Let we struggle our way

Posts Tagged ‘modern war fare’

علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 11, 2011 at 3:29 am

علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥
تحریر نواز بگٹی
طاقت ، تبادلہ ، اور تشہیر
حمایت کے حصول کی خاطر مزاحمتی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے اپنے روابط استوار کرے ،  اپنی راہ میں قربانیاں دے ، اور بہت کم داؤ پر لگاتے ہوۓ نسبتاً زیادہ مراعات حاصل کر سکے – اور اکثر مزاحمتی تحریکوں کو حالت کے دباؤ ، دشمن کے کشت و خون ، وسائل کی کمی ، یا غیر نمایاں مقام ایسا کرنے پر مجبور بھی کرتی ہیں – بین الا قوامی  برادری سے مربوط رشتے تحریکوں کو اپنی جیسی مسابقتی تحریکوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہیں – تاہم امداد کے وعدے علاقائی تنظیموں کو عالمی برادری کی جانب راغب ضرور کرتی ہے – لیکن یہاں انھیں اپنے تصور سے کچھ زیادہ ہی بے وقعت ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے – یقیناً بیرونی دنیا کے لئے پایا جانے والا ہمدردی کا جزبہ این-جی-اوز کومنافع خور  کثیر القومی کمپنیوں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں سرشار ریاستوں سے ممتاز کرتی ہیں – جیسے کہ  این -جی-اوز کا مرکزی مطمع نظر ، خیالات ، اصول و ضوابط ، اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کی ترویج ہوتی ہے – انکے حالیہ بڑھتے ہوۓ اثر و رسوخ نے دنیا بھر میں تنازعات  پر مقالموں و مباحثوں کے انعقاد ،وسیع تر انتخاب ، اور بہتر نتائج کے ذریعے  عالمی سیاست کے بارے میں اقوام عالم کو ایک نۓ نقطہء نظر سے متعارف کروایا – مظلوموں کی طرف سے رضاکارانہ کاروائی انکے بنیادی اقدار میں سے ایک ہے – اور اکثر این-جی-اوز کے عمال اپنی متعین کردہ راہ عمل کو انتہائی اخلاص اور خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں – لیکن این-جی-اوز اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود -ایک تنظیم ہی ہوتی ہیں – انہیں  بھی  ، کسی بھی تنظیم کی طرح ، بقا ، بحالی ، اور نشونما کے بنیادی مسائل کا سامنا رہتا ہے- عالمی رشتے استوار کرتے وقت ان مسائل سے نمٹنا بذات خود ایک مسلہ ہوتا ہے -مزاحمتی تحریک  چاہے کتنی بھی مربوط نیٹ ورک کا حامل کیوں نہ ہو ، اس کے اغراض و مقاصد، دائرہ عمل ،اور  طریقہء کار  کسی بھی این-جی-او سے یکسر مختلف ہوتے ہیں – حالانکہ دونوں ہی محکومانہ سیاسی نظام ، اور پیسے ہوۓ طبقے کے درمیان کام کر رہے ہوتے ہیں
دو مختلف کرداروں کے تناظر میں مزاحمتی تحریک اور کسی بھی این-جی-او کے درمیان رشتے کو صرف با ہمی تبادلے کا نام دیا جا سکتا ہے – ایک مدت سے سماجی تجزیوں میں باہمی تبادلے کا یہ تصور تو رائج ہے ہی لیکن بین الا قوامی نیٹ ورکس کے پڑھنے والے شاید اس تصور کے بصیرت کی گہرایوں کو جانچنے سے قاصر رہے- اس تناظر میں ایک طرف تو مزاحمتی تحریک اپنے لیے  اخلاقی جواز کے ساتھ ساتھ  معاشی ، مادی ، اور معلوماتی مدد کی منتظر ملتی ہے تاکہ اپنے سے طاقتور دشمن کا مقابلہ کر سکے – جبکہ دوسری طرف این-جی-او اپنے محدود مفادات اور  مخصوص مقاصد لئے – مقامی تحریکوں کی حمایت کر کے این-جی-اوز  ضرورت مندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے ، اور اپنے اصولی یا سیاسی مقاصد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں – انہیں اہم غیر مادی وسائل تک بھی رسائی حاصل ہو جاتی ہے – سب سے اہم این-جی-او کے لئے بین الا قوامی طور پر متحرک ہونے کا اخلاقی جواز فراہم ہونا ہوتا ہے ، انکی یہ ضرورت کبھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہے- اپنے دائرہ اثر میں پر وقار مقام دلا کر ، یا دوسری تحریکوں کے بارے میں کارآمد معلومات فراہم کر کے،  اکثر امداد وصول کرنے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کو وسیع تر مہمات کے  کی تیاری میں مدد فراہم کر رہے ہوتے ہیں- مزید برآں عقلمندی سے کام لینے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کے محدود وسائل کو حتیٰ الا مکان بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں تا کہ انھیں کسی اور جگہ / کسی اور مقصد یا جدوجہد  کے لئے استعمال کیا جا سکے
اسی طرح کی باہمی مفادات عالمی حمایت کی  فضا ہموار کرتی ہیں – لیکن اس منڈی میں فریقین کے ما بین طلب و رسد کا فرق بہت زیادہ ہوتا ہے-طلب کی طرف ،امداد کے حصول کی خاطر ، (حالات سے تنگ یا پھر موقع اور وسائل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف )،   بہت سارے مزاحمت کار وں کی مسلسل اپیلیں ہوتی ہیں – اگرچہ مزاحمت کاروں کے درست اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہو سکتے ، لیکن امدادی اداروں کو ، بذریعہ ای-میل ، فیکس، یا پھر براہ راست  درخواستیں دی جاتی ہیں- مزاحمت کاروں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے انٹر نیٹ پر موجود انکے ویب سائٹس کو بھی اشاریے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے – ان ویب سائٹس کا بنیادی مقصد دنیا کو اپنے دعوؤں کے بارے میں آگاہ رکھنا ہوتا ہے – ایسی سینکڑوں ویب سائٹس کا حالیہ سالوں میں اندراج دیکھا گیا ہے – مقامی مزاحمت کار  ماحولیات کے مسائل سے لے کر نسلی و انسانی مسائل پر مباحثے کے لئے منعقدہ بین الا قوامی اجتماعات میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں-
پچھلے ٣٠ سالوں میں اقوام متحدہ کے تعاون سے منعقد ہونے والے مباحثوں میں غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت میں ڈرامائ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے – انہیں نہ صرف شرکت کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ان کے اپنے طریقہ کار کے مطابق مختلف معاملات پر اخذ کیے گے ان کے تجزیوں اور نتائج پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے- حتیٰ کہ مقامی  باشندوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے  ورکنگ گروپ فار انڈیجینیس پاپولشن ، کے با قاعدہ سالانہ اجتماعات مزاحمت کاروں کی بڑی تعداد کے لیے پر کشش بن گئی ہیں-  اگرچہ ان اجتماعات کے کئی ایک مقاصد ہوتے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ اہمیت  باہمی رابطے کے بین الا قوامی    موقع کو دیا جاتا ہے

(جاری ہے …..)

