Let we struggle our way

Posts Tagged ‘genocide in balochistan’

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

Pakistan FC Kills 2 BSO – Azad Activists, Arrests 30, and Burns Homes in Khuzdar

In Baloch genocide, BSO-AZAD, FC on February 19, 2011 at 11:54 pm

Occupied Balochistan: The Pakistani Frontier Corps (FC) killed two activists of the Baloch Students Organization (BSO-Azad), arrested more than two dozen of innocent civilians and burned several homes in a massive search operation in Totak locality of Khuzdar district on Friday. According to the details, the FC unleashed the operation in the early hours of Friday, killing two people Yahya Baloch and Mohammad Naeem Baloch. They were both reportedly close relatives of Sardar Ali Mohammad Qalandarani, a tribal influential figure. BSO-Azad spokesman Salam Sabir said that the slain youth were members of the Baloch Students Organization (Azad). Local sources said that the FC had cordoned off the entire area early on Friday morning and disconnected all forms of telecommunication contacts in the area. As a result of the firing initiated by the FC, several people were injured as well. The operation continued until 4:00 p.m. “The forces also whisked away around thirty people with them, “confirmed a local residence,” those who were detained and taken away included three sons of Ali Mohammad Qalandarani.” The arrested men have been named as: Aftaf, Wasim, Mir Atiq, Khaleel, Mir hussain ahmed, Ubaid ullah, Niaz Ahmed, Maqsod, Khan jan, Masood, Lawang khan, Haroon Rasheed, Siraaj, Mula Hussain, Adaam, Ayub, Abdullah, Waheed, Mujeeb, Anees, Nasib, Ahmed khan, Abdul Rasool,Rashid mengal, Ata Usamad, Zia ulah, Faizullah, Yasir, Manzurullah, Kadir Buksh , Zubair, Shoaib, Aziz Ahmed, Shafi, Naseer. The dead bodies of the victims were taken to the hospital after the completion of the operation. Eyewitnesses said hundreds of security personnel riding on around sixty vehicles participated in the operation which mainly targeted the Balochs hailing from Qalandarani tribe. “Naib Tasildhar Baghbana Mohammad Azam Bajowi took the dead bodies to the hospital along with Levies personnel,” said a local journalist,” Dr. Somar Khan who attended the bodies refused to talk with Media regarding the twin killing. “The doctor even misbehaved with journalists and threatened to not cover the incident otherwise he will call the forces”. Journalists in Khuzdar have strongly condemned the behaviour of the doctor and asked the health department officials to take action against him for misbehaving with the journalists on duty. The reporters’ community in Khuzdar has warned to launch a province-wide protest against the doctor with the help of journalists from other parts of Balochistan. They demanded his immediate transfer. Sources said the security forces had also burnt scores of homes belonging to the local Baloch population in order to scare the people living in the area. The area remained cordoned off for many hours while all forms of communication with the township were suspended as forces continued their activities. The operation in Thotak has been widely condemned by the Baloch Students Organization, Baloch National Voice (BNV), Baloch Republican Party (BRP) and Baloch National Front (BNF). Open in new windowBaloch Student Organization (BSO-Azad) held protest demonstrations in Quetta, Naushki and Pasni condemning the killings of its activists. They accused the Pakistani security forces of carrying out massive operation in Baloch populated area. “The security personnel had violated the sanctity of homes and even misbehaved with Baloch women and elders during the search operation in Tutak area,” protestors alleged. BSO spokesman said that 30 members of his organization had been arrested and many were injured during the search operation. “The forces set six houses on fire,” they charged. Activists of BSO Azad also protested in Karachi, the largest joint city of Sind and Balochistan with a sizable Baloch population, to vent their anger against the use of brute force against the civilians by the security forces. Akbar Hussian during the Home Secretary of Balochistan has out an operation in Khuzdar by saying that the FC had been attacked by the local residents and it had only defended itself in the exchange of fire which killed two people. (Courtesy: Daily Tawar, The Balochhal and Daily Balochistanexpress)

Pakistan continues abductions, kill and dump policy of Baloch student and political activists

In abductions, Baloch genocide, Baloch Martyers, Disappearences, FC on February 11, 2011 at 10:05 am

Two bullet-riddled bodies found near Turbat, three missing person found in severely injured condition, BRP member attack and wounded in Mashky, a resident of Pasi town of Balochistan has been abducted from Hub town.

