Let we struggle our way

Posts Tagged ‘Gurriella warefare’

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٤

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 11, 2011 at 1:11 am

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٤
تحریر نواز بگٹی
الجھن
اس بحث میں یہ  ثابت کرنے کی کوشش کی جاۓ گی کہ ضروری نہیں عالمگیر توجہ حاصل کرنے والی تحریکیں بین الا قوامی برائیوں پر فتح حاصل کر لیں – اگرچہ اس کے امکانات ضرور ہیں ، اس کی وضاحت مرحلہ وار کی جا سکتی ہے

تشہیری مہم کی اہمیت کے بحث سے  سےامداد کے بنیادی پیمانے  کی نفی ہوتی ہے – یعنی یہ کہنا غلط ہو گا کہ  ” بری طرح سے مشکلات کے شکار ہی زیادہ سے زیادہ امداد کے مستحق ہیں ”  – ہر مزاحمتی تحریک اپنے آپ کو دنیا کی توجہ کا مستحق سمجھتی ہے ،  چاہے اسے حکومت کی جانب سے کشت و خون کا سامنا ہو یا پھر سیاسی غیر برابری کا – کسی حد تک ظلم و جبر اور بیرونی امداد کے اپیل میں معقول تناسب ہونا ضروری ہے –  باوجود منکسرانہ درخواستوں کے ، کئی دہائیوں سے جاری جنوبی ایشیاء کی مزاحمتی تحریکیں دنیا کی خاطر خواہ توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں، حالانکہ یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول بنایا گیا ہے-یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جب ہم کسی خاص تحریک پر عالمی اثرات کے نا کافی ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے سکڑنے یا ایک عالمی قصبے میں تبدیلی کا نام نہاد تصور بلکل غلط ہے – کیونکہ مذکورہ تحریک بھی تو آخر اسی دنیا کے کسی حصّے میں انسانوں پر ہونے والے جبر کے خلاف نبرد آزما ہوتی ہے – شاید  معاشی مربوطی  ، ٹیکنالوجی کی ترقی ، اور نشریاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت بھی اس کی کوئی قابل قبول توجیہ پیش نہ کر سکے کہ آخر ایک ہی خطّے میں ایک جیسی قوتوں سے نبرد آزما ، ایک سی مقاصد لئے مختلف تحریکوں کی عالمی پزیرائی میں  برتے جانے  والے امتیاز کی وجہ کیا ہے – انٹرنیٹ پر اگر تھوڑی سی بھی نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں برما، میکسیکو ، ایتھوپیا ، چین ، انڈیا ، پاکستان سمیت درجنوں آزادی کی تحریکیں سرگرم ہیں –  اگر ماحولیات کے میدان میں دیکھیں تو بلا مبالغہ  لا تعداد تحریکیں ملیں گی ، کچھ تو اپنی ویب سائٹ بھی رکھتی ہیں لیکن زیادہ تر انٹرنیٹ کی غیر مرئی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں- لیکن اگر اقوام عالم کی کسی منظم پلیٹ فارم پر نظر ڈالیں تو انکی نگاہوں کا توجہ صرف چند ایک تحریکیں ہی حاصل کر پائی ہیں

جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ عالمی سیاست اور طاقت کے نظریے میں تبدیلی لانے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن اقوام عالم کے مفادات کو عمومی رنگ دینے میں کسی طور کامیاب نظر نہیں آتی- بلکل اسی طرح اس ٹیکنالوجی کی بدولت اخلاقیات عالم ،عالمگیر سوچ ، اور عالمگیر فکر بیداری  کے کئی ایک دعویدار ابھرے ہیں-عالمگیر سوچ کا تقاضا ہے کہ ہم سب کا  تعلق اسی  دنیا سے ہے ، اور دنیا بھر میں پایا جانے والا مد و جزر ہم سب کو  متاثر کرتا ہے –  اگرچہ قابل تحسین تصور ہے ، لیکن حقیقت میں ایسا ہونا نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن ہے -دنیا بھر میں چاروں طرف پھیلے مسائل کا انبار اتنا بڑا ہے کہ پرخلوص و دیانتدار اداروں / غیر ریاستی تنظیموں کو کام کے لئے درست انتخاب کا عمل گڑ بڑا دیتا ہے  – جن عمائدین کی نظر میں ان غیر سرکاری تنظیموں کی بنیاد عظیم اخلاقیات پر مبنی ہے، وہ بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر یہ تنظیمیں اپنے کام کی راہوں کا تعین کن بنیادوں پر کرتی ہیں – آخر کونسا پیمانہ ہے جسے استعمال کرتے ہوۓ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس خطے میں ، کس مخلوق / تحریک کی مدد کی جاۓ – بقول انکےغیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے کام میں بنیادی اصول انسانی حقوق ہی ہیں ، مجموعی طور پر یہ جن مسائل کو اجاگر کرتے ہیں ، یا جن تحریکوں کی مدد کرتے ہیں ، ان سب کا بنیادی نقطہ انسانی حقوق کی حفاظت ہی ہوتا ہے – انکے خیال میں کسی بھی تنازع کے بارے میں پہلے سے حاصل شدہ جامع معلومات کا بھی کسی حد تک دخل ہوتا ہے – اور وسائل کی کمی کو جواز بنا کر اپنے اس رویے کو منصفانہ اور جائز قرار دیتے ہیں

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر ابھرنے والے کچھ نۓ اداکاروں کی جانب سے ان مسائل کو دانستہ غیر اہم ظاہر  کرنے کی کوشش کی جاتی ہے –  اوران کا کہنا غلط بھی نہیں ہے ، اپنے آخری تجزیے میں  بی-بی-سی- کے کسی پروڈیوسر یا ایمنسٹی انٹر نیشنل کے کسی مینیجر کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ وہ دنیا میں برائی کے دلدل اور کسی تحریک کی نامور شخصیت میں امتیاز برت سکیں ، لیکن صرف ان دو اہم پہلؤوں پر تمام تر توجہ مرکوز کرنے سے حکمت عملی ، اور منصوبہ بندی جیسے انتہائی اہم پہلؤوں کو دانستہ صرف نظر کیا جاتا ہے – ایسی کوئی  بھی مشق ، مذکورہ پروڈیوسر / مینیجرکی جانب سے  دانستہ طور پر اپنی صفوں میں مزاحمت کار کے کردار کو ثانوی بنا کر پیش کرنے کی سعی، اور دبانے کی کوشش سمجھی جا سکتی ہے –  اس طرح کی کردار نگاری سے متاثر ہو کر کوئی بھی اچھی فلاحی تنظیم اگر کچھ بہت اچھا بھی کر لے توصرف  مزاحمت کار کی تصویر کو ہی اپنی تشہیری مہم کا حصّہ بنا لے گی – اور جو اس کا بد ترین اثر ہو سکتا ہے وہ یہ کہ مزاحمت کار کو کسی بھی تیسرے فریق کی جانب سے وسائل کا منتظر ایک اور فقیر سمجھ کر نظر انداز کیا جاۓ(یہ سودا کتنا مہنگا ہے ذرا چشم تصور سے دیکھیے گا ) – تا ہم تحریکیں اپنے بیرونی وسائل کو استعمال کرتے ہوۓ زیادہ موثر انداز میں اپنے لئے امداد کی راہ ہموار کر سکتی ہیں – مزاحمت کاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا ، این-جی-اوز اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکیں ، لیکن اس راہ میں وو اپنے مخالفین سے زیادہ کامیابی نہیں حاصل کر سکتے- کیونکہ غاصب طاقتوں کو دستیاب  نسبتاً کئی گنا زیادہ  مالی وسائل انھیں دنیا کی بہترین رابطے کی مشینری تک رسائی کا موقع فراہم کرتے ہیں – ایسے میں اگر کچھ مزاحمت کار کے کام آ سکتا ہے تو وہ ہے اس کا نہ ٹوٹنے والا عزم ، اور آگے بڑھنے کا اس کا مصّمم ارادہ

بین الا قوامی امداد کے صرف ترسیل کے رخ پر توجہ مرکوز کر کے کسی بھی منڈی کے ایک بنیادی جز ” مسابقت ”  کونظر انداز کرنا بھی کسی طور درست نہیں ہوگا – کسی بھی مزاحمتی تحریک کو اپنی ہی طرح کی دوسری تحریکوں کی جانب سے ، ایک سی ضروریات ، ایک سے آیجینڈہ، اور ایک سی درخواستوں کی بنا پر سخت ترین مسابقت کا سامنا ہوتا ہے – آج کل کی مہذب عالمی سماج کے دعوے اپنی جگہ ، لیکن اکثریت کے لئے آج بھی وہی دراوڑی دور ہے کہ جس میں طاقتور کی فلاح اور کمزوروں کی بربادی سماجی بنیاد ہوا کرتی تھی -ایک وقت میں، ایک مقصد کے لیے  صرف چند ایک مزاحمتی تحریکوں کے لئے وسائل کی دستیابی ممکن ہوتی ہے – حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ غاصبوں سے نبرد آزما طاقتیں ، اقوام عالم کی ہمدردیوں اور اپنے لیے وسائل و مراعات کے حصول میں ،ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں  -ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے خود کو اور اپنے مقاصد کو دوسرے سے برتر ثابت کرے

 

(جاری ہے……….)

