Let we struggle our way

Posts Tagged ‘National slavery’

بلوچستان قتل عام – کیا سپارٹیکس ہر بار ناکام ہو گا ؟

In Baloch genocide, Current Political, spartacus on January 14, 2011 at 11:44 pm

بلوچستان قتل عام – کیا سپارٹیکس ہر بار ناکام ہو گا ؟

تحریر نواز بگٹی

ایک صدی قبل مسیح رومی غلاموں کی تاریخی تحریک آزادی کے سرخیل سپاارٹیکس دنیا بھر کے ہر دو ، آزادی کے متوالوں اور غاصب قوتوں کے لئے الگ الگ حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں – جہاں غاصب ، ظالم و جابر رومیوں نے سپارٹیکس کے بے شمار ٹکڑے کر کے ،اس کے ہزاروں ساتھیوں کو سرعام صلیب پر چڑھا کر غلاموں کے عام انسانوں کی طرح جینے کی خواہش کو بزور شمشیر دبا کر آج تک کے تمام  غاصبوں کو انسانوں پر اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے طاقت کے بید ریغ استعمال کی مثال قائم کی ، وہیں سپارٹیکس نے انتہائی کمزور ، بے دست و پا ، اور (رومیوں کے بقول ) بولنے والی اوزاروں کو آزادی کی خواہش رکھنے ، اور اپنی اس حسین اور جائز ترین انسانی خواہش کے خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کا سبق بھی اسی ناکام بغاوت سے ہی ملتا ہے

نسل انسان میں قوم محض صرف گوشت و پوست کے پتلوں کے اجتماع کا نام نہیں ، ان پتلوں کے تازہ دماغ ، انکے سوچنے والے لوگ ، انکے دانشور ، صحافی ، وکلاء ، قدرتی و سماجی سائنسدان ، یہ سب کردار اپنے انفرادی جوہر میں ہی ایک نسل ایک قوم کا درجہ رکھتی ہیں – ضروری نہیں کہ ہزاروں انسانوں کو رومیوں کے طرز پر ہی صلیب کی نذر کیا جاۓ، کسی بھی قوم کے ایک دانشور ، ایک پروفیسر کے قتل سے ان کے ایک نسل کو مارنے کے نتائج با آسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں- ایک صحافی کے قتل سے پورے قوم کی آواز کو احسن طریقے سے نمٹایا جا سکتا ہی – یونیورسٹیوں کو بند رکھ کے ایک پوری نسل کو پیداواری مزدوروں کے غلاموں کی کھیپ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے

آج بلوچستان میں قابض و فاتح افواج بھی کچھ اسی طرح کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں – سینکڑوں لاشوں کو لب سڑک پھینکنے ، منظم قتل عام ، کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم کو بھی افراد کی شکل میں اداروں سے محروم کیا جا رہا ہے – بلوچ سیاسی رہنماء تو قابضین کی روایات کے عین مطابق پہلے نشانے کے طور پر کسی بھی بدترین رویے کی توقع کر رہے تھے ، لیکن صرف چند ناموں سے ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ریاستی افواج رومیوں کی بدترین روایات سے بھی دو ہاتھ آگے نکل چکے ہیں

بانک زرینہ مری ( اسکول ٹیچر )، ڈاکٹر عبدللہ ( میڈیکل ڈاکٹر )، رندو مری ( شاعر ) ، مہر دین مری ( صحافی ) ، علی شیر شہید ( وکیل ) ,الیاس نذر شہید ( یونیورسٹی طالبعلم ) – یہ نام صرف چیدہ پیشوں کو واضح کرنے کے غرض سے دیے ہیں ، وگرنہ ان درندوں کی کال کوٹھریوں میں ہزاروں بلوچ صرف بلوچ پیدا ہونے کی پاداش میں انسانیت سوز مظالم کا سامنا کر رہے ہیں

کیا ان تمام کرداروں کو نشانہ بنانے کو قومی قتل عام کا نام دینا غلط ہے ؟ معترضین کا خیال ہے کہ بلوچ قوم کی تمام تر مصائب کی وجہ انکے سردار ہیں ، ان سے پوچھا جاۓ کہ کسی ایک سردار کی حتیٰ کہ سرکاری سردار کی کوئی ایک ایسی مثال  ان کے پاس ہے جس میں اس نے بلوچ خواتین کو جنسی غلاموں کی حیثیت سے ریاستی کال کوٹھریوں میں رکھنے کا مطالبہ کیا ہو ؟ یقیناً نہیں نا ، تو پھر کم از کم ریاست کی اس غیر انسانی رویے کی دفاع میں کسی بھونڈی دلیل کا سہارا لینے کی بجاۓ اسے جنگ میں سب جائز کے منگولی مقولے کے تحت ہی پیش کریں تو بہتر ہوگا- ایک اعتراض بلوچوں کے صدیوں پرانے فرسودہ روایات و ثقافت کو بھی بلوچ قوم کی بد قسمتی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – لیکن آج تک کوئی یہ سمجھانے سے قاصر ہے کہ روایات و ثقافت کو اپنا نے کے لئے اس کی عمر کتنی ہونی چاہیے – دنیا بھر کی اقوام تو اپنی قدیم روایات و ثقافت کو وجہ افتخار سمجھتی ہیں – بلکہ انہیں بتاتا چلوں کو قوموں کی تباہی کے لئے غاصبین کی روایت ہی ثقافت کو پہلا نشانہ بنانا ہے – یہی سب مظالم ہی تو ہیں جنکا بلوچ بھی کئی دہائیوں سے سامنا کر رہا ہے – کیا بلوچ ثقافت کو ترقی دینے کے لئے ہی  اس قوم کے ناول نگاروں ، ادیبوں ،شاعروں  اور فنکاروں کو چن چن کے نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟ ہاں شاید ، کیونکہ طاقت جواز اور دلیل کی محتاج نہیں ہوتی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر پاکستان کی سول سوسایٹی نے جو آواز بلند کی یقیناً قابل تحسین ہے ، لیکن ان کے اپنے ملک کی ریاستی افواج کی تحویل میں موجود ، زرینہ مری ، بخت بی-بی، گل بخت ، ناز بی-بی ، گل ناز ، ماہ بی-بی، زر ناز ، پری گل ، در بخت جیسی بلوچ خواتین کے بارے میں خاموشی قابل افسوس ہے – بلکہ شاید یہ نام نہاد سول سوسایٹی اپنے قوم کی بیٹیوں کے لئے ہی آواز بلند کرتی ہے ، اور بلوچ تو ٹھہرے ہی اغیار – یہ ضمنی ذکر غیر متعلقہ طور پر شامل ہوا ، ہمیں پاکستان کے کسی بھی طبقے سے کوئی شکایت نہیں ، کیونکہ دشمن سے جبر روکنے کی درخواست نری بیوقوفی ہے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا سپارٹیکس ہمیشہ ناکام ہوگا ؟ کیا فرانس ، چین و کیوبا کے سپارٹیکس کی کامیابی اسی تاریخ کا حصّہ نہیں ؟ کیا مولا جٹ کا راج الله کے بندوں پر کوئی خدائی دلیل رکھتا ہے ؟ دیکھتے ہیں وقت کیا طے کرتی ہے ، تاریخ کا فیصلہ کیا ہوتا ہے – کیونکہ تاریخ وہ ظالم منصف ہے جو اپنے فیصلے کرتے وقت کسی کی فریاد نہیں سنتا

Advertisements