Let we struggle our way

Posts Tagged ‘chankiya’

چانکیہ جی کی ایک نصیحت آموز کہانی

In A lesson from the past on January 13, 2011 at 4:08 pm

چانکیہ جی  کی ایک نصیحت آموز کہانی

تحریر نواز بگٹی

چانکیہ اچاریہ کوٹلیہ ، ٢ صدی قبل مسیح کے عظیم مدبر اور سیاست دان تھے – انہیں مغربی دنیا میں سیاسی و معاشی علوم کے بانیوں میں جانا جاتا ہے – چانکیہ کو ہندوستان کے مشہور بادشاہ چندر گپت موریا کے استاد و اتالیق اور وزیر اعظم  کی حیثیت سے بھی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہے -چانکیہ کا دور یونانیوں کے عروج کا زمانہ تھا ، معروف یونانی فاتح سکندر اعظم کی سلطنت میں ہدستان بھی شامل ہو چکا تھا

چانکیہ کا تعلق چونکہ ہندوستان کی اعلیٰ ذات سمجھی جانی والی برہمن نسل کے جید علماء سے تھا ، اسی لئے ہندوستان کے راجہ ، مہا راجاؤں کے اولاد کی تربیتی ذمہ داریاں چانکیہ کو سونپ دی گئی تھیں- اپنے وقت کے چیفس کالج میں راجہ ، مہاراجاؤں کی اولادوں کے علاوہ کسی کے داخلے کی اجازت نہیں تھی

ایک روز دوران درس و تدریس چانکیہ نے اپنے شاگردوں کے سامنے ایک سیاسی مسلہ رکھا اور اس کے ممکنہ بہترین حل کی تجویز مانگی تو کوئی بھی شاگرد چانکیہ جی کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا – ایسے میں چانکیہ جی کی نظر مدرسے کے باہر کھڑے ایک کنیز زادے پر پڑتی ہے ، جو ہاتھ ہلا ہلا کر چانکیہ جی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا ، اسے بلا کر ہاتھ ہلانے کی وجہ پوچھ گئی تو برخوردار نے اپنے پاس زیر بحث معاملے کا معقول حل ہونا بتلایا – مسلے پر کنیز زادے کےمجوزہ حل اور اس کے حق میں دلائل سن کر چانکیہ جی حیران رہ گۓ اور اس کے استاد کا پوچھا تو بچے نے چانکیہ جی کی جانب اشارہ کر کے انھیں مزید حیرت زدہ کر دیا – معلوم کرنے پر عقدہ کھلتا ہے کہ اپنے علم حاصل کرنے کے شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر مدرسے میں داخلے کی پالیسیوں سے مایوس یہ کنیز زادہ  خطرات کا ادراک ہونے کے باوجود روزن دیوار سے چانکیہ جی کے تمام لیکچرز کو انتہائی توجہ  سے سنا کرتا تھا، اور یہ سب اسی کاوش کا ثمر تھا -( بہت ممکن تھا اسے ان حدود کو پار کرنے کی پاداش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ، یا پھر کسی تنگ و تاریک تہ خانے میں قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا ہوتا
پہلی بار مدرسے کی روایات کے برعکس چانکیہ جی کی ذاتی سفارش کی بناء پر اس کنیز زادے کو راجہ ، مہاراجاؤں کی اولادوں کے لئے مخصوص مدرسے میں علم حاصل کرنے کی اجازت دی گئی- کنیز زادے کے ہم جماعتوں کا تو کسی کو نہیں معلوم لیکن تاریخ اس معمولی مگر خطرات مول لینے والے کنیز زادے کو ہندوستان کے مشہور سالار و بادشاہ چندر گپت موریا کے نام سے یاد کرتی ہے
مورخین کے مطابق چانکیہ جی سکندر کی یونانی افواج کی بھاری تعداد اور مسلسل فتح کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انھیں ناقابل شکست قرار دیتے تھے – ایک روز چانکیہ جی کے وہی خطرات مول لینے والے نا ہنجار مگر انتہائی ذہین طالبعلم  چندر گپت یونانی افواج کے گشتی سپاہ کے مقامی سالار کے گھوڑے کو لگام سے پکڑ کر سر راہ روکتے ہوے انھیں خبردار کرتے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندوستانیوں کا ہے اور یونانیوں کو وہاں سے چلے جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھنی چاہیے- ایک نوجوان کی اس گستاخانہ حرکت پر یونانی افواج اسے گرفتار کرنے کے لئے لپکتی ہیں لیکن یہ نوجوان انھیں جل دے کر روپوش ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے

چانکیہ جی کو جب اپنے شاگرد کے اس علامتی کامیابی کی اطلاع ملتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ” آج انکا شاگرد انھیں یہ سبق دے گیا کہ یونانیوں کو شکست دینا نہ صرف ممکن ہے بلکہ آسان بھی ” – اس کے بعد وہ چندر گپت کی تربیت بلکل نۓ پیراۓ پر کرنا شروع کرتے ہیں
چانکیہ جی کی ہدایت پر چندر گپت ہندوستان کے طول و عرض میں بکھرے راجوا ڑوں کا دورہ کر کے راجہ مہاراجاؤں کے آپس کے اختلافات کو ختم کرنے اور انھیں ایک مشترکہ دشمن کے مقابلے کے لئے تیار کرنے کی تحریک چلاتے ہیں – اس سرپھرے کی یہی تحریک ہی یونانیوں کے ہندوستان سے اخراج کا سبب بنتی ہے ، اور چندر گپت سے چندر گپت موریا بننے والا یہ سرپھرا کنیز زادہ ہندوستان کی ریاست کو پنجاب تک وسیع کر لیتا ہے

 

چانکیہ جی کے چند سبق آموز اقوال

١- دوسروں کی غلطیوں سے سیکھو -کیونکہ تمام غلطیاں دہرانے کے لئے تمھارے پاس نا کافی زندگی ہے
٢- حد سے زیادہ ایمانداری سے گریز کرنا چاہیے – کیونکہ سیدھے درخت پہلے کاٹے جاتے ہیں اور ایماندار لوگوں کو پہلے شکار کیا جاتا ہے
٣- اگرچہ ہر سانپ جان لیوا نہیں ہوتا – لیکن ہر سانپ زہریلا ضرور ہوتا ہے
٤- ہر دوستی کے پیچھے کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد کار فرما ہوتا ہے – کوئی بھی دوستی ذاتی مفاد کے بغیرنہیں پائی جاتی اور یہی کڑوی سچائی ہے
٥- جیسے ہی خوف کو اپنے قریب پاؤ ، آگے بڑھ کر حملہ کرو اور اسے تباہ کر دو
٦- کسی بیوقوف کے لئے کتابیں اتنی ہی مفید ہوتی ہیں ، جتنی کہ کسی اندھے کے لئے آینہ

Advertisements