 

Advertisements

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٣

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 10, 2011 at 9:55 pm

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٣

تحریر نواز بگٹی

انتہائی خطرناک ہونے کے باوجود طرفین کی کوشش ہوتی ہے کہ عالمی راۓ عامہ کو اپنے لئے ہموار کرنے اور ہمدردیاں حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں – اس تحریری سسلسلے میں ہماری کوشش ہو گی کہ ان تمام اسباب پر غور کیا جاۓ جن کی وجہ سے مخصوص مزاحمتی تحریکیں تو اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجوڑنے میں کامیاب ہوتی ہیں ، جب کہ دیگر تحریکیں ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں – مجھے یہ لکھتے ہوے بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتا  کہ تحریکوں کی انفرادی کاروائیاں ،جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور ان  کی صلاحیتیں بھی اس سارے تناظر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

اکثر تحریکوں کی غیر معمولی پزیرائی ان کے زیر اثر علاقے کی بین الا قوامی اہمیت ، یا پھر کسی بھی بڑے نشریاتی ادارے کی غیر معمولی دلچسپی کے سبب  بھی ہوتی ہے اس تحریر میں مقامی تنظیم کو مرکزی سطح پر رکھتے ہوے ،عالمی لاپرواہی سے مشتعل ہو کر ، اپنی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے انکے  اختیار کردہ مشکل اور  پر خطر طریقہ کار پر بھی نظر ڈالی جاۓ گی

کسی بھی تحریک کی بنیادی اور فوری ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی آواز کو اقوام عالم غریب اور پسسے ہوۓ انسانوں کی آواز سمجھ کر سنیں – ایسا کرنے کے لئے وہ مقدور بھر کوشش کرتے ہیں کہ براہ راست توجہ حاصل کرنے اور اقوام عالم کی سرپرستی کے حصول کی خاطر  میڈیا کو توڑ کر اپنے حق میں استعمال کیا جاۓ – اسکے بعد اپنے اغراض و مقاصد کو بڑھاتے ہوۓ شدت پسندوں کی جانب سے محدود مطالبات ، صوبائی / نسلی تنازعات ، اور ایک مخصوص شناخت سامنے لے جاتے  ہیں – آج کی عالمی اخلاقیات کی منڈی میں ضروری ہے کہ مزاحمت کار اپنے ہاں کی صورت حال کی تشہیر کریں ، تنازعات کے تناظر میں اپنی جدوجہد کو جائز ثابت کریں ، اور اپنی آواز کو ایسی صورت میں ڈھالیں کہ اس کی گونج بہار کی دنیا تک کو سنائی دے – اسی تناظر میں ہی چند نقاط پر اپنی بحث کو مرکوز کرتے ہیں – – کسی بھی معروف این-جی-او کی حمایت حاصل کرنا نہ تو آسان ہے ، نہ ہی خودکار ، بلکہ ایک مسابقتی طریقہ کار سے ہی یہ حمایت حاصل کی جا سکتی ہے ، لیکن اس طرح کی حمایت کو بلکل یقینی بھی نہیں بنایا جا سکتا – کئی ایک تحریکوں کی اپنے ہی ملک / خطے ہی  میں کسی غیر ریاستی تنظیم کے توجہ کے حصول کی کوششوں کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا – تا ہم باہر بیٹھے لوگوں کو مخاطب کرنے کے لئے دھیان رکھا جاۓ کہ انھیں کوئی بنیادی معلومات حاصل نہیں ہیں -صحافی و علماء ہمیشہ ان تنازعات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جو عالمی سطح پر واضح شناخت رکھتے ہوں – یقین جانیے کے کہکشاں میں دور چمکتے ہوۓ ستاروں کی قسمت میں عمومی توجہ نہیں ہوتی – اور بدقسمت کے ہر کوشش کو نظرانداز کیا جاتا ہے – یا پھر کہا جا سکتا ہے کہ عالمی وسائل کا بھاؤ ان تھوڑے قسمت کے دہانی لوگوں کی جانب ہوتا ہے – اپنا قسمت بدلنے میں ناکام رہنے والی تحریکوں کو چاہیے کہ اپنی توانائیاں کہیں اور استعمال کریں ، کیونکہ ایسی بد قسمت مزاحمت انھیں موت کی اندوہناک گھاٹیوں میں دھکیل دے گی

امداد کی بڑھوتری اور تسلسل  کا انحصار تحریک کی ضروریات سے زیادہ اپنے ہمدردوں سے استوار رشتوں پر ہوتا ہے – امداد کی فراہمی کے تناظر میں بہت کم غیر ریاستی تنظیمیں نظر آتی ہیں جو  بلا امتیاز ، انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتی ہیں ، اور کسی بھی مزاحمتی تحریک کو دوسری تحریک پر فوقیت نہیں دیتیں – چونکہ امدادی تنظیموں کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور دنیا مسائل کی آمجگاہ بنی ہوئی ہے – ہر مزاحمتی تحریک خود کو انسانی و اخلاقی امداد کا مستحق تصور کرتی ہے ، ایسے میں ایک مسابقتی ماحول کا پیدا ہونا فطری عمل کہلاۓ گا –  اور پھر غیر ریاستی تنظیمیں کسی خاص ریاستی ضابطے میں بندھی ہوئی نہیں ہوتیں ، ان کی کچھ اپنی ترجیحات بھی ہوتی ہیں – یہ تنظیمیں امداد کی فراہمی کے وقت غیر رسمی طور پرضرورت مند تحریک سے زیادہ اپنی ترجیحات سے قریب تر تحریکوں کا انتخاب کرتی ہیں –  اس تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوۓ کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ دنیا اس کی درخواستوں  کو خالص انسانی ضروریات کے تناظر میں دیکھے – اب تحریک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے لئے عالمی برادری کی پہلی ترجیحات میں جگہ بناۓ، یعنی تحریک کو اپنی ترجیحات کی تشریح کچھ اس ادا سے کرنی ہو گی کہ اپنی بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر انہیں عالمی مفادات کی شکل میں پیش کر سکے – بظاھر سادہ نظر آنے والا یہ کام فنی اعتبار سے بہت باریکیوں کا حامل ہے ، اور ذرا سی بے احتیاطی سے غاصب کو مد مقابل تحریک کے بارے میں مہلک  پروپیگنڈہ  کا جواز فراہم کر سکتا ہے
کسی بھی غیر ریاستی ، یا غیر رسمی تنظیم سے امداد کا حصول چونکہ اخلاقی منڈی میں مسابقتی صلاحیتوں پر منحصر ہے ، ایسے میں کسی بھی تحریک کا معاشی ، ثقافتی ، اور تنظیمی ڈھانچہ بہت اہمیت رکھتے ہیں –  جو تحریکیں ان معاملات پر  خصوصی توجہ دیتی ہیں انکے لئے اقوام عالم میں جگہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے – کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے مخاطب ہوتے وقت اپنے لیے مخصوص امداد کی درخواست  اور اس امداد کے استعمال کا واضح طریقہ کار نمایاں کرنے کے قابل ہو – کوئی بھی درخواست ، ضروریات و اہداف کی واضح اور جامع  نشاندہی کے بغیر قابل پزیرائی نہیں ہوتی – ان تمام خصوصیات کے باوجود اگر تنظیمی ڈھانچے میں کوئی جھول نظر آ جاۓ تو یقیناً ایسی تحریک کے لئے بیرونی امداد کا حصول جوے شیر لانے کے مترادف ہو گا – ان تمام لوازمات کو نظر انداز کرنے والی تحریکیں ، سیاسی ، سماجی اور مالی اعتبار سے نہ صرف تنہا ہوتی ہیں بلکہ انھیں اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود دیوالیے پن کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے

– تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ ہے تحریک کو پیش کرنے کا زاویہ – یعنی تحریک  کی مارکیٹنگ –

زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ ممالک / اقوام کی امداد مظلوم و محکوم تک پہنچ کر انکی قسمت بدل دیتی ہے ،اور انکی اس راۓ سے اختلاف کی بہت کم گنجائش ہے –   لیکن یاد رہے یہ امداد خودکار طریقے سے نہیں پہنچ پاتی ، یا پھر اگر پہنچتی ہے بھی تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے – اس لئے ضروری ہے کہ اپنی تحریک  کے مقاصد ، اپنے لوگوں کے مسائل ، اور غاصب کے ظلم و جبر کی مناسب تشہیر کی جاۓ ، تاکہ عالمی برادری کی جانب سے بر وقت اور موزوں امداد کو یقینی بنایا جا سکے – کسی بھی تحریک کی تشہیری مہم کے دو بنیادی مقاصد ہوتے ہیں ، ایک تو اپنے معاملات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنا ، اور دوسرے  ضروری اور بروقت امداد کا حصول
امدادی منڈی کا سب سے اہم مسلہ امداد کے اثرات کا غیر مرئی  ہونا ہے – چاہے امداد حاصل کرنے والی تحریک احسان مندی کا اظہار ہی کیوں نہ کرے – بہت سارے صحافیوں اور سکالرز کی نظر میں سرحد پار مصروفیات نظر نہ آنے والی رحمتوں کے مترادف ہوتی ہیں – غیر سرکاری تنظیمیں اثرات کے  غیر مرئی ہونے کی وجہ سے کوئی واضح امداد کرنے سے کتراتی ہیں – ایک طرف تو مقامی مزاحمت کاروں کو حاصل شدہ امداد کو اپنے مقاصد کے لئے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے – دوسری جانب کسی بھی غیر ریاستی فلاحی تنظیم کے لئے کسی خاص مزاحمتی تحریک کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے – اس لئے تمام تر امداد خفیہ / یا مہارت سے ترتیب دی ہوئی انسانی ضروریات کے پیش نظر دی جاتی ہے – خفیہ امداد چونکہ مسلسل و مربوط نہیں ہو سکتی لہذا ہمیشہ اس کے ختم ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے – خاص طور پر عالمگیر توجہ پانے کے بعد اگر مزاحمت کار غاصب کے خلاف اپنی کاروائیوں میں زیادہ شدت لے آتے ہیں ، اور ایسے موقعے پر اگر امدادی سلسلہ منقطع ہو جاۓ تو تحریک کی زندگی کے سامنے سوالیہ نشان لگ سکتا ہے – اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خفیہ امداد کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے – اس تمام صورت حال کے لئے تحریک کو نہ صرف تیار رہنا پڑتا ہے بلکہ متبادل منصوبہ بھی تیار رکھنا پڑتا ہے

(جاری ہے……..)

چھاپہ مار جنگ – شہری ماحول- حکمت عملی (حصّہ دوم )

In case study, gurriella warfare on January 4, 2011 at 1:15 am

گزشتہ سے پیوستہ ……
چھاپہ مار جنگ – شہری ماحول- حکمت عملی

تحریر نواز بگٹی

گزشتہ مضمون میں آئرش ریپبلکن آرمی کی جنگی حکمت عملی کا بغور جائزہ لیا گیا ، اس مضمون میں ماضی قریب کی مشہور زمانہ افغان چھاپہ مار جنگ یا افغان مجاہدین کی اختیار کردہ حکمت عملیوں پر غور کیا جاۓ گا  – واضح رہے روسی افواج کے خلاف اس جنگ میں افغانوں کو امریکہ ، سعودی عرب، اور پاکستان کی واضح حمایت بھی حاصل تھی – اور افغان چھاپہ ماروں کی تربیت امریکی و پاکستانی افواج نے انتہائی پیشہ ورانہ خطوط پر کی تھی –

افغان جنگ کے بارے میں امریکی عسکری تجزیہ نگار “بمن . روبرٹ. ایف ” لکھتے ہیں ” روسی افواج نے تقریباً تمام بڑی شاہراہوں پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں ، خاص طور پر شمالی صوبہ جات کابل اور تمریز کے مابین تو واضح طور پر انتہائی فعال نظر آتے تھے – اس اہتمام کے باوجود کابل میں حکام اپنے عہدیداران کی حفاظت کے لئے سخت مشکلات کا شکار تھے ، جنھیں دارلحکومت  ہی میں آۓ روز حملوں کا سامنا تھا – مزاحمتی تحریک کی جانب سے نشانہ بازی ، بم حملے ،اور قتال کا سلسلہ جاری تھا-“

مجاہدین کی نسبتاً چھوٹی ٹکڑیاں گھات لگا کر حملہ آور ہوتی تھیں – ایسے حملوں کی اہمیت عسکری کم ، سیاسی و نفسیاتی زیادہ ہوتی تھی -ایسے حملوں کی زد میں زیادہ تر حکومتی و سیاسی ڈھانچہ ہی رہتا تھا – روسی ہمیشہ ایسے حملوں کو دہشت گردی اور سبوتاژ کی کاروائیوں کا نام دیتے رہے –   روسیوں کے خیال میں یہ ایسے رجعت پسند دہشت گردوں کا ٹولہ تھا جنھیں پڑوسی ملک پاکستان سے ایسے حملوں کی تربیت دے کر بھیجا جاتا تھا-

اگرچہ مجاہدین کو شہر کے مضافاتی علاقوں اور اہم شاہراہوں سے ذرا ہٹ کے اندروں شہر کے گلی کوچوں میں آمد و رفت میں کوئی خاص مشکل درپیش نہیں تھی ، اور اکثر وہاں وہ  اپنی کاروائیاں بھی کرتے تھے ، لیکن انھیں با سلیقہ اور مناسب منصوبہ بندی کی نا کافی صلاحیتوں کی بنا پر بہت کم کامیابی نصیب ہوتی تھی –

