Let we struggle our way

Posts Tagged ‘Baloch’

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

آج کا بلوچ معاشرہ – اگر منشی پریم چند ہوتے تو ؟

In A lesson from the past on January 8, 2011 at 3:33 am

آج کا بلوچ معاشرہ – اگر منشی پریم چند ہوتے تو ؟

تحریر نواز بگٹی

منشی پریم چند کے افسانے کفن کو پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم منشی کے گاؤں میں رہنے والے چمار تو نہیں ؟ کہیں کھیسو اور مادھو کے جیتے جاگتے کردار تو نہیں ؟ مادھو کی تڑپتی بیوی کی مانند آج بھی  ٩٩ % بلوچ خواتین علاج معالجے کی سہولتوں سے بے بہرہ، خیمے ، گدانوں میں درد زہ سے تڑپتی ، فطرت کے مدد کی طالب نظر آتی ہیں – اگر کچھ فرق ہے تو منشی جی کے کھیسو اور مادھو کو ہڈ حرامی کی وجہ سے کوئی کام دینے پر رضا مند نہ تھا اوروہ  اپنی قسمت پر صابر و شاکر تھے ، لیکن بلوچ کے گزی ، گومازی کو کام اس لئے نہیں ملتا کہ انکے نام کے ساتھ لفظ بلوچ نتھی ہے – وگرنہ حالات کی جو منظر کشی منشی جی  کے افسانے میں ہےآج کا بلوچ بھی کم و بیش انہی حالات میں زندگی بسر کر رہا ہے –
منشی جی کے کردار مٹھی بھر اناج کا ذخیرہ ہوتے ہوے کام نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے تھے تو بلوچ کو مٹھی بھر اناج کمانے کا موقع نہ دینے کی قسم یہاں کے حاکموں نے  کھا رکھی ہے – کھیسو جس طرح اپنے بچوں کی ولادت کے موقع پر پڑوسیوں کی سخاوت کا ذکر  کرتا ہے بلوچ کے نصیب میں پڑوسیوں کی جانب سے بھی شاید کوئی ایسی سخاوت نہیں –
منشی جی کے کردار جس طرح بلا اجازت پراے کھیتوں  سے آلو اور مٹر لا کر پیٹ کی آگ بجھاتے تھے ، لگتا ہے آج کے بلوچ کو بھی اسی راہ پر دھکیلا جا رہا ہے ، اور بھوک سے بیتاب بلوچ کی دستبرد سے پڑوس کی فصلوں کو بچانا بھی مشکل ہو جاۓ گا – کھیسو کے زاہدانہ انداز میں گزرے ٦٠ سال ، بلوچوں کے پاکستان کی رفاقت میں گزرے ٦٣ سالوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں ، مادھو جس طرح سعادت مندی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے ، آج کے بلوچ نسل سے بھی حاکم اسی طرح کی سعادت مندی کے متقاضی ہیں – کھیسو اور مادھو کے گھر میں بقول منشی جی مادھو کی زوجہ محترمہ نے  تمدن کی بنیاد ڈالی تھی ، لیکن بلوچوں کی غیرت و حمیت کی بنا پر مجھے خوف ہے کہ ہم کسی ایسے تمدن کے روادار بھی نہ ہو پائیں گے –  منشی جی کے کردار اپنی ڈھٹائی اور بے غیرتی کی وجہ سے کام نہ کرنے کی اکڑ رکھتے تھے تو آج بلوچوں سے انکی غیرت اور خود داری چھیننے