Let we struggle our way

Posts Tagged ‘State atrocities’

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

Perception is never Perfection

In Baloch Freedom movement, Baloch genocide, balochistan, Global Perspective on February 16, 2011 at 9:37 am
Perception is never Perfection
By: Diagoh Murad

Quote:

“Justice if served with silence, it is the derision of Justice”

It is believe to be 21st century where science has its way to prove analytical reports on various projects, where once people thought earth to be flat science made their perceptions to see the earth and the surrounding planet in their true forms, but in all these happenings we never thought that some perception can make us go wrong, can let us decide something which is not true at all. If science has proved many of the mistaken theories of mankind as wrong and illusionary then it has done this in an explanatory way, everything we defined from the solar system to the galaxies all were in details when science came with the total studying of these natural structures, through investigation that is what makes one’s perception to be in true form of perfection.

For centuries people were arrogant by their own judgment that what ever seems to be happening must be real, the people who thought earth to be flat, people who think all Muslims are terrorist, people who thought Black people have no honor, people who think Pakistan is an Islamic State and people who think Baloch to be part of this unethical state, From all these perceptions not even a single came under microscope to be analyzed only one was solved the others are self made illusions from different mindset of peoples.

It is these illusions that have caused them to be ignorant to redefine their perception because what they see is not in its perfect form, If all Muslims were terrorist then the population of Muslims around the world (In Billions) would have caused the doom of civilization, if Black people had no honor then white folks have no regard for humanity either, If Pakistan is an Islamic State then the genocide of 3 Million Bengalis wouldn’t have occurred and another million of Bengali women wont have lost their honor to these savage beasts and last but not the least which was never given any chances to speak for their heart are the Baloch people taken forcefully under the claws of this immoral state, obsolete theory that Baloch are part of this State have caused the population of world to really believe this saying while if one ask the Baloch population that do they love to be called Pakistani, the answer will surely come in negative.

The false allegations that in today are believed to be written truths while the documents and reports are written by those personalities whom had no sense of history or the nature of the inhabitants. A Christian or Jew will always claim and malign the Muslims for the terrorist attacks and charge all the Muslim population to be guilty but if a Christian or Jew murder hundred of Muslims then what that Jew or Christian will be called “Messiah” (Hundred of Palestine Peoples are murdered by the State of Israel), if one Baloch signed an annexation document with Pakistan then that signed documents seals the faith of million other Baloch what if all these millions of Baloch have not accepted the merger and have revolted time by time (Which Baloch nation did from Prince Karim Khan to Brahamdagh Bugti) duly it was the duty of International powers to redo the case of Baloch nation by giving them a chance to speak for themselves but a black response came from these international powers, the boundaries that Pakistan claim as its own are forged by the watchmen of British servitude, the slave of British were given shares and bounties while the aggressors were thrown down.

The wrong perception created by the oppressors shows Baloch to be a patriot Pakistani by giving way to those Baloch who are less important in Baloch politics and nationalism, it has always been the case with the oppressor giving media coverage to those personalities who were never nationalist and never took the interest of nation has their own, same method is applied here in this occupied state of Balochistan. The nationalist are being killed and many are still languishing inside the torture cells while the so called leaders of Balochistan and so called nationalistic parties NP, BNP are making claims of zero atrocities committed.

The centuries old Baloch nation is being annihilated in a slow genocide way and the outside world have no queries over what Pakistan has planned for Baloch nation, from systematic abduction to dumping of bodies non have been shown in international level. Pakistani media proclaims itself to be free from any boundary while it still serves the army like all the other militant states, Pakistani media records “A Man marrying 2 Women at the same day” they can telecast “A sheep carrying four horns” but they never try to show the Pakistani people or the international media of what the Pakistani army is doing in Balochistan.

Pakistan print and electronic media is very much steady and aware of the regional dispute but it keeps its distance from the burning lava so that the wrath of Pakistani army won’t touch them or their profitable marketing business. They can broadcast Punjabis getting attacked in Balochistan but they never publish that Baloch activists and missing persons are being killed by the Pakistani army, remembering one Baloch leader who once said that “If I am being killed then how can I insure their safety”.

