Let we struggle our way

Posts Tagged ‘ethnic cleansing in Balochistan’

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

ایک اور سانحہ – الیاس نذر شہداء کے قافلوں سے جا ملے

In Baloch Martyers on January 6, 2011 at 2:55 am

ایک اور سانحہ – الیاس نذر شہداء کے قافلوں سے جا ملے

تحریر نواز بگٹی

ابھی سوئی میں پنجابی فوجی سربراہ کے نا پاک قدموں کے نشان مٹ نہیں پاۓتھے کہ بلوچ قوم کے لئے تربت سے ایک لرزہ خیز خبرجوانسال بلوچ طالبعلم  الیاس نذر بلوچ کے شہادت کی موصول ہوئی-
الیاس نذر بلوچ کو ٢١ دسمبر ٢٠١٠ کو کوئٹہ سے تربت جاتے ہوے راستے میں قابض افواج نے اغوا کر لیا تھا – الیاس نذر شہید کہ جسے شہید لکھتے ہوے ہاتھ تک کانپ جاتے ہیں ، جامعہ بلوچستان کے ہونہار طلباء میں شمار ہوتے تھے ، وہ بچوں کے لئے شایع ہونے والے  ایک بلوچی رسالے کے مدیر بھی تھے –  انکا قصور تو شاید انکے قاتلوں کو بھی معلوم نہیں ، شاید کہ تعلیم نے اس کے سر کو آقاؤں کی درگاہ پر سجدہ ریز ہونے کے قابل نہیں چھوڑا تھا- کل کو یہ اکڑی گردن شاید پنجابی استعمار کو کھل کر چیلنج کرتی ، صرف یہی اس کا جرم تھا – شاید وہ  پنجابی استعمار کے پالتو احسان شاہ نامی درندے کے دروازے پر ماتھا ٹیکنے کا روادار نہیں تھا-   بلوچ حلقوں میں شروع دن سے اغوا شدہ بلوچوں کی زندگیوں کے بارے میں تشویش پائی جاتی تھی ، اور پنجابی وحشیوں سے کسی بھی انسانی روش کا توقع نہیں تھا – اور یہ خبر ہم سب پر بجلی بن کر گری – لیکن استعماری طاقتوں کو اندازہ نہیں کہ قلم تھامنے والی انگلیاں جب بندوق کے گھوڑے پر دھری جاتی ہیں تو تاریخ ہمیشہ ارنستو چہ گویرا کو جنم دیتی ہے-
میں سوئی میں ملٹری کالج کے آڑ میں فوجی اڈے کے افتتاح  کے موقع پر پنجابی افواج کی فروغ تعلیم کی کوششوں اور علم دوستی کی شان میں قصیدہ خواں امرا و وزراء کے لاؤ لشکر،گورنر ، وزیر اعلیٰ، اور نام نہاد وڈیروں کو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ان میں اگر ذرا بھی غیرت ، تھوڑی سی بھی حمیت ، بلوچ ماؤں کے پاک دودھ کا ذرا بھی اثر ہے تو جامعہ بلوچستان کے ہونہار شاگرد الیاس نذر بلوچ کی والدہ ماجدہ سے جا کر معافی مانگیں ، اس کے پاؤں پکڑیں اور گڑگڑائیں کیونکہ اس کے لال کو کسی اور نے  نہیں انہی کے مربی افواج نے اغوا کر کے بیدردی سے قتل کر دیا ، اور ویرانے میں بے گور و کفن پھینک کر فرار ہو گۓ – ورنہ بلوچ قوم اپنے قومی مجرموں کا جہنم کی گہرائیوں تک پیچھا کرے گی –
میں یہ کہتے ہوے ایک لمحے کو بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوتا کہ تم سب مردود بے گور و کفن مر جاؤ گے اور الیاس ایسے سپوت قوم کی یادواشتون میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جیتے رہیں گے –

Disappearances With Reported Ties to Pakistan Worry U.S. (Curticy NY Times)