وقت ، تجربے ، اور بیرونی پیشہ وارانہ تربیت نے مجاہدین کی صلاحیتوں کو واضح طور پر نکھارنا شروع کیا – کچھ ایسے قصبے بھی چھاپہ مار کاروائیوں کا نشانہ بنے جو نہ تو براہ راست روسی افواج کے قبضے میں تھے نہ ہی وہاں روسی حمایت یافتہ افغان افواج کے – ان لڑائیوں کی شدّت بھی کچھ زیادہ ہی ہوتی تھی ، اور ایسی لڑائیوں کا بنیادی مقصد شاید مذکورہ قصبے پر اپنے اختیار کو مستحکم کرنا ہوتا تھا .ان لڑائیوں میں بھی معروف چارہ ڈالنے والی حکمت عملی ہی استعمال ہوتی تھی ، مجاہدین قصبے کے باہر گزرتی  ہوئی روسی افواج کے کاروانوں پر فائرنگ کرتے ہوے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق پیچھے ہٹتے ، اور روسی افواج کو اپنے پیچھے لگا کر قصبے میں داخل ہونے پر مجبور کرتے ، قصبے کی کچی دیواریں کسی مضبوط مورچے کا کام دیتی تھیں –
نسبتاً بڑی کاروائیوں کی منصوبہ بندی میں حفاظتی پہلووں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانے لگا ، جس کی واضح مثال کابل میں ” میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی ” پر کیا جانے والا مشہور حملہ  ہے- افغان مجاہدین کے مربی امریکہ کے ایک عسکری مبصر ” ڈبلیو .گرو ” اپنی تصنیفات میں اس حملے کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ اس حملے میں کم و بیش ١٢٠ مجاہدین نے حصّہ لیا ، اور حقیقی منصوبے کا علم سواۓ چند کمانداروں کے کسی کو نہ تھا ، حصّہ لینے والی سپاہ جوں جوں مقررہ جگہ پر پہنچتی گئی انھیں ان کے انفرادی فرائض کے براۓ میں اختصار سے بتا دیا جاتا نہ کہ مکمل منصوبے کے بارے میں – ( واضح رہے کہ مذکورہ مصنف کو مجاہدین کی صفوں میں واضح اثر و رسوخ حاصل تھا اور مجاہدین کی منصوبہ بندی کے بارے میں انکی انکشافات یا معلومات کو بہت حد تک منطقی اور حقیقت سے قریب تر سمجھا جاتا ہے – )
افغان جنگ میں شہری معرکوں کے اہداف کا انتخاب دوراندیشی سے کیا جاتا تھا ، اور ان سے کوئی فوری نتائج کا حصول شاید منصوبہ سازوں  کا مطمع نظر نہیں تھا -دور رس نتائج کے حصول میں مختلف چھاپہ مار تنظیمیں نظریاتی اختلافات کے باوجود متحد نظر آتی تھیں – یہاں تک کہ بعض مواقع پر شیعہ اور سنی ، روایتی طور پر حریف مذہبی  مسالک کی  شناخت رکھنے کے باوجود اکٹھی کاروائیوں میں مصروف عمل نظر آے-
مجاہدین کو یہاں بھی تربیتی مسائل کا سامنا بڑی شدت سے رہا ، اور اکثر معرکوں کے دوران ہی نئی پود کی تربیت کی جاتی تھی -صرف مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے یا پڑوسی ممالک کی سرحدوں کے قریب رہائشی چھاپہ ماروں کو نشانے بازی اور آر.پی-جی- چلانے کی معمولی تربیت دینا ممکن تھا ، لیکن جنگی مہارت کا فقدان اور ضروری تربیت کی کمی افغان چھاپہ ماروں کی بھی سب سے بڑی کمزوری شمار کی جاتی ہے –
افغانستان کی روایتی طرز رہائش کی بنا پرشہری عمارتوں کی کم بلندی اور ایک دوسرے سے نسبتاً زیادہ فاصلے کی وجہ سے بلندیوں کی روایتی بر تری سے افغان چھاپہ مار تقریباً محروم ہی رہے ، بہر حال تمام تر محرومی کے باوجود حسب حال بلندی سے استفادہ بھی کیا جاتا رہا -چونکہ افغان شہری ماحول سه جہتی جنگ کے لیۓ کم سازگار تھی ، لہذا زیادہ تر معرکے زمین یا پھر عمارتوں کی پہلی منزل ہی سے لڑے جاتے تھے – اکثر روسی فضائیہ ، توپ خانے یا بکتر بند حملوں سے بچنے کی خاطر چھاپہ مار گلیوں میں لڑنے کو ترجیح دیتے تھے – زیر زمین مورچوں کے کوئی خاص شواہد نہیں مل پاۓ-
گھات لگانے کے لیۓ ایسے مصروف مضافاتی بازاروں کا انتخاب کیا جاتا تھا جہاں روسی افواج کی آمد و رفت نسبتاً زیادہ ہوتی تھی -چھاپہ مار ایسی کاروائیوں کے لیۓ اکثر چھوٹے گروہوں کی شکل میں لڑنا پسند کرتے تھے – عام طور پر ایسے گروہ چار سے پانچ افراد پر مشتمل ہوتے تھے – افغان چھاپہ ماروں کی امتیازی خصوصیات شاید یہ بھی ہے کہ ایسے ہر گروہ کے پاس کم از کم ایک آر -پی-جی- ضرور ہوتی تھی – ایسے کوئی شواہد دستیاب نہیں کہ چھاپہ ماروں نے روسی افواج کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیۓ آر-پی-جی- کا دانستہ استعمال کیا ہو، بلکہ اس ہتھیار کو دوران جنگ بکتر بند گاڑیوں سے سامنا ہونے کی صورت میں ہی استعمال کیا جاتا تھا  – ضروری نہیں کہ ہر معرکے میں انکا سامنا بکتر بند گاڑیوں سے ہوتا ، لیکن ہر معرکے میں آر-پی-جی کا ہونا انکی احتیاط پسندی کہی جا سکتی ہے –
مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیۓ عمارتوں میں گھسنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا تھا ، افغان چھاپہ مار عمارتوں کی چھت سے اندر آنے کو پسند کرتے تھے ، اس مقصد کے لیۓ قرب و جوار کی کچی پکّی دیواروں کو استعمال کیا جاتا ، اور اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوتا تو رسی یا سیڑھی بھی استعمال کی جاتی تھی -اگر کسی غیر مقبوضہ قصبے یا دیہات میں کوئی لڑائی مقصود ہوتی تو مجاہدین چھتوں پر نسبتاً بھاری ہتھیار بھی نصب کر لیتے تھے-
چھاپہ مار کسی بھی عمارت کو محفوظ کرنے یا وہاں سے عام افراد کو حملے سے قبل ہٹانے کی زحمت نہیں کرتے تھے – افغان چھاپہ مار حادثاتی طور پر ہونے والے غیر فوجی نقصانات پر بھی کسی تاسف کا شکار نظر نہیں آۓ – بم حملوں میں ہونے والے نا دانستہ غیر عسکری اموات سے اگرچہ چھاپہ ماروں کو سیاسی نقصان سے دو چار ہونا پڑتا تھا لیکن انھیں مخصوص اہداف کے حصول کی خاطر یہ سب گوارا تھا- چھاپہ ماروں کی بمباری / آر-پی-جی حملوں کے بنیادی اہداف روسی افواج ، انکی حمایت یافتہ افغانی افواج یا پھر کمیونسٹ پارٹی کے عھدے دار ہی ہوتے تھے – چونکہ فطری طور پر عوام کے درمیان بسنے والے اہداف پر  ایسے حملوں میں معصوم لوگوں کو بھی موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچایا جا سکتا ،افغان چھاپہ مار بھی اس سلسلے میں بے بس ہی تھے –
اگرچہ نشانہ بازی چھاپہ مار جنگ میں ایک کلیدی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس جنگ میں کوئی خاص نشانہ بازی یا سنیپنگ نظر نہیں آتی ، شاید اس کی وجہ حریف طاقتوں کی صفوں میں مشاق نشانہ بازوں کی کمی تھی –
افغان سرزمین پر لڑی جانے والی اس تاریخی جنگ میں چھاپہ ماروں کی غیر متوقع حملہ کرنے کی صلاحیت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا – اگر چہ یہ سب عوامی تائید کے بل بوتے ہی پر ممکن تھا ، لیکن بعض مواقع پر ایسے حملوں کے لیۓ مطلوبہ مقام سے باہر سرگرم چھاپہ ماروں کو بھی مدعو کیا گیا   – افغان چھاپہ مار اہداف تک پہنچنے اور با حفاظت واپسی کے لیۓ انتہائی عرق ریزی سے منصوبہ بندی کے عادی تھے – اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کی غرض سے حملوں کے لیۓ چھاپہ ماروں کی عام گزرگاہوں کا انتخاب کیا جاتا تھا تا کہ حملے کے لیۓ موافق موقع کے منتظر کسی چھاپہ مار کی سرگرمی روسی افواج یا ان کے جاسوسوں کی نظروں سے محفوظ رہے- مضافاتی آبادی میں موجود چھاپہ ماروں کے  ہمدرد اور شہروں کے بارے میں ان کی جامع معلومات ، منصوبہ بندی میں بہت  کارآمد ثابت ہوتی تھیں – زیادہ تر نقل و حرکت پیدل ہی ہوتی تھی اور عام افغانوں کے دور دراز علاقوں سے شہروں تک پیدل آنے اور پیدل واپسی کی عادت کے پیش نظر یہ ایک کامیاب حکمت عملی تھی – عام طور پر قرب و جوار  کے دیہاتوں میں رہ کر