Let we struggle our way

Posts Tagged ‘IRA’

چھاپہ مارجنگ – شہری ماحول – حکمت عملی

In case study on January 3, 2011 at 3:16 am

چھاپہ مارجنگ – شہری ماحول – حکمت عملی

( تحقیق و تحریر نواز بگٹی )

اس مضمون میں ہماری کوشش ہو گی کہ شہری ماحول میں بر سرپیکار رہنے والے مختلف چھاپہ مار تنظیموں کی جنگی  حکمت عملیوں  اور تراکیب کا تفصیلی جائزہ پیش کر سکیں –  اگر چہ روایتی چھاپہ مار جنگوں  کا ماخذ دیہات ہی رہے ہیں ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کے شہروں کی جانب منتقلی  نے جنگجووں کی توجہ بھی شہروں کی جانب مبذول کروائی -اور اس طرح کی غیر معمولی تحریکوں کی دیہاتوں سے شہروں کو منتقل ہونے والی حکمت عملی بہت ہی مفید ثابت ہوئی-شہری معرکوں کا خیال بلکل نیا بھی نہیں ہے ، شروع شروع میں دیہاتوں میں بر سر پیکار چھاپہ ماروں کی مدد ، مخصوص حالات میں مد مقابل افواج کی توجہ ہٹانے کے لیۓ بھی شہروں میں معرکوں کی مثالیں ملتی ہیں – شہروں میں مد مقابل افواج یا ان کی امدادی قوتوں پر حملے صرف انتہائی ضروری مواقع پر ہی کی جاتی تھیں ، عام طورپر  چھاپہ مارجنگجو تنظیمیں  شہروں میں موجود اپنے ہمدردوں  کو سراغرسانی ، افرادی قوت میں اضافہ ، تخریب کاری ، اور عمومی نا فرمانی یا بغاوت  جیسی کاروائیوں کے لیۓ استعمال  کرتے  رہے ہیں -( اور مستقبل میں بھی انکی یہی کامیاب حکمت عملی برقرار رہنے کی امید رکھی جاتی ہے)  لیکن بیسویں صدی کے اواخر میں دنیا بھر کی تنظیموں کی جانب سے شہری معرکوں کو بنیادی اہمیت دی جانے لگی جو کہ  چھاپہ مار جنگ کی انتہائی کامیاب حکمت عملی ثابت ہوئی –
چھاپہ مار کی بقا اور کامیابی کا انحصار اس کی عوامی مقبولیت اور چھاپہ مار کاروائیوں کی عوامی تائید پر ہوتا ہے -دنیا کے اکثر حصّوں اور خاص کر کم ترقی یافتہ / ترقی پذیر ممالک میں آبادی کثرت سے شہروں کی طرف منتقل ہوئی ، اور یوں طاقتور ،  فیصلہ کن سماجی حصّہ دیہاتوں  سے شہروں کو منتقل ہو گیا -چھاپہ ماروں کو بھی اپنے لیۓ معاشی و مادی اعانت اور عوامی تائید کے حصول کی خاطر نۓ سماجی رجحانات کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کو شہروں کی جانب منتقل کرنا ضروری ہو گیا –  بلواسطہ ، مخفی و غیر مرئی چھاپہ مار جنگ نے ایک نئی  صورت اختیار کر لی -شہری سماج اپنے مخصوص طرز بود و باش کی بدولت غیر روایتی چھاپہ مار تنظیموں کے لیۓ انتہائی زرخیز ثابت ہوئی -میدان جنگ دور دراز ، ناقابل رسائی کم آبادی والے  دیہی علاقوں سے منتقل ہو کر زندگی سے بھر پور شہروں کی روشن و رنگین گلیوں میں سجنے لگے – یوں عالمی شہری سماج نہ صرف ایک سماجی طرز زندگی بن گیا بلکہ غیر روایتی جنگی کاروائیوں کے لیۓ ایک پر کشش تباہ کن ہتھیار اور خطرناک حکمت عملی کی شکل بھی اختیار کر گیا
