Let we struggle our way

Archive for the ‘Baloch Freedom movement’ Category

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

Perception is never Perfection

In Baloch Freedom movement, Baloch genocide, balochistan, Global Perspective on February 16, 2011 at 9:37 am
Perception is never Perfection
By: Diagoh Murad

Quote:

“Justice if served with silence, it is the derision of Justice”

It is believe to be 21st century where science has its way to prove analytical reports on various projects, where once people thought earth to be flat science made their perceptions to see the earth and the surrounding planet in their true forms, but in all these happenings we never thought that some perception can make us go wrong, can let us decide something which is not true at all. If science has proved many of the mistaken theories of mankind as wrong and illusionary then it has done this in an explanatory way, everything we defined from the solar system to the galaxies all were in details when science came with the total studying of these natural structures, through investigation that is what makes one’s perception to be in true form of perfection.

For centuries people were arrogant by their own judgment that what ever seems to be happening must be real, the people who thought earth to be flat, people who think all Muslims are terrorist, people who thought Black people have no honor, people who think Pakistan is an Islamic State and people who think Baloch to be part of this unethical state, From all these perceptions not even a single came under microscope to be analyzed only one was solved the others are self made illusions from different mindset of peoples.

It is these illusions that have caused them to be ignorant to redefine their perception because what they see is not in its perfect form, If all Muslims were terrorist then the population of Muslims around the world (In Billions) would have caused the doom of civilization, if Black people had no honor then white folks have no regard for humanity either, If Pakistan is an Islamic State then the genocide of 3 Million Bengalis wouldn’t have occurred and another million of Bengali women wont have lost their honor to these savage beasts and last but not the least which was never given any chances to speak for their heart are the Baloch people taken forcefully under the claws of this immoral state, obsolete theory that Baloch are part of this State have caused the population of world to really believe this saying while if one ask the Baloch population that do they love to be called Pakistani, the answer will surely come in negative.

The false allegations that in today are believed to be written truths while the documents and reports are written by those personalities whom had no sense of history or the nature of the inhabitants. A Christian or Jew will always claim and malign the Muslims for the terrorist attacks and charge all the Muslim population to be guilty but if a Christian or Jew murder hundred of Muslims then what that Jew or Christian will be called “Messiah” (Hundred of Palestine Peoples are murdered by the State of Israel), if one Baloch signed an annexation document with Pakistan then that signed documents seals the faith of million other Baloch what if all these millions of Baloch have not accepted the merger and have revolted time by time (Which Baloch nation did from Prince Karim Khan to Brahamdagh Bugti) duly it was the duty of International powers to redo the case of Baloch nation by giving them a chance to speak for themselves but a black response came from these international powers, the boundaries that Pakistan claim as its own are forged by the watchmen of British servitude, the slave of British were given shares and bounties while the aggressors were thrown down.

The wrong perception created by the oppressors shows Baloch to be a patriot Pakistani by giving way to those Baloch who are less important in Baloch politics and nationalism, it has always been the case with the oppressor giving media coverage to those personalities who were never nationalist and never took the interest of nation has their own, same method is applied here in this occupied state of Balochistan. The nationalist are being killed and many are still languishing inside the torture cells while the so called leaders of Balochistan and so called nationalistic parties NP, BNP are making claims of zero atrocities committed.

The centuries old Baloch nation is being annihilated in a slow genocide way and the outside world have no queries over what Pakistan has planned for Baloch nation, from systematic abduction to dumping of bodies non have been shown in international level. Pakistani media proclaims itself to be free from any boundary while it still serves the army like all the other militant states, Pakistani media records “A Man marrying 2 Women at the same day” they can telecast “A sheep carrying four horns” but they never try to show the Pakistani people or the international media of what the Pakistani army is doing in Balochistan.

Pakistan print and electronic media is very much steady and aware of the regional dispute but it keeps its distance from the burning lava so that the wrath of Pakistani army won’t touch them or their profitable marketing business. They can broadcast Punjabis getting attacked in Balochistan but they never publish that Baloch activists and missing persons are being killed by the Pakistani army, remembering one Baloch leader who once said that “If I am being killed then how can I insure their safety”.