Occupied Balochistan: Pakistan’s spy agencies tortured to death another two Baloch missing persons whose bodies were found from the Herrnok area, around 40 kilometres away from Turbat city, on Thursday morning. The incident triggered violence in Awaran, Mashkey and Turbat where two government offices and a Balochistan Rural Support Programme (BRSP) office were set on fire.

According to sources, a passer-by spotted the bodies and informed the Turbat Levies Thana. Levies official rushed to the spot and took the bodies to the Civil Hospital Turbat, where they were identified as comrade Abdul Qayyum, leader of the Baloch Student Organization (BSO-Azad) in Gwadar, and Jamil Yaqoob, a member of the Turbat zone of Balochistan National Party (BNP -Mengal). Hospital sources said comrade Qayyum received five bullets in his upper torso while Jamil Ahmed received three bullet wounds.

Family sources said Qayyum was taken from his residence in Gwadar on December 11. “Security personnel had arrested Qayyum and killed him during his illegal detention,” they said, adding that the case was also registered against FC personnel in the Gwadar Police Station.

Meanwhile sagaar publications, BSO-Azad’s official website, reported that the Organisation’s CC member Comerade Qayum Baloch was abducted on December 11, 2010 by Pakistan army from his house in Gawader and he was kept in segregation for 61 days. During the two months his whereabouts remained unknown to the BSO-Azad and his family members neither did he had any access to a legal representation. His brutally tortured and riddled with bullets body was found on Thursday Morning (10/02/2011) in herronk area near Turbat. “Marks of horrific torture on body of Qayum Baloch prove that during his detention period he had been subjected to severe torture and inhuman treatment”, sagaar reports read.

Qayum Baloch was one of the most politically conscience and active member of BSO-azad in Gwader area. Apart from being politically active Mr Baloch was also an active social worker and an advocate of human rights, a friend to almost every resident in his home city, Gawader.

Apart from this murder, another body was found in Heronk, which was identified as Jameel Yaqoob Baloch, who was abducted by Pakistan on 28th of August 2010, from Turbat. Jameel Yaqoob Baloch was a labor, working on wages to help his family. His body was severely tortured as Qayum Baloch’s was.

The statement published on the official website of BSO-azad further read that “Qayum Baloch’s murder certainly raises serious questions on the willingness or ability of the international peace rights campaigners to bring an end to the Human Rights abuses in Balochistan. Baloch Student Organization (Azad) believes that each of its activist, along with the support of the Baloch masses would continue the struggle of Kamber Chaker, Qayum Baloch, Sohrab Marri Baloch, Sami Baloch, Bebagr Baloch, Zahoor Baloch, Abid Rasool Baloch, Asim Kareem Baloch, young Majeed Baloch, Sikander Baloch, Junaid Baloch, Ilyas Nazar Baloch and all other prestigious names who have sacrificed their lives for liberation of their motherland and for creating a society based on justice and equality.

Three missing persons found in severely injured condition: Three Baloch disappeared person have been found in a critically wounded condition on National high at Jeewa Cross between Tuesday and Wednesday night. The victims hands were tied behind and they were blind folded. Levis staff has brought them to Suraab Police station.

The three badly injured youth have been identified as Sohrab Khan S/O Mir Jan Samali of Nemurgh region of Kalat town who has been abducted from Hub Chowki about one month ago, Shahzad Nadeem S/O Khan Mohammad Essazai as resident of Besima who had been abducted from a Hotel in Quetta along with Balochi folk singer Ali Jan Essazai Baloch in second week of January. The third victim has been named as Wali Mohammad S/O Mohammad Ismael Miragi a resident of Saarona area of Khuzdar. He was also abducted from Hub industrial town of Balochistan about one month ago.

On one their alive recovery send waves of happiness to their families whereas on the other hand all three youth are stated to be in critical condition. It must be mentioned here that last monthMr.Nasir Dagarzai was also found in a severely injured condition. According online Radio Gwank Balochistan, Nasir Baloch had been shot in the neck and legs but he survived miraculously. However, he had later succumbed to his injuries due to constant bleeding.

BRP member attacked in Mashky: unknown armed men open fire at a member of BRP (Baloch Republican Party), Liaqat Baloch here on Wednesday on his way back from Gujar Bazaar. The masked man fired live rounds at the BRP leader; Mr Baloch was immediately taken to Mashky’s Gujar Hospital where according doctor his condition is critical but stable.