میدان جنگ کی بدلتی صورت کے پیش نظر چھاپہ ماروں کے لیۓ نسبتاً کم فطری  اور زیادہ پر خطر ماحول میں اپنی کاروائیاں جاری رکھنے اور  نظم و ضبط  کے قیام کے لیۓ با قاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے

اپنی اس مضمون میں ہم کوشش کریں گے کہ شہری ماحول میں رائج چھاپہ مار کاروائیوں کی مقبول اصناف ( گھات لگا کر مختصر وقت میں کاروائی کرنا ، مخصوص اہداف کو کم سے کم انفرادی قوت کی مدد سے نشانہ بنانا ، اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ) کا ایک اجمالی جائزہ پیش کر سکیں –  چھاپہ مارکاروائیوں کی انجام دہی کے سلسلے کی ذیلی سرگرمیاں جیسے کہ اہداف کی نشاندہی ، عوامی تعاون ، کمان و اختیار وغیرہ بھی زیر بحث آئین گی – اگر چہ  چھاپہ مار جنگ سے متعلق دیگر امور  سراغرسانی ، بغاوت ، رسد ، تربیت ، اور کمین گاہ   وغیرہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ، لیکن طوالت سے بچنے کی خاطر اس بحث کو آئندہ کسی مضمون کے لیۓ چھوڑ دیتے ہیں

اس مضمون میں ہماری کوشش ہو گی کہ چھاپہ مار جنگ کے عملی پہلووں پر زیادہ دھیان دیا جاۓکیوں کہ  چھاپہ  مار جنگ کے  نظریاتی پہلو پر پہلے ہی کافی مواد موجود ہے اور تمہید میں بھی اس پر سیر حاصل نظر ڈالی گئی ، جبکہ اس کے برعکس عملی چھاپہ مار جنگ کے موضوع پر انتہائی محدود مواد مواد ہی دستیاب ہے –
سب سے پہلے ہم آئرلینڈ میں برطانوی قابض افواج سے برسر پیکار “آئرش ریپبلکن آرمی ” نامی تنظیم کی کاروائیوں کی  مثال لیتے ہیں ، جن کے بارے میں “بیل .جے.بویر ” اپنی تصنیف “ایک خفیہ فوج کا تجزیہ ” میں رقمطراز ہیں ” ہمیشہ پہلے اور اولین اہم نشانے پر برطانوی افواج ہی رہی ہے – گھر پر ، کھیل کود کے دوران  ، باوردی ، فرائض سے سبکدوشی کے بعد ، بوقت خریداری ، یہاں تک کہ راہ چلتے ہوۓ بھی برطانوی افواج کے ہر فرد کو خطرہ لاحق ہوتا ہے –  آئ .آر . اے صرف خواتین و حضرات ہی دیکھتی ہے نہ کہ وردی -”
آئی.آر.اے. کی شہری معرکوں  میں عام طور پر خاموش نشانے بازی (سنایپنگ )، گھات لگا کر بم حملے کرنا (ایسے بموں کا استعمال جنھیں عام طور پر فاصلے  سے پھوڑا جاتا ہے ) ،مارٹر اور آر .پی.جی . کے حملے شامل تھے – جبکہ بہت کم حملہ  کرکے  دو بدو لڑائی بھی ہوتی تھی –
١٩٨٠ کی ابتدائی دہایوں میں تھوڑے سے عرصے کے لیۓ اس تنظیم نے گھریلو/ دیسی  ساختہ بکتر بند گاڑیوں ( جنھیں خصوصی طور پر برطانوی افواج کی بیرونی دفاع کے خلاف استعمال کرنے کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا تھا ) کے ذریعے برطانوی شاہی افواج  پر براہ راست حملے بھی کیے –  یہ حملے شاذ و نادر ہی کامیاب ہو پاتے تھے -ان کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہدف کے گرد ناقابل تسخیر حفاظتی اقدامات تھے – کچھ عسکری تجزیہ نگاروں کے خیال میں آئی . آر .اے   اس طرح کے بڑے مہمات ( جن  میں بہت زیادہ افرادی قوت اور انتہائی عرق ریزی سے کی گئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہو  ) کی انجام دہی اور ایسی مہمات کے لیۓ ضروری حفاظتی تدابیر کے اختیار کرنی کی بہت کم صلاحیت رکھتی تھی – حقیقت یہی ہے کہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن پر  براہ راست حملے پر خطر ہوتے ہیں –