Advertisements

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٤

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 11, 2011 at 1:11 am

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٤
تحریر نواز بگٹی
الجھن
اس بحث میں یہ  ثابت کرنے کی کوشش کی جاۓ گی کہ ضروری نہیں عالمگیر توجہ حاصل کرنے والی تحریکیں بین الا قوامی برائیوں پر فتح حاصل کر لیں – اگرچہ اس کے امکانات ضرور ہیں ، اس کی وضاحت مرحلہ وار کی جا سکتی ہے

تشہیری مہم کی اہمیت کے بحث سے  سےامداد کے بنیادی پیمانے  کی نفی ہوتی ہے – یعنی یہ کہنا غلط ہو گا کہ  ” بری طرح سے مشکلات کے شکار ہی زیادہ سے زیادہ امداد کے مستحق ہیں ”  – ہر مزاحمتی تحریک اپنے آپ کو دنیا کی توجہ کا مستحق سمجھتی ہے ،  چاہے اسے حکومت کی جانب سے کشت و خون کا سامنا ہو یا پھر سیاسی غیر برابری کا – کسی حد تک ظلم و جبر اور بیرونی امداد کے اپیل میں معقول تناسب ہونا ضروری ہے –  باوجود منکسرانہ درخواستوں کے ، کئی دہائیوں سے جاری جنوبی ایشیاء کی مزاحمتی تحریکیں دنیا کی خاطر خواہ توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں، حالانکہ یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول بنایا گیا ہے-یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جب ہم کسی خاص تحریک پر عالمی اثرات کے نا کافی ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے سکڑنے یا ایک عالمی قصبے میں تبدیلی کا نام نہاد تصور بلکل غلط ہے – کیونکہ مذکورہ تحریک بھی تو آخر اسی دنیا کے کسی حصّے میں انسانوں پر ہونے والے جبر کے خلاف نبرد آزما ہوتی ہے – شاید  معاشی مربوطی  ، ٹیکنالوجی کی ترقی ، اور نشریاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت بھی اس کی کوئی قابل قبول توجیہ پیش نہ کر سکے کہ آخر ایک ہی خطّے میں ایک جیسی قوتوں سے نبرد آزما ، ایک سی مقاصد لئے مختلف تحریکوں کی عالمی پزیرائی میں  برتے جانے  والے امتیاز کی وجہ کیا ہے – انٹرنیٹ پر اگر تھوڑی سی بھی نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں برما، میکسیکو ، ایتھوپیا ، چین ، انڈیا ، پاکستان سمیت درجنوں آزادی کی تحریکیں سرگرم ہیں –  اگر ماحولیات کے میدان میں دیکھیں تو بلا مبالغہ  لا تعداد تحریکیں ملیں گی ، کچھ تو اپنی ویب سائٹ بھی رکھتی ہیں لیکن زیادہ تر انٹرنیٹ کی غیر مرئی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں- لیکن اگر اقوام عالم کی کسی منظم پلیٹ فارم پر نظر ڈالیں تو انکی نگاہوں کا توجہ صرف چند ایک تحریکیں ہی حاصل کر پائی ہیں

جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ عالمی سیاست اور طاقت کے نظریے میں تبدیلی لانے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن اقوام عالم کے مفادات کو عمومی رنگ دینے میں کسی طور کامیاب نظر نہیں آتی- بلکل اسی طرح اس ٹیکنالوجی کی بدولت اخلاقیات عالم ،عالمگیر سوچ ، اور عالمگیر فکر بیداری  کے کئی ایک دعویدار ابھرے ہیں-عالمگیر سوچ کا تقاضا ہے کہ ہم سب کا  تعلق اسی  دنیا سے ہے ، اور دنیا بھر میں پایا جانے والا مد و جزر ہم سب کو  متاثر کرتا ہے –  اگرچہ قابل تحسین تصور ہے ، لیکن حقیقت میں ایسا ہونا نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن ہے -دنیا بھر میں چاروں طرف پھیلے مسائل کا انبار اتنا بڑا ہے کہ پرخلوص و دیانتدار اداروں / غیر ریاستی تنظیموں کو کام کے لئے درست انتخاب کا عمل گڑ بڑا دیتا ہے  – جن عمائدین کی نظر میں ان غیر سرکاری تنظیموں کی بنیاد عظیم اخلاقیات پر مبنی ہے، وہ بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر یہ تنظیمیں اپنے کام کی راہوں کا تعین کن بنیادوں پر کرتی ہیں – آخر کونسا پیمانہ ہے جسے استعمال کرتے ہوۓ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس خطے میں ، کس مخلوق / تحریک کی مدد کی جاۓ – بقول انکےغیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے کام میں بنیادی اصول انسانی حقوق ہی ہیں ، مجموعی طور پر یہ جن مسائل کو اجاگر کرتے ہیں ، یا جن تحریکوں کی مدد کرتے ہیں ، ان سب کا بنیادی نقطہ انسانی حقوق کی حفاظت ہی ہوتا ہے – انکے خیال میں کسی بھی تنازع کے بارے میں پہلے سے حاصل شدہ جامع معلومات کا بھی کسی حد تک دخل ہوتا ہے – اور وسائل کی کمی کو جواز بنا کر اپنے اس رویے کو منصفانہ اور جائز قرار دیتے ہیں

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر ابھرنے والے کچھ نۓ اداکاروں کی جانب سے ان مسائل کو دانستہ غیر اہم ظاہر  کرنے کی کوشش کی جاتی ہے –  اوران کا کہنا غلط بھی نہیں ہے ، اپنے آخری تجزیے میں  بی-بی-سی- کے کسی پروڈیوسر یا ایمنسٹی انٹر نیشنل کے کسی مینیجر کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ وہ دنیا میں برائی کے دلدل اور کسی تحریک کی نامور شخصیت میں امتیاز برت سکیں ، لیکن صرف ان دو اہم پہلؤوں پر تمام تر توجہ مرکوز کرنے سے حکمت عملی ، اور منصوبہ بندی جیسے انتہائی اہم پہلؤوں کو دانستہ صرف نظر کیا جاتا ہے – ایسی کوئی  بھی مشق ، مذکورہ پروڈیوسر / مینیجرکی جانب سے  دانستہ طور پر اپنی صفوں میں مزاحمت کار کے کردار کو ثانوی بنا کر پیش کرنے کی سعی، اور دبانے کی کوشش سمجھی جا سکتی ہے –  اس طرح کی کردار نگاری سے متاثر ہو کر کوئی بھی اچھی فلاحی تنظیم اگر کچھ بہت اچھا بھی کر لے توصرف  مزاحمت کار کی تصویر کو ہی اپنی تشہیری مہم کا حصّہ بنا لے گی – اور جو اس کا بد ترین اثر ہو سکتا ہے وہ یہ کہ مزاحمت کار کو کسی بھی تیسرے فریق کی جانب سے وسائل کا منتظر ایک اور فقیر سمجھ کر نظر انداز کیا جاۓ(یہ سودا کتنا مہنگا ہے ذرا چشم تصور سے دیکھیے گا ) – تا ہم تحریکیں اپنے بیرونی وسائل کو استعمال کرتے ہوۓ زیادہ موثر انداز میں اپنے لئے امداد کی راہ ہموار کر سکتی ہیں – مزاحمت کاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا ، این-جی-اوز اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکیں ، لیکن اس راہ میں وو اپنے مخالفین سے زیادہ کامیابی نہیں حاصل کر سکتے- کیونکہ غاصب طاقتوں کو دستیاب  نسبتاً کئی گنا زیادہ  مالی وسائل انھیں دنیا کی بہترین رابطے کی مشینری تک رسائی کا موقع فراہم کرتے ہیں – ایسے میں اگر کچھ مزاحمت کار کے کام آ سکتا ہے تو وہ ہے اس کا نہ ٹوٹنے والا عزم ، اور آگے بڑھنے کا اس کا مصّمم ارادہ