کے لئے انھیں کام نہ دے کر نکما بنایا جا رہا ہے – کھیسو اور مادھو تو شاید اسی انتظار میں تھے کہ خاتون خانہ مر جاۓ تو وہ سکون کی نیند سو سکیں ، لیکن یہاں حکام بلوچ قوم کے اجتماعی مرگ کے منتظر ہیں – کھیسو جس طرح چسکے لے لے کر اپنے بیٹے کو ٹھاکر کی بارات میں جانےکا ٣٠ سال پرانہ واقعہ سنا رہے ہوتے ہیں ، بلکل اسی انداز میں ہمارے نام نہاد قومپرست اپنی اسلام آباد یاترا ، اور اپنے پنجابی حاکموں کی سخاوت کے ذکر میں رطب لسان نظر آتے ہیں – اسلام آباد کی رنگینوں ، شہر کی وسعت، اور مکینوں کی وسیع القلبی کا ذکر کر کے نہ صرف بلوچوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں بلکہ اس میں بد ترین غلاموں کے جعلی احساس تفاخر کا مکروہ جذبہ بھی موجزن نظر آتا ہے –
جس طرح کھیسو اور مادھو کے لیے خاتوں خانہ کی زندگی سے زیادہ اپنا پیٹ بھرنا اور اپنی ہانکنا زیادہ اہم تھا بلکل اسی طرح ھمارے نام نہاد قومپرست پارلیمانی سیاستدان کی زندگی میں بھی عام بلوچ کے جینے مرنے کا سوال شاید آخری ترجیحات میں کہیں جگہ پاتا ہے – مادھو تو پھر بھی اپنی رفیقہ حیات کی بے جان ، مٹی میں لت پت ، لاش کو دیکھنے کا روادار ہوا ، لیکن ہمیں ان سے اس طرح کے رحمدلی  کی بھی کوئی امید نہیں –
منشی جی کے ان بے غیرت باپ بیٹوں کا پالا خوش قسمتی سے ایک رحم دل ٹھاکر سے پڑتا ہے ، جبکہ ہمارے بے غیرتوں کا پالا جن حاکموں ، ٹھاکروں سے پڑا ہے ، وہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں ، بلوچوں کے مرنے پر کفن دفن کا تو شاید ہی کبھی انکو فکر لاحق ہوا ہو- مگر بلوچوں کو مارنے کے بعد معاوضے کی وصولی کے لئے انہیں کئی کئی بار اپنے آقاؤں کے در پر سجدہ ریز ہو کر انکے وعدے یاد دلانے پڑتے ہیں-
جس طرح کھیسو اور مادھو کفن دفن کے نام پر ملنے والی رقم پر عیاشی کرتے نظر آتے ہیں ، اسی طرح ہمارے یہ وزراء و امراء بھی بے گور و کفن لاشوں کو بیچ ، اپنے لئے عیاشی کا سامان کرنے کے ماہر ہیں -کھیسو اور مادھو کا ضمیر کم از کم نشے کی حالت میں تو جاگا ، کم از کم ایک لمحے کو ہی سہی ، لیکن یہاں نسلیں بیت گئیں، اور ان بے شرموں کی ضمیر کو ایک جھر جھری تک نہیں آئ، نہ ہی آئندہ ایسی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے –
اگر آج منشی پریم چند جی ہوتے ، کھیسو اور مادھو کی کسمپرسی کو بلوچوں میں اور ان دونوں کرداروں کی بے غیرتی ہمارے وزراء و امراء میں ، جبکہ رحم دل ٹھاکر کی جگہ ، بے حس و ظالم آقا  دیکھ کر ، ان تمام کرداروں کو اپنے کسی افسانے میں کس طرح نبھاتے ؟

