Let we struggle our way

Posts Tagged ‘Baloch freedom’

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٤

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 11, 2011 at 1:11 am

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٤
تحریر نواز بگٹی
الجھن
اس بحث میں یہ  ثابت کرنے کی کوشش کی جاۓ گی کہ ضروری نہیں عالمگیر توجہ حاصل کرنے والی تحریکیں بین الا قوامی برائیوں پر فتح حاصل کر لیں – اگرچہ اس کے امکانات ضرور ہیں ، اس کی وضاحت مرحلہ وار کی جا سکتی ہے

تشہیری مہم کی اہمیت کے بحث سے  سےامداد کے بنیادی پیمانے  کی نفی ہوتی ہے – یعنی یہ کہنا غلط ہو گا کہ  ” بری طرح سے مشکلات کے شکار ہی زیادہ سے زیادہ امداد کے مستحق ہیں ”  – ہر مزاحمتی تحریک اپنے آپ کو دنیا کی توجہ کا مستحق سمجھتی ہے ،  چاہے اسے حکومت کی جانب سے کشت و خون کا سامنا ہو یا پھر سیاسی غیر برابری کا – کسی حد تک ظلم و جبر اور بیرونی امداد کے اپیل میں معقول تناسب ہونا ضروری ہے –  باوجود منکسرانہ درخواستوں کے ، کئی دہائیوں سے جاری جنوبی ایشیاء کی مزاحمتی تحریکیں دنیا کی خاطر خواہ توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں، حالانکہ یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو معمول بنایا گیا ہے-یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جب ہم کسی خاص تحریک پر عالمی اثرات کے نا کافی ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے سکڑنے یا ایک عالمی قصبے میں تبدیلی کا نام نہاد تصور بلکل غلط ہے – کیونکہ مذکورہ تحریک بھی تو آخر اسی دنیا کے کسی حصّے میں انسانوں پر ہونے والے جبر کے خلاف نبرد آزما ہوتی ہے – شاید  معاشی مربوطی  ، ٹیکنالوجی کی ترقی ، اور نشریاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت بھی اس کی کوئی قابل قبول توجیہ پیش نہ کر سکے کہ آخر ایک ہی خطّے میں ایک جیسی قوتوں سے نبرد آزما ، ایک سی مقاصد لئے مختلف تحریکوں کی عالمی پزیرائی میں  برتے جانے  والے امتیاز کی وجہ کیا ہے – انٹرنیٹ پر اگر تھوڑی سی بھی نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں برما، میکسیکو ، ایتھوپیا ، چین ، انڈیا ، پاکستان سمیت درجنوں آزادی کی تحریکیں سرگرم ہیں –  اگر ماحولیات کے میدان میں دیکھیں تو بلا مبالغہ  لا تعداد تحریکیں ملیں گی ، کچھ تو اپنی ویب سائٹ بھی رکھتی ہیں لیکن زیادہ تر انٹرنیٹ کی غیر مرئی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں- لیکن اگر اقوام عالم کی کسی منظم پلیٹ فارم پر نظر ڈالیں تو انکی نگاہوں کا توجہ صرف چند ایک تحریکیں ہی حاصل کر پائی ہیں

جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ عالمی سیاست اور طاقت کے نظریے میں تبدیلی لانے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن اقوام عالم کے مفادات کو عمومی رنگ دینے میں کسی طور کامیاب نظر نہیں آتی- بلکل اسی طرح اس ٹیکنالوجی کی بدولت اخلاقیات عالم ،عالمگیر سوچ ، اور عالمگیر فکر بیداری  کے کئی ایک دعویدار ابھرے ہیں-عالمگیر سوچ کا تقاضا ہے کہ ہم سب کا  تعلق اسی  دنیا سے ہے ، اور دنیا بھر میں پایا جانے والا مد و جزر ہم سب کو  متاثر کرتا ہے –  اگرچہ قابل تحسین تصور ہے ، لیکن حقیقت میں ایسا ہونا نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن ہے -دنیا بھر میں چاروں طرف پھیلے مسائل کا انبار اتنا بڑا ہے کہ پرخلوص و دیانتدار اداروں / غیر ریاستی تنظیموں کو کام کے لئے درست انتخاب کا عمل گڑ بڑا دیتا ہے  – جن عمائدین کی نظر میں ان غیر سرکاری تنظیموں کی بنیاد عظیم اخلاقیات پر مبنی ہے، وہ بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر یہ تنظیمیں اپنے کام کی راہوں کا تعین کن بنیادوں پر کرتی ہیں – آخر کونسا پیمانہ ہے جسے استعمال کرتے ہوۓ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس خطے میں ، کس مخلوق / تحریک کی مدد کی جاۓ – بقول انکےغیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے کام میں بنیادی اصول انسانی حقوق ہی ہیں ، مجموعی طور پر یہ جن مسائل کو اجاگر کرتے ہیں ، یا جن تحریکوں کی مدد کرتے ہیں ، ان سب کا بنیادی نقطہ انسانی حقوق کی حفاظت ہی ہوتا ہے – انکے خیال میں کسی بھی تنازع کے بارے میں پہلے سے حاصل شدہ جامع معلومات کا بھی کسی حد تک دخل ہوتا ہے – اور وسائل کی کمی کو جواز بنا کر اپنے اس رویے کو منصفانہ اور جائز قرار دیتے ہیں

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر ابھرنے والے کچھ نۓ اداکاروں کی جانب سے ان مسائل کو دانستہ غیر اہم ظاہر  کرنے کی کوشش کی جاتی ہے –  اوران کا کہنا غلط بھی نہیں ہے ، اپنے آخری تجزیے میں  بی-بی-سی- کے کسی پروڈیوسر یا ایمنسٹی انٹر نیشنل کے کسی مینیجر کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ وہ دنیا میں برائی کے دلدل اور کسی تحریک کی نامور شخصیت میں امتیاز برت سکیں ، لیکن صرف ان دو اہم پہلؤوں پر تمام تر توجہ مرکوز کرنے سے حکمت عملی ، اور منصوبہ بندی جیسے انتہائی اہم پہلؤوں کو دانستہ صرف نظر کیا جاتا ہے – ایسی کوئی  بھی مشق ، مذکورہ پروڈیوسر / مینیجرکی جانب سے  دانستہ طور پر اپنی صفوں میں مزاحمت کار کے کردار کو ثانوی بنا کر پیش کرنے کی سعی، اور دبانے کی کوشش سمجھی جا سکتی ہے –  اس طرح کی کردار نگاری سے متاثر ہو کر کوئی بھی اچھی فلاحی تنظیم اگر کچھ بہت اچھا بھی کر لے توصرف  مزاحمت کار کی تصویر کو ہی اپنی تشہیری مہم کا حصّہ بنا لے گی – اور جو اس کا بد ترین اثر ہو سکتا ہے وہ یہ کہ مزاحمت کار کو کسی بھی تیسرے فریق کی جانب سے وسائل کا منتظر ایک اور فقیر سمجھ کر نظر انداز کیا جاۓ(یہ سودا کتنا مہنگا ہے ذرا چشم تصور سے دیکھیے گا ) – تا ہم تحریکیں اپنے بیرونی وسائل کو استعمال کرتے ہوۓ زیادہ موثر انداز میں اپنے لئے امداد کی راہ ہموار کر سکتی ہیں – مزاحمت کاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا ، این-جی-اوز اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکیں ، لیکن اس راہ میں وو اپنے مخالفین سے زیادہ کامیابی نہیں حاصل کر سکتے- کیونکہ غاصب طاقتوں کو دستیاب  نسبتاً کئی گنا زیادہ  مالی وسائل انھیں دنیا کی بہترین رابطے کی مشینری تک رسائی کا موقع فراہم کرتے ہیں – ایسے میں اگر کچھ مزاحمت کار کے کام آ سکتا ہے تو وہ ہے اس کا نہ ٹوٹنے والا عزم ، اور آگے بڑھنے کا اس کا مصّمم ارادہ

