Let we struggle our way

Posts Tagged ‘conflict’

انقلابی تحریک براۓ قومی آزادی اور اس کے اجزا ترکیبی

In Baloch Freedom movement on January 1, 2011 at 2:34 am

انقلابی تحریک  براۓ  قومی  آزادی اور اس  کے  اجزا ترکیبی

 

تحقیق و ترتیب ، نواز بگٹی

 

آزاد منش انسانوں کی انقلابی تحاریک کو شدت پسندی کا نام دیا جاتا  ہے- اپنے جوہر میں یہ  تحریکیں اپنی مدد آپ کے نظریے کے تحت پھلتی پھولتی اور بار آور  ہوتی  ہیں- اپنی سرزمین پر انسان جب اپنے آپ کو محکوم و مفتوح سمجھنا شروع کر دے تو یہی اس انقلاب کا نقطہ آغاز ہوتا  ہے جسے جنگ آزادی کہا جاتا ہے-انسان جب آزادی کے جذبے سے سرشار کفن باندھ کرمیدان عمل میں اترتا ہے تو دنیا کی طاقتور استعماری قوتیں اپنے اور اپنی حواریوں کی مفادات کے تحفظ کی خاطر مد مقابل آتی ہیں. یوں بیرونی امداد کے بل بوتے پر جارح افواج کو اپنا قبضہ قائم رکہنے  کے لیے  نہ صرف مزید وقت مل جاتا ہے، بلکہ اس کی جارحانہ اقدامات میں مزید تیزی آ جاتی ہے .اپنا اقتدار ا علی   قائم رکہنے  کے لئے وہ نسل کشی جیسے انتہائی اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتا -( موجودہ پاکستان کی مثال ، یا پھر ماضی قریب میں یوگوسلاویہ) دوسری جانب آزادی کی تحریک کو بیرونی امداد اگرچہ مہمیز ضرور کرتی ہے لیکن یہ بیرونی امداد کی محتاج نہیں ہوتی – عام طور پر یہ امداد مادی وسائل کی فراہمی تک محدود ہوتی ہے اور بسا اوقات پر عزم انقلابی افردی قوت کو منظم کرنے  کے لئے با صلاحیت افراد بھی مہیا کیے جاتے ہیں ( جیسا کہ بولیویا میں ” ڈاکٹر چے ” کی آمد )  جو انقلابی قوت کو بہتر انداز میں منظم کر لیتی ہیں تا کہ انہیں جا رح طاقت کی بر بریت  کا مقابلہ کر نے  کے لئے مناسب طور پر تیار کیا جا سکے –  کسی بھی تحریک  میں درمیانے طبقے کی کلیدی  اہمیت ہوتی ہے -اس طبقے کی اکثریت اگرچہ فطری طور پر تحریک ہی سے وابستہ ہوتی ہے لیکن ایک قلیل تعداد  متاثر کن انفرادی مراعات کی لالچ میں اپنے آقاؤں کی تقلید میں سجدہ ریز ہوتی ہے (جیسے کہ بلوچستان میں نام نہاد پارلیمانی سیاست کے علمبردار ) ، اور یہ طبقہ قومی مفادات کو کمینگی کی حد تک نقصان پہنچاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہر تحریک نے ہمیشہ ان ناسوروں سے پہلے جان چھڑائی ہے

 

واضح اور غیر مبہم انقلابی نظریہ کی حامل  کسی بھی کامیاب تحریک کی اجزا  ترکیبی کچھ یوں ہوتی ہے

طویل المعیاد  منصوبہ / مستقل مزاجی

تحریک سے وابستہ سیاسی قوت کا بنیادی کردار

پر عزم و ہم آہنگ عسکری قوت

اور گوریلا انداز جنگ

 

طویل المعیاد  منصوبہ / مستقل مزاجی

 

ایک فاتح کو سرعت سے بے دخل کرنا کسی بھی تحریک کے لئے نہ صرف غیر معمولی  بلکہ اکثر نا ممکنات میں سے ہوتا ہے – وقت ، کو ہمیشہ دو دھاری تلوار  کی مانند استعمال کرنا چاہیے ، وہ  بھی کچھ اس انداز میں کہ دونوں دھار جا رح افواج کوکاٹیں – وقت کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ  ایک جانب تحریک کو جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا خاطر خواہ موقع ملتا ہے ، اور اپنی سیاسی و عسکری قوت کو بھی منتشر ہونے سے بچا لیتا ہے – تو دوسری طرف جتنی دیر تک مزاحمت جاری رہتی ہے قابض افواج کی حکومت کرنے اور تحریک آزادی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت دم توڑتی جاتی ہے. اور یوں تحریک  جلد کامیابی  کے منازل طے کرتی ہے

