Let we struggle our way

Posts Tagged ‘comic’

گاندھی جی کے عینک کی چوری

In Role of Pakistani media on January 5, 2011 at 3:01 pm

گاندھی جی کے عینک کی چوری

 

تحریر نواز بگٹی


پاکستان کے ایک موقر روزنامے نے  خبر دی ہے کہ ہندوستان کے صدارتی محل کے بہار باپو یعنی گاندھی جی کے مجسمے کا عینک چرا لیا گیا . ویسے اپس کی بات ہے ہندوستانی چور نے شاید جذبہ حب الوطنی سے مغلوب  ہو کر یہ تاریخی اقدام کیا . کیونکہ گاندھی جی اب اس پیرانہ سالی میں شاید اپنی قوم کے خرافات کو دیکھنے کا صدمہ برداشت نہ کر پاتے -سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی چوروں نے اپنی بین الا قوامی شہرت کے با وجود  ایسا کوئی تاریخی کارنامہ کیوں نہ انجام دیا ؟ توجناب  وہ صرف اسی وجہ سے کہ اس مملکت خداداد کے دور اندیش حکمران صدارتی محل کو بہت پہلے ہی اپنے  باباۓ قوم کی نظروں سے بہت دور مار گلہ کی پہاڑی جنگلات میں گھرے اسلام آباد شہر میں منتقل کر چکے ہیں. معروف مقولہ ہے ” آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل ” ، لیکن یہاں تو باقاعدہ پہاڑ اوجھل کا اہتمام ہے-  کیونکہ ہندوستان کی سیکولر سماجی روایات کے برعکس یہاں نہ صرف  مذہب کے نام پر ہم وطنوں کا گلا کاٹنا وجہ افتخار ،رشوت ستانی کو تہذیب،اور  گالم گلوچ کو سیاست  کا نام دیا جاتا ہے ، بلکہ اپنی شخصی مفادات کے حصول کی خاطر حسب منشاء شاہی فرمانوں کو قومی مفاہمت کے نام پر ملکی قانون کا درجہ دینا بھی نہایت آسان اور قبل عمل ہے- قصّہ صرف یہیں پر موقوف ہو تو بھی شاید ان کے  قائد برداشت کرلیتے  لیکن ریاستی گماشتوں کے ہاتھوں منظم قتل و غارت گری کو وسیع ترملکی مفادات کی گھنی چھاؤں  بھی مہیا کی جاتی ہے – کاغذ کے بے معنی نوٹوں کے حصول کی خاطراپنی ہی  بیٹیوں کو  بیچنے کا سرکاری سطح پر اہتمام اور اس کارنامے پر فخر کا اعزاز بھی اس مملکت خداداد کی اشرافیہ کو حاصل ہے- فوجی بیگار کیمپوں کی کہانی تو پرانی ہو چکی ، اب یہاں سرکاری افواج کے زیر سایہ جنسی غلامی کا منفعت بخش کاروبار بھی بڑی تیزی سے پھل پھول رہی ہے- اسلامی سے عسکری ریاست میں تبدیلی کے ناگزیر عمل سے گزرنے، اور عالمی طاقتوں کی دلالی کے کامیاب اور تیر بہ ہدف نسخوں تک رسائی نے پیشہ ور افواج کو کامیاب تجارت سے بھی روشناس کرا دیا- آرمی ویلفئر ٹرسٹ ، فوجی فاونڈیشن ، عسکری بنک ، بحریہ فاونڈیشن  ، فضایہ فاونڈیشن ، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی ، اور نہ جانے کتنی خالص تجارتی سرگرمیاں ریاستی افواج کی ذمہ داریاں ٹھہریں- طاقت راج کا صدیوں پرانا آزمودہ نسخہ آج بھی بہت کامیابی سے رائج ہے- شخصی ناپسندیدگی کی سزا آج بھی گولی ، نظریاتی اختلاف کی سزا موت ، قربانی کا جانور ہمیشہ کی طرح عوام ہی ہیں-اس قوم کے حاکم اگر اپنے   قائد کی خدمت میں اپنے  سارے قومی کارنامے تفصیلاً پیش کر دیتے غالب امکان تھا  کہ حضرت خود کشی کا ارتکاب کر لیتے  ، لیکن ابھی مظلوم و محکوم اقوام کے استحصال کی خاطر جناح کو تمام مفتوحہ اقوام کے مصنوعی قائد بنا کر پیش کرنے کی ضرورت ، اس کےمنافقانہ افکار کا پرچار ، جعلی اسلامی بھائی چارے کے ڈھونگ کی ضرورت تا دیر رہنی ہے ، اسی لیۓ پاکستانی باپو  کی بینائی چرانے سے مسلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا – یہی وجہ ہے کہ خراج تحسین کے نام پر اس قوم نے اپنے نام نہاد قائد کو بعد از مرگ بھی مسلح افواج کے ایک چاق و چوبند دستے کی تحویل میں رکھا ہے-

Advertisements