بین الا قوامی امداد کے صرف ترسیل کے رخ پر توجہ مرکوز کر کے کسی بھی منڈی کے ایک بنیادی جز ” مسابقت ”  کونظر انداز کرنا بھی کسی طور درست نہیں ہوگا – کسی بھی مزاحمتی تحریک کو اپنی ہی طرح کی دوسری تحریکوں کی جانب سے ، ایک سی ضروریات ، ایک سے آیجینڈہ، اور ایک سی درخواستوں کی بنا پر سخت ترین مسابقت کا سامنا ہوتا ہے – آج کل کی مہذب عالمی سماج کے دعوے اپنی جگہ ، لیکن اکثریت کے لئے آج بھی وہی دراوڑی دور ہے کہ جس میں طاقتور کی فلاح اور کمزوروں کی بربادی سماجی بنیاد ہوا کرتی تھی -ایک وقت میں، ایک مقصد کے لیے  صرف چند ایک مزاحمتی تحریکوں کے لئے وسائل کی دستیابی ممکن ہوتی ہے – حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ غاصبوں سے نبرد آزما طاقتیں ، اقوام عالم کی ہمدردیوں اور اپنے لیے وسائل و مراعات کے حصول میں ،ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں  -ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے خود کو اور اپنے مقاصد کو دوسرے سے برتر ثابت کرے

 

(جاری ہے……….)

 

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت- حصّہ ٢

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 10, 2011 at 7:11 pm

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت- حصّہ ٢

تحریر نواز بگٹی

آخرایسا کیا ہے جو چند ایک مزاحمتی تحریکوں کے بارے میں  طاقتور عالمی راۓ عامہ کومتاثر کرتا ہے ؟ بنیادی وجوہات کونسی ہیں کہ چند مظلوم اقوام ہی سکڑتی دنیا کی توجہ حاصل کر کے فائدہ اٹھا پاتے ہیں؟

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ، اقوام عالم نے اپنے سیاسی مفادات کے پیش نظر دنیا بھر میں مختلف غیر سرکاری تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں ، تاکہ وہاں موجود سماجی سرشتوں سے باقاعدہ اور مسلسل روابط قائم رکھ سکیں – ایک غالب اکثریت کا خیال ہے کہ بڑھتے ہوے رابطوں نے بین الا قوامی  سیاست کا مزاج ہی بدل کر رکھ دیا-بین الا قوامی  رشتوں میں ، انتشار ، ذاتی مفادات ، اور مسابقت کی جگہ ، باہمی تعاون، اور ہمدردی نے لے لی –  اس بلکل نۓ بڑھتے ہوے رجحان کے تناظر میں نشریاتی اداروں کا کردار ، مفادات کی نگرانی ، اور سماجی طبقوں میں ممکنہ انتشار کا وجہ بننے والےغم و غصے کی نشاندہی مقرر ہوا – جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ابھرتے ہوے تنازعات کی قبل از وقت نشاندہی ممکن ہوئی – اور مہربان تنظیمیں کسی ذاتی مفاد کے بغیر ضروری امداد کے ساتھ میدان عمل میں کود جاتی ہیں – اس نئی اور بظاھر بہادر نظر آنے والی اس دنیا کے دو بنیادی اجزاء ، غیر ریاستی تنظیمیں (این-جی-اوز) ، غیر سرکاری سطح پر قائم، بین الا قوامی سرحدوں کا لحاظ کیے بغیر ، یھ تنظیمیں سیاسی ، سماجی ، اور ثقافتی میدانوں میں سرگرم عمل رہتی ہیں – یا پھر ٹرانس نیشنل ایڈوکیسی نیٹ ورکس  ، یعنی این-جی-اوز، صحافیوں ، اور افسر شاہی کا نا پختہ رسمی اتحاد، جن کا مقصد مشترکہ مفادات کے حصول کی خاطر معلومات اوردستیاب وسائل کا باہمی تبادلہ ہوتا ہے  – یہ دونوں اجزاء باہم مل کر عالمی اخلاقیات کے طاقتور  نقیب کا کردار ادا کرتے ہیں – کچھ سکالرز ان دو قوتوں کی حالیہ پھیلاؤ کوانسانوں کی حاکمیت کے نظام میں  کثیر الا قومی  جمہوریت    ، اور انسانی آزادی کا نام دیتے ہیں – ان خیالات کی روشنی میں ریاستی حدود کے ضابطوں سے بالا تر ، یہ قوتیں غیر اثر پذیر یا جابر حکومتوں کے خلاف سماج کی بلا امتیاز مدد کا کار ہاۓے نمایاں بھی سر انجام دیتے ہیں – یہی وجہ ہے کہ متشدد تحریکیں سرحدوں کے آر پار  اپنے حق میں بلند آوازیں پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں – ایسے حالات میں این-جی-اوز- اور ٹی-اے- اینز ، فروعی مفادات سے بالا تر ، دور رس انسانی خدمت کی راہ میں ، اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتی ہیں –  انسانی امداد ، نا انصافیوں کی تشہیر اور غاصب پر دباؤ کے پیش نظر حقیقی تحریکیں عالمی برادری کی خاطر خواہ توجہ حاصل کر لیتےہیں

