Let we struggle our way

Posts Tagged ‘baloch genocide’

شہید علی جان بلوچ – میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

In Baloch Freedom movement, Baloch genocide, FC, isi, mi on January 24, 2011 at 3:52 am
شہید علی جان بلوچ – میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تحریر نواز بگٹی
آج پھر بلوچ شہداء کے قافلے میں ایک اور معصوم علی جان بلوچ کا اضافہ ہوا – اطلاعات کے مطابق ، آج صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے اختر آباد کے قریب ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کی مسخ شدہ لاش ملی ، جسے مقامی پولیس نے بولان میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا – ہسپتال ذرائع کے مطابق متوفی کے جسم پر شدید تشدد کے شواہد ملے ہیں ، اور سر میں گولی کا واضح نشان بھی دیکھنے میں آیا ہے – بعد ازاں متوفی کی شناخت مچھ کے رہائشی  بی-ایس-او آزاد کے شہید راہنما ممتاز کرد کے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے ہوئی – متوفی کو خفیہ اداروں نے  گزشتہ سال 23 نومبر کو سبی سے گرفتار کیا تھا – واضح رہے کہ متوفی کے بڑے بھائی ممتاز کرد کو بھی اسی انداز میں خفیہ اداروں نہیں گرفتار کر کے اپنی عقوبت گاہوں میں شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش بے گور و کفن سڑک کنارے پھینک دیا تھا –
18 سالہ علی جان کا گناہ شاید بلوچ ہونا ہی تھا ، ورنہ ایک معصوم بچہ پاکستان کے تخت و تاج کے لئے اتنا خطرناک تو یقیناً نہ تھا کہ بغیر کسی عدالتی کاروائی کے اسے یوں قتل کر کے لب سڑک پھینکنے کی ضرورت محسوس ہوتی – نام نہاد پاکستانی میڈیا بلوچ نوجوانوں کے گمراہ ہونے اور انکا غیر ملکی ہاتھوں میں کھیلنے کا پروپگینڈہ بہت زور شور سے کرتی ہیں – کیا ان کے پاس اس طرح کے بہیمانہ نسل کش اقدامات کے بعد کوئی توجیہ موجود ہے کہ علی جان بلوچ کے ورثاء و رفقاء کیونکر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں- علی جان بلوچ کے ہم جماعت کیونکر اپنے اسکول میں پاکستان کا قومی ترانہ گائیں، اور پاکستان کے پرچم کو سربلند دیکھنا ان کے لئے نا ممکن نہیں؟ یہ قتل ہندوستان کی را یا امریکی سی-آئی-اے کا کارنامہ نہیں بلکہ آپ کے ریاستی اداروں کی سیاہ کاری ہے-
آج حضرت داتا گنج بخش کا عرس منانے والے منافق کیا جانتے ہیں کہ داتا صاحب انکے کارناموں سے کتنے خوش ہو کر فردوس برین میں بھنگڑے ڈال رہے ہونگے – شاید اس بے حس قوم پر لعن تعن کرنا بھی شاید فضول ہی ہے –
علی جان  بلوچ کی والدہ کے غم میں شریک ہونا اور اسے کم کرنا تو شاید کسی زی روح کے بس کی بات نہیں ، اور اسے زمانے کی ستم ظریفی کہیے کہ اس موقع پر بھی اسے بیساختہ مبارکباد دینے کو جی کر رہا ہے کہ یہ اسی ماں کا اعزاز ہے جس کی کوکھ سے دو دو شہیدوں نے جنم لیا –  ہم ایسے بے وقعت لوگوں کے سلام کی وہ محتاج تو نہیں ، پھر بھی انھیں فرشی سلام –
الله کرے بلوچ قوم اپنے اس معصوم لہو کا پاس رکھتے ہوے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کر دے ، تا کہ پاکستان کی وحشی ، درندہ صفت ، غیر انسانی ریاست سے نجات حاصل کر پائیں – تا کہ اپنی آئندہ نسلوں کو ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ سکیں –

ھون زرور کار ءَ کئیت یک روچے مئے قوم ءِ –  تاوان نہ بنت ھچبر نازیک مئے ماسانی

Advertisements