بین الا قوامی امداد کے صرف ترسیل کے رخ پر توجہ مرکوز کر کے کسی بھی منڈی کے ایک بنیادی جز ” مسابقت ”  کونظر انداز کرنا بھی کسی طور درست نہیں ہوگا – کسی بھی مزاحمتی تحریک کو اپنی ہی طرح کی دوسری تحریکوں کی جانب سے ، ایک سی ضروریات ، ایک سے آیجینڈہ، اور ایک سی درخواستوں کی بنا پر سخت ترین مسابقت کا سامنا ہوتا ہے – آج کل کی مہذب عالمی سماج کے دعوے اپنی جگہ ، لیکن اکثریت کے لئے آج بھی وہی دراوڑی دور ہے کہ جس میں طاقتور کی فلاح اور کمزوروں کی بربادی سماجی بنیاد ہوا کرتی تھی -ایک وقت میں، ایک مقصد کے لیے  صرف چند ایک مزاحمتی تحریکوں کے لئے وسائل کی دستیابی ممکن ہوتی ہے – حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ غاصبوں سے نبرد آزما طاقتیں ، اقوام عالم کی ہمدردیوں اور اپنے لیے وسائل و مراعات کے حصول میں ،ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں  -ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے خود کو اور اپنے مقاصد کو دوسرے سے برتر ثابت کرے

 

(جاری ہے……….)

 

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٣

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 10, 2011 at 9:55 pm

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٣

تحریر نواز بگٹی

انتہائی خطرناک ہونے کے باوجود طرفین کی کوشش ہوتی ہے کہ عالمی راۓ عامہ کو اپنے لئے ہموار کرنے اور ہمدردیاں حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں – اس تحریری سسلسلے میں ہماری کوشش ہو گی کہ ان تمام اسباب پر غور کیا جاۓ جن کی وجہ سے مخصوص مزاحمتی تحریکیں تو اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجوڑنے میں کامیاب ہوتی ہیں ، جب کہ دیگر تحریکیں ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں – مجھے یہ لکھتے ہوے بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتا  کہ تحریکوں کی انفرادی کاروائیاں ،جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور ان  کی صلاحیتیں بھی اس سارے تناظر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

اکثر تحریکوں کی غیر معمولی پزیرائی ان کے زیر اثر علاقے کی بین الا قوامی اہمیت ، یا پھر کسی بھی بڑے نشریاتی ادارے کی غیر معمولی دلچسپی کے سبب  بھی ہوتی ہے اس تحریر میں مقامی تنظیم کو مرکزی سطح پر رکھتے ہوے ،عالمی لاپرواہی سے مشتعل ہو کر ، اپنی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے انکے  اختیار کردہ مشکل اور  پر خطر طریقہ کار پر بھی نظر ڈالی جاۓ گی

کسی بھی تحریک کی بنیادی اور فوری ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی آواز کو اقوام عالم غریب اور پسسے ہوۓ انسانوں کی آواز سمجھ کر سنیں – ایسا کرنے کے لئے وہ مقدور بھر کوشش کرتے ہیں کہ براہ راست توجہ حاصل کرنے اور اقوام عالم کی سرپرستی کے حصول کی خاطر  میڈیا کو توڑ کر اپنے حق میں استعمال کیا جاۓ – اسکے بعد اپنے اغراض و مقاصد کو بڑھاتے ہوۓ شدت پسندوں کی جانب سے محدود مطالبات ، صوبائی / نسلی تنازعات ، اور ایک مخصوص شناخت سامنے لے جاتے  ہیں – آج کی عالمی اخلاقیات کی منڈی میں ضروری ہے کہ مزاحمت کار اپنے ہاں کی صورت حال کی تشہیر کریں ، تنازعات کے تناظر میں اپنی جدوجہد کو جائز ثابت کریں ، اور اپنی آواز کو ایسی صورت میں ڈھالیں کہ اس کی گونج بہار کی دنیا تک کو سنائی دے – اسی تناظر میں ہی چند نقاط پر اپنی بحث کو مرکوز کرتے ہیں – – کسی بھی معروف این-جی-او کی حمایت حاصل کرنا نہ تو آسان ہے ، نہ ہی خودکار ، بلکہ ایک مسابقتی طریقہ کار سے ہی یہ حمایت حاصل کی جا سکتی ہے ، لیکن اس طرح کی حمایت کو بلکل یقینی بھی نہیں بنایا جا سکتا – کئی ایک تحریکوں کی اپنے ہی ملک / خطے ہی  میں کسی غیر ریاستی تنظیم کے توجہ کے حصول کی کوششوں کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا – تا ہم باہر بیٹھے لوگوں کو مخاطب کرنے کے لئے دھیان رکھا جاۓ کہ انھیں کوئی بنیادی معلومات حاصل نہیں ہیں -صحافی و علماء ہمیشہ ان تنازعات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جو عالمی سطح پر واضح شناخت رکھتے ہوں – یقین جانیے کے کہکشاں میں دور چمکتے ہوۓ ستاروں کی قسمت میں عمومی توجہ نہیں ہوتی – اور بدقسمت کے ہر کوشش کو نظرانداز کیا جاتا ہے – یا پھر کہا جا سکتا ہے کہ عالمی وسائل کا بھاؤ ان تھوڑے قسمت کے دہانی لوگوں کی جانب ہوتا ہے – اپنا قسمت بدلنے میں ناکام رہنے والی تحریکوں کو چاہیے کہ اپنی توانائیاں کہیں اور استعمال کریں ، کیونکہ ایسی بد قسمت مزاحمت انھیں موت کی اندوہناک گھاٹیوں میں دھکیل دے گی