آئی آر اے کی جانب سے مارٹر حملے بکثرت ہوتے تھے ، تنظیم نے کئی سالوں کی جدوجہد میں مارٹرز کی کئی ایک گھریلو ساختہ اقسام تیار کر لی تھیں ، جنھیں چھت کٹی  گاڑیوں پر نسب کر کے ہدف کے قریب  لایا جاتا اور بذریعہ ریموٹ استعمال کیا جاتا تھا – تنظیم کی صفوں میں چھوٹی اقسام کے اسلحے کو پہلے دن ہی  سے مقبولیت حاصل تھی ، کیونکہ ایسا اسلحہ اپنی چھوٹی جسامت  اور کم وزنی  کے سبب نسبتاً با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے – چھوٹے ہتھیاروں کا حصول ، اور ان کی تربیت بھی نسبتاً آسان ہی ہوتی ہے مزید برآں یہ تنظیم پر مالی بوجھ بھی کم ہی بنتے ہیں –
آئی آر اے کی حکمت عملی کے مطابق اکثر کاروائیاں بہت ہی چھوٹے گروہ انجام دیتے تھے ، اکثر صرف چار یا پانچ افراد کے چھوٹے سے گروہ کے ذمے کوئی مخصوص ہدف ہوتا تھا – ایسے گروہ میں شامل افراد تنظیمی  حکمت عملی کے مطابق اگرچہ ایک دوسرے سے بخوبی واقف ہوتے تھے لیکن ان کے درمیان کوئی گہری وابستگی یا کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا تھا  اور نہ ہی وہ عام حالات میں اکٹھے کام کرتے نہ ہی ایک دوسرے کے پڑوسی ہوتے تھے – ہر چند کہ تنظیم کی ہائی کمان  کاروائیوں  اور بڑے اہداف کے متعلق وقتاً فوقتاً فرمودات جاری کرتی رہتی تھی لیکن زیادہ تر کاروائیاں مقامی کماندار کی صوابدید پر ہی انجام دی جاتی تھیں –  اسے تنظیم  کا کمال نظم و ضبط کہیے یا حسن انتظام ،کہ کسی بھی برسر پیکار گروپ  کے افراد میں باہمی رابطہ صرف چند منٹوں کے لیۓ ہی ہوتا وہ بھی اکثر ہدف کے پاس پہنچ کر یا کاروائی کے دوران . گروپ کے ارکان کن راستوں سے آتے  ، کب اور کہاں سے ہتھیار اٹھاتے  ، اور کاروائی کے بعد کہاں جاتے تھے ،  وہ کونسی جگہ ہتھیاروں کو واپس کرتےتھے  ان تمام امور کو انفرادی طور پر سر انجام دیا جاتا  اور اراکین ایک دوسرے سے اس متعلق لا علم ہی رہتے –
مخفی بم حملے اگرچہ کسی ضابطے کے تحت تو نہیں کیے جاتے تھے لیکن ان کا انداز تقریباً ایک سا ہوتا تھا ، جسے برطانوی افواج ” بلاوے ” کے طور پر یاد کرتی ہے -عسکریت پسند کسی بھی منتخب جگہ پر انتشار پیدا کر کے برطانوی افواج کے مقتل گاہ میں  آمد اور انکے جمع ہونے کا یقینی انتظام کرتے تھے  -بسا اوقات بم نما اشیا کو بھی بطور چارہ استعمال کیا جاتا ، جب زیادہ سے زیادہ افواج ہدف کے پاس پہنچ جاتیں تو ذرا فاصلے  پر موجود چھاپہ مار اپنی محفوظ کمین گاہ سے مخفی بم کو بذریعہ ریموٹ پھوڑ دیتا تھا – ایسے حملوں سے ہونے والے نقصان کا انحصار استعمال ہونے والی بم کے ساخت ، حجم ، اور اس کے اجزا پر ہوتا تھا – آئی – آر-اے – عام طور