آزادی کے مشہور مفکر “ہو چی منہ ” وقت کے بارے میں رقمطراز ہیں ” وقت ہی حالت فتح ہے، کہ جس سے ہم دشمن کو شکست سے دو چار کرتے ہیں -وقت  فتح کے تینوں بنیادی اجزا میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ،   جغرافیہ اور عوامی اعانت کی باری بعد میں آتی ہے -صرف وقت ہی کے بل بوتے پر ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں

 

ماؤ زے تنگ ، جو کہ جدید مزا حمت میں ا علی مقام رکھتے ہیں ، وہ بھی طویل المدت مزاحمت کے قائل نظر آتے ہیں -ماؤ کی مشہور زمانہ اصول مزاحمت ،   ” پیچھے ہٹو ، جب وہ (دشمن ) آگے بڑھے- جب وہ رکے تو اسے خوفزدہ کرو – اس پر ہلہ بول دو جب وہ تھکا ماندہ ہو – اور اسکا پیچھا کرو جب وہ پیچھے ہٹے -”  آج بھی مشعل راہ سمجھی جاتی ہے

 

تحریک سے وابستہ سیاسی قوت کا بنیادی کردار

 

مزاحمتی تحریک کی عسکری قوت وقت کے ساتھ ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے جب کہ تحریک کا   مضبوط سیاسی ڈھانچہ  مستقل  بنیادوں پر قائم رہتا ہے – بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ سیاسی ڈھانچہ ، تحریک کی بقا ، نشو نما ، اور کامیابی کے مد میں  کم از کم  درج زیل  چھ (٦) بنیادی فرائض ادا کرتا ہے

 

معلومات جمع کرنا اورمتعلقہ افراد تک پہنچانا –

مالی و مادی امداد بہم پہنچانا-

افرادی قوت کا بندو بست کرنا-

تحریک کی سیاسی آثر پذیری-

عسکری قوت کو حسب ضرورت تخریبی سہولیات بہم پہنچانا –

متوازی حکومت کا قیام –

 

تحریک کی سیاسی و عسکری کامیابی میں  درست اور بروقت معلومات  بنیادی اہمیت کا حامل ہوتی ہیں – جارح افواج کی صفوں میں شامل کردہ اپنے وفادار ایجنٹوں کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کر کے نہ صرف دشمن کی چالوں کو نا کام بنایا جا سکتا ہے بلکہ شاطرانہ چالوں سے دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے – حتیٰ کہ وہ ہمدرد  جو کہ دشمن کی صفوں میں جگہ نہ پا سکے صرف دشمن افواج کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتے ہوے بروقت معلومات فراہم کر کے تحریک کے لئے انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں

ہمدردوں کی بڑی تعداد میں موجودگی سے عسکریت پسندوں کو اپنی روز مرہ ضروریات زندگی کے علاوہ طبی ضروریات کے بارے میں بھی نسبتاً کم پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے – اکثر ہمدردوں کی جانب سے کی جانے والی  رضاکارانہ مالی معاونت  عسکری تنظیم کے معاشی مسائل کو بھی کم کر دیتی ہے

اگر تحریک کی عوامی پذیرائی بڑھتی ہے تو اس سے جارح افواج کا کمزور ہونا فطری امر ہے -بڑھتی ہوئی عوامی پذیرائی گوریلا تنظیم کو افرادی قوت کی پریشانی سے بھی نجات دلاتی ہے ، یہی وجہ کہ جارحیت کا شکار گوریلا تنظیمیں نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں بلکہ پھل پھول رہی ہوتی ہیں-  عوام میں موجود ہمدردی کا یہ  عنصر غداروں کی بروقت نشاندہی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی تنظیم کا دست و بازو ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے غدار اپنے خوفناک انجام کو پہنچ کر دوسروں کے لئے عبرت کا سامان ہوتے ہیں

آخر کار آزادی پسند اپنی متوازی حکومت قائم کرنے میں  قامیاب ہو جاتے ہیں ، یوں تحریک ایک نۓ دور میں داخل ہو جاتی ہے -یہاں سیاسی و عسکری تنظیم کی ذمداریاں بڑھ جاتی ہیں – ایک طرف تو اپنے زیر اثر علاقوں میں لوگوں کو سماجی و سیاسی انصاف اور ان کے جان و مال کی حفاظت اس دور میں تحریک کی ذمداری بن جاتی ہے اور ذرا سی بے احتیاطی تحریک کے تمام کیئے کراۓ  پر پانی پھیر سکتی ہے –  دوسری طرف طاقتور جارح افواج کی جانب سے متوقع  شدید جارحیت  کا مقابلہ – متوازی حکومت کا دور اصل میں تحریک کے حقیقی امتحان کا دور ہوتا ہے