امداد کی بڑھوتری اور تسلسل  کا انحصار تحریک کی ضروریات سے زیادہ اپنے ہمدردوں سے استوار رشتوں پر ہوتا ہے – امداد کی فراہمی کے تناظر میں بہت کم غیر ریاستی تنظیمیں نظر آتی ہیں جو  بلا امتیاز ، انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتی ہیں ، اور کسی بھی مزاحمتی تحریک کو دوسری تحریک پر فوقیت نہیں دیتیں – چونکہ امدادی تنظیموں کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور دنیا مسائل کی آمجگاہ بنی ہوئی ہے – ہر مزاحمتی تحریک خود کو انسانی و اخلاقی امداد کا مستحق تصور کرتی ہے ، ایسے میں ایک مسابقتی ماحول کا پیدا ہونا فطری عمل کہلاۓ گا –  اور پھر غیر ریاستی تنظیمیں کسی خاص ریاستی ضابطے میں بندھی ہوئی نہیں ہوتیں ، ان کی کچھ اپنی ترجیحات بھی ہوتی ہیں – یہ تنظیمیں امداد کی فراہمی کے وقت غیر رسمی طور پرضرورت مند تحریک سے زیادہ اپنی ترجیحات سے قریب تر تحریکوں کا انتخاب کرتی ہیں –  اس تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوۓ کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ دنیا اس کی درخواستوں  کو خالص انسانی ضروریات کے تناظر میں دیکھے – اب تحریک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے لئے عالمی برادری کی پہلی ترجیحات میں جگہ بناۓ، یعنی تحریک کو اپنی ترجیحات کی تشریح کچھ اس ادا سے کرنی ہو گی کہ اپنی بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر انہیں عالمی مفادات کی شکل میں پیش کر سکے – بظاھر سادہ نظر آنے والا یہ کام فنی اعتبار سے بہت باریکیوں کا حامل ہے ، اور ذرا سی بے احتیاطی سے غاصب کو مد مقابل تحریک کے بارے میں مہلک  پروپیگنڈہ  کا جواز فراہم کر سکتا ہے
کسی بھی غیر ریاستی ، یا غیر رسمی تنظیم سے امداد کا حصول چونکہ اخلاقی منڈی میں مسابقتی صلاحیتوں پر منحصر ہے ، ایسے میں کسی بھی تحریک کا معاشی ، ثقافتی ، اور تنظیمی ڈھانچہ بہت اہمیت رکھتے ہیں –  جو تحریکیں ان معاملات پر  خصوصی توجہ دیتی ہیں انکے لئے اقوام عالم میں جگہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے – کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے مخاطب ہوتے وقت اپنے لیے مخصوص امداد کی درخواست  اور اس امداد کے استعمال کا واضح طریقہ کار نمایاں کرنے کے قابل ہو – کوئی بھی درخواست ، ضروریات و اہداف کی واضح اور جامع  نشاندہی کے بغیر قابل پزیرائی نہیں ہوتی – ان تمام خصوصیات کے باوجود اگر تنظیمی ڈھانچے میں کوئی جھول نظر آ جاۓ تو یقیناً ایسی تحریک کے لئے بیرونی امداد کا حصول جوے شیر لانے کے مترادف ہو گا – ان تمام لوازمات کو نظر انداز کرنے والی تحریکیں ، سیاسی ، سماجی اور مالی اعتبار سے نہ صرف تنہا ہوتی ہیں بلکہ انھیں اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود دیوالیے پن کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے

– تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ ہے تحریک کو پیش کرنے کا زاویہ – یعنی تحریک  کی مارکیٹنگ –

زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ ممالک / اقوام کی امداد مظلوم و محکوم تک پہنچ کر انکی قسمت بدل دیتی ہے ،اور انکی اس راۓ سے اختلاف کی بہت کم گنجائش ہے –   لیکن یاد رہے یہ امداد خودکار طریقے سے نہیں پہنچ پاتی ، یا پھر اگر پہنچتی ہے بھی تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے – اس لئے ضروری ہے کہ اپنی تحریک  کے مقاصد ، اپنے لوگوں کے مسائل ، اور غاصب کے ظلم و جبر کی مناسب تشہیر کی جاۓ ، تاکہ عالمی برادری کی جانب سے بر وقت اور موزوں امداد کو یقینی بنایا جا سکے – کسی بھی تحریک کی تشہیری مہم کے دو بنیادی مقاصد ہوتے ہیں ، ایک تو اپنے معاملات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنا ، اور دوسرے  ضروری اور بروقت امداد کا حصول
امدادی منڈی کا سب سے اہم مسلہ امداد کے اثرات کا غیر مرئی  ہونا ہے – چاہے امداد حاصل کرنے والی تحریک احسان مندی کا اظہار ہی کیوں نہ کرے – بہت سارے صحافیوں اور سکالرز کی نظر میں سرحد پار مصروفیات نظر نہ آنے والی رحمتوں کے مترادف ہوتی ہیں – غیر سرکاری تنظیمیں اثرات کے  غیر مرئی ہونے کی وجہ سے کوئی واضح امداد کرنے سے کتراتی ہیں – ایک طرف تو مقامی مزاحمت کاروں کو حاصل شدہ امداد کو اپنے مقاصد کے لئے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے – دوسری جانب کسی بھی غیر ریاستی فلاحی تنظیم کے لئے کسی خاص مزاحمتی تحریک کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے – اس لئے تمام تر امداد خفیہ / یا مہارت سے ترتیب دی ہوئی انسانی ضروریات کے پیش نظر دی جاتی ہے – خفیہ امداد چونکہ مسلسل و مربوط نہیں ہو سکتی لہذا ہمیشہ اس کے ختم ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے – خاص طور پر عالمگیر توجہ پانے کے بعد اگر مزاحمت کار غاصب کے خلاف اپنی کاروائیوں میں زیادہ شدت لے آتے ہیں ، اور ایسے موقعے پر اگر امدادی سلسلہ منقطع ہو جاۓ تو تحریک کی زندگی کے سامنے سوالیہ نشان لگ سکتا ہے – اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خفیہ امداد کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے – اس تمام صورت حال کے لئے تحریک کو نہ صرف تیار رہنا پڑتا ہے بلکہ متبادل منصوبہ بھی تیار رکھنا پڑتا ہے

(جاری ہے……..)