پر کیمیائی کھاد سے تیار ہونے والی گھریلو ساخت کے بم ہی استعمال کرتی تھی ، کیونکہ یہ کم لاگت ، اور عام گھریلو اشیا کی مدد سے بغیر کوئی مخصوص ٹیکنالوجیکل مشکل کے تیار ہوتی ہیں- تنظیم اگرچہ عوامی جائیدادوں کا احترام کرتی تھی لیکن کچھ مخصوص مواقع پر تنظیم کی جانب سے عوامی سواریوں کو بھی نشانہ بنانے کی مثالیں موجود ہیں ، جو تنظیم کے خیال میں برطانوی افواج کے نقل و حمل میں استعمال ہو رہی تھیں –
شہری آبادی میں موجود  بلند و بالا عمارتیں ، گھروں کی لمبی قطار ، اور تنگ گلیاں ایک سه جہتی میدان جنگ بنا دیتی ہیں ، جس کا فائدہ بلا شبہ چھاپہ مار تنظیم کو ہی ہوتا ہے – آئی آر اے کو بھی برطانوی افواج کے مقابلے میں  کچھ ایسی ہی برتری حاصل تھی ، جس کی وجہ سے قابض افواج کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا -زیادہ تر معرکے گلیوں میں ہی بپا ہوتے تھے ، کیوں کہ چھاپہ مار طرز جنگ میں ہدف کے حصول کے بعد بغیر کوئی لمحہ  ضائع کیۓ فرار ہونے کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے تا کہ دو بدو لڑائی یا گرفتاری سے بچا جا سکے اور تنگ گلیاں اس طرح کا پورا پورا موقع فراہم کرتی ہیں -اگرچہ دیہاتوں میں زیر زمین کمین گاہوں کو دشمن پر فائرنگ اور دیگر جنگی حربوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، لیکن شہری جنگ میں ان کا استعمال صرف ہتھیاروں کے چھپانے کی حد تک ہوتا ہے -بلند و بالا عمارات کی چھتوں کو دشمن افواج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیۓ بہت ہی دانشمندی سے استعمال کیا جاتا ہے ، جب کہ کبھی کبھار ایک دوسرے سے ملی ہوئی چھت چھاپہ ماروں کو دو بدو لڑنے اور سرعت سے غائب ہونے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوئی –  برطانوی افواج اپنی تمام تر مربوطی ، سریر الحرکت صلاحیتوں ، اور مثالی نظام و نسق کے با وجود مد مقابل چھوٹے چھوٹے گروہوں کے سامنے بے بس رہی –
کچھ حلقوں کی جانب سے آئی آر اے پر یہ  الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ تنظیم حملوں کی منصوبہ بندی میں عام انسانی جانوں کی حفاظت سے دانستہ گریز کرتی تھی – کچھ مواقع پر ہوۓ بم دھماکوں سے بڑے پیمانے پر ہونے والے  عوامی جانی نقصانات  بھی ناقدین کے اس خیال کو تقویت پہنچاتی ہیں – تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی بہیمانہ کاروائیوں کا مقصد ایک طرف تو خوف و ہراس پھیلانا ہوتا تھا جبکہ دوسری جانب اپنی طاقت کا اظہار بھی ، یعنی آئی آر اے کچھ بھی کر سکتی ہے – آئی آر اے اگرچہ میڈیا کے توسط سے عوام کو ایسی کاروائیوں سے قبل خبردار بھی کرتی تھی لیکن ان کے وارننگ اور دھماکوں کے درمیان وقت کی کمی کی وجہ سے عوام مطلوبہ مقام سے ہٹ نہیں پاتے تھے، یا انھیں وارننگ سے آگاہی ہی نہیں مل پاتی  تھی – اگرچہ ان وارننگز کی کوئی حفاظتی اہمیت نہیں تھی لیکن تنظیم ایسی