Let we struggle our way

Posts Tagged ‘media’

علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 11, 2011 at 3:29 am

علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥
تحریر نواز بگٹی
طاقت ، تبادلہ ، اور تشہیر
حمایت کے حصول کی خاطر مزاحمتی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے اپنے روابط استوار کرے ،  اپنی راہ میں قربانیاں دے ، اور بہت کم داؤ پر لگاتے ہوۓ نسبتاً زیادہ مراعات حاصل کر سکے – اور اکثر مزاحمتی تحریکوں کو حالت کے دباؤ ، دشمن کے کشت و خون ، وسائل کی کمی ، یا غیر نمایاں مقام ایسا کرنے پر مجبور بھی کرتی ہیں – بین الا قوامی  برادری سے مربوط رشتے تحریکوں کو اپنی جیسی مسابقتی تحریکوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہیں – تاہم امداد کے وعدے علاقائی تنظیموں کو عالمی برادری کی جانب راغب ضرور کرتی ہے – لیکن یہاں انھیں اپنے تصور سے کچھ زیادہ ہی بے وقعت ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے – یقیناً بیرونی دنیا کے لئے پایا جانے والا ہمدردی کا جزبہ این-جی-اوز کومنافع خور  کثیر القومی کمپنیوں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں سرشار ریاستوں سے ممتاز کرتی ہیں – جیسے کہ  این -جی-اوز کا مرکزی مطمع نظر ، خیالات ، اصول و ضوابط ، اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کی ترویج ہوتی ہے – انکے حالیہ بڑھتے ہوۓ اثر و رسوخ نے دنیا بھر میں تنازعات  پر مقالموں و مباحثوں کے انعقاد ،وسیع تر انتخاب ، اور بہتر نتائج کے ذریعے  عالمی سیاست کے بارے میں اقوام عالم کو ایک نۓ نقطہء نظر سے متعارف کروایا – مظلوموں کی طرف سے رضاکارانہ کاروائی انکے بنیادی اقدار میں سے ایک ہے – اور اکثر این-جی-اوز کے عمال اپنی متعین کردہ راہ عمل کو انتہائی اخلاص اور خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں – لیکن این-جی-اوز اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود -ایک تنظیم ہی ہوتی ہیں – انہیں  بھی  ، کسی بھی تنظیم کی طرح ، بقا ، بحالی ، اور نشونما کے بنیادی مسائل کا سامنا رہتا ہے- عالمی رشتے استوار کرتے وقت ان مسائل سے نمٹنا بذات خود ایک مسلہ ہوتا ہے -مزاحمتی تحریک  چاہے کتنی بھی مربوط نیٹ ورک کا حامل کیوں نہ ہو ، اس کے اغراض و مقاصد، دائرہ عمل ،اور  طریقہء کار  کسی بھی این-جی-او سے یکسر مختلف ہوتے ہیں – حالانکہ دونوں ہی محکومانہ سیاسی نظام ، اور پیسے ہوۓ طبقے کے درمیان کام کر رہے ہوتے ہیں
دو مختلف کرداروں کے تناظر میں مزاحمتی تحریک اور کسی بھی این-جی-او کے درمیان رشتے کو صرف با ہمی تبادلے کا نام دیا جا سکتا ہے – ایک مدت سے سماجی تجزیوں میں باہمی تبادلے کا یہ تصور تو رائج ہے ہی لیکن بین الا قوامی نیٹ ورکس کے پڑھنے والے شاید اس تصور کے بصیرت کی گہرایوں کو جانچنے سے قاصر رہے- اس تناظر میں ایک طرف تو مزاحمتی تحریک اپنے لیے  اخلاقی جواز کے ساتھ ساتھ  معاشی ، مادی ، اور معلوماتی مدد کی منتظر ملتی ہے تاکہ اپنے سے طاقتور دشمن کا مقابلہ کر سکے – جبکہ دوسری طرف این-جی-او اپنے محدود مفادات اور  مخصوص مقاصد