کسی بھی مہم کی منصوبہ بندی کی جاتی ، ضروری ہتھیاروں اور افرادی قوت کے بارے میں حتمی تسلی کے بعد پیش قدمی کا فیصلہ کیا جاتا – شہر میں داخل ہونے کے بعد وہ (اپنی جامع معلومات کی بدولت ) تیزی سے اپنے مطلوبہ مقام کی جانب پیش قدمی کے قابل ہوتے تھے – روسی افواج عام طور پر غیر محفوظ علاقوں میں محتاط نقل و ہرقت کی عادی تھی ، اور بلا ضرورت گشت کرنے سے گریز کرتے تھے ، ایسے علاقوں سے بخوبی واقف چھاپہ مار دشمن کی نظروں میں آۓ بغیر با آسانی ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے تھے – اور با وقت ضرورت مختصر سے وقت میں چھاپہ ماروں کی بڑی تعداد کا جمع ہونا غیر معمولی نہیں تھا -بسا اوقات کسی کاروائی میں زیادہ افرادی قوت کے پیش نظر مختلف چھاپہ مار تنظیمیں علاقے میں موجود اپنی اپنی افرادی قوت کو جمع کرتے تھے ، اور متحد ہو کر ہدف پر دھاوا بول دیا جاتا تھا – کاروائی کے بعد ممکنہ شدید رد عمل کا خوف چھاپہ ماروں کے جلد از جلد منتشر ہونے کا متقاضی ہوتا ہے ، جس کے لیۓ افغان چھاپہ مار ممکنہ کم وقت میں مقامی لوگوں میں گھل مل کر اپنے پرانے راستے سے محفوظ مقامات کی طرف چلے جاتے تھے –
جیسا کہ افغان چھاپہ ماروں کی تربیت کے بارے میں دو طاقتور افواج (امریکہ و پاکستان ) کا ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیں ، اسی تربیت کا اثر تھا کہ افغان چھاپہ ماروں نے میدان جنگ کے بارے میں اپنے تصور کو روایتی فلسفوں کی حدود سے زیادہ وسیع کر لیا – اب چھاپہ مار بہتر منصوبہ بندی کے اہل ہونے لگے تھے ، وہ اپنے منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کو پہلے سے کہیں زیادہ  اہمیت دینے لگے – ایک وقت تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ مہم میں سرگرم ٨٠ فی صد افرادی قوت کو صرف حفاظت پر ہی تعینات کیا جانے لگا-  چونکہ اکثر شہروں میں رات کو کرفیو کا نفاذ رہنے لگا اور بڑی تعداد میں روسی افواج رات بھر شہر کی گلیوں میں تعینات رہنے لگیں، جس کی وجہ سے  چھاپہ ماروں کو مشکلات بھی پیش آنے لگیں-
مجاھدین/چھاپہ ماروں کی  انہی عادات کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد روسی افواج لڑائی کے بعد گرفتاریوں ، یا استعمال شدہ اسلحہ کی برآمدگی پر بہت کم ہی وقت زیاں کرتی تھیں -اگرچہ شہر میں مصروف عمل چھاپہ مار تنظیموں کو دیہاتوں میں مصروف گوریلا تنظیموں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سستی اور نا اہلی کے الزامات کا سامنا بھی رہا ، لیکن ان کی اہداف کی نشاندہی ، جاسوسوں سے ملنے والی معلومات کا بروقت اور مناسب استعمال کرنے کی صلاحیت ، اور دشمن کو اخلاقی و نفسیاتی طور پر پستی کی طرف دھکیلنے میں شاید ہی کوئی دیہات کی تنظیم مقابلہ کر سکی – اصل میں شہری چھاپہ ماروں کی  ان صلاحیتوں میں اضافے کی وجہ انہیں  دستیاب مقامی آبادی میں گھلنے ملنے کے خاطر خواہ مواقع تھے ، انہیں اپنے اہداف کو قریب سے دیکھنے ، انکی کمزوریوں کا بغور جائزہ لینے کے متعدد مواقع میسر تھے – یہی وجہ تھی کہ انکی  تباہ کن منصوبہ بندی کے سامنے دیہی علاقوں میں برسر پیکار تنظیموں کا قد انتہائی گھٹ جاتا ہے –  جبکہ انکے برعکس دیہاتوں میں سرگرم عمل چھاپہ مار تنظیموں کے ارکان اپنی کمین گاہوں میں تنہائی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے –  انکے فطری حدود و پیشہ وارانہ مجبوریاں انکی صلاحیتوں کے محدود ہونے کی وجہ تھیں ، لیکن دیہی علاقوں میں بر سر پیکار تنظیموں کی پوری تحریک میں اہمیت چنداں کم نہیں ہوتی – دیہی تنظیموں کے منصوبوں میں اہداف کے انتخاب کا طریقہ کار بھی ذرا مختلف ہوتا تھا ، جہاں شہری تنظیمیں گنجان آباد علاقوں کو پسند کرتے تھے وہیں دیہی تنظیمیں غیر آباد علاقوں میں کاروائی کو زیادہ سہل اور قابل عمل سمجھا جاتا تھا – اگر قابض افواج کے کسی کارواں کو کوئی لمبا سفر درپیش ہوتا تو حتیٰ لا مکان تمام راستوں پر مناسب فاصلے پر مشاہداتی چوکیاں تعینات کی جاتی تھیں ، اور مستقل گشت کا ضروری اہتمام بھی کیا جاتا تھا – تاکہ دیہی چھاپہ مار تنظیموں کے ممکنہ حملوں سے بچا جا سکتا-  ایسے بندو بست سے نمٹنے کے لیۓ چھاپہ مار تنظیمیں ہر ایسی چوکی کو مصروف رکھنے کے لیۓ ایک الگ گروہ ترتیب دیا جاتا تھا جو  ممکنہ طور پر چھاپہ مار کاروائی کے لیۓ کوئی مسائل پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا – تھوڑی سی نفری کو اصل ہدف پر حملے کے لیۓ استعمال کیا جاتا تھا ، جبکہ حفاظتی اقدامات اور ممکنہ جوابی کاروائی کے لیۓ آنے والی افواج کا راستہ روکنے پر تعینات کیا جاتا تھا –
دیہی تنظیموں کا ضمنی ذکر ذرا طویل ہو گیا جس کے لیۓ معذرت ، بات ہو رہی تھی شہروں میں بر سر پیکار گوریلا تنظیموں کی ، مقامی آبادی میں انکے گھلنے ملنے کی صلاحیت انھیں روسی افواج اور روسی حمایت یافتہ افغان حکّام کو با آسانی ہدف بنانے کا موقع فراہم کرتی تھی ، جس سے کما حقہ فائدہ بھی اٹھایا جاتا تھا – روسی افواج کی خدمات پر مامور غیر فوجی افغانوں کو لالچ ، دھونس ، دھمکی یا پھر فطری ہمدردی کی بنا پر اپنے حق میں استعمال کرنا چھاپہ ماروں کے لیۓ نسبتاً آسان اور سود مند ثابت ہوا- ایسے افراد کے تعاون سے انھیں اہم روسی / روس کے حمایتی افراد کو ان کے محفوظ عمارتوں میں کامیابی سے نشانہ بنانے کافی مدد ملتی تھی – عمارت میں موجود افراد ، انکی مصروفیات ، انکے اوقات کار ، عمارت کی حفاظت پر مامور عملے کی تعداد ، حفاظتی عملے کے تعیناتی کے جگہوں کی درست نشاندہی ، غرضیکہ تمام ضروری معلومات ان ایجنٹوں سے حاصل کی جاتی تھی –
شہری چھاپہ مار کسی بھی تیرہ کی جداگانہ شناخت نہیں رکھتے تھے نہ ہی  کوئی شناختی علامت اور  وردی استعمال کرتے تھے – انکی دانستہ کوشش ہوتی تھی کہ عسکریت پسندوں اور عام شہری آبادی میں تفریق کسی کے لیۓ بھی انتہائی دشوار ہو -اس حکمت عملی کی وجہ سے وہ عام طور پر روسی افواج کے سامنے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے روز مرّہ کے کام انجام دیتے تھے -عام طور پر بزرگ شہریوں کو ہتھیاروں کی نقل و حمل اور پیغام رسانی کے لیۓ استعمال کیا جاتا تھا – کچھ مخصوص مواقع پر تو برقع پوش خواتین سے بھی  سرکاری عمارتوں میں بم نصب کرنے کا کام لیا گیا – ایک روسی فوجی صلاحکار کو اغوا کرنے کے لیۓ چھاپہ مار افغان فوجیوں کی مخصوص وردی میں آے تھے ، چند دیگر مواقع  پر بھی  چھاپہ ماروں نے دھوکہ دینے کے لیۓ روسی / سرکاری سپاہ کی مخصوص وردی استعمال کی –
ایک مرتبہ تو کچھ لوگ  مقامی کسانوں کی تیرہ کے کپڑے پہنے ، کئی روز تک روسی افواج کے لیۓ مخصوص بس اڈے پر ،  ریڑھی لگا کر تازہ پھل اور سبزیاں بیچتے رہے ، کئی روز کی مشق کے بعد انھوں نیں پھلوں کے نیچے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز بارود رکھ کر ریڑھی کو اس وقت بذریعہ  ریموٹ اڑا دیا ، جب آس پاس روسی سپاہ کی بڑی تعداد موجود تھی –  ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب چھاپہ ماروں نے غیر متوقع طور پر روسی افواج / سرکاری عھدے داروں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بغیر کوئی نقصان اٹھاۓکامیاب کاروائیاں کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور روسی افواج بے بسی سے تماشہ دیکھتی رہی-