انقلابی تحریک -چھاپہ مار جنگ ایک امتیازی حکمت عملی

In Baloch Freedom movement, BLA on January 1, 2011 at 8:53 pm

انقلابی تحریک -چھاپہ مار جنگ ایک امتیازی حکمت عملی

تحریر نواز بگٹی

اگر مجموعی طور پر دیکھا جاۓ تو انقلابی تحریکیں حالت جنگ میں بھی مروجہ جنگی حکمت عملیوں سے مختلف و ممتاز حثیت رکھتی ہیں . تحریک چاہے بہت ہی چھوٹے پیمانے پر ہو یا وسیع  قومی تحریک کی شکل اختیار کر جاۓ اس کی کاروائیوں اور روایتی جنگ میں اتنا ہی فرق ہو گا جتنا کہ روایتی اور نیوکلیائی جنگ میں ہو سکتا ہے – روایتی جنگ کے مقابلے میں کم از کم چار  بنیادی نقاط ایسے ہیں جو اس جنگ کو امتیازی حیثیت دیتی ہیں –

– طاقت کے مرکز کا ایک ہونا

انقلابی تحریکوں کی پشت پرہمیشہ  ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ اور وسیع عوامی حمایت  کار فرما  ہوتی ہے ، اگر بوجوہ تحریک عوامی مقبولیت کھو دیتی ہے یا تحریک کی عوامی پذیرائی میں کمی آتی ہے تو بہت حد تک ممکن ہے کہ تحریک کی عسکری سپاہ خود کو جارح و قابض افواج کی نظروں سے نہ چھپا پائیں ، جو کہ تباہی اور تحریک کی یقینی ناکامی پر منتج ہو سکتا ہے -عوامی حمایت بہت واضح بھی ہو سکتی ہے اور اگر قابض افواج کی جارحیت و بر بریت وحشیانہ ہو تو تحریک  کے لئے عوام کی خاموشی  اور غیر جانبداری بھی حمایت ہی تصور کی جاتی ہے –
یہی عوامی مقبولیت ہی در اصل تحریک کو ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے کی بنیادیں فراہم کرتی ہے کوئی بھی تحریک سیاسی بازو کے بغیر لولی لنگڑی تصور کی جاتی ہے -( اور لولے لنگڑوں پر  ترس تو کھایا جا سکتا ہے لیکن قوموں کی تقدیر کے فیصلوں کا اختیار انھیں نہیں دیا جا سکتا )-سیاسی بازو سے محرومی کا مطلب ہے تحریک کا  سراغرسانی جیسے  جنگ کے انتہائی اہم پہلو سے محروم ہو جانا ،جس کا مطلب ہے  نہ صرف دشمن کی چالوں سے بے خبری بلکہ موثر حکمت عملی سے بھی محروم ہونا – اس پر طرہ یہ کہ جو سیاسی ڈھانچہ تحریک کے لیۓ افرادی قوت کا بندوبست کرنے کے حوالے سے اہم ہوتی ہے اس کے بغیر تحریک بجاۓ پھیلنے کے مزید سکڑ جاتی ہے -تحریک کو مادی وسائل کے بارے میں بھی بلکل اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے – یعنی مضبوط و مربوط سیاسی ڈھانچے کے بغیر تحریک جنگجووں کے ایک جتھے سے زیادہ اہمیت اختیار ہی نہیں کر سکتی ، اور کسی بھی منظم قابض طاقت کے لیۓ چند جنگجوؤں کو کچلنا چنداں پریشانی کا سبب نہیں ہو سکتا –
ایک طرف تو ثابت ہوتا ہے کہ انقلابی تحریکوں کی طاقت کا اصل منبع عوام ہی ہیں ، جبکہ دوسری طرف قابض افواج  کو بھی اپنے اقتدار ا علی  کو قائم رکھنے اور ایک طاقتور تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کے لیۓ اسی عوامی طاقت سے رجوع کرنا پڑتا ہے – چونکہ مد مقابل تحریک آزادی کو مادی ، طبّی ، عسکری اور افرادی وسائل کا سرچشمہ یہی عوام ہی ہیں لہذا قابض افواج  لالچ ،دھونس ، دھمکی غرضیکہ ہر طریقہ آزمائیں گے تا کہ عوام کو نہ صرف عسکریت پسندوں کی مدد کرنے  سے باز رکھا جاۓ بلکہ انہیں تحریک کے خلاف مبینہ طور پر استعمال بھی کیا جا سکے – قابضین کے لیۓ عوام کا سب سے بہترین ا ستعمال تحریک کے خلاف سراغرسانی کی صورت میں کیا جاتا ہے –
طویل المدت اقتدار اور طاقتور مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیۓ عوامی حمایت کا حصول قابض افواج کے لیۓ بھی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے –
غرضیکہ روایتی  جنگوں میں طاقت کے مختلف مراکز کے برعکس انقلابی جدو جہد آزادی میں مد مقابل افواج کی حقیقی طاقت کا مرکز ایک یعنی عوام ہی ہوتے ہیں –
روایتی جنگوں میں جانبین کی کوشش ہوتی ہے کہ مخالف کے طاقت کے مرکز کو تباہی سے دو چار کیا جاۓ اور اپنے مرکز کی حفاظت کی جاۓ ، لیکن موجودہ صورت حال میں طاقت کے مراکز کی غیر مرئی اور نا قابل تفریق تصور سے طرفین کو مروجہ جنگی حکمت عملی بجاۓ کوئی فائدہ پہنچانے کے نقصان پہنچاتی ہے -اور یہی صورت حال  تحریک کی قیادت کو غداروں کا تعین کرنے ، اور ان کے لیۓ سزائیں تجویز کرنے میں بے حد احتیاط کا  متقاضی ہوتا ہے -ذرا سی کوتاہی خدا نخواستہ کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے

عسکریت پسند میدان جنگ میں ہار کر بھی اصل معرکہ نہیں ہارتا

انقلابی تحریکوں کی ایک دوسری امتیازی وصف شاید یہ بھی ہے کہ وہ معرکہ ہار کر بھی شکست کی ہزیمت نہیں اٹھاتے – تحریک آزادی کی عسکری قیادت اپنی محدود افرادی قوت کے سبب کسی بھی ایسی لڑائی سے گریز کرتی ہے جو کسی فیصلہ کن  شکست کا سبب بن سکے – گوریلا حکمت عملی کی وجہ سے بیک وقت کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے محاذ تحریک کو ایک شکست کے بدلے کئی جیت کا تفاخر عطا کرتے ہیں . جب کہ اس کے برعکس قابض افواج کا بھاری بھرکم وجود  ، بھاری و خطرناک اسلحہ ، تمام ضروری تربیت سے لیس سپاہ اور ان کے مقابلے میں مٹھی بھر نو جوانوں سے شکست  کو عسکری میدان کا بد نما داغ بنا دیتی ہیں  یوں عوامی حمایت یافتہ تحریک آزادی اپنے حریفوں کے مقابلے میں اخلاقی فتوحات سے سرشار نۓ معرکوں کی تیاری میں مصروف ہوتی ہے ، جب کہ دشمن زخم چاٹتا ، اپنے سپاہ کی نفسیاتی تربیت کر رہا ہوتا ہے -گوریلا قوت کی موجودگی ، اور اس کی بقا ہی دراصل قابضین کی شکست ہوتی ہے