The Punjabis who gets killed are working for the intelligence agencies and yet Pakistani media transform them to be innocent and civilized while the local Baloch who has nothing to do with any thing is abducted, tortured for days (In some cases for years) & later family members find him dead and dumped then why the silence, why the lips are sealed and pens are halted, double standard media can never do justice so do the judiciary on which Chief Justice Iftikar Chaudhry keeps on repeating that “Justice will be served”.

From Human rights organizations to International Media none has permission to cross into the boundaries created by the army and paramilitary forces of Pakistan and yet the International powers are dumbfounded over the case of Balochistan, Obama administrations pressured to solve the case of missing persons has led the Pakistani forces to increase their phase in killing the missing persons, contract killers like the “Death Squad” are being given task to eliminate the remaining missing persons one body at a time. “Kill and Dump” policy is such cold-blooded that it shows the behavior of the state with the Baloch population, for the Pakistani forces this game is not new they had played it with Bengali nation and now they are doing it with Baloch nation.

Pakistani forces for mere fun kidnap teenagers, chokes them with ropes, burns their bodies with cigarettes, bash their toes with hammers, breaks their inner bones, puncture their minds and lungs with injections & after they have their ways with the person they carry them to their execution place and squad fires them on that place. Many bodies carried letters in their pockets where the killers write the identity of the bodies or worse they write abusive words for Baloch nationalism.

Arms Bounded, Head Bent, Knees broken, eyes gouged, tongue sliced & carved with markings are the identifications of a severe torture and beatings of Baloch political activists, if these are not eye openers then what will cause them to react, do they want all Baloch nation to be Bounded, Bended, Broken, Gouged, Sliced & Carved so that they can see what is happening in Balochistan, the interesting part of the story is that knowing every detail and inscriptions of many Baloch abductees the organizations working for human betterment doesn’t show any remorse to these victims instead they proclaim the victim to hush-up and work out their differences with the criminals.

In just recent days Dera Bugti, Sibi & Bolan were plunged in a grand operation and thousands of Bugti tribesmen were rounded up for interrogation and never returned their homes taken to unknown location (Military Cantonments), Sibi & Bolan operation led many Baloch locals to become homeless when Pakistani army bulldozed the whole town in retaliation of the attack from the Baloch freedom forces. Is justice being served? Question arises many times because justice in Pakistan is for sale whoever gives a higher bid, justice will be served according to his will, like in just recent days Chief Justice of Balochistan comfortably announced that missing Baloch persons are released and have returned to their homes while the family members of those missing persons claimed that their loved ones are still going through the worse kind of treatment and the justification which Chief justice of Balochistan provided is actually rubbing salt over the wounds of the family members.

International Powers have to correct their perception and do the thinking of what to do with Pakistan and its policies on Balochistan and Baloch nation, the program and developments which Pakistan keeps on repeating as Baloch perspective is different, Nawab Khair Bux Marri once put this as “Anti-Baloch Perspective” which is overall true, parliamentary baloch leaders have already shook their tails and sagged their tongues out but those who are opposing these projects are abducted, tortured & killed.

Forced projects and development can never develop the local Baloch nation because these developments have never been profitable for Baloch nation one fine example is the “Sui Gas Plant” built in the year 1958 it is going through many channels and reaching the deep regions of Punjab but Dera Bugti still suffers from gas supply, from 26 districts of Balochistan only 4 districts have fully stable gas supply while the rest uses the old method. Gwadar port projected as a grand employment opportunity lacks local people recruitment, from top engineers to labors all are employed from Islamabad because of the head quarter situated there.

If these are not Anti-Baloch perspective then what profit did the Rekodik or Saindek has given to Baloch nation, big chunk of profits are going to the foreign investors and companies, remaining chunk goes to the federal Government and in return dog bones are given to Balochistan Government.

Judicial Inquiries, Commissions & Packages all are dramas created by those who are in support of these extra judicial abductions and killings, the panel judges of the commission created for the recovery of missing persons registered 20 cases of Baloch missing while the census of missing persons is in thousand, if this is justice serving then it is better to protest and fight with the uncivilized institutions rather exclaiming for justice.