جاری ہے ……….

(اگرچہ افغان تحریک ،   دیہی  علاقوں میں گوریلا تنظیموں کے شدید مزاحمت کے ذکر کے بغیر ادھورہ ہی رہ جاتا ہے کیونکہ تحریک کی ٧٠ فیصد جنگیں دیہی خطوں میں خالص دیہی ماحول میں لڑی گئیں، لیکن دیہی جنگی حکمت عملیوں کا ذکر کسی دوسرے مضمون میں مفصل رہے گا )

چھاپہ مارجنگ – شہری ماحول – حکمت عملی

In case study on January 3, 2011 at 3:16 am

چھاپہ مارجنگ – شہری ماحول – حکمت عملی

( تحقیق و تحریر نواز بگٹی )

اس مضمون میں ہماری کوشش ہو گی کہ شہری ماحول میں بر سرپیکار رہنے والے مختلف چھاپہ مار تنظیموں کی جنگی  حکمت عملیوں  اور تراکیب کا تفصیلی جائزہ پیش کر سکیں –  اگر چہ روایتی چھاپہ مار جنگوں  کا ماخذ دیہات ہی رہے ہیں ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کے شہروں کی جانب منتقلی  نے جنگجووں کی توجہ بھی شہروں کی جانب مبذول کروائی -اور اس طرح کی غیر معمولی تحریکوں کی دیہاتوں سے شہروں کو منتقل ہونے والی حکمت عملی بہت ہی مفید ثابت ہوئی-شہری معرکوں کا خیال بلکل نیا بھی نہیں ہے ، شروع شروع میں دیہاتوں میں بر سر پیکار چھاپہ ماروں کی مدد ، مخصوص حالات میں مد مقابل افواج کی توجہ ہٹانے کے لیۓ بھی شہروں میں معرکوں کی مثالیں ملتی ہیں – شہروں میں مد مقابل افواج یا ان کی امدادی قوتوں پر حملے صرف انتہائی ضروری مواقع پر ہی کی جاتی تھیں ، عام طورپر  چھاپہ مارجنگجو تنظیمیں  شہروں میں موجود اپنے ہمدردوں  کو سراغرسانی ، افرادی قوت میں اضافہ ، تخریب کاری ، اور عمومی نا فرمانی یا بغاوت  جیسی کاروائیوں کے لیۓ استعمال  کرتے  رہے ہیں -( اور مستقبل میں بھی انکی یہی کامیاب حکمت عملی برقرار رہنے کی امید رکھی جاتی ہے)  لیکن بیسویں صدی کے اواخر میں دنیا بھر کی تنظیموں کی جانب سے شہری معرکوں کو بنیادی اہمیت دی جانے لگی جو کہ  چھاپہ مار جنگ کی انتہائی کامیاب حکمت عملی ثابت ہوئی –
چھاپہ مار کی بقا اور کامیابی کا انحصار اس کی عوامی مقبولیت اور چھاپہ مار کاروائیوں کی عوامی تائید پر ہوتا ہے -دنیا کے اکثر حصّوں اور خاص کر کم ترقی یافتہ / ترقی پذیر ممالک میں آبادی کثرت سے شہروں کی طرف منتقل ہوئی ، اور یوں طاقتور ،  فیصلہ کن سماجی حصّہ دیہاتوں  سے شہروں کو منتقل ہو گیا -چھاپہ ماروں کو بھی اپنے لیۓ معاشی و مادی اعانت اور عوامی تائید کے حصول کی خاطر نۓ سماجی رجحانات کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کو شہروں کی جانب منتقل کرنا ضروری ہو گیا –  بلواسطہ ، مخفی و غیر مرئی چھاپہ مار جنگ نے ایک نئی  صورت اختیار کر لی -شہری سماج اپنے مخصوص طرز بود و باش کی بدولت غیر روایتی چھاپہ مار تنظیموں کے لیۓ انتہائی زرخیز ثابت ہوئی -میدان جنگ دور دراز ، ناقابل رسائی کم آبادی والے  دیہی علاقوں سے منتقل ہو کر زندگی سے بھر پور شہروں کی روشن و رنگین گلیوں میں سجنے لگے – یوں عالمی شہری سماج نہ صرف ایک سماجی طرز زندگی بن گیا بلکہ غیر روایتی جنگی کاروائیوں کے لیۓ ایک پر کشش تباہ کن ہتھیار اور خطرناک حکمت عملی کی شکل بھی اختیار کر گیا
میدان جنگ کی بدلتی صورت کے پیش نظر چھاپہ ماروں کے لیۓ نسبتاً کم فطری  اور زیادہ پر خطر ماحول میں اپنی کاروائیاں جاری رکھنے اور  نظم و ضبط  کے قیام کے لیۓ با قاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے

اپنی اس مضمون میں ہم کوشش کریں گے کہ شہری ماحول میں رائج چھاپہ مار کاروائیوں کی مقبول اصناف ( گھات لگا کر مختصر وقت میں کاروائی کرنا ، مخصوص اہداف کو کم سے کم انفرادی قوت کی مدد سے نشانہ بنانا ، اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ) کا ایک اجمالی جائزہ پیش کر سکیں –  چھاپہ مارکاروائیوں کی انجام دہی کے سلسلے کی ذیلی سرگرمیاں جیسے کہ اہداف کی نشاندہی ، عوامی تعاون ، کمان و اختیار وغیرہ بھی زیر بحث آئین گی – اگر چہ  چھاپہ مار جنگ سے متعلق دیگر امور  سراغرسانی ، بغاوت ، رسد ، تربیت ، اور کمین گاہ   وغیرہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ، لیکن طوالت سے بچنے کی خاطر اس بحث کو آئندہ کسی مضمون کے لیۓ چھوڑ دیتے ہیں