وقت کا تباہ کن ہتھیار

روایتی جنگوں میں فریقین کی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم وقت میں فیصلہ کن فتح حاصل کیا جاۓ ، لیکن اس کے بلکل بر عکس  چھاپہ مار جنگ میں عسکریت پسند  جنگ  کو انتہائی طویل اور صبر آزما بنا دیتے ہیں ، ان کے پاس دوسری عسکری لوازمات میں کمی کے برعکس وقت وافر سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے – چھاپہ ماروں کو فتح سے کہیں زیادہ حریف کی شکست سے دلچسپی ہوتی ہے اور کبھی کبھار تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ مد مقابل کی سسکتی ہوئی صورت حال سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں –  چونکہ قابضین کی با قاعدہ افواج کی تربیت بے بنیاد جذباتیت پر ہوتی ہے ، ان کے سر پر بر تری کا بھوت سوار ہوتا ہے ، وہ اپنی فتح میں چند لمحوں کی تاخیر بھی برداشت کرنے کے قائل نہیں ہوتے سو بے مقصد انتظار سے اکتاہٹ کا شکار ہو کر اپنی شکست کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں

رسد کی الٹی گنگا

روایتی جنگوں میں ہمیشہ طرفین کو رسد ان کی پشت پر موجود رسد کے مراکز سے حاصل ہوتی  ہے ، ان کے لیۓ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رسد کے ذرا یع اور راستوں کی حفاظت  بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے . لیکن اس کے برعکس تحریک آزادی کے چھاپہ ماروں کو رسد میدان جنگ میں موجود ان کے ہمدردوں سے ہی حاصل ہوتی ہے – ایک طرف تو وہ رسد کے  ذرا یع اور اس کی حفاظت سے بے فکر ہو جاتے ہیں تو دوسری طرف مد مقابل کے رسد کو کاٹ کر اس کے لیۓ میدان میں بقا کا سوال کھڑا کر لیتے ہیں . چونکہ چھاپہ ماروں کی رسد بہت پہلے ہی ان کے منتخب کردہ نشانے کے آس پاس پہنچ چکی ہوتی ہے لہذا قابض افواج کے لیۓ اس عسکری ساز و سامان کو استعمال کرنے سے قبل تباہ کرنا تقریباً نا ممکن بن جاتا ہے –
سواۓ چند ایک مخصوص صورتوں کے جہاں چھاپہ مار بیرونی رسد وصول کر رہے ہوں قابض افواج کی فضائی صلاحیت بھی ناکام ہو جاتی ہے

( اہل زبان نہ ہونے  اور اردو ٹائپنگ سے کم واقفیت کی بنا پر زبان و بیان اور پروف کی غلطیوں پر معذرت )

انقلابی تحریک براۓ قومی آزادی اور اس کے اجزا ترکیبی

In Baloch Freedom movement on January 1, 2011 at 2:34 am

انقلابی تحریک  براۓ  قومی  آزادی اور اس  کے  اجزا ترکیبی

 

تحقیق و ترتیب ، نواز بگٹی

 

آزاد منش انسانوں کی انقلابی تحاریک کو شدت پسندی کا نام دیا جاتا  ہے- اپنے جوہر میں یہ  تحریکیں اپنی مدد آپ کے نظریے کے تحت پھلتی پھولتی اور بار آور  ہوتی  ہیں- اپنی سرزمین پر انسان جب اپنے آپ کو محکوم و مفتوح سمجھنا شروع کر دے تو یہی اس انقلاب کا نقطہ آغاز ہوتا  ہے جسے جنگ آزادی کہا جاتا ہے-انسان جب آزادی کے جذبے سے سرشار کفن باندھ کرمیدان عمل میں اترتا ہے تو دنیا کی طاقتور استعماری قوتیں اپنے اور اپنی حواریوں کی مفادات کے تحفظ کی خاطر مد مقابل آتی ہیں. یوں بیرونی امداد کے بل بوتے پر جارح افواج کو اپنا قبضہ قائم رکہنے  کے لیے  نہ صرف مزید وقت مل جاتا ہے، بلکہ اس کی جارحانہ اقدامات میں مزید تیزی آ جاتی ہے .اپنا اقتدار ا علی   قائم رکہنے  کے لئے وہ نسل کشی جیسے انتہائی اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتا -( موجودہ پاکستان کی مثال ، یا پھر ماضی قریب میں یوگوسلاویہ) دوسری جانب آزادی کی تحریک کو بیرونی امداد اگرچہ مہمیز ضرور کرتی ہے لیکن یہ بیرونی امداد کی محتاج نہیں ہوتی – عام طور پر یہ امداد مادی وسائل کی فراہمی تک محدود ہوتی ہے اور بسا اوقات پر عزم انقلابی افردی قوت کو منظم کرنے  کے لئے با صلاحیت افراد بھی مہیا کیے جاتے ہیں ( جیسا کہ بولیویا میں ” ڈاکٹر چے ” کی آمد )  جو انقلابی قوت کو بہتر انداز میں منظم کر لیتی ہیں تا کہ انہیں جا رح طاقت کی بر بریت  کا مقابلہ کر نے  کے لئے مناسب طور پر تیار کیا جا سکے –  کسی بھی تحریک  میں درمیانے طبقے کی کلیدی  اہمیت ہوتی ہے -اس طبقے کی اکثریت اگرچہ فطری طور پر تحریک ہی سے وابستہ ہوتی ہے لیکن ایک قلیل تعداد  متاثر کن انفرادی مراعات کی لالچ میں اپنے آقاؤں کی تقلید میں سجدہ ریز ہوتی ہے (جیسے کہ بلوچستان میں نام نہاد پارلیمانی سیاست کے علمبردار ) ، اور یہ طبقہ قومی مفادات کو کمینگی کی حد تک نقصان پہنچاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہر تحریک نے ہمیشہ ان ناسوروں سے پہلے جان چھڑائی ہے

 

واضح اور غیر مبہم انقلابی نظریہ کی حامل  کسی بھی کامیاب تحریک کی اجزا  ترکیبی کچھ یوں ہوتی ہے

طویل المعیاد  منصوبہ / مستقل مزاجی

تحریک سے وابستہ سیاسی قوت کا بنیادی کردار

پر عزم و ہم آہنگ عسکری قوت

اور گوریلا انداز جنگ

 

طویل المعیاد  منصوبہ / مستقل مزاجی

 

ایک فاتح کو سرعت سے بے دخل کرنا کسی بھی تحریک کے لئے نہ صرف غیر معمولی  بلکہ اکثر نا ممکنات میں سے ہوتا ہے – وقت ، کو ہمیشہ دو دھاری تلوار  کی مانند استعمال کرنا چاہیے ، وہ  بھی کچھ اس انداز میں کہ دونوں دھار جا رح افواج کوکاٹیں – وقت کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ  ایک جانب تحریک کو جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا خاطر خواہ موقع ملتا ہے ، اور اپنی سیاسی و عسکری قوت کو بھی منتشر ہونے سے بچا لیتا ہے – تو دوسری طرف جتنی دیر تک مزاحمت جاری رہتی ہے قابض افواج کی حکومت کرنے اور تحریک آزادی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت دم توڑتی جاتی ہے. اور یوں تحریک  جلد کامیابی  کے منازل طے کرتی ہے