The reason Baloch nation is appealing to the international powers, human rights organizations and freedom loving people is because they are depressed that not only the Pakistani military forces but the democratic and civilian forces are also against them and both these institutions are working hand to hand to draw Baloch nation to their brink of extinction. While both these institutions stamp the Baloch movement for independence as foreign created but the truth is Baloch nation is the sole owner of this revolution and this movement is being run by Baloch nation, no foreign influence has created this movement, Baloch protested and fought for their independence when they were taken by force & occupied and they are still fighting for their autonomous state.

From top civilian officials to military generals all have the same reason of Baloch uprising that is its “Foreign Influenced” while concealing their brutality with Baloch nation, from abduction, harassment, killing, & military operations every possible torture has been implemented on Baloch nation. Pakistani government cries of Indian involvement, Israeli Involvement & American involvement in Balochistan but would never say that “We occupied Balochistan, We killed Millions of Baloch in the wake of five operations, We snatched their rights to live, We bombarded their towns & cities, We killed mothers, sisters & children of Baloch nation & We are now trying to annihilate Baloch nation”, keeping silence over the extra judicial killings and marking the Freedom fighters has miscreants wont wash away the crimes Pakistan and its forces have done inside Balochistan.

Now its upto the International powers to halt Pakistan’s barbarism and hear the requests of Baloch nation & do justice according to their perceptions and not from the false theories & reports summarized by Pakistan for their own purposes.

 

 

The Occupying States’ Ongoing Crimes in Baluchistan

In abductions, baloch, Disappearences, FC, isi, mi on February 7, 2011 at 12:05 pm
The Occupying States’ Ongoing Crimes in Baluchistan

(International Voice of Baloch Missing Persons )


In the artificially structured boundaries of the states of Pakistan and Iran one thing that has no value is human lives. Both states are equipped to their teeth with modern armaments, Jihadist mercenaries and a medieval religious creed. They have used this cocktail of destruction to justify their untold atrocities. The Baluch people under illegal occupation of these unruly states have been among those who have suffered the most. Many hundreds and thousands of Baluch political and social activists have been abducted, displaced, tortured, disappeared and killed by these occupying states.

Enforced disappearance has become the daily experience of Baluch people living under occupation of these Islamic fundamentalist states. Over 8,000 Baluch activists have been abducted and disappeared in Eastern occupied Baluchistan since the year 2000. Families of these victims are not provided with any information about the missing persons. The families are threatened by security forces with dire consequences if they highlight the plight of their loved ones. From the last six months Pakistani state and military establishment have altered their policy about the abducted Baluch political and human rights activists. They have been imitating the policy of their replica counterpart, the Islamic regime of Iran. Ever since its creation, the Iranian Islamic government has been employing the ‘kill and dump’ policy against many of its opponents.

As result of this policy from July 2010 up to the present day Pakistani military agencies have killed and dumped over 100 Baluch activists. The victims of this policy for the year 2011, which barely a month is passed, are over 15 persons.

On 3 January 2011 five Baluch youths after leaving a public meeting were followed and attacked by Pakistani agencies in Karachi. Faraz Baluch, a member of BSO-Azad died in hospital from his injuries and Bilal Baluch, Umair Baluch, Salman Baluch and Saddam Baluch were kept under intensive care and survived this vicious attack.

On 4 January 2011 Pakistani security forces abducted Haji Nasir, and two teenage students, Ehsanullah and Khair Jan in Gawader. On the same day the severely tortured bodies of two prominent young Baluch political leaders were found in Pedarak area of Turbat. The victims were identified as Qamber Chakar Baluch 24 and Ilyas Nazar Baluch 26. Both victims were MSc students and a member of BSO- Azad. Qambar Chakar was abducted by Pakistan secret forces before on 10 July 2009 but was released without any charges on 22 April 2010. He was re-abducted on 26 November 2010 from Shai Tump Turbat. Ilyas Nazar Baluch was a Journalist for a Baluchi language magazine Dhorant. He was abucted on 22 December 2010 from a coach at Badok near Pasni.

Mohammad Sadiq Langov was abducted on 12 January 2011 and the bullet-riddled bodies of two Baluch traders, Taj Mohammad Marri and Meer Jan Marri were found from Bal Ghatar area of Panjgur on 8 January 2010. Pakistani security forces shot dead Sarvar Jamaldini and injured his companion in the same day in Taftan.