اس مضمون میں ہماری کوشش ہو گی کہ چھاپہ مار جنگ کے عملی پہلووں پر زیادہ دھیان دیا جاۓکیوں کہ  چھاپہ  مار جنگ کے  نظریاتی پہلو پر پہلے ہی کافی مواد موجود ہے اور تمہید میں بھی اس پر سیر حاصل نظر ڈالی گئی ، جبکہ اس کے برعکس عملی چھاپہ مار جنگ کے موضوع پر انتہائی محدود مواد مواد ہی دستیاب ہے –
سب سے پہلے ہم آئرلینڈ میں برطانوی قابض افواج سے برسر پیکار “آئرش ریپبلکن آرمی ” نامی تنظیم کی کاروائیوں کی  مثال لیتے ہیں ، جن کے بارے میں “بیل .جے.بویر ” اپنی تصنیف “ایک خفیہ فوج کا تجزیہ ” میں رقمطراز ہیں ” ہمیشہ پہلے اور اولین اہم نشانے پر برطانوی افواج ہی رہی ہے – گھر پر ، کھیل کود کے دوران  ، باوردی ، فرائض سے سبکدوشی کے بعد ، بوقت خریداری ، یہاں تک کہ راہ چلتے ہوۓ بھی برطانوی افواج کے ہر فرد کو خطرہ لاحق ہوتا ہے –  آئ .آر . اے صرف خواتین و حضرات ہی دیکھتی ہے نہ کہ وردی -”
آئی.آر.اے. کی شہری معرکوں  میں عام طور پر خاموش نشانے بازی (سنایپنگ )، گھات لگا کر بم حملے کرنا (ایسے بموں کا استعمال جنھیں عام طور پر فاصلے  سے پھوڑا جاتا ہے ) ،مارٹر اور آر .پی.جی . کے حملے شامل تھے – جبکہ بہت کم حملہ  کرکے  دو بدو لڑائی بھی ہوتی تھی –
١٩٨٠ کی ابتدائی دہایوں میں تھوڑے سے عرصے کے لیۓ اس تنظیم نے گھریلو/ دیسی  ساختہ بکتر بند گاڑیوں ( جنھیں خصوصی طور پر برطانوی افواج کی بیرونی دفاع کے خلاف استعمال کرنے کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا تھا ) کے ذریعے برطانوی شاہی افواج  پر براہ راست حملے بھی کیے –  یہ حملے شاذ و نادر ہی کامیاب ہو پاتے تھے -ان کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہدف کے گرد ناقابل تسخیر حفاظتی اقدامات تھے – کچھ عسکری تجزیہ نگاروں کے خیال میں آئی . آر .اے   اس طرح کے بڑے مہمات ( جن  میں بہت زیادہ افرادی قوت اور انتہائی عرق ریزی سے کی گئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہو  ) کی انجام دہی اور ایسی مہمات کے لیۓ ضروری حفاظتی تدابیر کے اختیار کرنی کی بہت کم صلاحیت رکھتی تھی – حقیقت یہی ہے کہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن پر  براہ راست حملے پر خطر ہوتے ہیں –
آئی آر اے کی جانب سے مارٹر حملے بکثرت ہوتے تھے ، تنظیم نے کئی سالوں کی جدوجہد میں مارٹرز کی کئی ایک گھریلو ساختہ اقسام تیار کر لی تھیں ، جنھیں چھت کٹی  گاڑیوں پر نسب کر کے ہدف کے قریب  لایا جاتا اور بذریعہ ریموٹ استعمال کیا جاتا تھا – تنظیم کی صفوں میں چھوٹی اقسام کے اسلحے کو پہلے دن ہی  سے مقبولیت حاصل تھی ، کیونکہ ایسا اسلحہ اپنی چھوٹی جسامت  اور کم وزنی  کے سبب نسبتاً با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے – چھوٹے ہتھیاروں کا حصول ، اور ان کی تربیت بھی نسبتاً آسان ہی ہوتی ہے مزید برآں یہ تنظیم پر مالی بوجھ بھی کم ہی بنتے ہیں –
آئی آر اے کی حکمت عملی کے مطابق اکثر کاروائیاں بہت ہی چھوٹے گروہ انجام دیتے تھے ، اکثر صرف چار یا پانچ افراد کے چھوٹے سے گروہ کے ذمے کوئی مخصوص ہدف ہوتا تھا – ایسے گروہ میں شامل افراد تنظیمی  حکمت عملی کے مطابق اگرچہ ایک دوسرے سے بخوبی واقف ہوتے تھے لیکن ان کے درمیان کوئی گہری وابستگی یا کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا تھا  اور نہ ہی وہ عام حالات میں اکٹھے کام کرتے نہ ہی ایک دوسرے کے پڑوسی ہوتے تھے – ہر چند کہ تنظیم کی ہائی کمان  کاروائیوں  اور بڑے اہداف کے متعلق وقتاً فوقتاً فرمودات جاری کرتی رہتی تھی لیکن زیادہ تر کاروائیاں مقامی کماندار کی صوابدید پر ہی انجام دی جاتی تھیں –  اسے تنظیم  کا کمال نظم و ضبط کہیے یا حسن انتظام ،کہ کسی بھی برسر پیکار گروپ  کے افراد میں باہمی رابطہ صرف چند منٹوں کے لیۓ ہی ہوتا وہ بھی اکثر ہدف کے پاس پہنچ کر یا کاروائی کے دوران . گروپ کے ارکان کن راستوں سے آتے  ، کب اور کہاں سے ہتھیار اٹھاتے  ، اور کاروائی کے بعد کہاں جاتے تھے ،  وہ کونسی جگہ ہتھیاروں کو واپس کرتےتھے  ان تمام امور کو انفرادی طور پر سر انجام دیا جاتا  اور اراکین ایک دوسرے سے اس متعلق لا علم ہی رہتے –
مخفی بم حملے اگرچہ کسی ضابطے کے تحت تو نہیں کیے جاتے تھے لیکن ان کا انداز تقریباً ایک سا ہوتا تھا ، جسے برطانوی افواج ” بلاوے ” کے طور پر یاد کرتی ہے -عسکریت پسند کسی بھی منتخب جگہ پر انتشار پیدا کر کے برطانوی افواج کے مقتل گاہ میں  آمد اور انکے جمع ہونے کا یقینی انتظام کرتے تھے  -بسا اوقات بم نما اشیا کو بھی بطور چارہ استعمال کیا جاتا ، جب زیادہ سے زیادہ افواج ہدف کے پاس پہنچ جاتیں تو ذرا فاصلے  پر موجود چھاپہ مار اپنی محفوظ کمین گاہ سے مخفی بم کو بذریعہ ریموٹ پھوڑ دیتا تھا – ایسے حملوں سے ہونے والے نقصان کا انحصار استعمال ہونے والی بم کے ساخت ، حجم ، اور اس کے اجزا پر ہوتا تھا – آئی – آر-اے – عام طور پر کیمیائی کھاد سے تیار ہونے والی گھریلو ساخت کے بم ہی استعمال کرتی تھی ، کیونکہ یہ کم لاگت ، اور عام گھریلو اشیا کی مدد سے بغیر کوئی مخصوص ٹیکنالوجیکل مشکل کے تیار ہوتی ہیں- تنظیم اگرچہ عوامی جائیدادوں کا احترام کرتی تھی لیکن کچھ مخصوص مواقع پر تنظیم کی جانب سے عوامی سواریوں کو بھی نشانہ بنانے کی مثالیں موجود ہیں ، جو تنظیم کے خیال میں برطانوی افواج کے نقل و حمل میں استعمال ہو رہی تھیں –
شہری آبادی میں موجود  بلند و بالا عمارتیں ، گھروں کی لمبی قطار ، اور تنگ گلیاں ایک سه جہتی میدان جنگ بنا دیتی ہیں ، جس کا فائدہ بلا شبہ چھاپہ مار تنظیم کو ہی ہوتا ہے – آئی آر اے کو بھی برطانوی افواج کے مقابلے میں  کچھ ایسی ہی برتری حاصل تھی ، جس کی وجہ سے قابض افواج کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا -زیادہ تر معرکے گلیوں میں ہی بپا ہوتے تھے ، کیوں کہ چھاپہ مار طرز جنگ میں ہدف کے حصول کے بعد بغیر کوئی لمحہ  ضائع کیۓ فرار ہونے کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے تا کہ دو بدو لڑائی یا گرفتاری سے بچا جا سکے اور تنگ گلیاں اس طرح کا پورا پورا موقع فراہم کرتی ہیں -اگرچہ دیہاتوں میں زیر زمین کمین گاہوں کو دشمن پر فائرنگ اور دیگر جنگی حربوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، لیکن شہری جنگ میں ان کا استعمال صرف ہتھیاروں کے چھپانے کی حد تک ہوتا ہے -بلند و بالا عمارات کی چھتوں کو دشمن افواج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیۓ بہت ہی دانشمندی سے استعمال کیا جاتا ہے ، جب کہ کبھی کبھار ایک دوسرے سے ملی ہوئی چھت چھاپہ ماروں کو دو بدو لڑنے اور سرعت سے غائب ہونے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوئی –  برطانوی افواج اپنی تمام تر مربوطی ، سریر الحرکت صلاحیتوں ، اور مثالی نظام و نسق کے با وجود مد مقابل چھوٹے چھوٹے گروہوں کے سامنے بے بس رہی –