The Punjabis who gets killed are working for the intelligence agencies and yet Pakistani media transform them to be innocent and civilized while the local Baloch who has nothing to do with any thing is abducted, tortured for days (In some cases for years) & later family members find him dead and dumped then why the silence, why the lips are sealed and pens are halted, double standard media can never do justice so do the judiciary on which Chief Justice Iftikar Chaudhry keeps on repeating that “Justice will be served”.

From Human rights organizations to International Media none has permission to cross into the boundaries created by the army and paramilitary forces of Pakistan and yet the International powers are dumbfounded over the case of Balochistan, Obama administrations pressured to solve the case of missing persons has led the Pakistani forces to increase their phase in killing the missing persons, contract killers like the “Death Squad” are being given task to eliminate the remaining missing persons one body at a time. “Kill and Dump” policy is such cold-blooded that it shows the behavior of the state with the Baloch population, for the Pakistani forces this game is not new they had played it with Bengali nation and now they are doing it with Baloch nation.

Pakistani forces for mere fun kidnap teenagers, chokes them with ropes, burns their bodies with cigarettes, bash their toes with hammers, breaks their inner bones, puncture their minds and lungs with injections & after they have their ways with the person they carry them to their execution place and squad fires them on that place. Many bodies carried letters in their pockets where the killers write the identity of the bodies or worse they write abusive words for Baloch nationalism.

Arms Bounded, Head Bent, Knees broken, eyes gouged, tongue sliced & carved with markings are the identifications of a severe torture and beatings of Baloch political activists, if these are not eye openers then what will cause them to react, do they want all Baloch nation to be Bounded, Bended, Broken, Gouged, Sliced & Carved so that they can see what is happening in Balochistan, the interesting part of the story is that knowing every detail and inscriptions of many Baloch abductees the organizations working for human betterment doesn’t show any remorse to these victims instead they proclaim the victim to hush-up and work out their differences with the criminals.

In just recent days Dera Bugti, Sibi & Bolan were plunged in a grand operation and thousands of Bugti tribesmen were rounded up for interrogation and never returned their homes taken to unknown location (Military Cantonments), Sibi & Bolan operation led many Baloch locals to become homeless when Pakistani army bulldozed the whole town in retaliation of the attack from the Baloch freedom forces. Is justice being served? Question arises many times because justice in Pakistan is for sale whoever gives a higher bid, justice will be served according to his will, like in just recent days Chief Justice of Balochistan comfortably announced that missing Baloch persons are released and have returned to their homes while the family members of those missing persons claimed that their loved ones are still going through the worse kind of treatment and the justification which Chief justice of Balochistan provided is actually rubbing salt over the wounds of the family members.

International Powers have to correct their perception and do the thinking of what to do with Pakistan and its policies on Balochistan and Baloch nation, the program and developments which Pakistan keeps on repeating as Baloch perspective is different, Nawab Khair Bux Marri once put this as “Anti-Baloch Perspective” which is overall true, parliamentary baloch leaders have already shook their tails and sagged their tongues out but those who are opposing these projects are abducted, tortured & killed.

Forced projects and development can never develop the local Baloch nation because these developments have never been profitable for Baloch nation one fine example is the “Sui Gas Plant” built in the year 1958 it is going through many channels and reaching the deep regions of Punjab but Dera Bugti still suffers from gas supply, from 26 districts of Balochistan only 4 districts have fully stable gas supply while the rest uses the old method. Gwadar port projected as a grand employment opportunity lacks local people recruitment, from top engineers to labors all are employed from Islamabad because of the head quarter situated there.

If these are not Anti-Baloch perspective then what profit did the Rekodik or Saindek has given to Baloch nation, big chunk of profits are going to the foreign investors and companies, remaining chunk goes to the federal Government and in return dog bones are given to Balochistan Government.

Judicial Inquiries, Commissions & Packages all are dramas created by those who are in support of these extra judicial abductions and killings, the panel judges of the commission created for the recovery of missing persons registered 20 cases of Baloch missing while the census of missing persons is in thousand, if this is justice serving then it is better to protest and fight with the uncivilized institutions rather exclaiming for justice.

The reason Baloch nation is appealing to the international powers, human rights organizations and freedom loving people is because they are depressed that not only the Pakistani military forces but the democratic and civilian forces are also against them and both these institutions are working hand to hand to draw Baloch nation to their brink of extinction. While both these institutions stamp the Baloch movement for independence as foreign created but the truth is Baloch nation is the sole owner of this revolution and this movement is being run by Baloch nation, no foreign influence has created this movement, Baloch protested and fought for their independence when they were taken by force & occupied and they are still fighting for their autonomous state.