آزادی کے مشہور مفکر “ہو چی منہ ” وقت کے بارے میں رقمطراز ہیں ” وقت ہی حالت فتح ہے، کہ جس سے ہم دشمن کو شکست سے دو چار کرتے ہیں -وقت  فتح کے تینوں بنیادی اجزا میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ،   جغرافیہ اور عوامی اعانت کی باری بعد میں آتی ہے -صرف وقت ہی کے بل بوتے پر ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں

 

ماؤ زے تنگ ، جو کہ جدید مزا حمت میں ا علی مقام رکھتے ہیں ، وہ بھی طویل المدت مزاحمت کے قائل نظر آتے ہیں -ماؤ کی مشہور زمانہ اصول مزاحمت ،   ” پیچھے ہٹو ، جب وہ (دشمن ) آگے بڑھے- جب وہ رکے تو اسے خوفزدہ کرو – اس پر ہلہ بول دو جب وہ تھکا ماندہ ہو – اور اسکا پیچھا کرو جب وہ پیچھے ہٹے -”  آج بھی مشعل راہ سمجھی جاتی ہے

 

تحریک سے وابستہ سیاسی قوت کا بنیادی کردار

 

مزاحمتی تحریک کی عسکری قوت وقت کے ساتھ ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے جب کہ تحریک کا   مضبوط سیاسی ڈھانچہ  مستقل  بنیادوں پر قائم رہتا ہے – بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ سیاسی ڈھانچہ ، تحریک کی بقا ، نشو نما ، اور کامیابی کے مد میں  کم از کم  درج زیل  چھ (٦) بنیادی فرائض ادا کرتا ہے

 

معلومات جمع کرنا اورمتعلقہ افراد تک پہنچانا –

مالی و مادی امداد بہم پہنچانا-

افرادی قوت کا بندو بست کرنا-

تحریک کی سیاسی آثر پذیری-

عسکری قوت کو حسب ضرورت تخریبی سہولیات بہم پہنچانا –

متوازی حکومت کا قیام –

 

تحریک کی سیاسی و عسکری کامیابی میں  درست اور بروقت معلومات  بنیادی اہمیت کا حامل ہوتی ہیں – جارح افواج کی صفوں میں شامل کردہ اپنے وفادار ایجنٹوں کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کر کے نہ صرف دشمن کی چالوں کو نا کام بنایا جا سکتا ہے بلکہ شاطرانہ چالوں سے دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے – حتیٰ کہ وہ ہمدرد  جو کہ دشمن کی صفوں میں جگہ نہ پا سکے صرف دشمن افواج کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتے ہوے بروقت معلومات فراہم کر کے تحریک کے لئے انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں

ہمدردوں کی بڑی تعداد میں موجودگی سے عسکریت پسندوں کو اپنی روز مرہ ضروریات زندگی کے علاوہ طبی ضروریات کے بارے میں بھی نسبتاً کم پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے – اکثر ہمدردوں کی جانب سے کی جانے والی  رضاکارانہ مالی معاونت  عسکری تنظیم کے معاشی مسائل کو بھی کم کر دیتی ہے

اگر تحریک کی عوامی پذیرائی بڑھتی ہے تو اس سے جارح افواج کا کمزور ہونا فطری امر ہے -بڑھتی ہوئی عوامی پذیرائی گوریلا تنظیم کو افرادی قوت کی پریشانی سے بھی نجات دلاتی ہے ، یہی وجہ کہ جارحیت کا شکار گوریلا تنظیمیں نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں بلکہ پھل پھول رہی ہوتی ہیں-  عوام میں موجود ہمدردی کا یہ  عنصر غداروں کی بروقت نشاندہی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی تنظیم کا دست و بازو ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے غدار اپنے خوفناک انجام کو پہنچ کر دوسروں کے لئے عبرت کا سامان ہوتے ہیں

آخر کار آزادی پسند اپنی متوازی حکومت قائم کرنے میں  قامیاب ہو جاتے ہیں ، یوں تحریک ایک نۓ دور میں داخل ہو جاتی ہے -یہاں سیاسی و عسکری تنظیم کی ذمداریاں بڑھ جاتی ہیں – ایک طرف تو اپنے زیر اثر علاقوں میں لوگوں کو سماجی و سیاسی انصاف اور ان کے جان و مال کی حفاظت اس دور میں تحریک کی ذمداری بن جاتی ہے اور ذرا سی بے احتیاطی تحریک کے تمام کیئے کراۓ  پر پانی پھیر سکتی ہے –  دوسری طرف طاقتور جارح افواج کی جانب سے متوقع  شدید جارحیت  کا مقابلہ – متوازی حکومت کا دور اصل میں تحریک کے حقیقی امتحان کا دور ہوتا ہے

متوازی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے ہم خیال عالمی قوتوں کی نشاندہی کرے ، ان سے عسکری ، مالی و اخلاقی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے

اگر ہوشیاری اور احتیاط سے کم لیا جاتےتو یہ سیاسی   ڈھانچہ اپنے جوہر میں زرہ بندہوتا ہے – کسی بھی قابض قوت کے لئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ہوشیاری سے پروئ ہوئی گوریلا تنظیم کی لڑیوں کے خلاف مخبروں اور روایتی پولیس کی مدد سے خاطر خواہ کاروائی کر سکے -(جیسے کہ  تنظیم کی عسکری چھاپہ ماروں کا ایک  دوسرے کے بارے میں ممکنہ حد تک غیر متعلق ہونا یا ایک دوسرے کے بارے میں انتہائی کم معلومات / معلومات کا نہ  ہونا ).ایسے میں جارح اپنی با قاعدہ افواج کو میدان میں اتارنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، جارحیت کا بڑھتا ہوا استعمال ہمیشہ آزادی پسندوں کے حق میں ثابت ہوتا ہے

پر عزم و ہم آہنگ عسکری قوت

 

اس پر کوئی دو راۓ نہیں ہو سکتیں کہ ایک پر عزم عسکری قوت کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیابی سے ہمکنارنہیں ہو سکتی ہے – آزادی کے بنیادی اور رضاکارانہ حق کا تصور محض کتابی ہے کوئی بھی قابض رضاکارانہ طور پر مفتوحہ قوم کو اس کی آزادی نہیں لوٹاتا- ایک کامیاب تحریک کی بنیادی جز ہونے کے ناطے عسکری قیادت کا اپنے سیاسی قیادت سے ہم خیال ، مربوط اور  اکثر اس کے تا بیع ہونا ضروری ہوتا ہے

آزادی کی تحریک کے عسکری شاخ کے لئے یہ بلکل بھی ضروری نہیں کہ ہر عسکری معرکے میں کامیابی  ہی تحریک کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہو ، اس کے بلکل بر عکس جارح و قابض افواج کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اسے ہر معرکے میں کامیابی نصیب ہو وگرنہ افواج کی گرتی ہوئی ساکھ اس کے یقینی شکست میں بدل جاتی ہے.  اسی لیۓ اکثر تحریکوں کی قیادت اپنے سپاہ کی تحفظ  کو اولیت دیتے ہیں – گوریلا طرز جنگ “اپنی حفاظت اولین ترجیح ” ہی کے بنیادی اصول کی پیروی میں ہی کامیابی سے لڑی جا سکتی ہے