On 15 January 2011 Hashim Baluch, another Baluch teenage student, was abducted from an internet cafe in Hub. In the same day the body of the teenage member of BSO-Azad, Zakaria Zehri was recovered from Soorab area of Kalat. He was only 15 years old and was missing for over a month. Another victim whose body was recovered on the same day was Ghulam Hussain Mohammad Hasani. His body was found under a bridge in Singdaas area of Kalat.

The body of Mumtaz Kurd was found in Mastung on 20 January 2011. The two bodies of Baluch missing persons, Ahmed Dad Baluch and Naseer Kamalan, were found near Syedabad 23 miles away from Ormara on 17 January 2010. Ahmed Dad Baluch was abducted on 3 October 2010 and Naseer Kamalan on 5 November 2010. Both victims were well known Baluch political leaders. Naseer Kamalan was a senior leader of Baluch National Movement and he was also an inspiring Baluchi language poet. On the same day of discovery of the bodies of these two Baluch political leaders, Pakistan Frontier Corps (FC) attacked Kashi Nulla area of Dera Bugti. During the attack they killed Shakeel Baluch and injured and arrested Gabro and Sabz Ali Baluch.

Pakistani security forces raided the house of Mr Awal Khan Bugti on 21 January 2011. As he was not at home at the time of the raid Pakistan military officials abducted his wife Mai Hanifa.

Mohammad Azam Baluch was abducted by Pakistani secret agencies around 20 January 2011 from Suraab and his bullet riddled body was found near Kalat in Marjan National Highway on 25 January 2011. On the same day Abdul Rauf Qambari was abducted from Wahero area of Wadh in Balochistan. Abdul Rauf is the cousin of Waheed Qambarani, a Baluch teacher, whose mutilated body was found a month earlier.

On Monday 24 January 2011 four more Baluch youths were abducted from Tasp area of Panjgur. They were named as Waqeer, Shamsheer, Sagaar and abdul Malik. These teenage Baluch students were released few days after suffering violent physical and psychological ordeal. A day earlier, on 23 January 2011 the body of Ali Jan Kurd was recovered from Aktharbad area of Quetta, the capital of Balochistan. He was abducted by Pakistan security forces on 23 November 2010 near Sibbi. Ali Jan Kurd was only 18 years old and was a regional president of Baluch Students Organization – Azad.

Two lifeless Baluch youths were recovered on Thursday morning of 27 January 2011 in Gwargo area of Panjgur. The youths were shot and severely tortured. One of the victims, Abid Rasool Baksh Baluch a 17 year student and member of BSO-Azad, was already dead but Nasir Dagarzai was still alive. These two Baluch students were abducted along their fellow students Mehrab Baluch and Abid Saleem Baluch from the residence of Naser Dagarzai Baluch on 23 January 2011.

On 4 February 2011 three bodies were recovered from Khuzdar. The victims were identified as Hamid Issazai, Lal Khan Sumalani and Mir Khan Sumalani. Few days earlier also, on 1 February, the body of the Baluch popular singer Ali Jan Issazai was discovered in Kanak area of Khuzdar. Ali Jan and Shahzad Nadeem were abducted by Pakistani secret agencies from a hotel in Quetta on 10 January 2011.

The occupying states have increased their systematic brutality against the Baluch to an alarming level. Baluch children are not even spared from the wrath of the fundamentalist states of Iran and Pakistan. In the Western occupied Baluchistan, Amin Noraee a 16 year student was killed by the Islamic regime of Iran security forces in 1980 in Sarawan. Another teenage Baluch political activist, Khosro Mobarki, was arrested and after enduring months of torture was executed in 1981. In March 2008 Iranian security abducted Ebrahim Mehrnehad age 16. Ebrahim is the brother of Baluch journalist and civil rights activist Yaguob Mehrnehad who was executed by the Iranian government on 4 August 2008. Another Baluch child who has been abducted by the Islamic regime security forces is Mohammad Saber Malk Raisee. At the time of his arrest on 24 September 2009 he was only 16 years old.