In Baloch genocide, Disappearences, NY Times on December 30, 2010 at 5:38 pm

WASHINGTON — The Obama administration is expressing alarm over reports that thousands of political separatists and captured Taliban insurgents have disappeared into the hands of Pakistan’s police and security forces, and that some may have been tortured or killed. The issue came up in a State Department report to Congress last month that urged Pakistan to address this and other human rights abuses. It threatens to become the latest source of friction in the often tense relationship between the wartime allies. The concern is over a steady stream of accounts from human rights groups that Pakistan’s security services have rounded up thousands of people over the past decade, mainly in Baluchistan, a vast and restive province far from the fight with the Taliban, and are holding them incommunicado without charges. Some American officials think that the Pakistanis have used the pretext of war to imprison members of the Baluch nationalist opposition that has fought for generations to separate from Pakistan. Some of the so-called disappeared are guerrillas; others are civilians. “Hundreds of cases are pending in the courts and remain unresolved,” said the Congressionally mandated report that the State Department sent to Capitol Hill on Nov. 23. A Congressional official provided a copy of the eight-page, unclassified document to The New York Times. Separately, the report also described concerns that the Pakistani military had killed unarmed members of the Taliban, rather than put them on trial. Two months ago, the United States took the unusual step of refusing to train or equip about a half-dozen Pakistani Army units that are believed to have killed unarmed prisoners and civilians during recent offensives against the Taliban. The most recent State Department report contains some of the administration’s most pointed language about accusations of such so-called extrajudicial killings. “The Pakistani government has made limited progress in advancing human rights and continues to face human rights challenges,” the State Department report concluded. “There continue to be gross violations of human rights by Pakistani security forces.” The Obama administration has largely sought to confront Pakistan in private with evidence of human rights abuses by its intelligence and security forces, fearing that a public scolding could imperil the country’s cooperation in combating Al Qaeda, the Taliban and other extremist groups. After the Sept. 11 attacks, the administration of President George W. Bush urged Pakistan to capture militants and Islamic extremists linked to the Taliban and Al Qaeda. Since then, human rights groups have said that Pakistan’s security forces used that campaign as a cover to round up hundreds, if not thousands, of political activists and guerrilla fighters in Baluchistan and hold them in secret detention. Precise numbers of disappearances are difficult to pin down, human rights advocates say, partly because family members fear that reporting missing relatives could endanger the relatives or even themselves. “It is very difficult to put numbers on disappearances as they are accompanied by intimidation of the next of kin of the disappeared,” said Ali Dayan Hasan, a senior researcher for Human Rights Watch in Lahore, Pakistan. “People are unable to speak publicly. But we can safely say that disappearances are the order of the day across Pakistan, particularly in relation with counterterrorism.” In Islamabad on Wednesday, the interior minister, Rehman Malik, addressed the security issue in Baluchistan without mentioning the disappearances. “We are trying to ensure law and order in Baluchistan,” he told lawmakers in the National Assembly. “I will assure that we will do everything to improve the situation.” In August 2009, he acknowledged that 1,291 people were missing in the country. Husain Haqqani, Pakistan’s ambassador to Washington, said in an e-mail on Wednesday that “the courts and the government are investigating cases of disappearances with a view to establishing the whereabouts of the disappeared persons and the circumstances under which the alleged disappearances took place.” Under pressure from Pakistan’s Supreme Court, which has held hearings on petitions filed by family members of missing Baluch men, as well as public rallies in supported of the disappeared, the government of President Asif Ali Zardari has been forced to respond to the outcry. A judicial commission established to investigate the disappearances is scheduled to present its report to the Supreme Court on Friday. Pakistani intelligence officials say that human rights groups have exaggerated the number of people held incommunicado. The officials seemed to justify the extrajudicial detentions by citing the country’s weak judicial system and often poor police investigations that they say have led to dozens of terrorism suspects’ being acquitted by local courts. American officials have dismissed these claims for years. “ ‘Disappeared’ Pakistanis — innocent and guilty alike — have fallen into a legal black hole,” the United States Embassy in Islamabad said in a cable, dated Feb. 8, 2007, that was obtained by WikiLeaks and made available to some news organizations, including The New York Times. American officials are expanding programs to build up the judicial system in Pakistan. Officials also offer human-rights training to police officers and finance programs to reduce the backlogs of court cases that prevent family members of those who disappear from seeking relief through the Pakistani judicial system. “This issue has been a persistent challenge for Pakistan,” said a senior American official who deals with South Asia and who spoke on condition of anonymity because of the delicacy of the matter. “We’re trying to help Pakistan build democratic institutions so they can be a more effective partner.” But American officials concede that the programs may take years to produce enduring results. The State Department’s most recent report on human rights in Pakistan, issued in March, said that during 2009 “politically motivated disappearances continued, and police and security forces held prisoners incommunicado and refused to disclose their location.” That report, citing a Pakistani human rights group, said that in August 2009, Pakistani Frontier Corps paramilitary troops arrested two members of the Baluchistan National Party in Khuzdar, Pakistan. Two days later, the men were turned over to the police. “Both men showed evidence of having been tortured,” the report said. “Authorities reportedly forced them to make false confessions before their release.” Salman Masood contributed reporting from Islamabad, Pakistan.