متوازی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے ہم خیال عالمی قوتوں کی نشاندہی کرے ، ان سے عسکری ، مالی و اخلاقی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے

اگر ہوشیاری اور احتیاط سے کم لیا جاتےتو یہ سیاسی   ڈھانچہ اپنے جوہر میں زرہ بندہوتا ہے – کسی بھی قابض قوت کے لئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ہوشیاری سے پروئ ہوئی گوریلا تنظیم کی لڑیوں کے خلاف مخبروں اور روایتی پولیس کی مدد سے خاطر خواہ کاروائی کر سکے -(جیسے کہ  تنظیم کی عسکری چھاپہ ماروں کا ایک  دوسرے کے بارے میں ممکنہ حد تک غیر متعلق ہونا یا ایک دوسرے کے بارے میں انتہائی کم معلومات / معلومات کا نہ  ہونا ).ایسے میں جارح اپنی با قاعدہ افواج کو میدان میں اتارنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، جارحیت کا بڑھتا ہوا استعمال ہمیشہ آزادی پسندوں کے حق میں ثابت ہوتا ہے

پر عزم و ہم آہنگ عسکری قوت

 

اس پر کوئی دو راۓ نہیں ہو سکتیں کہ ایک پر عزم عسکری قوت کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیابی سے ہمکنارنہیں ہو سکتی ہے – آزادی کے بنیادی اور رضاکارانہ حق کا تصور محض کتابی ہے کوئی بھی قابض رضاکارانہ طور پر مفتوحہ قوم کو اس کی آزادی نہیں لوٹاتا- ایک کامیاب تحریک کی بنیادی جز ہونے کے ناطے عسکری قیادت کا اپنے سیاسی قیادت سے ہم خیال ، مربوط اور  اکثر اس کے تا بیع ہونا ضروری ہوتا ہے

آزادی کی تحریک کے عسکری شاخ کے لئے یہ بلکل بھی ضروری نہیں کہ ہر عسکری معرکے میں کامیابی  ہی تحریک کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہو ، اس کے بلکل بر عکس جارح و قابض افواج کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اسے ہر معرکے میں کامیابی نصیب ہو وگرنہ افواج کی گرتی ہوئی ساکھ اس کے یقینی شکست میں بدل جاتی ہے.  اسی لیۓ اکثر تحریکوں کی قیادت اپنے سپاہ کی تحفظ  کو اولیت دیتے ہیں – گوریلا طرز جنگ “اپنی حفاظت اولین ترجیح ” ہی کے بنیادی اصول کی پیروی میں ہی کامیابی سے لڑی جا سکتی ہے

معروف  جرمن عسکری ماہر کلازوٹزشاید اس صورت حال کی بہتر توجیہ پیش کرتے ہیں ” جنگ — دار اصل سیاسی سرگرمیوں کے جاری رہنے کو کہتے ہیں – سیاسی سرگرمی لیکن کچھ اور طرح کی  ” – آزادی کی جنگ کے سیاسی و عسکری شاخوں کا مکمل ہم آہنگ و مربوط ہونے ہی میں دراصل کامیابی کا راز پنہاں ہے -ہم آہنگ سیاسی و عسکری قوتیں با ہم مل کر ہی معنی خیز جدو جہد کر سکتی ہیں

 

گوریلا انداز جنگ

 

چوتھا جز یعنی گوریلا طرز جنگ شاید آج تک کی تمام تحریکوں کا قدر مشترک ہی رہی ہے -ہمیشہ کمزور اقوام نے  طاقتور دشمن کے مقابلے میں   یہ تاریخی طریقہ استعمال کیا -جنگوں کے مروجہ زود فتح طریقوں کے بر عکس گوریلا اپنی جنگ کو کچھ اس انداز میں ڈیزائن کرتا ہے کے اسے اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کے مقابلے میں شکست کی ہزیمت سے دو چار ہونا نہ پڑے اگرچہ مروجہ جنگی طریقہ کار میں بڑے عساکر کو حرکت میں لانے کی ضرورت پڑتی ہے جب کہ گوریلا انفرادی سپاہ کے متحرک رکھنے اور نسبتاً انتہائی چھوٹی ٹکڑیوں کی لڑائی کو ترجیح دیتا ہے –  گوریلا حتیٰ الا مکان کوشش کرتا ہے کہ وو دشمن کی نظروں میں آۓ بغیر اپنی کاروائیاں جاری رکھے – جب کہ جارح افواج گوریلا تنظیم کی تلاش میں ہوتی ہیں -گوریلا اپنی مرضی سے ، اپنی منتخب جگہ ، اور اپنے حق میں حالات کو دیکھتے ہوے لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے ، جب کہ قابض افواج کے پاس انتخاب کا کوئی حق نہیں ہوتا انھیں گوریلا سپاہ سے ہر جگہ ہر حال میں لڑنا ہوتا ہے