In the Eastern occupied Baluchistan the Pakistani rulers have launched an open war against the Baluch youths and children. Large number of Baluch political and human rights activists who have been made disappeared tortured and killed have been among Baluch children.

In addition to the names of the Baluch youths cited above, Pakistani security forces abducted 17-year old Jamal Baluch on 4 October 2010. He was injected with unknown substance and subjected to extreme torture to such an extent that he has become partially paralyzed.

Abdul Majeed Baluch, a member of BSO-Azad was abducted by Pakistani Frontier Corps on 18 October 2010. Pakistani security forces murdered him and dumped his tortured body in the Koshak River at Khuzdar district on 24 October 2010. Another Baluch child and political activist, Mohammad Khan Zohaib was abducted in July 2010 by the same agencies. His mutilated body was found in Khuzdar on 20 October 2010. They were both 14 years old.

The house of Mir Ayub Gichiki was attacked by occupying security forces on 1 December 2010. In the attack Pakistani forces killed five Baluch political activists in the house. Among the victims were two of Mr Gichiki’s teenage sons, Murad Jan and Zubiar Gichki.

This policy is the natural outcome of the forceful occupation of Baluch homeland and the resistance of the native Baluch against occupying states. The most valuable assets of a society are its inspiring and forward-looking children. Premeditated and systematic infliction of pain to the tender body of a child and then murdering him or her in the most gruesome way, by organised state sponsored military forces, is only done and justified by these and similar occupying fundamentalist fascist states. We urge all Baluch to recognise the gravity of situation in Baluchistan and get united to put an end to occupying state barbarism against our people and children.

ثناء خوان تقد یس مشرق کہاں ہے ؟

In Baloch genocide, Role of Pakistani media, state on January 23, 2011 at 1:41 am
ثناء خوان تقد یس مشرق کہاں ہے ؟

تحریر نواز بگٹی

مشرق ، جسے اعلیٰ انسانی اقدار کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے ، اور مشرقی تاریخ کے ہر شاعر نے ان روایات کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاۓ –  عظیم مشرقی روایات میں خواتین کے احترام کو آفاقی حیثیت حاصل رہی ہے – نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان ، مشرقی اقدار کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کے وراثت کا بھی دعویدار ہے- یہاں نہ صرف سیاست دانوں ، بلکہ عوام اور نام نہاد سول سوسایٹی کی تن بھی اسلامی اقدار کے حوالوں پر ٹوٹتی ہے – ایک معصوم خاتون کو سر عام کوڑوں کی سزا دیتے ، دکھانے والے ویڈیو کے رد عمل میں پورے سوات کو تورا بورا بنا دیا جاتا ہے – یا پھر ایک آنٹی شمیم کو حبس بیجا میں رکھنے کے جرم میں لال مسجد کے ٢٢٠٠ طالبات کو بہیمانہ طور پر قتل کیا جاتا ہے ، اور یہ سب صرف اور صرف اسلام کے نام پر ہوتا ہے یا انسانی اقدار کی ڈھال کا سہارا لیا جاتا ہے – ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری کو لے کر پورے پاکستان کی سیاسی ، سماجی اور مذہبی طبقے سرا پا احتجاج بن جاتے ہیں-
انہی روایت کے پاسدار ملک کی ریاستی افواج نے کوئٹہ شہر میں گزشتہ دنوں ایک شخص اول خان بگٹی کی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر تمام تر انسانی و اخلاقی حدود کو پار کرتے ہوۓ ، خاتون خانہ کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ بزور قوت اپنے ساتھ لے بھی گۓ – آج ٧٢ گھنٹے گزرنے کے باوجود  مذکورہ خاتون کو کسی عدالت میں پیش کرنا تو درکنار سرکار یہ بتانے سے بھی گریزاں ہے کہ اس پر کیا بیتی ، وو کہاں کس حال میں کیسس کی قید میں ہے- نام نہاد عدالتیں جو الو ، ٹماٹر کے نرخوں کو اعتدال میں رکھنے کے لئے تو از خود نوٹس لیتے ہیں ، لیکن انھیں بلوچ قوم پر اپنی افواج کے چنگیزی مظالم نظر نہیں آتے- سول سوسایٹی کو اپنے اللے تللوں سے فرصت نہیں ، اور عوام کو پاکستان زندہ باد کے نعروں سے-  اگر بلوچستان میں بلوچوں کی عصمتیں محفوظ نہیں رہ سکتیں تو کسی کو بلوچوں سے اخلاقیات کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے – اور بلوچ سرداروں کو ہر برائی کی جڑ قرار دینے والوں سے گزارش ہے کہ آنکھیں کھول کے اپنے پڑھے لکھے سرداروں کی انسانیت سوز مظالم کو بھی ایک نظر دیکھ لیں –
حقیقت ہے کے طاقت کسی اخلاقی ، آئینی ، یا مذہبی قاعدے قانون کی پابند نہیں ہوتی – طاقت تو صرف طاقت ہوتی ہے چاہے وہ کسی وحشی سانڈ کے پاس ہو یا کسی مہذب قوم کے تربیت یافتہ فوج کے پاس ، اور اس سے صرف کمزور کو کچلنے اور اپنی حیوانی جبلتوں کی تسکین کا کام لیا جاتا ہے –  بلوچ قوم کے نوجوانوں کے پاس اپنی عصمتوں کی حفاظت کے لئے ہتھیار اٹھانے کے علاوہ اگر کوئی مجوزہ راستہ کسی کے پاس ہے تو براہ کرم بتلا دیں-

