Let we struggle our way

Posts Tagged ‘pakistan’

جسٹس جاوید اقبال کے والدین کا قتل – خفیہ اداروں کی ایک اور بہیمانہ کاروائی

In Disappearences, mi, supreme court on January 12, 2011 at 3:47 pm

جسٹس جاوید اقبال کے والدین کا قتل – خفیہ اداروں کی ایک اور بہیمانہ کاروائی


تحریر نواز بگٹی

پاکستانی سپریم کورٹ کے سینیر جج ، جسٹس جاوید اقبال کے والدین کو انکی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا – قتل کی تحقیقات کے لئے حسب معمول وزارت داخلہ کوئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی شاید تشکیل دے چکی ہے – اور تحقیقات شروع ہونے سے بھی بہت پہلے قانون نافذ کرنے والوں نے اپنے الہامی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوے، دوہرے قتل کے اس واقعے کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ قرار دیا

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد مقتول عبدلحمید اور انکی اہلیہ آمنہ جی-او-آر- کالونی میں رہائش پزیر تھے- پنجاب میں گزشتہ برسوں سے صوبے کے سرکاری اداروں ، اور ان اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کو مختلف اسلامی بنیاد پرست تنظیموں کی جانب سے نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد صوبہ بھر کی سرکاری رہائشی کالونیوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گے تھے -اور واقفان حال بخوبی واقف ہیں کہ لاہور کے کیولری گراونڈ میں واقع سرکاری آفیسرز کے لئے مختص اس رہائشی کالونی میں کس قدر سخت حفاظتی انتظامات کیے گے ہیں-اخباری اطلاعات کے مطابق مقتولین کے قتل کا انکشاف اس وقت ہوا جب ان کے کچھ رشتہ دار ان سے ملنے کے لئے آے، حالانکہ مقتولین  کے پڑوسیوں  کے بقول انھوں نے فائرنگ کی آوازیں بھی سنیں

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق قتل سے پہلے مقتولین پر شدید تشدد کے بھی شواہد ملے ہیں ، اور سر شام ٥ بجے ہی مقتولین کی موت واقع ہو چکی تھی -قتل کی اس واردات کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش پر بعض حلقوں نے اپنی تحفظات کا بھی اظہار کیا -مقتول عبدلحمید کا تعلق  اگرچہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں بھیرہ نامی ایک گاؤں سے تھا ، لیکن انھوں نے اپنی زندگی کا قابل ذکر حصّہ بلوچستان میں گزارا تھا – پولیس جسے طاقتور ریاستی ادارے میں ، ذمہ دار عہدوں پر تعینات رہنے کی بناء پر مقتول کو بلوچستان میں کئی دہائیوں سے جاری ریاستی دہشت گردی کے ایک اہم گواہ کی حیثیت بھی حاصل تھی

مقتول کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال آج کل ریاستی اداروں کی جانب سے اغوا شدہ افراد , المعروف گم شدہ افراد کے ایک اہم مقدمے کی سماعت بھی کر رہے ہیں- اگرچہ اس مقدمے سے بلوچ عوام کو کوئی خاص فائدہ تو نہیں ہوا  البتہ ریاستی اداروں نے اغوا کیے گے افراد کی لاشوں کو ان کے گھر بھجوانے کا عمل ذرا تیز کر دیا – گزشتہ دنوں اسی مقدمے کی سماعت کے دوران انھوں نے ٢٠١١ کو گمشدہ افراد کی بازیابی کا سال بھی قرار دیا تھا –    اسی مقدمے میں مذکورہ جج نے جہاں بہت ساری مقدس حدود کو پار کیا ، وہیں خفیہ اداروں کے سربراہان کی عدالت میں طلبی اور خفیہ اداروں کو آئین کے ماتحت کرنے کی تجویز بھی انکی نا قبل معافی جرائم کی فہرست میں شامل ہے

پاکستانی خفیہ داروں کے طریقہ واردات سے واقف حلقے اس واقع کو  جسٹس جاوید اقبال کے لئے ایک وارننگ قرار دے رہے ہیں- اگر انھوں نے اپنی چال نہیں بدلی ، اور مملکت خداد پر دائمی حکمرانوں کے حق حاکمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش سے باز نہیں آے تو کچھ بعید نہیں کہ انھیں بھی اسی طرح کے کسی واقعہ میں چلتا کر کے ، کالے کوٹوں کے جلوس ، اور سیاسی سیلوٹس میں ایک نعرہ بنا دیا جاۓ

Advertisements