محنتی کاروباری شخصیت کے حوالے سے بھی اپنی الگ پہچان رکھتا تھا –
سلمان تاثیر کے سیاسی نظریات اور اسکی ذاتی زندگی  سے اختلاف کے کئی ایک وجوہات ہو سکتے ہیں ، لیکن ایک انتہائی بھونڈے الزام کے تحت انکا قتل پاکستان کے طاقتور طبقات کی مذہبی جنون اور پاگل پن کا مظہر ہے-
اب تک کی آمدہ اطلاعات کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی  تفتیش کے دوران وجہ قتل ، مقتول کے ناموس رسالت قوانین کے متعلق خیالات کو قرار دیا – یاد رہے وجہ اشتعال ایک مخصوص قانون کے کمزور پہلووں اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کے بارے میں مقتول کے خدشات اور اس قانون کی چند شقوں میں ضروری ترمیم کے بارے میں راۓ زنی بنی ، نہ کہ مقتول کی جانب سے شان رسالت میں کوئی مبینہ گستاخی- چند جاہل علماءنے بھی سلمان تاثیر کے خلاف قتل کے فتوے جاری کیے، جنھیں قتل اپنے حق میں جواز گردانتا ہے – یہاں اس امر کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ،کہ حال ہی میں ایک عیسائی دوشیزہ کے خلاف  چند مقامی مفاد پرستوں نے اپنے مذموم مقاصد پورے نہ ہونے پر تحفظ ناموس رسالت قانون کے تحت مقدمہ دائرکیا تو  مقامی عدالت نے قانون کی موشگافیوں اور کمزوریوں کی بناءپر مذکورہ خاتون آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنائی – مقدمے کی نا مناسب کاروائی ، اور انتہائی سزا کے خلاف نہ صرف پاکستان میں موجود اعتدال پسندوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر بھی حکومت وقت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا- مقتول نے بحیثیت گورنر نہ صرف مزکورہ خاتون کو انصاف کی یقین دہانی کروائی بلکہ مذکورہ قانون کے غلط استعمال پر بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا – جس پر موقع پرست و شر پسند ملاؤں نے اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کی خاطر ملک گیر احتجاج کیا بلکہ مقتول کے قتل کو شرعی اعتبار سے جائز بھی قرار دیا -یوں پاکستان کی نام نہاد عدالتوں سے ایک بیگناہ کو انصاف تو کیا ملتا ، اس کے حق میں آواز بلند کرنے والا تاثیر بھی اپنی جان گنوا بیٹھا –
گرفتاری کے وقت ملزم کی جو تصویر پاکستانی میڈیا نے جاری کی ، اس میں ملزم کے  چہرے پر سجی  مکروہ شیطانی مسکراہٹ ، پورے پاکستانی معاشرے کی عکّاسی کر رہی تھی – بعد ازاں مقامی عدالت میں پیشی کے دوران انتظامیہ کی جانب سے دانستہ طور پر انتہا پسند مجمعے کو ملزم پر گل پاشی اور اپنی عقیدت کے اظہار کا جو موقع دیا وہ کسی تبصرے کی محتاج نہیں – اس سے قبل دنیا صرف پاکستانی افواج کی مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کے رویے سال نالاں تھی لیکن اب شاید پورے پاکستانی سوچ کی ایک واضح تصویر دنیا بھر کے اعتدال پسند قوتوں کا منہ چڑا رہی ہے-  پاکستان کا یہ مکروہ چہرہ ، اسکے اتحادی مغربی ممالک کے لیۓ بھی ایک واضح پیغام ہے – اگر ان جنونی طاقتوں کی مالی و عسکری امداد جاری رہی تو یہاں روز تاثیر کو گولی کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا ، اور روز ہی آسیہ بی بی پھانسی کے پھندے کی منتظر ملے گی –
جس معاشر ے میں پاگل جنونی ہیرو بن جائیں ، اور لبرل خیالات کو بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا  جاۓ اس کے زوال کو کسی ہلاکو ، یا چنگیز خان کی ضرورت نہیں رہتی -یہ بد دماغ پاگل خود ہی اپنی موت کا سامان پیدا کرتے ہیں –

گاندھی جی کے عینک کی چوری

In Role of Pakistani media on January 5, 2011 at 3:01 pm

گاندھی جی کے عینک کی چوری

 