Higher the awareness of oppression, highest the atrocities of oppressor. (By Nawaz Bugti)

In Baloch genocide on December 27, 2010 at 2:36 am

Higher the awareness of oppression, highest the atrocities of oppressor.

As the masses get more aware of their right of liberation, so the ruling state atrocities get more brutal than ever. All the immoral, and inhuman, but effective tactics of ethnic cleansing are applied on a very large scale. Custodial killings, abduction, rape and managed shoot outs are used as proven instruments of deprivation. To carry out crime of genocide silently a be-very-afraid approach is followed and Human Right activists, Students and Journalists are systematically targeted.

To justify the worst fifth columnists are raised and all the available resources are utilized at optimum level including press and media as propagation tools, to distract the international community of real issue. Criminals of the society are sorted and financed as the helping hands.

Pakistan’s military lead fifth largest operation in Balochistan is equipped with all such instruments. Particularly its decision to arrest and interrogate any suspect and torture them till death is the worst in Baloch history. Almost 80 mutilated bodies have been found in past two months and the practice is continuing till date. While drafting these lines a TV ticker is alarming about four mutilated bodies found in Quetta.

Military action with its idea of political face is eye opening for all those who believe in parliamentary solution of Baloch oppression.

Ruling Pakistan People’s Party took three years complaining the inherited problems of Balochistan .In fact they did never try to oversee the intelligence agencies and key policy decisions of military in Balochistan. One has right to say that PPP assured to take credit of a conqueror by supporting the military action through its interior minister Mr.Rehman Malik.

Awami National Party a coalition partner of PPP in center facilitated and accepted Butcher of Balochs Mr. Awais Ahmed as Governor of Khyber Pakhtoonkhwa.

Mutahida Qomi Movement of Mr. Altaf Hussain, another coalition partner of PPP in Sindh and Center got exclusive ranking enjoying Musharaf regime as same.

Pakistan Muslim League (N) can be treated a little different from others as its status of being largest political party of Punjab. PML (N) is ruling Punjab and hypocritically managing the role of opposition in Center. Their leader Mr.Nawaz Shareef is waiting for the day when he will enjoy the absolute authority in Pakistan than he may help Balochs (stated in one of his recent talk with local media).  The silence of all the mainstream political parties of the state proves their approval and acceptance of massacre. Though a few politicians show their concerns through poor press notes, but all this practice is just an exercise.

All they really forget the fact when one cannot coup with the fear he starts enjoying it, same is the case with Baloch Nation now. This fear factor is turned in to their strength, current rise in the street combats of Quetta can be quoted as the examples of their newly gained strength. History witnessed the protest of Baloch women for the first time during this freedom movement. Freedom fighters are getting stronger by every brutal act of the State. On one side is a Balochs commitment with his national cause while on other hand a bunch of greedy paid mercenaries. Baloch got a natural moral edge in the war.

The main stream Nationalists and the influential Tribal Chieftains should be helping their people to secure generations, not serving their masters to be kept the “Mir Jaffar of Bangal” in Baloch history.

The silence of international community and Human Rights organizations is extremely regrettable. International justice system does not allow any detention without framing a charge in any case. Custodial killing and state managed rapes are never accepted by any community. A serious check should be imposed on utilization of International aid for war against terror which is feared being used for terror against Balochs instead. Regional powers are required to take Balochs onboard concerning any strategic decisions.