Resident of Pasni abducted from Hub: Mr Abid Bashir Baloch a resident of Pasi town of Balochistan has been abducted by Pakistani security forces from Hub town. According to detail Mr Abid along with a cousin was travelling by his own car from Karachi to Pasi on Thursday night. When they arrived at Baba-e-Balochistan roundabout in Hub industrial town of Balochistan their car was stopped by personnel of security forces.

The forces after checking the IDs of both men have dragged Mr Abid out of his car and put him into another vehicle already parked alongside the road. They, however, allowed his cousin Mr Dad Baksh to continue his journey. The family of detained Baloch youth have register a case against his abduction at Hub police station.

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

In abductions, baloch, Current Political, FC, isi, mi on January 12, 2011 at 11:19 pm

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

تحریر نواز بگٹی

اطلاع آئ ہے کہ بلوچستان کے دو معروف گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ کے ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا – فن و ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو چیزیں فطرت نے ابتداء ہی سے انسان کو تحفے میں دی ہیں – انسان پیدائشی طور پر بولنے اور رابطہ رکھنے کی صلاحیتوں کا مالک ہے – انسان اپنے ابتدائی دنوں سے ہی آواز اور تصویری ذرائع کو باہمی رابطے کے اوزاروں کی حیثیت سے بخوبی استعمال کرتا آیا ہے – شعر و شاعری کا استعمال  اپنے ماحول کی بھر پور  عکاسی اور  معاشرے کی ان سنی آواز کی نمائندگی کے حوالے سے فنون لطیفہ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں – کہتے ہیں کہ اچھا شاعر وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہو

شاعری کو عوامی زبان اور مقبولیت ہمیشہ گلوکاری کے صنف نے دی- یعنی اگر شاعر معاشرے کی آواز ہے تو  گلوکار شاعر کی زبان- قومی احساسات اور شعور کو اجاگر کرنے میں سب سے اہم کردار  شاعری اور گلوکاری نے ادا کیا- اور فن کو ثقافت کا درجہ ہمیشہ فن کے معاشرے میں رچ بس جانے کے بعد حاصل ہوتا ہے – جب ہم  فن و ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسا فن ہوتا ہے جو مکمل طور معاشرے کے دوسرے اجزاء میں تحلیل ہو کر روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاۓ
اگر قوم اپنے جہد آزادی کے ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شاعر معاشرے کے ان احساسات کی عکاسی میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو – اور ایک ایماندار شاعر کو نظر انداز کرنا کسی بھی گلوکار کے بس کی بات نہیں – ایسے میں قابض قوتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی طرح معاشرے کے ان اجتماعی آوازوں کو خاموش کروا دیا جاۓ
بلوچ گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کا اغوا بھی انہی غاصبانہ حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے – لیکن تاریخ سے بے بہرہ ، سماجی سائنس سے نا بلد ، طاقت کے نشے میں چور ان ریاستی افواج کو نہیں معلوم کہ تنگ و تاریک کوٹھریوں سے گونجنے والی آوازیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیں – دو معصوم گلوکاروں کو اغوا کرنے ، انھیں انسانیت سوز مظالم کا شکار بنانے سے ایک قوم کی آواز دبے گی تو کیا بلکہ مزید اونچی ہو کر ان کے ایوانوں کو زمین بوس کر دے گی
ہم مغوی علی جان اور شہزاد ندیم کی با سلامت واپسی کی دعا ہی کر سکتے ہیں

 

نوٹ ( ١٧ جنوری ٢٠١١) :  بلوچ قوم کی دعاؤں میں بھی شاید کوئی اثر نہیں رہی ، متذکرہ بالا بلوچ گلوکاروں کی مسخ شدہ لاشیں بسیمہ ( بلوچستان ) کے پاس مل گئی ہیں

 

٧-٨-٩ جنوری کو تین روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال

In Strike call on January 7, 2011 at 3:40 pm

ظالم کو نہ روکے ،وہ  شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے ، وہ قاتل کے ساتھ ہے