وارننگز کو اپنے حق میں اخلاقی جواز بنا کر پیش کرتی رہی- عوامی و غیر عسکری نقصانات انسانی غلطی  یا پھر غلط فہمیوں کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن انتہائی اہمیت کے حامل اہداف کو نشانہ بناتے وقت تنظیم کے لیۓ ایسے نقصانات قابل قبول سمجھے جاتے تھے -بسا اوقات قابض افواج کی جانب سے جعلی تنظیموں کے ہاتھوں بھی ایسی کاروائیاں کروائی جاتی تھیں ، تا کہ آئی -آر-اے – کی سیاسی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا جا سکے ، اور تنظیم عوامی حلقوں میں تنہائی کا شکار ہو -( ایسے حربے تقریباً ہر جگہ استعمال ہوتے ہیں )
برطانوی افواج کو مقتل گاہ تک گھیر کر لانے کے لیۓ تنظیم نشانے بازی کا سہارا بھی لیتی رہی ، نشانے باز گروہ اکثر و بیشتر چار افراد پر مشتمل ہوتا تھا – ( ایک نشانے باز ، دو نگاہ رکھنے والے اور محافظ  ، جبکہ چوتھے شخص کی ذمہ داری چارہ ڈالنے کے بعد ہتھیار کو محفوظ مقام تک پہنچانا ہوتا تھا )  – ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیۓ کم سن بچوں کو بھی بوقت ضرورت استعمال کیا جاتا تھا – اس طریقہ کار کی وجہ سے نشانہ باز کے پاس ہتھیار صرف تھوڑی دیر کے لیۓ موجود ہوتا جس کے بعد وہ عام لوگوں میں گھل مل کر اپنا عوامی تاثر قائم رکھتے ہوۓ اپنے محفوظ  ٹھکانے تک با آسانی پہنچ جاتا تھا – ایسی نشانہ بازی میں بطور خاص دھیان رکھا جاتا کہ کوئی زخمی نہ ہو یا مر نہ جاۓ ، کیوں کہ کسی بھی ایسے حادثے کی صورت میں مطلوبہ فوجی یونٹ اپنے زخمیوں یا لاشوں کو سنبھالنے میں مصروف ہو جاتی نہ کہ منصوبہ کے مطابق مقتل تک آتی جس کے لیۓ دراصل چارہ ڈالا جا رہا تھا –
تنظیم کا انتہائی غیر مرکزی ڈھانچہ ، اور مقامی کمانداروں کے صوابدیدی اختیارات تنظیم کو بلا شبہ اس قابل بناتے تھے کہ وہ جب اور جہاں چاہیں مد مقابل افواج پر حیرت انگیز اور غیر متوقع حملے کریں -کسی بھی چھاپہ مار کے لیۓ تقریباً نا ممکن ہی ہے کہ وہ اپنی کسی بھی کاروائی کو بغیر کسی سراغرساں کی مدد، اور بیرونی مالی و دیگر ضروری امداد کے منطقی انجام تک پہنچاۓ- اپنی ایسی ضروریات کو پوری کرنے کے لیۓ آئی-آر-اے  نے ایک بوگس ٹیکسی تنظیم ” بلیک ٹیکسی ” کے نام سے بنائی ، جس کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ یہ تنظیم آئی -آر-اے-کو نہ صرف اہداف تک لے جانے اور بحفا ظت واپس لانے کی ذمہ داری نبھاتی تھی ، بلکہ معاشی معاملات میں بھی عسکریت پسندوں کی معاون رہی ہے- اسی ٹیکسی تنظیم کو ہی آئی-آر-اے کے لیۓ ہتھیاروں کی نقل و حمل کا ذمہ دار بھی سمجھا جاتا ہے –