ترقی یافتہ دنیا کے کسی کارکن کے نقطہء نگاہ سے شاید یہ سب کافی ہو ، لیکن ابھی درجنوں قابل توجہ اسباب و نقاط رہتے ہیں – کئی ایک نقاط غیر یققنی صورت حال کی بنا پر توجہ طلب ہیں – ترقی پذیر ممالک کی سماجی تحریکیں ، کہ جن کے لئے بین الا قوامی روابط صرف ایک آواز ، ایک مشغلہ ، یا ایک پیشے سے کہیں زیادہ اہم ہیں ، نئی بین الا قوامی  سیاسیات کے بارے میں قدرے مختلف احساسات رکھتی ہیں – جدید ٹیکنالوجی ، اداکار، اور ادارے بلند و بانگ دعوؤں کے مقابلے میں  عملی اقدامات کے حوالے سے اچھی شہرت نہیں رکھتے – جسے کہ انڈونیشیا کے مغربی پاپوا کی آزادی کی تحریک کے رہنما موسیٰ ویرر اپنے ایک ویب سائٹ پر کچھ یوں اظہار خیال کرتے ہیں ” ہم ٣٠ سال سے بھی زائد عرصے تک جدو جہد کرتے رہے ، لیکن دنیا نے ہماری جانب کوئی توجہ نہیں دی ” – یا پھر سوڈان کے جنگ زدہ علاقوں سے آے ہوے ایک مہاجرشکوہ کناں ہیں ” آخر اتنے امریکی سیل اور وہیل جیسی مچھلیوں کے بچانے میں جتنی سرگرمی دکھاتے ہیں ہم ایسے انسانوں کے لئے کیوں نہیں ” – در حقیقت یہ سب صرف عالمی شہرت کے حصول کی بازی نہیں، بلکہ  امدادی حلقوں سے دور ،بہت سارے مزاحمت کاروں کے لئے یقیناً زندگی اور موت کا سوال ہے – غیر ریاستی تنظیمیں یعنی این-جی-اوز-  نہ صرف کم شہرت یافتہ تنازعات کے بارے میں عالمی شعور کو بیدار کر سکتی ہیں ،  مشکلات میں گھری تحریکوں کے لئے مالی امداد کے دروازے کھول سکتی ہیں ، بلکہ غاصب حکومتوں پر دباؤ بھی ڈال سکتی ہیں – واضح طور پر بیرونی قوتوں کے ملوث ہونے سےنہ صرف  حکومتوں کی تشدد  اور طاقت کے استعمال کی پالیسی میں فرق آ جاتی ہے ، بلکہ جائز مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لئے ،معاشی  و طبی امداد ، سامان زندگی ، آلات حرب ، اور علم و ہنرکے ساتھ ساتھ نفسیاتی برتری کا جواز بھی بنتی ہے – کم از کم تحریک اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھتی ، یا پھر کہ سکتے ہیں کہ تحریک کے لئے یہ خیال ہی اطمینان بخش ہوتا ہے کہ دنیا ان کے لئے فکر مند ہے ، یا پھر کم از  کم اتنا  اطمینان ہو ہی جاتا ہے کہ ایک پر مشقت تحریک رائیگاں نہیں جاۓ گی

(جاری ہے …….)