From top civilian officials to military generals all have the same reason of Baloch uprising that is its “Foreign Influenced” while concealing their brutality with Baloch nation, from abduction, harassment, killing, & military operations every possible torture has been implemented on Baloch nation. Pakistani government cries of Indian involvement, Israeli Involvement & American involvement in Balochistan but would never say that “We occupied Balochistan, We killed Millions of Baloch in the wake of five operations, We snatched their rights to live, We bombarded their towns & cities, We killed mothers, sisters & children of Baloch nation & We are now trying to annihilate Baloch nation”, keeping silence over the extra judicial killings and marking the Freedom fighters has miscreants wont wash away the crimes Pakistan and its forces have done inside Balochistan.

Now its upto the International powers to halt Pakistan’s barbarism and hear the requests of Baloch nation & do justice according to their perceptions and not from the false theories & reports summarized by Pakistan for their own purposes.

 

 

Balochistan – Army & Judicial System

In Baloch Freedom movement, Baloch genocide, Disappearences, FC, justice on January 30, 2011 at 3:43 am

Army Officers acknowledged that a disappeared person was in their custody but the courts failed to recover him.

The Asian Human Rights Commission has received the details of the saga of disappearance of a master tailor who was arrested on two occasions by army personnel and how since October 2001 his whereabouts are unknown. The high officials of the Pakistan army including Corps Commander of Balochistan province, a major general, the governor of the province and above all of them, the chief of the Inter Services Intelligence agency (ISI) had confessed on the holy Quran in 2003 that the victim was in the custody of the ISI and that he would be released after the investigation.

The Judicial Commission to probe the cases of missing persons has also submitted a report to the Supreme Court of Pakistan that Mr. Bangulzai, the master tailor, was in the custody of secret services of Pakistan.

The dilemma is that since 2001 to date, the higher courts, the governments of the federation and Balochistan have failed to recover him because of the involvement of the army and its intelligence agencies in his disappearance.

Mr. Ali Asghar Bangulzai 50, the son of Ghulam Nabi was arrested the first time by secret services on June 1, 2000 from his tailoring shop. After 14 days he was released. After his release it was found that he had lost his memory because of the severe torture he had endured. He could not even recognise his own house where he was born. After his recovery he revealed to his family that he was kept in a torture cell at the basement of army’s Kulli camp situated at Quetta cantonment. During his confinement he was kept blindfolded at all times; his hands were cuffed and he was frequently suspended by the wrists by officials of ISI. This is according to his family members from he later told them. After his release for almost one year he was not able to run his tailoring shop.

Mr. Bangulzai was the resident of Chaki Shahwani, Sariab Road, Quetta, capital of Balochistan province. His tailor shop was in walking distance from his home. The army was suspicious that many people were visiting his shop and that he must be involved in militant activities.

Again, on October 18, 2001 Bangulzai was arrested along with his friend Mohammad Iqbal by men who came in army vehicles. Iqbal was released after 22 days he told Bangulzai’s family members that he was in an army torture cell. The family tried to contact the local officials and army command office for his whereabouts but they refused to meet the family. In early 2002, a constitutional petition was filed in the Balochistan high court, during hearing Mr. Iqbal recorded his statement that Bangulzai was in Kulli Army camp. He also took part in a press conference in Quetta Press Club with Bangulzai family members with regard to his arrest .The family members also submitted an application to SHO (Station head officer) Sariab Police Station with a request to lodge an FIR (First information report) about his illegal arrest and disappearance but the police refused to file the FIR because of the involvement of military intelligence agencies. The family of the victim also filed an application before the High Court to order police to file the FIR but the court could not help the family.

On April 27, 2002 family members of Bangulzai met the then Major General Abdul Qadir Baloch , who was Corp Commander of the province to inquire about the whereabouts of the Bagulzai. The family was given assurance that they would be informed about his whereabouts. The Corps Commander sent two officers from military intelligence to the house of victim on May 15, 2002 who told the family that Bangulzai was safe and in the custody of the ISI. As the interrogation is completed he would be released but officials refused to allow the family members to meet him.