جیسا کہ پہلے ہی تنظیم کے نظم و نسق کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ، کہ تنظیم میں مصروف عمل گروہ کے اراکین ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہوۓ بھی ممکنہ حد تک نا واقفیت کو برقرار رکھتے تھے ، جس کی وجہ سے وہ ہدف کے حصول کے بعد با حفاظت واپس اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جاتے تھے ، حفاظت کے پیش نظر اصل کاروائی کرنے والوں کے ارد گرد حفاظتی حصار بھی قائم کیا جاتا تھا  اور عوام میں موجود اپنے سراغرسانوں کی مدد بھی حاصل کی جاتی تھی ، لیکن یہ سب اس کمال ہوشیاری کے ساتھ کہ فرائض کی انجام دہی سے لے کر با حفاظت واپسی تک ہر گروہ دوسرے گروہ سے بے خبر و نا واقف رہے-
عوامی تائید بلا شبہ آئی-آر-اے کی مضبوط طاقت رہی ہے ، جس کے بل بوتے پر تنظیم نہ صرف اتنے طویل عرصے تک خود کو زندہ رکھ پائ بلکہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا بھی مردانہ وار مقابلہ کرتی رہی -کئی سالوں کی جدو جہد میں تنظیم نے اپنے سراغرسانی کے نیٹ ورک کو مبالغے کی حد تک وسعت دی- شمالی آئرلینڈ اور اس کے باہر رہنے والی کیتھولک آبادی کی تمام تر تائید سے لطف اندوز ہوتی ، آئی -آر-اے- کو کبھی بھی عوام میں گھلنے ملنے اور چھپنے کے معاملے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئ –  بعض عسکری ناقد تو اس حد تک مبالغہ آرائی بھی کرتے ہیں کہ برطانوی افواج مستقل مقامی آبادی میں موجود آئی-آر-اے کے کسی نہ کسی ہمدرد کی نظر میں رہتے تھے ، اور انکے حرکات و سکنات کی پل پل کی خبر تنظیم کے عساکر کو دی جاتی تھی -اس سلسلے میں برطانوی افواج مستقل خوفزدہ رہنے لگے اور اکثر اپنے ارد گرد منڈلاتے ہوۓ کمسن افراد کے ہاتھوں میں موبائل فون دیکھ کر انھیں زد و کوب بھی کرتے تھے –
آئی-آر-اے اپنے عسکری یونٹس سے  غیر عسکری یونٹس کی علیحدگی کو ہمیشہ یقینی بناتی رہی ، غیر عسکری یونٹس کو تنظیمی سطح پر دو مختلف زمروں میں منقسم کیا جاتا تھا – ایک وہ جو تنظیم کے باقاعدہ رکن تو تھے لیکن عسکری کاروائیوں میں حصّہ نہیں لیتے تھے ، انھیں اکثر و بیشتر غیر عسکری ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں -دوسرے وہ جو تنظیم کے باقاعدہ رکن تو نہ تھے لیکن تنظیم کے لیۓ نرم گوشہ رکھتے تھے اور انکی ہمدردیاں تنظیم کے ساتھ تھیں ، ایسے افراد رضاکارانہ طور پر تنظیم کے لیۓ جاسوسی کے فرائض انجام دیتے تھے اور انھیں کوئی باقاعدہ ذمہ داری نہیں دی جاتی تھی –
آئی-آر-اے وردی نہیں پہنتی تھی ، سواۓ اشتہاری پوسٹرز یا تصویر کے یا پھر کسی رکن کے شہادت کے موقع پر اس کی آخری رسومات ادا کرتے ہوۓ چند لوگوں کو تنظیم کے مخصوص لباس میں دیکھا جاتا تھا- ایسا بھی بہت کم ہی ہوا کہ تنظیم نے برطانوی افواج کو دھوکہ دینے کی غرض سے ان کی وردی استعمال کی ہو – کیونکہ تنظیم کے صفوں میں اس طرح کی دھوکہ دہی کو بری نظر سے دیکھا جاتا تھا –
تنظیم اہداف کے براۓ میں اگرچہ لچکدار رویہ رکھتی تھی لیکن ایک بات جو روز روشن کی طرح عیاں ہے ، وہ یہ کہ تنظیم کے بنیادی ہدف برطانوی افواج اور انسے منسلکہ مفادات ہی رہے –

(اگلے مضمون میں اسی موضوع پر مزید بحث کی جاۓ گی )

Advertisements