معروف  جرمن عسکری ماہر کلازوٹزشاید اس صورت حال کی بہتر توجیہ پیش کرتے ہیں ” جنگ — دار اصل سیاسی سرگرمیوں کے جاری رہنے کو کہتے ہیں – سیاسی سرگرمی لیکن کچھ اور طرح کی  ” – آزادی کی جنگ کے سیاسی و عسکری شاخوں کا مکمل ہم آہنگ و مربوط ہونے ہی میں دراصل کامیابی کا راز پنہاں ہے -ہم آہنگ سیاسی و عسکری قوتیں با ہم مل کر ہی معنی خیز جدو جہد کر سکتی ہیں

 

گوریلا انداز جنگ

 

چوتھا جز یعنی گوریلا طرز جنگ شاید آج تک کی تمام تحریکوں کا قدر مشترک ہی رہی ہے -ہمیشہ کمزور اقوام نے  طاقتور دشمن کے مقابلے میں   یہ تاریخی طریقہ استعمال کیا -جنگوں کے مروجہ زود فتح طریقوں کے بر عکس گوریلا اپنی جنگ کو کچھ اس انداز میں ڈیزائن کرتا ہے کے اسے اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کے مقابلے میں شکست کی ہزیمت سے دو چار ہونا نہ پڑے اگرچہ مروجہ جنگی طریقہ کار میں بڑے عساکر کو حرکت میں لانے کی ضرورت پڑتی ہے جب کہ گوریلا انفرادی سپاہ کے متحرک رکھنے اور نسبتاً انتہائی چھوٹی ٹکڑیوں کی لڑائی کو ترجیح دیتا ہے –  گوریلا حتیٰ الا مکان کوشش کرتا ہے کہ وو دشمن کی نظروں میں آۓ بغیر اپنی کاروائیاں جاری رکھے – جب کہ جارح افواج گوریلا تنظیم کی تلاش میں ہوتی ہیں -گوریلا اپنی مرضی سے ، اپنی منتخب جگہ ، اور اپنے حق میں حالات کو دیکھتے ہوے لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے ، جب کہ قابض افواج کے پاس انتخاب کا کوئی حق نہیں ہوتا انھیں گوریلا سپاہ سے ہر جگہ ہر حال میں لڑنا ہوتا ہے

یہی وجہ ہے کہ قابض افواج کی کسی چھوٹی سی ٹکڑی کو بسا اوقات بہت بڑے نقصان  سے دو چار ہونا پڑتا ہے – گوریلا جتنی سرعت سے برآمد ہو کر حملہ آور ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے غائب بھی ہو جاتا ہے – گوریلا سپاہ کا حملے کی جگہ کے آس پاس  رہنے کا مطلب اپنے لیۓ بہت بڑے دشمن کے ہاتھوں تباہی کو دعوت دینا ہوتا ہے ، اس لیۓ یہ توقع عبث ہے کہ گوریلا معرکے کے بعد جاۓ وقوعہ کے پاس پایا جاۓ- ایسی صورت حال میں اگر قابض افواج بعد از واقعہ کسی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے عوامی نقصان ، جس کے غیظ و غضب  کا سامنا بھر حال قابض قوت ہی کو کرنا ہوگا

جنوبی ویتنام جنگ میں شامل ایک امریکی جنرل ولیم کا کہنا ہے ” ایک علاقے میں گوریلا کمین گاہوں کی موجودگی کا پتا لگاۓ بغیر ٣٠،٠٠٠ سپاہ کی تعیناتی بری افواج کے ریکارڈ میں داخل دفتر کرنے کے مترادف ہے -” ( یعنی ٣٠،٠٠٠ سپاہ کی ایسی دانستہ تباہی کہ ان کا وجود صرف بری افواج کے ریکارڈ ز میں ہی مل پاۓ)

گوریلا جنگ ایک کثیر المقاصد جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے – اس کے کچھ بنیادی مقاصد کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ،

پہلے مرحلے میں ،

 

تحریک کی عسکری کاروائیاں قابض افواج و حکومت کی توجہ تحریک کے سیاسی سرگرمیوں سے ہٹا لیں تا کے تحریک کے سیاسی ڈھانچے کو اپنی جگہ بنانے اور پھلنے پھولنے کے لیۓ درکار مناسب وقت مل سکے

 

تحریک کی عسکری کاروائیاں قابض افواج کو ہراساں کرنے ، انھیں اخلاقی اور ذہنی طور پر پست کرنے کے لیۓ بھی کی جاتی ہیں

 

گوریلا عساکر کی کامیاب  کاروائیاں  اکثر قابض افواج کے اعصاب پر بہت بری  طرح  اثر انداز ہو کر تحریک کے اخلاقی  فتح پر منتج ہوتی ہیں

 

گوریلا کاروائیوں کی وجہ سے دشمن کے متحرک رہنے کے اخراجات دشمن کی اقتصادی تباہی کا بیس ہوتی ہیں ، اور اقتصادی زبوں حالی کی وجہ سے اوم پر عائد کردہ ٹکسیز   میں مزید اضافہ قابض افواج کی پرشانی کا فطری سبب  بن سکتی ہیں

نقل و حمل کی تنصیبات کی تباہی ، جس سے جارح افواج سرعت سے حرکت کرنیں کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے

 

دوسرے مرحلے میں ،

 

گوریلا عساکر کی کامیاب کاروائیوں سے متاثر ہو کر لوگوں کی اکثریت یا تو ان سے جا ملتی ہے یا پھر غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتی ہے ، کیوں کہ نظر آ آرہا ہوتا ہے کہ  قابض افواج اپنی حفاظت نہیں کر پاتیں تو عوام کی کیا کریں گی

 

قابض افواج تھکاوٹ اور اعصابی کمزوری کا شکار ہونے لگیں گی ، جیسے جیسے لڑائی طول کھینچتی جاۓ گی ، قابض افواج کی جارحیت میں فطری کمی آتی رہے گی

 

قابض افواج کی تھکاوٹ اور اعصابی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہووے تحریک کی سیاسی شاخ کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا ، در حقیقت یہی آزادی کی جانب پہلا سنگ میل ہے جو اس مرحلے پر عبور ہوتا ہے اور آزادی کی منزل  قدم بہ قدم قریب آتی جاتی ہے

 

آخری مرحلہ ،

 

اب وقت آ جاتا ہے جب گوریلا عساکر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ایک منظم اور بڑے فوج کی صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے – اس مرحلے پر مقبولیت اور عوامی پذیرائی سے لطف اندوز ہوتی یہ فوج قابض افواج پر باقاعدہ حملہ کر کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے – ایک فیصلہ کن جنگ تحریک کو آزادی کے منزل سے ہمکنار کر لیتا ہے

 

(اردو ٹائپنگ سے اپنی عدم واقفیت کی بنا پر پروف کی غلطیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جس کے لئے دلی معذرت )