In the meantime the family members in desperation tried to meet members of the parliament. They were able to meet Mr. Hafiz Hussain Ahmad MNA (Member of National Assembly) who took the family members to meet with the head of ISI (Inter services intelligence) Baluchistan, Brigadier Siddique. During the meeting Brigadier called Colonel Bangush and asked him to bring the file of Bangulzai. After seeing the file Brigadier Siddique congratulated the family and said that Banguzai was in their custody. During different meetings the family members of Bangulzai insisted that they wanted to meet with him but every time they were told that there was no need as he would be released soon.

On October 4, 2003 Brigadier Siddique asked the family members of the victim to provide clothes for him because all arrangements had been made for his release.

For the whole one year family members waited for his release and then they adopted the peaceful protest. Bangulzai’s children left their studies and went on a token hunger strike camp in front of Quetta Press Club for the safe recovery of their father and to record their peaceful protest. The camp was there for one year.

On July 14, 2005 the Baluchistan High Court on the pressure from lawyers and civil society took suo motto notice and directed the Superintendent of Police (SP) of Chilton Town, Mr. Wazeer khan, to investigate and register an FIR for Bangulzai’s disappearance by the state intelligence agencies. During the hearing seven persons recorded their statements that army personnel had arrested him and that had assured them many times he would be released from army custody. As usual on the pressure from army Sariab Police Station Quetta refused to register the FIR.

On March 2006 Hafiz Hussain Ahmad, the member of national assembly, visited the token hunger strike camp of family members of Bangulzai and told the local news papers representatives that the head of ISI (Inter services intelligence) Brigadier Siddique has himself acknowledge before him that Bangulzai is in their custody and also assured him that he will be released soon. Hafiz deplored the attitude of ISI officers for lying and misguiding the people.

On February 2007 the family members of Bangulzai submitted a petition in Supreme Court of Pakistan, in which Hafiz Hussain Ahmad’s written statement was submitted in the Supreme Court of Pakistan.

In continuation of their efforts the family members filed a petition in the Supreme Court of Pakistan in February 2007 where Mr. Hafiz Hussain Ahmad, the MNA, has submitted his written statement that ISI had assured him several times that Bangulzai is in their custody. The Supreme Court then ordered on January 31, 2010 that the FIR of his disappearance should be filed. The court also directed the police to file the FIRs of other disappeared persons also.

The Joint Investigation Team to probe the cases of disappeared persons, formed by the government of Pakistan, has also submitted a report to the Supreme Court that according to the testimonies of the eye witnesses and other supportive statements Bangulzai was in the custody of state intelligence agencies.

A Judicial commission to probe the cases of the missing persons, formed by the Federal Government on the instruction from Supreme Court has also came to the conclusion in the March 2010 that after recording all the witnesses that Bangulzai was arrested by the Pakistan secret services and that he was in its custody. The report was duly submitted to the Supreme Court of Pakistan.

During the hearing of the Judicial Commission, Mr.Hafiz Hussain Ahmad (MNA) has recorded his statement that the Brigadier Siddique, head of the ISI in Balochistan province, has acknowledge to him that Bangulzai was in their custody and soon he would be released. Mohammad Iqbal who was arrested with Bangulzai also recorded his statement that they were arrested by secret services and that Bangulzai was in their custody. The other witnesses as well recorded their statements that Brigadier has several times accepted in front of them, and Corps commander Qadir Baloch sent his two (MI) (Military intelligence) personnel to the victim’s family and said that he was in the custody of an Intelligence Agency.

It is appalling that 11 years after his arbitrary arrest and incommunicado detention by the intelligence agencies Bangulzai’s whereabouts are still unknown. None of the institutions and officials who were involved in his disappearance has been put on trial despite the fact that they have admitted his detention 11 years ago! Judges hearing disappearances cases have stated in court that any intelligence officer involved in the disappearance of an individual should be placed on trial but this has never happened. Not one has ever been punished.

In the presence of all the evidence that he was illegally arrested and kept incommunicado in an army torture cell by the ISI, the weakness of the country’s justice system is blatantly evident before the powerful military and security agencies. His disappearance by the military is contravention of the basic rights guaranteed by the constitution of Pakistan for example:

Article 4 — The right of individuals to be dealt with by law, Article 10–safe guards as to arrest and detention — the arrested person should be produced within 24 of his arrest before the magistrate, Article 14 — no person should be tortured, Article 15 — freedom of movement and Article 25- all citizens are equal before the law.