لئے – مقامی تحریکوں کی حمایت کر کے این-جی-اوز  ضرورت مندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے ، اور اپنے اصولی یا سیاسی مقاصد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں – انہیں اہم غیر مادی وسائل تک بھی رسائی حاصل ہو جاتی ہے – سب سے اہم این-جی-او کے لئے بین الا قوامی طور پر متحرک ہونے کا اخلاقی جواز فراہم ہونا ہوتا ہے ، انکی یہ ضرورت کبھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہے- اپنے دائرہ اثر میں پر وقار مقام دلا کر ، یا دوسری تحریکوں کے بارے میں کارآمد معلومات فراہم کر کے،  اکثر امداد وصول کرنے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کو وسیع تر مہمات کے  کی تیاری میں مدد فراہم کر رہے ہوتے ہیں- مزید برآں عقلمندی سے کام لینے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کے محدود وسائل کو حتیٰ الا مکان بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں تا کہ انھیں کسی اور جگہ / کسی اور مقصد یا جدوجہد  کے لئے استعمال کیا جا سکے
اسی طرح کی باہمی مفادات عالمی حمایت کی  فضا ہموار کرتی ہیں – لیکن اس منڈی میں فریقین کے ما بین طلب و رسد کا فرق بہت زیادہ ہوتا ہے-طلب کی طرف ،امداد کے حصول کی خاطر ، (حالات سے تنگ یا پھر موقع اور وسائل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف )،   بہت سارے مزاحمت کار وں کی مسلسل اپیلیں ہوتی ہیں – اگرچہ مزاحمت کاروں کے درست اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہو سکتے ، لیکن امدادی اداروں کو ، بذریعہ ای-میل ، فیکس، یا پھر براہ راست  درخواستیں دی جاتی ہیں- مزاحمت کاروں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے انٹر نیٹ پر موجود انکے ویب سائٹس کو بھی اشاریے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے – ان ویب سائٹس کا بنیادی مقصد دنیا کو اپنے دعوؤں کے بارے میں آگاہ رکھنا ہوتا ہے – ایسی سینکڑوں ویب سائٹس کا حالیہ سالوں میں اندراج دیکھا گیا ہے – مقامی مزاحمت کار  ماحولیات کے مسائل سے لے کر نسلی و انسانی مسائل پر مباحثے کے لئے منعقدہ بین الا قوامی اجتماعات میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں-
پچھلے ٣٠ سالوں میں اقوام متحدہ کے تعاون سے منعقد ہونے والے مباحثوں میں غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت میں ڈرامائ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے – انہیں نہ صرف شرکت کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ان کے اپنے طریقہ کار کے مطابق مختلف معاملات پر اخذ کیے گے ان کے تجزیوں اور نتائج پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے- حتیٰ کہ مقامی  باشندوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے  ورکنگ گروپ فار انڈیجینیس پاپولشن ، کے با قاعدہ سالانہ اجتماعات مزاحمت کاروں کی بڑی تعداد کے لیے پر کشش بن گئی ہیں-  اگرچہ ان اجتماعات کے کئی ایک مقاصد ہوتے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ اہمیت  باہمی رابطے کے بین الا قوامی    موقع کو دیا جاتا ہے