ایاز بلوچ – ایجنسیوں کا ایک اور شکار

In abductions, Disappearences, FC, isi, mi on January 14, 2011 at 10:25 am

ایاز بلوچ – ایجنسیوں کا ایک اور شکار


تحریر نواز بگٹی

مقامی اخبارات کی اطلاع کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان یونیورسٹی کے ، ایم – بی- اے – کے طالبعلم ایاز بلوچ کو یونیورسٹی کے باہرخفیہ  ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا  کر لیا- ایاز بلوچ کا تعلق تربت کے “بگی ” قبیلے کے ایک خاندان سے ہے ، وہ کوئٹہ میں تعلیم کے حصول کی خاطر مقیم تھے
بلوچستان میں بلوچ طلباء کی پراسرار گمشدگیوں کا سلسلہ اس تیزی سے جاری ہے کہ اب کسی کے بارے میں لکھتے ہوے خود سے شرم آنے لگی ہے – محسوس ہوتا ہے کہ گوشہ نشین ہو کر نا مردی کا شکار ہم جسے منشی ٹائپ بلوچ کسی بہت برے گناہ کا مرتکب ہو رہے ہیں- بس جناب حیدر بخش جتوئی صاحب کے چند اشعار ہی لکھنے کی ہمّت ہو رہی ہے

بھرو تم قید خانوں کو

کرو قابو جوانوں کو

بجھاؤ شمع دانوں کو

اڑا دو نقطہ دانوں کو

لاؤ رشوت ستانوں کو

جو بنگلے اور محل جوڑیں

شرم آے آسمانوں کو

پڑھو قومی ترانوں کو

کہ پاکستان زندہ باد

(حیدر بخش جتوئی)