The case of Bangulzai is a clear demonstration that the laws of the country do not apply to the military and intelligence agencies. When it comes to providing justice to the ordinary citizen in the face of these institutions the judiciary remains silent.

The Asian Human Rights Commission urges that Mr. Bangulzai should be released immediately from the captivity by the army and its intelligence agencies and that the officials responsible for this arrest and disappearance are prosecuted. Furthermore, the compensation must be paid to his family for the ordeal suffered by him and his family members.

http://www.humanrights.asia/news/ahrc-news/AHRC-STM-014-2011

 


شہید علی جان بلوچ – میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

In Baloch Freedom movement, Baloch genocide, FC, isi, mi on January 24, 2011 at 3:52 am
شہید علی جان بلوچ – میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تحریر نواز بگٹی
آج پھر بلوچ شہداء کے قافلے میں ایک اور معصوم علی جان بلوچ کا اضافہ ہوا – اطلاعات کے مطابق ، آج صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے اختر آباد کے قریب ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کی مسخ شدہ لاش ملی ، جسے مقامی پولیس نے بولان میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا – ہسپتال ذرائع کے مطابق متوفی کے جسم پر شدید تشدد کے شواہد ملے ہیں ، اور سر میں گولی کا واضح نشان بھی دیکھنے میں آیا ہے – بعد ازاں متوفی کی شناخت مچھ کے رہائشی  بی-ایس-او آزاد کے شہید راہنما ممتاز کرد کے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے ہوئی – متوفی کو خفیہ اداروں نے  گزشتہ سال 23 نومبر کو سبی سے گرفتار کیا تھا – واضح رہے کہ متوفی کے بڑے بھائی ممتاز کرد کو بھی اسی انداز میں خفیہ اداروں نہیں گرفتار کر کے اپنی عقوبت گاہوں میں شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش بے گور و کفن سڑک کنارے پھینک دیا تھا –
18 سالہ علی جان کا گناہ شاید بلوچ ہونا ہی تھا ، ورنہ ایک معصوم بچہ پاکستان کے تخت و تاج کے لئے اتنا خطرناک تو یقیناً نہ تھا کہ بغیر کسی عدالتی کاروائی کے اسے یوں قتل کر کے لب سڑک پھینکنے کی ضرورت محسوس ہوتی – نام نہاد پاکستانی میڈیا بلوچ نوجوانوں کے گمراہ ہونے اور انکا غیر ملکی ہاتھوں میں کھیلنے کا پروپگینڈہ بہت زور شور سے کرتی ہیں – کیا ان کے پاس اس طرح کے بہیمانہ نسل کش اقدامات کے بعد کوئی توجیہ موجود ہے کہ علی جان بلوچ کے ورثاء و رفقاء کیونکر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں- علی جان بلوچ کے ہم جماعت کیونکر اپنے اسکول میں پاکستان کا قومی ترانہ گائیں، اور پاکستان کے پرچم کو سربلند دیکھنا ان کے لئے نا ممکن نہیں؟ یہ قتل ہندوستان کی را یا امریکی سی-آئی-اے کا کارنامہ نہیں بلکہ آپ کے ریاستی اداروں کی سیاہ کاری ہے-
آج حضرت داتا گنج بخش کا عرس منانے والے منافق کیا جانتے ہیں کہ داتا صاحب انکے کارناموں سے کتنے خوش ہو کر فردوس برین میں بھنگڑے ڈال رہے ہونگے – شاید اس بے حس قوم پر لعن تعن کرنا بھی شاید فضول ہی ہے –
علی جان  بلوچ کی والدہ کے غم میں شریک ہونا اور اسے کم کرنا تو شاید کسی زی روح کے بس کی بات نہیں ، اور اسے زمانے کی ستم ظریفی کہیے کہ اس موقع پر بھی اسے بیساختہ مبارکباد دینے کو جی کر رہا ہے کہ یہ اسی ماں کا اعزاز ہے جس کی کوکھ سے دو دو شہیدوں نے جنم لیا –  ہم ایسے بے وقعت لوگوں کے سلام کی وہ محتاج تو نہیں ، پھر بھی انھیں فرشی سلام –
الله کرے بلوچ قوم اپنے اس معصوم لہو کا پاس رکھتے ہوے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کر دے ، تا کہ پاکستان کی وحشی ، درندہ صفت ، غیر انسانی ریاست سے نجات حاصل کر پائیں – تا کہ اپنی آئندہ نسلوں کو ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ سکیں –

