Let we struggle our way

Posts Tagged ‘munshi prem chand’

آج کا بلوچ معاشرہ – اگر منشی پریم چند ہوتے تو ؟

In A lesson from the past on January 8, 2011 at 3:33 am

آج کا بلوچ معاشرہ – اگر منشی پریم چند ہوتے تو ؟

تحریر نواز بگٹی

منشی پریم چند کے افسانے کفن کو پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم منشی کے گاؤں میں رہنے والے چمار تو نہیں ؟ کہیں کھیسو اور مادھو کے جیتے جاگتے کردار تو نہیں ؟ مادھو کی تڑپتی بیوی کی مانند آج بھی  ٩٩ % بلوچ خواتین علاج معالجے کی سہولتوں سے بے بہرہ، خیمے ، گدانوں میں درد زہ سے تڑپتی ، فطرت کے مدد کی طالب نظر آتی ہیں – اگر کچھ فرق ہے تو منشی جی کے کھیسو اور مادھو کو ہڈ حرامی کی وجہ سے کوئی کام دینے پر رضا مند نہ تھا اوروہ  اپنی قسمت پر صابر و شاکر تھے ، لیکن بلوچ کے گزی ، گومازی کو کام اس لئے نہیں ملتا کہ انکے نام کے ساتھ لفظ بلوچ نتھی ہے – وگرنہ حالات کی جو منظر کشی منشی جی  کے افسانے میں ہےآج کا بلوچ بھی کم و بیش انہی حالات میں زندگی بسر کر رہا ہے –
منشی جی کے کردار مٹھی بھر اناج کا ذخیرہ ہوتے ہوے کام نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے تھے تو بلوچ کو مٹھی بھر اناج کمانے کا موقع نہ دینے کی قسم یہاں کے حاکموں نے  کھا رکھی ہے – کھیسو جس طرح اپنے بچوں کی ولادت کے موقع پر پڑوسیوں کی سخاوت کا ذکر  کرتا ہے بلوچ کے نصیب میں پڑوسیوں کی جانب سے بھی شاید کوئی ایسی سخاوت نہیں –
منشی جی کے کردار جس طرح بلا اجازت پراے کھیتوں  سے آلو اور مٹر لا کر پیٹ کی آگ بجھاتے تھے ، لگتا ہے آج کے بلوچ کو بھی اسی راہ پر دھکیلا جا رہا ہے ، اور بھوک سے بیتاب بلوچ کی دستبرد سے پڑوس کی فصلوں کو بچانا بھی مشکل ہو جاۓ گا – کھیسو کے زاہدانہ انداز میں گزرے ٦٠ سال ، بلوچوں کے پاکستان کی رفاقت میں گزرے ٦٣ سالوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں ، مادھو جس طرح سعادت مندی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے ، آج کے بلوچ نسل سے بھی حاکم اسی طرح کی سعادت مندی کے متقاضی ہیں – کھیسو اور مادھو کے گھر میں بقول منشی جی مادھو کی زوجہ محترمہ نے  تمدن کی بنیاد ڈالی تھی ، لیکن بلوچوں کی غیرت و حمیت کی بنا پر مجھے خوف ہے کہ ہم کسی ایسے تمدن کے روادار بھی نہ ہو پائیں گے –  منشی جی کے کردار اپنی ڈھٹائی اور بے غیرتی کی وجہ سے کام نہ کرنے کی اکڑ رکھتے تھے تو آج بلوچوں سے انکی غیرت اور خود داری چھیننے کے لئے انھیں کام نہ دے کر نکما بنایا جا رہا ہے – کھیسو اور مادھو تو شاید اسی انتظار میں تھے کہ خاتون خانہ مر جاۓ تو وہ سکون کی نیند سو سکیں ، لیکن یہاں حکام بلوچ قوم کے اجتماعی مرگ کے منتظر ہیں – کھیسو جس طرح چسکے لے لے کر اپنے بیٹے کو ٹھاکر کی بارات میں جانےکا ٣٠ سال پرانہ واقعہ سنا رہے ہوتے ہیں ، بلکل اسی انداز میں ہمارے نام نہاد قومپرست اپنی اسلام آباد یاترا ، اور اپنے پنجابی حاکموں کی سخاوت کے ذکر میں رطب لسان نظر آتے ہیں – اسلام آباد کی رنگینوں ، شہر کی وسعت، اور مکینوں کی وسیع القلبی کا ذکر کر کے نہ صرف بلوچوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں بلکہ اس میں بد ترین غلاموں کے جعلی احساس تفاخر کا مکروہ جذبہ بھی موجزن نظر آتا ہے –
جس طرح کھیسو اور مادھو کے لیے خاتوں خانہ کی زندگی سے زیادہ اپنا پیٹ بھرنا اور اپنی ہانکنا زیادہ اہم تھا بلکل اسی طرح ھمارے نام نہاد قومپرست پارلیمانی سیاستدان کی زندگی میں بھی عام بلوچ کے جینے مرنے کا سوال شاید آخری ترجیحات میں کہیں جگہ پاتا ہے – مادھو تو پھر بھی اپنی رفیقہ حیات کی بے جان ، مٹی میں لت پت ، لاش کو دیکھنے کا روادار ہوا ، لیکن ہمیں ان سے اس طرح کے رحمدلی  کی بھی کوئی امید نہیں –
منشی جی کے ان بے غیرت باپ بیٹوں کا پالا خوش قسمتی سے ایک رحم دل ٹھاکر سے پڑتا ہے ، جبکہ ہمارے بے غیرتوں کا پالا جن حاکموں ، ٹھاکروں سے پڑا ہے ، وہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں ، بلوچوں کے مرنے پر کفن دفن کا تو شاید ہی کبھی انکو فکر لاحق ہوا ہو- مگر بلوچوں کو مارنے کے بعد معاوضے کی وصولی کے لئے انہیں کئی کئی بار اپنے آقاؤں کے در پر سجدہ ریز ہو کر انکے وعدے یاد دلانے پڑتے ہیں-
جس طرح کھیسو اور مادھو کفن دفن کے نام پر ملنے والی رقم پر عیاشی کرتے نظر آتے ہیں ، اسی طرح ہمارے یہ وزراء و امراء بھی بے گور و کفن لاشوں کو بیچ ، اپنے لئے عیاشی کا سامان کرنے کے ماہر ہیں -کھیسو اور مادھو کا ضمیر کم از کم نشے کی حالت میں تو جاگا ، کم از کم ایک لمحے کو ہی سہی ، لیکن یہاں نسلیں بیت گئیں، اور ان بے شرموں کی ضمیر کو ایک جھر جھری تک نہیں آئ، نہ ہی آئندہ ایسی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے –
اگر آج منشی پریم چند جی ہوتے ، کھیسو اور مادھو کی کسمپرسی کو بلوچوں میں اور ان دونوں کرداروں کی بے غیرتی ہمارے وزراء و امراء میں ، جبکہ رحم دل ٹھاکر کی جگہ ، بے حس و ظالم آقا  دیکھ کر ، ان تمام کرداروں کو اپنے کسی افسانے میں کس طرح نبھاتے ؟

اور اگر آج بلوچ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی جدو جہد نہیں کرتا تو یقین جانیے منشی جی کے کھیسو اور مادھو کی بے غیرتی ، اور جگ ہنسائی اسکا مقدر ہونا فطرت کی ستم ظریفی یا اغیار کی سازش نہیں کہلاۓ گی

Advertisements