 

کیا آپ کو اسی لمحے کا انتظار ہے ؟؟؟

In national awareness call on January 7, 2011 at 3:18 pm

کیا آپ کو اسی لمحے کا انتظار ہے ؟؟؟

 

– وہ ایک ضروری کام سے کہیں جا رہا تھا ، کہ اچانک گاڑی اس کے قریب رکی ، اور اسے گاڑی میں بیٹھا کر غائب ہو گئی
– بہت سختی سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ، اور گاڑی میں بیٹھے درندہ صفت لوگ اسے اپنے ٹھوکروں میں دباتے ہوے گندی گندی گالیاں دینے لگے
– کچھ دیر بعد اس نے اپنے آپ کو ایک تنگ و تاریک کمرے میں محسوس کیا اور پھر ایک خوفناک شخص نے اس پر تشدد شروع کیا
– جب اسے ہوش آیا تو وہ مادر زاد برہنہ، دیوار سے،سلاخوں کے ساتھ ٹنگا ہوا تھا
– اور پھر کی روز تک حجاموں والی قینچی سے اس کی کھال کوپشت سے شانوں تک بلکل کپڑے کی طرح کاٹا گیا
– ایسی خوفناک اذیت پر اس کی فریادیں خالی و بے جان دیواروں سے ٹکرانے لگی
– جب وحشیوں کو اس سے سکون نہیں آیا تو اسے کی روز تک بجلی کی خطرناک شاک دیے جانے لگے اور وہ تڑپتا رہا
– پھر اس کے حلق پر کلاشنکوف رکھ کر دوسرے لوگوں کا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا
– پھر ایک وحشی شخص نہیں کباڑی والی زنبور سے اس کے ناخنوں کو انگلیوں سے جدا کر دیا
– کئی چودھویں چاند کی راتیں گزر گئیں ، کئی شب برات ، کئی عیدیں گزر گئیں مگر وہ اذیتوں سے تڑپتا رہا اور اس کی ماں کی آنکھیں اس کے آنے کی امید میں دروازے پر ٹکی رہیں
-اسکی آہٹ کا گمان ، اسکے آواز کی پرچھائ ، اس کے ہاتھوں کی نشانیاں ماں کے جگر کو چیرتی رہیں

یہ جلتی زمین ، یہ بے خواب راتیں ، اسکی بیوی کا ماتمی چہرہ ، اس کے بچوں کی بے کسی ، ماں کی آنکھیں پوچھتی رہیں

وہ کہاں ہے ؟

– پھر وحشی لوگ اسے اپنی اذیت گاہ سے نکال کر اسکی زبان کو چاقو سے کاٹ دیتے ہیں ، اور اسے قلی کیمپ میں قائم ڈیتھ سکواڈ  ، سر اور سینے میں گولی مار کر اس کی لاش کو کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں
– اس بر بریت اور ظلم کو ہم کب تک برداشت کرتے رہیں گے ، ٧٠٠٠ سے بھی زائد بلوچ فرزند ایسی اور اس سے بھی گھناونی اذیت برداشت کر رہے ہیں –

ہزاروں میں ، بہنیں ، بیویاں ، اور بچے اپنوں کی کھوج میں اس طرح تڑپ رہے ہیں ، اور کتنے اس طرح تڑپتے رہیں گے اور کب تک ؟

ذرا سوچیے ! یہ بلوچ فرزند کیوں اغوا ہو رہے ہیں اور انکا قصور کیا ہے ؟
بلوچ نہ سہی بحیثیت انسان ہمارا کیا فرض بنتا ہے ؟
کیا ہم اسس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتے ؟
آئیے : ہمارا ساتھ دیجیے ، آخر کب تک ہم چپ کا روزہ رکھیں گے ؟
آئیے : ہمارا ساتھ دیجیے تاکہ ہم ان ظالموں کے ہاتھ روک سکیں

نشر و اشاعت : بی-ایس- او- آزاد