ھون زرور کار ءَ کئیت یک روچے مئے قوم ءِ –  تاوان نہ بنت ھچبر نازیک مئے ماسانی

شہید بالاچ مری – بلوچ چہ گویرہ

In Baloch Freedom movement, Baloch Martyers, BLA, bnf, bra, bso on January 18, 2011 at 11:16 pm

شہید بالاچ مری – بلوچ چہ گویرہ

تحریر نواز بگٹی

 

١٧ جنوری ١٩٦٥ کو بلوچستان کے معروف مری قبیلے کے سردار نواب خیر بخش مری کے ہاں بلوچ مستقبل کے درخشاں ستارے میربالاچ مری کی پیدائش ہوئی-  نواب صاحب نے بلوچ تاریخ کے مثالی بلوچ گوریلا بالاچ گورگیج کے نام پر اپنے بیٹے کا نام رکھتے ہوۓ شاید اپنے ذہن کے کسی گوشے میں اپنے فرزند کے مستقبل کے کردار کا کوئی تعین کر رکھا ہو ، لیکن انکے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ انکا بالاچ بلوچ قوم کی آزادی کے راہ میں اپنے پیش رو بالاچ گورگیج کو بہت پیچھے چھوڑ دے گا

ابھی میر بالاچ کا بچپنا ہی نہیں گزرا تھا کہ نواب خیر بخش مری نے بلوچوں پر ہونے والے ریاستی مظالم کے خلاف بلوچ قومی آزادی کا علم بلند کیا – اپنے اس عظیم مقصد  کے لئے انھوں نے قید و بند کی صعوبتوں کے ساتھ ساتھ ہجرت کی اذیت بھی برداشت کی
کہتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں ماؤں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے – اور بلوچ ماں کی لوری تو اپنے بچے کے لئے چاکرا عظم  سے کسی کم کردار پر رضا مند ہی نہیں ہوتی- میر بالاچ مری بھی بہادر ماں کی عظمت بھری لوریوں اور روایتوں کے امین ، عظیم باپ کے زیر تربیت پروان چڑھتے ہیں- انتہائی کم عمری ہی میں بلوچ اپنے گھر میں بلوچ آزادی کے شمع سے روشنی حاصل کرنے کا شرف بھی حاصل رہا – بلوچ قوم پر روا رکھے جانے والے انسانیت سوز مظالم اور بلوچوں کی جبری ہجرت ، دوران جدوجہد یش آنے والے دلخراش واقعات کے چشم دید گواہ بھی رہے

اپنی ابتدائی تعلیم بلوچ گلزمین سے دور افغانستان میں حاصل کی ، جبکہ اعلیٰ تعلیم روس کے دارلحکومت ماسکو  اور برطانیہ کے دارلحکومت لندن سے حاصل کی – پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں بھی جلا وطن رہ کر حصّہ لیا – بلوچستان صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوۓ – اور حلف برداری کی تقریب میں ” پاکستان سے وفاداری ” کے منافقانہ الفاظ استعمال کرنے سے یکسر انکار اور بلوچستان سے وفاداری کے تاریخی الفاظ کی گونج  ریاستی اسمبلی میں سنائی دی

جب ریاستی نظام میں رہتے ہوۓ بلوچ قومی حقوق کے حصول کو نا ممکن جانا تو نواب اکبر خان بگٹی شہید کی معیت میں بلوچ آزادی و خود مختاری کے لئے ہتھیار اٹھاتے ہوۓ یہ تاریخی کلمات کہے ” میں نے اپنے لئے جس راہ کا انتخاب کیا ہے اس کے لئے اکثر و بیشتر ون وے  ٹکٹ ہی دستیاب ہوتا ہے ” . بلوچ قوم کی جدوجہد آزادی میں جس محنت اور جانفشا نی  سے حصّہ لیا اسکی بدولت انھیں بلوچ تاریخ کے چہ گویرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