(جاری ہے …..)

Advertisements

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت- حصّہ ١

In BLA, gurriella warfare, war game on January 10, 2011 at 2:00 pm

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت- حصّہ ١

تحریر نواز بگٹی

کئی دہائیوں سے جاری تبت کی خود مختاری کی تحریک نے دنیا بھر سے لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کی – انسانیت ، روحانیت ، اور ثقافتی درخواستوں سے متاثر ہو کر ، انسانی  حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے اخلاقی، مادی  و مالی امداد کے علاوہ بڑے تعداد میں انفرادی  حیثیت سے بھی وافر امداد تبت کے تحریک کو مہیا ہوئی – جسکے نتیجے میں تبت کو خودمختای نصیب ہوئی -تبت کے ٥٠ لاکھ انسانوں کی خودمختاری کی مہم عالمی سطح پر انتہائی کامیاب جانی جاتی ہے ،  حالانکہ تبتی تحریک کے مقابلے میں کئی گنا طاقتور ملک چین ٥٠ سال تک تبتی تحریک کو دبانے کی سر توڑ کوشش کرتا ر ہا

یکن تبتی تحریک کا نور بہت کم دوسری تحریکوں کو منور کر سکا ہے ، دنیا میں بہت کم کسی کو معلوم ہو گا کہ چین کی سرحد سے کئی اور چھوٹی اقوام کی سرحدیں بھی ملتی ہیں ،جیسے کہ منگول ، جنگ ، یی، اور ہو وغیرہ –  چین کی شمال مغربی سرحد پر بسنے والے یوغور قبائل کی آبادی  تقریباً  ٧٠ لاکھ نفوس پر مشتمل ہو گی – چین کی بالا دستی کے خلاف صدیوں سے نبرد آزما اسس قوم نے اگرچہ بیسویں صدی میں تھوڑے سے عرصے کے لئے  ایک آدھ بار آزادی حاصل کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی ، اور پھر بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر پھر سے چین کے زیردست ہو گۓ- تبتیوں کی طرح آج یوغور قبائل کو بھی مرکزی حکومت کے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ( جسے چین کی مرکزی حکومت ترقی ، اور دہشت گردی مخالف اقدامات کا نام دیتی ہے ) چین کی اکثریتی ہان قبیلے کے بڑی تعداد میں آمد کے بعد اپنی ہی سرزمیں پر  نسلی اقلیت میں تبدیل ہونے کے خدشے کا سامنا ہے – اگر تبت کے پیشوا دلائی لامہ کہتے ہیں کہ تبتیوں کے ثقافت کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے ، تو یوغوروں  کو  بھی یقیناً اسی طرح کے خطرات کا سامنا ہے – تبتیوں ہی کی مانند یوغور بھی چین کی حاکمیت کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر احتجاج کرتے رہے ہیں ، جو کہ انہیں چین کی نظروں میں خطرناک علیحدگی پسند ثابت کرتا ہے – چونکہ یوغور ، تبتیوں کے برعکس  اپنی سرحدوں  سے باہر ، اپنے لئے ایسی کسی ہمدردی کو منظم کرنے میں ناکام رہے – ہالی ووڈ کے کسی مشہور فلمی ستارے نے یوغور قبائل کے لئے آج تک کوئی بھاری امدادی چیک جاری نہیں کیا ، نہ ہی کوئی یوغور رہنما کسی امریکی صدر سے ملاقات کر پایا ہے ، نہ کسی یوغور کو آج تک کسی نوبل امن انعام کے لئے نامزدگی نصیب ہو سکی ہے – بیرونی اتحادیوں کے تلاش میں تبتی اور یوغور کوششوں کو ایک دوسرے سے انفرادیت کی حد تک الگ کیا جا سکتا ہے – دنیا بھر میں طاقتور قابضین سے نبرد آزما ، مسلح یا غیر مسلح ہر دو طرح کی مزاحمتی تحریکیں     اپنے لیے اپنی سرحدوں کے باہر اتحادی و ہمدرد عناصر کی کھوج میں رہتے ہیں – ایسے ہمدرد جو ،   عالمی تنظیموں کی شکل میں ہوں یا  غیر حکومتی تنظیموں کی شکل میں ، نشریاتی اداروں کی شکل میں ہوں یا بھاری عوامی ہمدردی ہو – اگرچہ یوغور تحریک سے ہمدردی کے بھی کئی دعویدار ہیں لیکن بہت کم ہی کوئی اسس طرح کی مدد کرتا ہوگا جیسی بیرونی مدد تبت کے تحریک کو حاصل رہی ہے

جیسے کہ آج تقریباً ساری دنیا مشرقی تیمور کی تحریک کے بارے میں جانتی ہے  ، لیکن اسی انڈونیشیا میں جاری مغربی پاپوا کی تحریک ابھی تک کسی خاص پزیرائی سے محروم ہی رہی ہے – اسی طرح اگر ماحولیاتی  تنازعات کو دیکھا جے تو سواۓ چند ایک کے ،( جیسے کہ ، برازیل کے ربڑ ٹپکانے والوں کی طرف سے امیزون کے جنگلات کو بچانے کی کوششیں ، چین کے قوی الحبثہ تین ڈیمز کا تنازعہ   ، یا چاڈ – کیمرون پائپ لائن کا تنازعہ) سارے معاملات ( جیسے کہ ہندوستان کی ٹھری ڈیم ، گھانا کے جنگلات کی کٹائی ، تھائی – ملایشیا گیس پائپ لائن وغیرہ )  دنیا کی نظروں سے یا تو اوجھل رہے ہیں یا انہیں خاطر خواہ پزیرائی نہیں مل سکی