اور اگر آج بلوچ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی جدو جہد نہیں کرتا تو یقین جانیے منشی جی کے کھیسو اور مادھو کی بے غیرتی ، اور جگ ہنسائی اسکا مقدر ہونا فطرت کی ستم ظریفی یا اغیار کی سازش نہیں کہلاۓ گی

ما چُکیں ‌بلوچانی

In National Anthem on January 5, 2011 at 3:21 pm

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

مئے ترس ءَ زمین لرزیت مئے بیم ءَ کلات جکسنت
ما کوھیں ‌مزار چُکیں ‌، ما گلڑیں ‌شیرانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

ما کوپگیں ‌پِسّانی ، ما جامگیں ‌ماسانی ما پنجگیں ‌براتانی ، ما لجیں ‌گہارانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

ما نان دئے ءُ داد بکشیں ، ما سردئے ءُ نام کشیں ما ھونی میار جلیں ، ما دیما رویں ‌بیرانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

ماں گیرتءِ شیر متکگ ما ساھگ ءَ زھمانی ھون پٹ ایت چہ مئے چماں ما کومیں‌ شھیدانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

ھون زرور کار ءَ کئیت یک روچے مئے قوم ءِ تاوان نہ بنت ھچبر نازیک مئے ماسانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

ما پشتیں ‌یتیمانی لاچاریں‌ گریبانی زُلم ءِ ھسار ءَ پروشیں ‌دور نئیت پدا زُلمانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

چکّاسیں ‌ھزار رند ءَ تیراں ‌وتی دلبندءَ قول انت تئی پرزندءَ گوں ‌گونڈلاں ‌تیرانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

چم روک انت بلوچستان نامداریں ‌بلوچانی درگاہ انت شھیدانی شھموکیں‌ سگارانی

چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی

———————

 

The Jang Group and her militery advisory services. (by Nawaz Bugti)

In Role of Pakistani media on December 26, 2010 at 6:38 pm



A senior journalist and columnist of a daily Urdu news paper Jang, Mr.Irfan Siddiqui who portrayed himself the very well wisher of Balochs in his columns a few days ago. His holy pen writs today  a great piece of advice for his friend Mr. Colonel Khalid the spokesman of ISPR .Though he presents him a wise person in the same article but not capable to handle such a situation and suggests a full fledged office of ISPR with senior office bearers. His sympathetic  article for Balochs was focused on the arrest of Mr. Shahzain Bugti .Criticizing the information sharing strategy of the forces he writes , “ The basic and  most important question is who was the wisest to present such a golden idea that all the operation got televised on almost every channel.”  In the same paragraph he adds “FC could have issued a small press note stating that Shahzain Bugti was carrying a huge quantity of ammunition, FC seized the ammunition and booked Mr. Bugti for further investigations.”

As he thinks media got a great influence and widespread information of state atrocities may strengthen the feelings of deprivation among Balochs.

What the Balochs think of him and how they may pay him thanks for such a deep concern it really does not need any debate, but the journalistic ethical span of his advice is debatable.

The fears of a Pakistani patriot may not be false as the words do speak but photo journalism really changed the norms .In the information age journalism seems incomplete without Photos (weather still or the movies). Photos express more than words in very small span of time comparatively. One with meager knowledge may easily understand very complex phenomena. Here the question is if this patriotism does not compromise the professional responsibilities of a journalist? As journalism is often termed as the first draft of history , so the morality of a responsible journalist must  follow a question mark if he advocates hiding  the facts to secure interests of a specific group.

In the same article gentleman expresses his anger upon the former president Mr. Musharaf. He tries to fix all the responsibility of ongoing atrocities upon said president. Here he really forgets the fact that it was his same fake patriotism of “Sab Say Pahlay Pakistan” .In the fake name of greater national interests president Musharaf carried out genocide so he must not be blamed by person who is supporting the same act or it will be  hypocrisy in his account of a journalism.

In recent past the Pakistani media widely complained about a boycott by Balochs. If it is the way they think and keep advising such nonsense to the oppressing state authorities than how do they justify their complaint.

If it will be wrong to boycott an advisory board to FC in form of Jang group? Just give it a thought and let me know as well.

–          Focused Article of Mr. Siddiqui is published in daily Jang @26-12-2010

–          FC , (Frontier Corps) The Para military force involved in the major operations and regular army uses the same uniform and shelter very often.

–          ISPR – Inter Services Public Relations.