Let we struggle our way

Posts Tagged ‘guerrila warfare’

انقلابی تحریک -چھاپہ مار جنگ ایک امتیازی حکمت عملی

In Baloch Freedom movement, BLA on January 1, 2011 at 8:53 pm

انقلابی تحریک -چھاپہ مار جنگ ایک امتیازی حکمت عملی

تحریر نواز بگٹی

اگر مجموعی طور پر دیکھا جاۓ تو انقلابی تحریکیں حالت جنگ میں بھی مروجہ جنگی حکمت عملیوں سے مختلف و ممتاز حثیت رکھتی ہیں . تحریک چاہے بہت ہی چھوٹے پیمانے پر ہو یا وسیع  قومی تحریک کی شکل اختیار کر جاۓ اس کی کاروائیوں اور روایتی جنگ میں اتنا ہی فرق ہو گا جتنا کہ روایتی اور نیوکلیائی جنگ میں ہو سکتا ہے – روایتی جنگ کے مقابلے میں کم از کم چار  بنیادی نقاط ایسے ہیں جو اس جنگ کو امتیازی حیثیت دیتی ہیں –

– طاقت کے مرکز کا ایک ہونا

انقلابی تحریکوں کی پشت پرہمیشہ  ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ اور وسیع عوامی حمایت  کار فرما  ہوتی ہے ، اگر بوجوہ تحریک عوامی مقبولیت کھو دیتی ہے یا تحریک کی عوامی پذیرائی میں کمی آتی ہے تو بہت حد تک ممکن ہے کہ تحریک کی عسکری سپاہ خود کو جارح و قابض افواج کی نظروں سے نہ چھپا پائیں ، جو کہ تباہی اور تحریک کی یقینی ناکامی پر منتج ہو سکتا ہے -عوامی حمایت بہت واضح بھی ہو سکتی ہے اور اگر قابض افواج کی جارحیت و بر بریت وحشیانہ ہو تو تحریک  کے لئے عوام کی خاموشی  اور غیر جانبداری بھی حمایت ہی تصور کی جاتی ہے –
یہی عوامی مقبولیت ہی در اصل تحریک کو ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے کی بنیادیں فراہم کرتی ہے کوئی بھی تحریک سیاسی بازو کے بغیر لولی لنگڑی تصور کی جاتی ہے -( اور لولے لنگڑوں پر  ترس تو کھایا جا سکتا ہے لیکن قوموں کی تقدیر کے فیصلوں کا اختیار انھیں نہیں دیا جا سکتا )-سیاسی بازو سے محرومی کا مطلب ہے تحریک کا  سراغرسانی جیسے  جنگ کے انتہائی اہم پہلو سے محروم ہو جانا ،جس کا مطلب ہے  نہ صرف دشمن کی چالوں سے بے خبری بلکہ موثر حکمت عملی سے بھی محروم ہونا – اس پر طرہ یہ کہ جو سیاسی ڈھانچہ تحریک کے لیۓ افرادی قوت کا بندوبست کرنے کے حوالے سے اہم ہوتی ہے اس کے بغیر تحریک بجاۓ پھیلنے کے مزید سکڑ جاتی ہے -تحریک کو مادی وسائل کے بارے میں بھی بلکل اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے – یعنی مضبوط و مربوط سیاسی ڈھانچے کے بغیر تحریک جنگجووں کے ایک جتھے سے زیادہ اہمیت اختیار ہی نہیں کر سکتی ، اور کسی بھی منظم قابض طاقت کے لیۓ چند جنگجوؤں کو کچلنا چنداں پریشانی کا سبب نہیں ہو سکتا –
ایک طرف تو ثابت ہوتا ہے کہ انقلابی تحریکوں کی طاقت کا اصل منبع عوام ہی ہیں ، جبکہ دوسری طرف قابض افواج  کو بھی اپنے اقتدار ا علی  کو قائم رکھنے اور ایک طاقتور تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کے لیۓ اسی عوامی طاقت سے رجوع کرنا پڑتا ہے – چونکہ مد مقابل تحریک آزادی کو مادی ، طبّی ، عسکری اور افرادی وسائل کا سرچشمہ یہی عوام ہی ہیں لہذا قابض افواج  لالچ ،دھونس ، دھمکی غرضیکہ ہر طریقہ آزمائیں گے تا کہ عوام کو نہ صرف عسکریت پسندوں کی مدد کرنے  سے باز رکھا جاۓ بلکہ انہیں تحریک کے خلاف مبینہ طور پر استعمال بھی کیا جا سکے – قابضین کے لیۓ عوام کا سب سے بہترین ا ستعمال تحریک کے خلاف سراغرسانی کی صورت میں کیا جاتا ہے –
طویل المدت اقتدار اور طاقتور مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیۓ عوامی حمایت کا حصول قابض افواج کے لیۓ بھی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے –
غرضیکہ روایتی  جنگوں میں طاقت کے مختلف مراکز کے برعکس انقلابی جدو جہد آزادی میں مد مقابل افواج کی حقیقی طاقت کا مرکز ایک یعنی عوام ہی ہوتے ہیں –
روایتی جنگوں میں جانبین کی کوشش ہوتی ہے کہ مخالف کے طاقت کے مرکز کو تباہی سے دو چار کیا جاۓ اور اپنے مرکز کی حفاظت کی جاۓ ، لیکن موجودہ صورت حال میں طاقت کے مراکز کی غیر مرئی اور نا قابل تفریق تصور سے طرفین کو مروجہ جنگی حکمت عملی بجاۓ کوئی فائدہ پہنچانے کے نقصان پہنچاتی ہے -اور یہی صورت حال  تحریک کی قیادت کو غداروں کا تعین کرنے ، اور ان کے لیۓ سزائیں تجویز کرنے میں بے حد احتیاط کا  متقاضی ہوتا ہے -ذرا سی کوتاہی خدا نخواستہ کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے

عسکریت پسند میدان جنگ میں ہار کر بھی اصل معرکہ نہیں ہارتا

انقلابی تحریکوں کی ایک دوسری امتیازی وصف شاید یہ بھی ہے کہ وہ معرکہ ہار کر بھی شکست کی ہزیمت نہیں اٹھاتے – تحریک آزادی کی عسکری قیادت اپنی محدود افرادی قوت کے سبب کسی بھی ایسی لڑائی سے گریز کرتی ہے جو کسی فیصلہ کن  شکست کا سبب بن سکے – گوریلا حکمت عملی کی وجہ سے بیک وقت کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے محاذ تحریک کو ایک شکست کے بدلے کئی جیت کا تفاخر عطا کرتے ہیں . جب کہ اس کے برعکس قابض افواج کا بھاری بھرکم وجود  ، بھاری و خطرناک اسلحہ ، تمام ضروری تربیت سے لیس سپاہ اور ان کے مقابلے میں مٹھی بھر نو جوانوں سے شکست  کو عسکری میدان کا بد نما داغ بنا دیتی ہیں  یوں عوامی حمایت یافتہ تحریک آزادی اپنے حریفوں کے مقابلے میں اخلاقی فتوحات سے سرشار نۓ معرکوں کی تیاری میں مصروف ہوتی ہے ، جب کہ دشمن زخم چاٹتا ، اپنے سپاہ کی نفسیاتی تربیت کر رہا ہوتا ہے -گوریلا قوت کی موجودگی ، اور اس کی بقا ہی دراصل قابضین کی شکست ہوتی ہے

وقت کا تباہ کن ہتھیار

روایتی جنگوں میں فریقین کی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم وقت میں فیصلہ کن فتح حاصل کیا جاۓ ، لیکن اس کے بلکل بر عکس  چھاپہ مار جنگ میں عسکریت پسند  جنگ  کو انتہائی طویل اور صبر آزما بنا دیتے ہیں ، ان کے پاس دوسری عسکری لوازمات میں کمی کے برعکس وقت وافر سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے – چھاپہ ماروں کو فتح سے کہیں زیادہ حریف کی شکست سے دلچسپی ہوتی ہے اور کبھی کبھار تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ مد مقابل کی سسکتی ہوئی صورت حال سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں –  چونکہ قابضین کی با قاعدہ افواج کی تربیت بے بنیاد جذباتیت پر ہوتی ہے ، ان کے سر پر بر تری کا بھوت سوار ہوتا ہے ، وہ اپنی فتح میں چند لمحوں کی تاخیر بھی برداشت کرنے کے قائل نہیں ہوتے سو بے مقصد انتظار سے اکتاہٹ کا شکار ہو کر اپنی شکست کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں

رسد کی الٹی گنگا

روایتی جنگوں میں ہمیشہ طرفین کو رسد ان کی پشت پر موجود رسد کے مراکز سے حاصل ہوتی  ہے ، ان کے لیۓ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رسد کے ذرا یع اور راستوں کی حفاظت  بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے . لیکن اس کے برعکس تحریک آزادی کے چھاپہ ماروں کو رسد میدان جنگ میں موجود ان کے ہمدردوں سے ہی حاصل ہوتی ہے – ایک طرف تو وہ رسد کے  ذرا یع اور اس کی حفاظت سے بے فکر ہو جاتے ہیں تو دوسری طرف مد مقابل کے رسد کو کاٹ کر اس کے لیۓ میدان میں بقا کا سوال کھڑا کر لیتے ہیں . چونکہ چھاپہ ماروں کی رسد بہت پہلے ہی ان کے منتخب کردہ نشانے کے آس پاس پہنچ چکی ہوتی ہے لہذا قابض افواج کے لیۓ اس عسکری ساز و سامان کو استعمال کرنے سے قبل تباہ کرنا تقریباً نا ممکن بن جاتا ہے –
سواۓ چند ایک مخصوص صورتوں کے جہاں چھاپہ مار بیرونی رسد وصول کر رہے ہوں قابض افواج کی فضائی صلاحیت بھی ناکام ہو جاتی ہے

( اہل زبان نہ ہونے  اور اردو ٹائپنگ سے کم واقفیت کی بنا پر زبان و بیان اور پروف کی غلطیوں پر معذرت )

Advertisements