Let we struggle our way

Posts Tagged ‘Books’

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا

In gurriella warfare on January 20, 2011 at 3:39 pm

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا
مترجم نواز بگٹی
باب اول – چھاپہ مار جنگ کے عمومی قواعد

 

چھاپہ مار جنگ کا جوہر

بٹیسٹا آمریت پر کیوبا کے عوام کی فتح صرف سورماؤں کی بہادری کی داستان ہی نہیں جیسے کے دنیا بھر کے اخبارات میں کہا جا رہا ہے ، بلکہ اس سے لاطینی امریکہ کے عوام کے بارے میں تمام پرانی روایات کو بھی تبدیل کر دیا – اس سے واضح طور پر کسی بھی غاصب قوت سے چھاپہ مار جنگ کے ذریعے عوام کی آزادی حاصل کرنے کی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ کیوبا کے انقلاب میں کار فرما تین بنیادی عوامل ، لاطینی امریکا کی تحریکوں کی لئے سبق آموز ہیں . وہ عوامل ہیں ،
– مقبول قوتیں فوج کی خلاف جنگ جیت سکتی ہیں- انقلاب کے لیے تعام تر موافق حالات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے ، بغاوت خود با خود حالات پیدا کر لیتی ہے- غیر ترقی یافتہ امریکہ میں دیہی علاقے مسلح جنگ کا مرکزی میدان ہیں
درج بالا عوامل میں پہلے دو تو انقلابیوں ، ان نام نہاد انقلابیوں کے شکست خوردہ رویے کی نفی کرتے ہیں ، جو اس مفروضے کے پیچھے پناہ لیتے ہیں کہ ایک منظم فوج کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ،یا پھر وہ بیٹھ کر منتظر رہتے ہیں کہ انقلاب کی تمام موضوعی و معروضی ضروریات ، حالات کو مہمیز کرنے کی کوشش کیے بنا ، مشینی انداز میں خود بخود پوری ہوں- جیسے کہ یہ مسائل ایک وقت میں کیوبا کے مبا حثوں کا موضوع ہوا کرتے تھے ، تا وقتیکہ ان سوالات کا جواب دینے کے لئے حقائق دستیاب ہو پاۓ، انہی معاملات پر شاید اب بھی امریکا میں بڑے پیمانے پر بحث ہوتی ہے – فطری طور پر یہ بلکل نہیں سمجھنا چاہیے کہ انقلاب کے تمام لوازمات چھاپہ مار سرگرمیوں ہی سے پیدا کیے جا سکتے ہیں- یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمیشہ کم از کم بنیادی ضروریات ہوتی ہیں ، جنکی موجودگی کے بغیر پہلی بنیاد رکھنا اور اسے مستحکم کرنا عملی طور پر ممکن ہی نہیں – لازم ہے کہ لوگ سماجی مقاصد کے حصول کے لئے واضح طور پر پرامن سماجی ذرائع سے مایوس ہو چکے ہوں – جب جابر و غاصب قوتیں مروجہ قوانین کے برعکس طاقتور ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ امن ختم ہو چکا

ایسی صورت میں عدم اطمینان کا عنصر اپنا اظہار زیادہ بہتر سرگرمی سے کر سکتا ہے -آخرکار مزاحمت کا یہی رویہ لڑائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے ، جسکا آغاز ( غاصب کے ) ذمہ داروں کے رویے نے ہی کیا-جہاں کوئی حکومت عوامی راۓشماری کے نتیجے میں وجود میں آئی ہو ، چاہے دھوکے اور فریب سے ہی سہی ، اور ذرا سی بھی قانونی جواز رکھتی ہو ، وہاں چھاپہ مار جنگ فروغ نہیں حاصل کر سکتی ، تاوقتیکہ پر امن جدوجہد کے تمام امکانات ختم نہ ہو چکے ہوں

(جاری ہے ………….)

Advertisements