٧-٨-٩ جنوری کو تین روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال

بلوچستان پر اپنی قبضہ گیریت کو دوام دینے کے لئے پاکستان سامراج نے تسلسل کے ساتھ معصوم و بے گناہ اور خالی ہاتھ بلوچ سیاسی کارکنوں کے اغوا اور قتل کا انسانیت سوز عمل شروع کیا ہے- اور اب ہزاروں بلوچ نوجوان و بزرگ فورسز کے ہاتھوں اغوا ہوے ہیں ، اور سینکڑوں نوجوان پاکستانی اذیت خانوں میں قتل کیے جا چکے ہیں اور بلخصوص گزشتہ روز دو معصوم طالبعلموں قمبر چاکر ، اور الیاس نذر کو اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر پاکستانی فورسز نے قتل کر دیا –
لہذا بلوچ نیشنل فرنٹ – بی-این-ایف-  تمام انسان دوست ، قوم دوست ، سیاسی پارٹیوں ، تنظیموں ، تاجر برادری ، ٹرانسپورٹروں ، علماء کرام  ، اور اساتذہ کرام سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ وہ معصوم اور بیگناہ بلوچ نوجوانوں کے پاکستانی فورسز کے قتل عام کے خلاف

٧-٨-٩ جنوری کو تین روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال
کو کامیاب بنا نے میں اپنی انسانی ، مسلمانی ، اور قومی فرض کو ادا کریں ، اور بلوچستان میں ہونے والے پاکستانی سامراج کے ظلم و ستم کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کریں –

منجانب : بلوچ نیشنل فرنٹ ، بی-این-ایف

Higher the awareness of oppression, highest the atrocities of oppressor. (By Nawaz Bugti)

In Baloch genocide on December 27, 2010 at 2:36 am

Higher the awareness of oppression, highest the atrocities of oppressor.

As the masses get more aware of their right of liberation, so the ruling state atrocities get more brutal than ever. All the immoral, and inhuman, but effective tactics of ethnic cleansing are applied on a very large scale. Custodial killings, abduction, rape and managed shoot outs are used as proven instruments of deprivation. To carry out crime of genocide silently a be-very-afraid approach is followed and Human Right activists, Students and Journalists are systematically targeted.

To justify the worst fifth columnists are raised and all the available resources are utilized at optimum level including press and media as propagation tools, to distract the international community of real issue. Criminals of the society are sorted and financed as the helping hands.

Pakistan’s military lead fifth largest operation in Balochistan is equipped with all such instruments. Particularly its decision to arrest and interrogate any suspect and torture them till death is the worst in Baloch history. Almost 80 mutilated bodies have been found in past two months and the practice is continuing till date. While drafting these lines a TV ticker is alarming about four mutilated bodies found in Quetta.

Military action with its idea of political face is eye opening for all those who believe in parliamentary solution of Baloch oppression.

Ruling Pakistan People’s Party took three years complaining the inherited problems of Balochistan .In fact they did never try to oversee the intelligence agencies and key policy decisions of military in Balochistan. One has right to say that PPP assured to take credit of a conqueror by supporting the military action through its interior minister Mr.Rehman Malik.

Awami National Party a coalition partner of PPP in center facilitated and accepted Butcher of Balochs Mr. Awais Ahmed as Governor of Khyber Pakhtoonkhwa.

Mutahida Qomi Movement of Mr. Altaf Hussain, another coalition partner of PPP in Sindh and Center got exclusive ranking enjoying Musharaf regime as same.

Pakistan Muslim League (N) can be treated a little different from others as its status of being largest political party of Punjab. PML (N) is ruling Punjab and hypocritically managing the role of opposition in Center. Their leader Mr.Nawaz Shareef is waiting for the day when he will enjoy the absolute authority in Pakistan than he may help Balochs (stated in one of his recent talk with local media).  The silence of all the mainstream political parties of the state proves their approval and acceptance of massacre. Though a few politicians show their concerns through poor press notes, but all this practice is just an exercise.

All they really forget the fact when one cannot coup with the fear he starts enjoying it, same is the case with Baloch Nation now. This fear factor is turned in to their strength, current rise in the street combats of Quetta can be quoted as the examples of their newly gained strength. History witnessed the protest of Baloch women for the first time during this freedom movement. Freedom fighters are getting stronger by every brutal act of the State. On one side is a Balochs commitment with his national cause while on other hand a bunch of greedy paid mercenaries. Baloch got a natural moral edge in the war.

The main stream Nationalists and the influential Tribal Chieftains should be helping their people to secure generations, not serving their masters to be kept the “Mir Jaffar of Bangal” in Baloch history.

The silence of international community and Human Rights organizations is extremely regrettable. International justice system does not allow any detention without framing a charge in any case. Custodial killing and state managed rapes are never accepted by any community. A serious check should be imposed on utilization of International aid for war against terror which is feared being used for terror against Balochs instead. Regional powers are required to take Balochs onboard concerning any strategic decisions.