تحریر نواز بگٹی


پاکستان کے ایک موقر روزنامے نے  خبر دی ہے کہ ہندوستان کے صدارتی محل کے بہار باپو یعنی گاندھی جی کے مجسمے کا عینک چرا لیا گیا . ویسے اپس کی بات ہے ہندوستانی چور نے شاید جذبہ حب الوطنی سے مغلوب  ہو کر یہ تاریخی اقدام کیا . کیونکہ گاندھی جی اب اس پیرانہ سالی میں شاید اپنی قوم کے خرافات کو دیکھنے کا صدمہ برداشت نہ کر پاتے -سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی چوروں نے اپنی بین الا قوامی شہرت کے با وجود  ایسا کوئی تاریخی کارنامہ کیوں نہ انجام دیا ؟ توجناب  وہ صرف اسی وجہ سے کہ اس مملکت خداداد کے دور اندیش حکمران صدارتی محل کو بہت پہلے ہی اپنے  باباۓ قوم کی نظروں سے بہت دور مار گلہ کی پہاڑی جنگلات میں گھرے اسلام آباد شہر میں منتقل کر چکے ہیں. معروف مقولہ ہے ” آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل ” ، لیکن یہاں تو باقاعدہ پہاڑ اوجھل کا اہتمام ہے-  کیونکہ ہندوستان کی سیکولر سماجی روایات کے برعکس یہاں نہ صرف  مذہب کے نام پر ہم وطنوں کا گلا کاٹنا وجہ افتخار ،رشوت ستانی کو تہذیب،اور  گالم گلوچ کو سیاست  کا نام دیا جاتا ہے ، بلکہ اپنی شخصی مفادات کے حصول کی خاطر حسب منشاء شاہی فرمانوں کو قومی مفاہمت کے نام پر ملکی قانون کا درجہ دینا بھی نہایت آسان اور قبل عمل ہے- قصّہ صرف یہیں پر موقوف ہو تو بھی شاید ان کے  قائد برداشت کرلیتے  لیکن ریاستی گماشتوں کے ہاتھوں منظم قتل و غارت گری کو وسیع ترملکی مفادات کی گھنی چھاؤں  بھی مہیا کی جاتی ہے – کاغذ کے بے معنی نوٹوں کے حصول کی خاطراپنی ہی  بیٹیوں کو  بیچنے کا سرکاری سطح پر اہتمام اور اس کارنامے پر فخر کا اعزاز بھی اس مملکت خداداد کی اشرافیہ کو حاصل ہے- فوجی بیگار کیمپوں کی کہانی تو پرانی ہو چکی ، اب یہاں سرکاری افواج کے زیر سایہ جنسی غلامی کا منفعت بخش کاروبار بھی بڑی تیزی سے پھل پھول رہی ہے- اسلامی سے عسکری ریاست میں تبدیلی کے ناگزیر عمل سے گزرنے، اور عالمی طاقتوں کی دلالی کے کامیاب اور تیر بہ ہدف نسخوں تک رسائی نے پیشہ ور افواج کو کامیاب تجارت سے بھی روشناس کرا دیا- آرمی ویلفئر ٹرسٹ ، فوجی فاونڈیشن ، عسکری بنک ، بحریہ فاونڈیشن  ، فضایہ فاونڈیشن ، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی ، اور نہ جانے کتنی خالص تجارتی سرگرمیاں ریاستی افواج کی ذمہ داریاں ٹھہریں- طاقت راج کا صدیوں پرانا آزمودہ نسخہ آج بھی بہت کامیابی سے رائج ہے- شخصی ناپسندیدگی کی سزا آج بھی گولی ، نظریاتی اختلاف کی سزا موت ، قربانی کا جانور ہمیشہ کی طرح عوام ہی ہیں-اس قوم کے حاکم اگر اپنے   قائد کی خدمت میں اپنے  سارے قومی کارنامے تفصیلاً پیش کر دیتے غالب امکان تھا  کہ حضرت خود کشی کا ارتکاب کر لیتے  ، لیکن ابھی مظلوم و محکوم اقوام کے استحصال کی خاطر جناح کو تمام مفتوحہ اقوام کے مصنوعی قائد بنا کر پیش کرنے کی ضرورت ، اس کےمنافقانہ افکار کا پرچار ، جعلی اسلامی بھائی چارے کے ڈھونگ کی ضرورت تا دیر رہنی ہے ، اسی لیۓ پاکستانی باپو  کی بینائی چرانے سے مسلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا – یہی وجہ ہے کہ خراج تحسین کے نام پر اس قوم نے اپنے نام نہاد قائد کو بعد از مرگ بھی مسلح افواج کے ایک چاق و چوبند دستے کی تحویل میں رکھا ہے-