Let we struggle our way

Posts Tagged ‘BNF’

٧-٨-٩ جنوری کو تین روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال

In Strike call on January 7, 2011 at 3:40 pm

ظالم کو نہ روکے ،وہ  شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے ، وہ قاتل کے ساتھ ہے

٧-٨-٩ جنوری کو تین روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال

بلوچستان پر اپنی قبضہ گیریت کو دوام دینے کے لئے پاکستان سامراج نے تسلسل کے ساتھ معصوم و بے گناہ اور خالی ہاتھ بلوچ سیاسی کارکنوں کے اغوا اور قتل کا انسانیت سوز عمل شروع کیا ہے- اور اب ہزاروں بلوچ نوجوان و بزرگ فورسز کے ہاتھوں اغوا ہوے ہیں ، اور سینکڑوں نوجوان پاکستانی اذیت خانوں میں قتل کیے جا چکے ہیں اور بلخصوص گزشتہ روز دو معصوم طالبعلموں قمبر چاکر ، اور الیاس نذر کو اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر پاکستانی فورسز نے قتل کر دیا –
لہذا بلوچ نیشنل فرنٹ – بی-این-ایف-  تمام انسان دوست ، قوم دوست ، سیاسی پارٹیوں ، تنظیموں ، تاجر برادری ، ٹرانسپورٹروں ، علماء کرام  ، اور اساتذہ کرام سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ وہ معصوم اور بیگناہ بلوچ نوجوانوں کے پاکستانی فورسز کے قتل عام کے خلاف

٧-٨-٩ جنوری کو تین روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال
کو کامیاب بنا نے میں اپنی انسانی ، مسلمانی ، اور قومی فرض کو ادا کریں ، اور بلوچستان میں ہونے والے پاکستانی سامراج کے ظلم و ستم کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کریں –

منجانب : بلوچ نیشنل فرنٹ ، بی-این-ایف

Advertisements

کیا آپ کو اسی لمحے کا انتظار ہے ؟؟؟

In national awareness call on January 7, 2011 at 3:18 pm

کیا آپ کو اسی لمحے کا انتظار ہے ؟؟؟

 

– وہ ایک ضروری کام سے کہیں جا رہا تھا ، کہ اچانک گاڑی اس کے قریب رکی ، اور اسے گاڑی میں بیٹھا کر غائب ہو گئی
– بہت سختی سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ، اور گاڑی میں بیٹھے درندہ صفت لوگ اسے اپنے ٹھوکروں میں دباتے ہوے گندی گندی گالیاں دینے لگے
– کچھ دیر بعد اس نے اپنے آپ کو ایک تنگ و تاریک کمرے میں محسوس کیا اور پھر ایک خوفناک شخص نے اس پر تشدد شروع کیا
– جب اسے ہوش آیا تو وہ مادر زاد برہنہ، دیوار سے،سلاخوں کے ساتھ ٹنگا ہوا تھا
– اور پھر کی روز تک حجاموں والی قینچی سے اس کی کھال کوپشت سے شانوں تک بلکل کپڑے کی طرح کاٹا گیا
– ایسی خوفناک اذیت پر اس کی فریادیں خالی و بے جان دیواروں سے ٹکرانے لگی
– جب وحشیوں کو اس سے سکون نہیں آیا تو اسے کی روز تک بجلی کی خطرناک شاک دیے جانے لگے اور وہ تڑپتا رہا
– پھر اس کے حلق پر کلاشنکوف رکھ کر دوسرے لوگوں کا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا
– پھر ایک وحشی شخص نہیں کباڑی والی زنبور سے اس کے ناخنوں کو انگلیوں سے جدا کر دیا
– کئی چودھویں چاند کی راتیں گزر گئیں ، کئی شب برات ، کئی عیدیں گزر گئیں مگر وہ اذیتوں سے تڑپتا رہا اور اس کی ماں کی آنکھیں اس کے آنے کی امید میں دروازے پر ٹکی رہیں
-اسکی آہٹ کا گمان ، اسکے آواز کی پرچھائ ، اس کے ہاتھوں کی نشانیاں ماں کے جگر کو چیرتی رہیں

یہ جلتی زمین ، یہ بے خواب راتیں ، اسکی بیوی کا ماتمی چہرہ ، اس کے بچوں کی بے کسی ، ماں کی آنکھیں پوچھتی رہیں

وہ کہاں ہے ؟

– پھر وحشی لوگ اسے اپنی اذیت گاہ سے نکال کر اسکی زبان کو چاقو سے کاٹ دیتے ہیں ، اور اسے قلی کیمپ میں قائم ڈیتھ سکواڈ  ، سر اور سینے میں گولی مار کر اس کی لاش کو کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں
– اس بر بریت اور ظلم کو ہم کب تک برداشت کرتے رہیں گے ، ٧٠٠٠ سے بھی زائد بلوچ فرزند ایسی اور اس سے بھی گھناونی اذیت برداشت کر رہے ہیں –

ہزاروں میں ، بہنیں ، بیویاں ، اور بچے اپنوں کی کھوج میں اس طرح تڑپ رہے ہیں ، اور کتنے اس طرح تڑپتے رہیں گے اور کب تک ؟

ذرا سوچیے ! یہ بلوچ فرزند کیوں اغوا ہو رہے ہیں اور انکا قصور کیا ہے ؟
بلوچ نہ سہی بحیثیت انسان ہمارا کیا فرض بنتا ہے ؟
کیا ہم اسس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتے ؟
آئیے : ہمارا ساتھ دیجیے ، آخر کب تک ہم چپ کا روزہ رکھیں گے ؟
آئیے : ہمارا ساتھ دیجیے تاکہ ہم ان ظالموں کے ہاتھ روک سکیں

نشر و اشاعت : بی-ایس- او- آزاد