Let we struggle our way

Posts Tagged ‘Tactics of tyrant state’

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر – پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری

In baloch, FC, state on January 12, 2011 at 9:04 pm

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر – پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری

تحریر نواز بگٹی


اقبال نے یہ شعر چاہے کسی بھی پیراۓ میں کہی ہو ،لیکن  آج کے بلوچستان میں حاکموں کی سحر انگیز حکمت عملیوں کی شاید بہترین عکاسی کرتا ہے – ایک طویل اور جان لیوا جدو جہد ، ہزاروں انسانی جانوں ، خواہشات اور امنگوں کی قربانیوں کے بعد آج بلوچ قوم قبائلی تعصبات سے نکل کر ایک قوم کی تشکیل میں کامیاب ہوئی – تربت میں چلنے والی گولی کا درد ڈیرہ بگٹی میں محسوس کیا جاتا ہے تو کوہلو کا غم گوادر میں- غاصب ریاست اپنی تمام تر جبر کے با وجود اس یکجہتی کو ختم کرنے میں یکسر ناکام نظر آتی ہے-بلوچ قوم کی اسی جدوجہد کا ثمر ہے کہ ریاستی گماشتے بھی اپنی محفلوں میں ریاست پر تنقید میں عافیت سمجھتے ہیں
جب پنجابی ریاست نے محسوس کیا کہ بلوچ قوم لفظ بلوچ پر متحد ہوئی ہے تو انھوں نے اپنے حق میں الجھی ہوئی اس دور کو سلجھانے کے لئے بھی لفظ بلوچ کا استعمال کرنا شروع کیا – کبھی بلوچ قوم کو بلوچی روایات یاد دلائی جاتی ہیں تو کبھی ان سے معافی مانگنے کے ڈھونگ رچا کر بلوچی انا کی تشفّی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – ریاستی اداروں نے جب بلوچ مزاحمت کا نہ ٹوٹنے والا دم خم محسوس کیا تو ، اپنے زر خرید غلام ابن غلام ، نام نہاد سرداروں کو بلوچ وطن دفاعی تنظیم کے جھنڈے تلے ، بلوچوں کی نسل کشی کے نہ صرف اختیارات سونپ دیے بلکہ احکامات بھی جاری کر دیے -ایک طرف تو بلوچوں کی نسل کشی میں اپنے لیے آسانی کا سامان پیدا کیا گیا ، دوسری طرف بلوچ قوم کو اپنے مخلص سردار و نواب طبقے سے متنفر کرنے کی بھی مذموم کوشش کی گئی- حالانکہ آج کا با شعور بلوچ بخوبی جانتا ہے کہ بلوچ قومی تحریک سے وابستہ بلوچ نواب و سردار تحریک کے ایک عام کارکن ہی کی طرح پورے اخلاص اور نیک نیتی سے سرگرم ہیں- یہ جنگ کسی نواب کی اجارہ داری ، یا سردار کی سرداری کو محفوظ کرنے کی نہیں بلکہ بلوچ قوم کی آزادی و خود مختاری کی جنگ ہے
ریاست کی ایک اور چال بلوچوں کو نام نہاد بلوچ پارلیمانی سیاستدانوں کے توسط سے  یرغمال بنانے کی کوشش  بھی ہے- یہ سیاستداں ہر فورم پر بلوچوں کی بدقسمتی کا رونا رونے کا ڈرامہ تو خوب رچاتے ہیں ، لیکن استعماری قوتوں کے اقتدار کی کشتی سے اترنے کی زحمت نہیں کرتے- بلوچستان پیکج کے نام پر بلوچ قوم کو چند ہزار نوکریوں کے لولی پاپ سے بہلانے کی کوشش ہو ، یا بلوچ معدنی ذخائر کو پنجاب کے حوالے کرنے کو خود مختاری کا نام دینا ،یا پھر سمگلنگ روکنے کے بہانے بلوچ قوم پر ریاستی افواج کے مضبوط پہروں کا بندوبست ، ہر سیاہ کاری کا سہرا بلوچ قوم کے نام پر اپنے سر باندھنا انکا وطیرہ رہا ہے
ریاست اپنی ہر ناکام ہوتی چال کے بعد ایک نئی سحر انگیز چال کے ساتھ نمودار ہوتی ہے – آج کل ریاستی افواج کے بلوچ مقبوضہ و مفتوحہ علاقوں کے سربراہ ، آئ – جی – ایف -سی  بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے طوفانی دورے فرما رہے ہیں- بلوچوں کے نام نہاد رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے صاحب بہادر بلوچ دوستی کا لبادہ اوڑھے اپنی سپاہ کے شاندار کرتوتوں کا بچشم خود نظارہ فرما رہے ہیں- خفیہ اداروں کے جال کو جواز فراہم کرنے کے لئے آرمی-پبلک – سکول ، ایف-سی-پبلک سکول، ایف-سی- ڈیری فارم، آرمی – زرعی فارم ، ایف-سی- ماربلز اور نہ جانے کون سی نت نئی استحصالی اصطلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں
ریاستی قابض افواج کے مرکزی سربراہ بھی اسی ڈرامے بازی میں اپنے جرنیلوں کا ساتھ دیتے ہوے سوئی میں ملٹری کالج کے نام سے اپنے اداروں کے لئے ایک اسٹیشن کا اضافہ کر چلے -اور اس اجتماع میں بلوچوں کے نام نہاد عمائدین کو بھی آقاؤں کے ہمرکاب دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچوں کی غلامی انکی اپنی مرضی سے ہے
حیرت ہوتی ہے ان ساحروں کی سحر کاری پر ، آخر کس کو بیوقوف بنانے چلے ہیں؟ بلوچ قوم کو کہ جن کے گھر اپنے پیاروں کی لاشیں عید کے تحفے کے طور پر بھیجی جا رہی ہیں ؟ اقوام عالم کو کہ اب وہ بھی بلوچوں پر ہوتے مظالم کو دیکھ کر چیخ اٹھے ؟ یا پھر اپنی پنجابی قوم کو کہ دیکھو ہم اب بھی تمہارے مفادات کی خاطر ایک پورے قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے بیٹھے ہیں

اقبال ہی کا مصرعہ نام نہاد قبائلی عمائدین اور سرکاری سرداروں کی خدمت میں

از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن


Advertisements