نہ صرف یہی بلکہ ہر طرح کی تنازعات ، جیسے لاطینی امریکا میں بے زمینوں کا تنازعہ، جنوبی ایشیا میں نچلی ذاتوں کا تنازعہ وغیرہ کی بھی دنیا کوئی خاص پرواہ نہیں کرتی -کیا وجہ ہے کہ چند ایک تحریکیں ہی دنیا بھر میں بسنے والی اقوام کی پزیرائی حاصل کر پاتی ہیں اورنسبتاً  ان سے زیادہ شدید تنازعات کے سلسلے میں چلنے والی تحریکیں  نہ صرف غیر واضح بلکہ تنہائی کا شکار نظر آتی ہیں ?آخرایسا کیا ہے جو چند ایک مزاحمتی تحریکوں کے بارے میں  طاقتور عالمی راۓ عامہ کومتاثر کرتا ہے ؟ بنیادی وجوہات کونسی ہیں کہ چند مظلوم اقوام ہی سکڑتی دنیا کی توجہ حاصل کر کے فائدہ اٹھا پاتے ہیں؟
(جاری ہے ……..)

The Jang Group and her militery advisory services. (by Nawaz Bugti)

In Role of Pakistani media on December 26, 2010 at 6:38 pm



A senior journalist and columnist of a daily Urdu news paper Jang, Mr.Irfan Siddiqui who portrayed himself the very well wisher of Balochs in his columns a few days ago. His holy pen writs today  a great piece of advice for his friend Mr. Colonel Khalid the spokesman of ISPR .Though he presents him a wise person in the same article but not capable to handle such a situation and suggests a full fledged office of ISPR with senior office bearers. His sympathetic  article for Balochs was focused on the arrest of Mr. Shahzain Bugti .Criticizing the information sharing strategy of the forces he writes , “ The basic and  most important question is who was the wisest to present such a golden idea that all the operation got televised on almost every channel.”  In the same paragraph he adds “FC could have issued a small press note stating that Shahzain Bugti was carrying a huge quantity of ammunition, FC seized the ammunition and booked Mr. Bugti for further investigations.”

As he thinks media got a great influence and widespread information of state atrocities may strengthen the feelings of deprivation among Balochs.

What the Balochs think of him and how they may pay him thanks for such a deep concern it really does not need any debate, but the journalistic ethical span of his advice is debatable.

The fears of a Pakistani patriot may not be false as the words do speak but photo journalism really changed the norms .In the information age journalism seems incomplete without Photos (weather still or the movies). Photos express more than words in very small span of time comparatively. One with meager knowledge may easily understand very complex phenomena. Here the question is if this patriotism does not compromise the professional responsibilities of a journalist? As journalism is often termed as the first draft of history , so the morality of a responsible journalist must  follow a question mark if he advocates hiding  the facts to secure interests of a specific group.

In the same article gentleman expresses his anger upon the former president Mr. Musharaf. He tries to fix all the responsibility of ongoing atrocities upon said president. Here he really forgets the fact that it was his same fake patriotism of “Sab Say Pahlay Pakistan” .In the fake name of greater national interests president Musharaf carried out genocide so he must not be blamed by person who is supporting the same act or it will be  hypocrisy in his account of a journalism.

In recent past the Pakistani media widely complained about a boycott by Balochs. If it is the way they think and keep advising such nonsense to the oppressing state authorities than how do they justify their complaint.

If it will be wrong to boycott an advisory board to FC in form of Jang group? Just give it a thought and let me know as well.

–          Focused Article of Mr. Siddiqui is published in daily Jang @26-12-2010

–          FC , (Frontier Corps) The Para military force involved in the major operations and regular army uses the same uniform and shelter very often.

–          ISPR – Inter Services Public Relations.