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

In baloch, Baloch Freedom movement, balochistan on January 12, 2011 at 2:17 pm

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

تحریر نواز بگٹی


اگرچہ ارادہ تو تحریروں کے پچھلے سلسلے کو جاری رکھنے کا تھا لیکن حالات سے چشم پوشی بھی آخر کب تک . مذہبی جنون کے حوالے سے جنوبی ایشیاء کے بنیاد پرست ریاستوں ،ایران ، پاکستان ، اور افغانستان کی سرحد پر وا قع  ہونے کے باوجود بلوچ دھرتی  پورے خطّے میں مذہبی رواداری کے حوالے سے اپنی ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے – بلوچ جہاں کسی کو بھی اپنی شناخت دینے کے روادار نہیں ، وہیں غیر مسلم خصوصاً ہندو مذہب کے پیروکار فخر سے خود کو بگٹی ، بھوتانی ، جمالی ، مینگل ، اور زہری کہلوانا پسند کرتے رہے ہیں- یہ بھی اس معاشرے کی انفرادی خصوصیت رہی ہے کہ ایک بھائی مسلم تو دوسرا زکری – (مذہبی علماء کی جانب سے زکری فرقے کو ان کے مذہبی عقائدکی بناء پر غیر  مسلم قرار دیا جاتا ہے ) – تاریخ شاہد ہے کہ یہاں ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے  مذہبی عقائد پر عمل کرنے  اور اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ جینے کی آزادی حاصل رہی ہے –
بلوچستان میں جہاں مسلمانوں کو آزادی سے مساجد ، امام بارگاہوں  اور خانقاہوں میں عبادت کی سہولتیں میسر ہیں ،  وہیں غیر مسلموں کو بھی مندر ، گردوارے اور چرچ کی حفاظت کے لئے کسی خاص انتظام کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی – بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہندوؤں کی مقدس مذہبی مقامات ، اور دنیا بھر سے ان مقامات پر عبادت کی غرض سے آنے والے ہندو مذہب کے پیروکار اس معاشرے کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں-بلوچ من حیث القوم اپنی سرزمین پر تاریخ کے بدترین استحصال کا شکار ہے ، اور استعماری قوتیں بھی ہندوؤں کو بھی بلوچوں سے الگ تصور نہیں کرتیں – اس کی مثال ١٧ مارچ ١٩٩٥ کے خونی واقعے سے دی جا سکتی ہے- اس روز غاصب ریاستی افواج نے ڈیرہ بگٹی شہر پر بمباری کر کے ٧٠ ہندو بلوچوں کو شہید کر دیا تھا –
پنجابی افواج نے اپنی روایات کے  مطابق بلوچ قوم پر ظلم و جبر ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی – غاصب ریاستی قوتوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بلوچ اس قوت سے مزاحمت کریں گے – بلوچ قومی مزاحمت مقابلہ کرنے کے لئے غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقے اپناۓ گۓ- بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انکی مسخ شدہ لاشوں کو قوم کے لئے تحائف کا نام دیا جارہا ہے- اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کے لئے  ریاستی افواج نے اپنا نام بدل کر لشکر اسلام رکھ دیا – اب جبکہ اقوام عالم پاکستانی افواج کے پروپگینڈے سے متاثر نہیں ہو رہی تھیں تو غاصبوں نہیں ایک نئی چال چلی – انتہائی منظم طریقے سے معاشرے میں موجود مجرم عناصر کی سرپرستی کی جانے لگی ، پاکستان کی فوجی اسلحہ ساز کارخانے پی-او-ایف واہ کینٹ سے بھاری پیمانے پر ان عناصر کو جدید اسلحہ فراہم کر کے ایک سابق وفاقی وزیر کے زیر سرپرستی جعلی تنظیم تشکیل دی گئی- اس تنظیم کے لبادے میں پاکستان کی خفیہ اداروں کے اہل کار جہاں بلوچوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں وہیں بلوچوں کو تقسیم کرنے کی ناکام سازش بھی کی جا رہی ہے –
بلوچ قومی تحریک نے  ریاستی مظالم کا پردہ چاک کرنے اور اقوام عالم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں جو غیر متوقع کامیابی حاصل کی ، اس سے ریاستی افواج نے بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لئے تحریک آزادی کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دینے کا فیصلہ کیا – عالمی امدادی اداروں کے اہل کاروں کا اغوا ، افغانستان کے لئے جانے والے راستے سامان رسد کی لوٹ مار کے علاوہ ایک منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچ ہندووں کو اغوا کر کے صرف انکے غیر محفوظ ہونے کا ریاستی تصور بھی اسی حکمت عملی کا حصّہ ہیں-
بدقسمتی سے ہمارے کچھ دوست بھی شاید انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت  بلوچستان میں صرف ہندووں کے غیر محفوظ ہونے کا نقطہ اٹھا کر لا شعوری طور پر ریاستی پروپگینڈے کی مدد کر رہے ہیں-ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلوچستان میں ہر بلوچ ، بلا امتیاز مذہب ، نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ ریاستی دہشت گردی کا شکار بھی ہے- اور بلوچ ہندووں کو بھی اپنی قوم کا حصّہ سمجھتے ہیں