Let we struggle our way

Posts Tagged ‘Non Muslim Balochs’

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

In baloch, Baloch Freedom movement, balochistan on January 12, 2011 at 2:17 pm

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

تحریر نواز بگٹی


اگرچہ ارادہ تو تحریروں کے پچھلے سلسلے کو جاری رکھنے کا تھا لیکن حالات سے چشم پوشی بھی آخر کب تک . مذہبی جنون کے حوالے سے جنوبی ایشیاء کے بنیاد پرست ریاستوں ،ایران ، پاکستان ، اور افغانستان کی سرحد پر وا قع  ہونے کے باوجود بلوچ دھرتی  پورے خطّے میں مذہبی رواداری کے حوالے سے اپنی ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے – بلوچ جہاں کسی کو بھی اپنی شناخت دینے کے روادار نہیں ، وہیں غیر مسلم خصوصاً ہندو مذہب کے پیروکار فخر سے خود کو بگٹی ، بھوتانی ، جمالی ، مینگل ، اور زہری کہلوانا پسند کرتے رہے ہیں- یہ بھی اس معاشرے کی انفرادی خصوصیت رہی ہے کہ ایک بھائی مسلم تو دوسرا زکری – (مذہبی علماء کی جانب سے زکری فرقے کو ان کے مذہبی عقائدکی بناء پر غیر  مسلم قرار دیا جاتا ہے ) – تاریخ شاہد ہے کہ یہاں ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے  مذہبی عقائد پر عمل کرنے  اور اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ جینے کی آزادی حاصل رہی ہے –
بلوچستان میں جہاں مسلمانوں کو آزادی سے مساجد ، امام بارگاہوں  اور خانقاہوں میں عبادت کی سہولتیں میسر ہیں ،  وہیں غیر مسلموں کو بھی مندر ، گردوارے اور چرچ کی حفاظت کے لئے کسی خاص انتظام کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی – بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہندوؤں کی مقدس مذہبی مقامات ، اور دنیا بھر سے ان مقامات پر عبادت کی غرض سے آنے والے ہندو مذہب کے پیروکار اس معاشرے کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں-بلوچ من حیث القوم اپنی سرزمین پر تاریخ کے بدترین استحصال کا شکار ہے ، اور استعماری قوتیں بھی ہندوؤں کو بھی بلوچوں سے الگ تصور نہیں کرتیں – اس کی مثال ١٧ مارچ ١٩٩٥ کے خونی واقعے سے دی جا سکتی ہے- اس روز غاصب ریاستی افواج نے ڈیرہ بگٹی شہر پر بمباری کر کے ٧٠ ہندو بلوچوں کو شہید کر دیا تھا –
پنجابی افواج نے اپنی روایات کے  مطابق بلوچ قوم پر ظلم و جبر ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی – غاصب ریاستی قوتوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بلوچ اس قوت سے مزاحمت کریں گے – بلوچ قومی مزاحمت مقابلہ کرنے کے لئے غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقے اپناۓ گۓ- بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انکی مسخ شدہ لاشوں کو قوم کے لئے تحائف کا نام دیا جارہا ہے- اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کے لئے  ریاستی افواج نے اپنا نام بدل کر لشکر اسلام رکھ دیا – اب جبکہ اقوام عالم پاکستانی افواج کے پروپگینڈے سے متاثر نہیں ہو رہی تھیں تو غاصبوں نہیں ایک نئی چال چلی – انتہائی منظم طریقے سے معاشرے میں موجود مجرم عناصر کی سرپرستی کی جانے لگی ، پاکستان کی فوجی اسلحہ ساز کارخانے پی-او-ایف واہ کینٹ سے بھاری پیمانے پر ان عناصر کو جدید اسلحہ فراہم کر کے ایک سابق وفاقی وزیر کے زیر سرپرستی جعلی تنظیم تشکیل دی گئی- اس تنظیم کے لبادے میں پاکستان کی خفیہ اداروں کے اہل کار جہاں بلوچوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں وہیں بلوچوں کو تقسیم کرنے کی ناکام سازش بھی کی جا رہی ہے –
بلوچ قومی تحریک نے  ریاستی مظالم کا پردہ چاک کرنے اور اقوام عالم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں جو غیر متوقع کامیابی حاصل کی ، اس سے ریاستی افواج نے بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لئے تحریک آزادی کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دینے کا فیصلہ کیا – عالمی امدادی اداروں کے اہل کاروں کا اغوا ، افغانستان کے لئے جانے والے راستے سامان رسد کی لوٹ مار کے علاوہ ایک منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچ ہندووں کو اغوا کر کے صرف انکے غیر محفوظ ہونے کا ریاستی تصور بھی اسی حکمت عملی کا حصّہ ہیں-
بدقسمتی سے ہمارے کچھ دوست بھی شاید انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت  بلوچستان میں صرف ہندووں کے غیر محفوظ ہونے کا نقطہ اٹھا کر لا شعوری طور پر ریاستی پروپگینڈے کی مدد کر رہے ہیں-ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلوچستان میں ہر بلوچ ، بلا امتیاز مذہب ، نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ ریاستی دہشت گردی کا شکار بھی ہے- اور بلوچ ہندووں کو بھی اپنی قوم کا حصّہ سمجھتے ہیں

Advertisements