یہی وجہ ہے کہ قابض افواج کی کسی چھوٹی سی ٹکڑی کو بسا اوقات بہت بڑے نقصان  سے دو چار ہونا پڑتا ہے – گوریلا جتنی سرعت سے برآمد ہو کر حملہ آور ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے غائب بھی ہو جاتا ہے – گوریلا سپاہ کا حملے کی جگہ کے آس پاس  رہنے کا مطلب اپنے لیۓ بہت بڑے دشمن کے ہاتھوں تباہی کو دعوت دینا ہوتا ہے ، اس لیۓ یہ توقع عبث ہے کہ گوریلا معرکے کے بعد جاۓ وقوعہ کے پاس پایا جاۓ- ایسی صورت حال میں اگر قابض افواج بعد از واقعہ کسی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے عوامی نقصان ، جس کے غیظ و غضب  کا سامنا بھر حال قابض قوت ہی کو کرنا ہوگا

جنوبی ویتنام جنگ میں شامل ایک امریکی جنرل ولیم کا کہنا ہے ” ایک علاقے میں گوریلا کمین گاہوں کی موجودگی کا پتا لگاۓ بغیر ٣٠،٠٠٠ سپاہ کی تعیناتی بری افواج کے ریکارڈ میں داخل دفتر کرنے کے مترادف ہے -” ( یعنی ٣٠،٠٠٠ سپاہ کی ایسی دانستہ تباہی کہ ان کا وجود صرف بری افواج کے ریکارڈ ز میں ہی مل پاۓ)

گوریلا جنگ ایک کثیر المقاصد جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے – اس کے کچھ بنیادی مقاصد کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ،

پہلے مرحلے میں ،

 

تحریک کی عسکری کاروائیاں قابض افواج و حکومت کی توجہ تحریک کے سیاسی سرگرمیوں سے ہٹا لیں تا کے تحریک کے سیاسی ڈھانچے کو اپنی جگہ بنانے اور پھلنے پھولنے کے لیۓ درکار مناسب وقت مل سکے

 

تحریک کی عسکری کاروائیاں قابض افواج کو ہراساں کرنے ، انھیں اخلاقی اور ذہنی طور پر پست کرنے کے لیۓ بھی کی جاتی ہیں

 

گوریلا عساکر کی کامیاب  کاروائیاں  اکثر قابض افواج کے اعصاب پر بہت بری  طرح  اثر انداز ہو کر تحریک کے اخلاقی  فتح پر منتج ہوتی ہیں

 

گوریلا کاروائیوں کی وجہ سے دشمن کے متحرک رہنے کے اخراجات دشمن کی اقتصادی تباہی کا بیس ہوتی ہیں ، اور اقتصادی زبوں حالی کی وجہ سے اوم پر عائد کردہ ٹکسیز   میں مزید اضافہ قابض افواج کی پرشانی کا فطری سبب  بن سکتی ہیں

نقل و حمل کی تنصیبات کی تباہی ، جس سے جارح افواج سرعت سے حرکت کرنیں کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے

 

دوسرے مرحلے میں ،

 

گوریلا عساکر کی کامیاب کاروائیوں سے متاثر ہو کر لوگوں کی اکثریت یا تو ان سے جا ملتی ہے یا پھر غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتی ہے ، کیوں کہ نظر آ آرہا ہوتا ہے کہ  قابض افواج اپنی حفاظت نہیں کر پاتیں تو عوام کی کیا کریں گی

 

قابض افواج تھکاوٹ اور اعصابی کمزوری کا شکار ہونے لگیں گی ، جیسے جیسے لڑائی طول کھینچتی جاۓ گی ، قابض افواج کی جارحیت میں فطری کمی آتی رہے گی

 

قابض افواج کی تھکاوٹ اور اعصابی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہووے تحریک کی سیاسی شاخ کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا ، در حقیقت یہی آزادی کی جانب پہلا سنگ میل ہے جو اس مرحلے پر عبور ہوتا ہے اور آزادی کی منزل  قدم بہ قدم قریب آتی جاتی ہے

 

آخری مرحلہ ،

 

اب وقت آ جاتا ہے جب گوریلا عساکر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ایک منظم اور بڑے فوج کی صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے – اس مرحلے پر مقبولیت اور عوامی پذیرائی سے لطف اندوز ہوتی یہ فوج قابض افواج پر باقاعدہ حملہ کر کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے – ایک فیصلہ کن جنگ تحریک کو آزادی کے منزل سے ہمکنار کر لیتا ہے

 

(اردو ٹائپنگ سے اپنی عدم واقفیت کی بنا پر پروف کی غلطیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جس کے لئے دلی معذرت )

Advertisements