کچھ حلقوں کی جانب سے آئی آر اے پر یہ  الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ تنظیم حملوں کی منصوبہ بندی میں عام انسانی جانوں کی حفاظت سے دانستہ گریز کرتی تھی – کچھ مواقع پر ہوۓ بم دھماکوں سے بڑے پیمانے پر ہونے والے  عوامی جانی نقصانات  بھی ناقدین کے اس خیال کو تقویت پہنچاتی ہیں – تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی بہیمانہ کاروائیوں کا مقصد ایک طرف تو خوف و ہراس پھیلانا ہوتا تھا جبکہ دوسری جانب اپنی طاقت کا اظہار بھی ، یعنی آئی آر اے کچھ بھی کر سکتی ہے – آئی آر اے اگرچہ میڈیا کے توسط سے عوام کو ایسی کاروائیوں سے قبل خبردار بھی کرتی تھی لیکن ان کے وارننگ اور دھماکوں کے درمیان وقت کی کمی کی وجہ سے عوام مطلوبہ مقام سے ہٹ نہیں پاتے تھے، یا انھیں وارننگ سے آگاہی ہی نہیں مل پاتی  تھی – اگرچہ ان وارننگز کی کوئی حفاظتی اہمیت نہیں تھی لیکن تنظیم ایسی وارننگز کو اپنے حق میں اخلاقی جواز بنا کر پیش کرتی رہی- عوامی و غیر عسکری نقصانات انسانی غلطی  یا پھر غلط فہمیوں کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن انتہائی اہمیت کے حامل اہداف کو نشانہ بناتے وقت تنظیم کے لیۓ ایسے نقصانات قابل قبول سمجھے جاتے تھے -بسا اوقات قابض افواج کی جانب سے جعلی تنظیموں کے ہاتھوں بھی ایسی کاروائیاں کروائی جاتی تھیں ، تا کہ آئی -آر-اے – کی سیاسی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا جا سکے ، اور تنظیم عوامی حلقوں میں تنہائی کا شکار ہو -( ایسے حربے تقریباً ہر جگہ استعمال ہوتے ہیں )
برطانوی افواج کو مقتل گاہ تک گھیر کر لانے کے لیۓ تنظیم نشانے بازی کا سہارا بھی لیتی رہی ، نشانے باز گروہ اکثر و بیشتر چار افراد پر مشتمل ہوتا تھا – ( ایک نشانے باز ، دو نگاہ رکھنے والے اور محافظ  ، جبکہ چوتھے شخص کی ذمہ داری چارہ ڈالنے کے بعد ہتھیار کو محفوظ مقام تک پہنچانا ہوتا تھا )  – ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیۓ کم سن بچوں کو بھی بوقت ضرورت استعمال کیا جاتا تھا – اس طریقہ کار کی وجہ سے نشانہ باز کے پاس ہتھیار صرف تھوڑی دیر کے لیۓ موجود ہوتا جس کے بعد وہ عام لوگوں میں گھل مل کر اپنا عوامی تاثر قائم رکھتے ہوۓ اپنے محفوظ  ٹھکانے تک با آسانی پہنچ جاتا تھا – ایسی نشانہ بازی میں بطور خاص دھیان رکھا جاتا کہ کوئی زخمی نہ ہو یا مر نہ جاۓ ، کیوں کہ کسی بھی ایسے حادثے کی صورت میں مطلوبہ فوجی یونٹ اپنے زخمیوں یا لاشوں کو سنبھالنے میں مصروف ہو جاتی نہ کہ منصوبہ کے مطابق مقتل تک آتی جس کے لیۓ دراصل چارہ ڈالا جا رہا تھا –
تنظیم کا انتہائی غیر مرکزی ڈھانچہ ، اور مقامی کمانداروں کے صوابدیدی اختیارات تنظیم کو بلا شبہ اس قابل بناتے تھے کہ وہ جب اور جہاں چاہیں مد مقابل افواج پر حیرت انگیز اور غیر متوقع حملے کریں -کسی بھی چھاپہ مار کے لیۓ تقریباً نا ممکن ہی ہے کہ وہ اپنی کسی بھی کاروائی کو بغیر کسی سراغرساں کی مدد، اور بیرونی مالی و دیگر ضروری امداد کے منطقی انجام تک پہنچاۓ- اپنی ایسی ضروریات کو پوری کرنے کے لیۓ آئی-آر-اے  نے ایک بوگس ٹیکسی تنظیم ” بلیک ٹیکسی ” کے نام سے بنائی ، جس کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ یہ تنظیم آئی -آر-اے-کو نہ صرف اہداف تک لے جانے اور بحفا ظت واپس لانے کی ذمہ داری نبھاتی تھی ، بلکہ معاشی معاملات میں بھی عسکریت پسندوں کی معاون رہی ہے- اسی ٹیکسی تنظیم کو ہی آئی-آر-اے کے لیۓ ہتھیاروں کی نقل و حمل کا ذمہ دار بھی سمجھا جاتا ہے –
جیسا کہ پہلے ہی تنظیم کے نظم و نسق کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ، کہ تنظیم میں مصروف عمل گروہ کے اراکین ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہوۓ بھی ممکنہ حد تک نا واقفیت کو برقرار رکھتے تھے ، جس کی وجہ سے وہ ہدف کے حصول کے بعد با حفاظت واپس اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جاتے تھے ، حفاظت کے پیش نظر اصل کاروائی کرنے والوں کے ارد گرد حفاظتی حصار بھی قائم کیا جاتا تھا  اور عوام میں موجود اپنے سراغرسانوں کی مدد بھی حاصل کی جاتی تھی ، لیکن یہ سب اس کمال ہوشیاری کے ساتھ کہ فرائض کی انجام دہی سے لے کر با حفاظت واپسی تک ہر گروہ دوسرے گروہ سے بے خبر و نا واقف رہے-
عوامی تائید بلا شبہ آئی-آر-اے کی مضبوط طاقت رہی ہے ، جس کے بل بوتے پر تنظیم نہ صرف اتنے طویل عرصے تک خود کو زندہ رکھ پائ بلکہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا بھی مردانہ وار مقابلہ کرتی رہی -کئی سالوں کی جدو جہد میں تنظیم نے اپنے سراغرسانی کے نیٹ ورک کو مبالغے کی حد تک وسعت دی- شمالی آئرلینڈ اور اس کے باہر رہنے والی کیتھولک آبادی کی تمام تر تائید سے لطف اندوز ہوتی ، آئی -آر-اے- کو کبھی بھی عوام میں گھلنے ملنے اور چھپنے کے معاملے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئ –  بعض عسکری ناقد تو اس حد تک مبالغہ آرائی بھی کرتے ہیں کہ برطانوی افواج مستقل مقامی آبادی میں موجود آئی-آر-اے کے کسی نہ کسی ہمدرد کی نظر میں رہتے تھے ، اور انکے حرکات و سکنات کی پل پل کی خبر تنظیم کے عساکر کو دی جاتی تھی -اس سلسلے میں برطانوی افواج مستقل خوفزدہ رہنے لگے اور اکثر اپنے ارد گرد منڈلاتے ہوۓ کمسن افراد کے ہاتھوں میں موبائل فون دیکھ کر انھیں زد و کوب بھی کرتے تھے –
آئی-آر-اے اپنے عسکری یونٹس سے  غیر عسکری یونٹس کی علیحدگی کو ہمیشہ یقینی بناتی رہی ، غیر عسکری یونٹس کو تنظیمی سطح پر دو مختلف زمروں میں منقسم کیا جاتا تھا – ایک وہ جو تنظیم کے باقاعدہ رکن تو تھے لیکن عسکری کاروائیوں میں حصّہ نہیں لیتے تھے ، انھیں اکثر و بیشتر غیر عسکری ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں -دوسرے وہ جو تنظیم کے باقاعدہ رکن تو نہ تھے لیکن تنظیم کے لیۓ نرم گوشہ رکھتے تھے اور انکی ہمدردیاں تنظیم کے ساتھ تھیں ، ایسے افراد رضاکارانہ طور پر تنظیم کے لیۓ جاسوسی کے فرائض انجام دیتے تھے اور انھیں کوئی باقاعدہ ذمہ داری نہیں دی جاتی تھی –
آئی-آر-اے وردی نہیں پہنتی تھی ، سواۓ اشتہاری پوسٹرز یا تصویر کے یا پھر کسی رکن کے شہادت کے موقع پر اس کی آخری رسومات ادا کرتے ہوۓ چند لوگوں کو تنظیم کے مخصوص لباس میں دیکھا جاتا تھا- ایسا بھی بہت کم ہی ہوا کہ تنظیم نے برطانوی افواج کو دھوکہ دینے کی غرض سے ان کی وردی استعمال کی ہو – کیونکہ تنظیم کے صفوں میں اس طرح کی دھوکہ دہی کو بری نظر سے دیکھا جاتا تھا –
تنظیم اہداف کے براۓ میں اگرچہ لچکدار رویہ رکھتی تھی لیکن ایک بات جو روز روشن کی طرح عیاں ہے ، وہ یہ کہ تنظیم کے بنیادی ہدف برطانوی افواج اور انسے منسلکہ مفادات ہی رہے –

(اگلے مضمون میں اسی موضوع پر مزید بحث کی جاۓ گی )