ریاستی چیرہ دستیوں کے خلاف مسلح جدوجہد منظم کرنے کی وجہ سے ریاستی ادارے بہت عرصے سے میر بالاچ کی جان کے درپے تھے ، اور آخر کار ٢١ نومبر ٢٠٠٧ کو ریاست اپنے اس مذموم مقصد میں کامیاب ہوا ، اور بلوچ مجاہد میر بالاچ شہادت سے سرفراز ہوۓ – ریاستی افواج میر بالاچ مری کی شہادت کو اپنے لیۓ بہت بڑی فتح سمجھتی ہے ، ہر سال خصوصاً  میر بالاچ شہید کی روز پیدائش ١٧ جنوری ، اور روز شہادت ٢١ نومبر کو ریاستی افواج بلوچ قوم پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دیتے ہیں . اپنی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوۓ اس سال بھی ١٧ جنوری کے دن ٥ بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے اذیت ناک تشدد کے بعد انکی مسخ شدہ لاشیں وطن عزیز کے طول و عرض میں پھینک دی گئیں- بلوچ قوم پر چڑھائی کر کے گھروں کو جلایا گیا ، نوجوان شکل بگٹی کو شہید اور ٤٠ سے زائد بزرگوں اور جوانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم اذیت گاہوں میں منتقل کیا گیا- تا کہ بلوچ قوم اپنے قومی ہیرو کو خراج تحسین پیش نہ کر سکیں

بالاچ شہید کی شہادت کا واقعہ اگرچہ بلوچ تحریک آزادی کے لئے انتہائی بڑا نقصان ہی رہا ، لیکن انکی شہادت نے بلوچ تحریک کو مزید مہمیز کر دیا . آج بلوچستان کے کونے کونے سے بلوچ نوجوان اپنا سر ہتھیلی پر رکھے میر بالاچ کے مقصد کی تکمیل کے راہ پر گامزن ہیں

 

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

In baloch, Baloch Freedom movement, balochistan on January 12, 2011 at 2:17 pm

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

تحریر نواز بگٹی


اگرچہ ارادہ تو تحریروں کے پچھلے سلسلے کو جاری رکھنے کا تھا لیکن حالات سے چشم پوشی بھی آخر کب تک . مذہبی جنون کے حوالے سے جنوبی ایشیاء کے بنیاد پرست ریاستوں ،ایران ، پاکستان ، اور افغانستان کی سرحد پر وا قع  ہونے کے باوجود بلوچ دھرتی  پورے خطّے میں مذہبی رواداری کے حوالے سے اپنی ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے – بلوچ جہاں کسی کو بھی اپنی شناخت دینے کے روادار نہیں ، وہیں غیر مسلم خصوصاً ہندو مذہب کے پیروکار فخر سے خود کو بگٹی ، بھوتانی ، جمالی ، مینگل ، اور زہری کہلوانا پسند کرتے رہے ہیں- یہ بھی اس معاشرے کی انفرادی خصوصیت رہی ہے کہ ایک بھائی مسلم تو دوسرا زکری – (مذہبی علماء کی جانب سے زکری فرقے کو ان کے مذہبی عقائدکی بناء پر غیر  مسلم قرار دیا جاتا ہے ) – تاریخ شاہد ہے کہ یہاں ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے  مذہبی عقائد پر عمل کرنے  اور اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ جینے کی آزادی حاصل رہی ہے –
بلوچستان میں جہاں مسلمانوں کو آزادی سے مساجد ، امام بارگاہوں  اور خانقاہوں میں عبادت کی سہولتیں میسر ہیں ،  وہیں غیر مسلموں کو بھی مندر ، گردوارے اور چرچ کی حفاظت کے لئے کسی خاص انتظام کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی – بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہندوؤں کی مقدس مذہبی مقامات ، اور دنیا بھر سے ان مقامات پر عبادت کی غرض سے آنے والے ہندو مذہب کے پیروکار اس معاشرے کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں-بلوچ من حیث القوم اپنی سرزمین پر تاریخ کے بدترین استحصال کا شکار ہے ، اور استعماری قوتیں بھی ہندوؤں کو بھی بلوچوں سے الگ تصور نہیں کرتیں – اس کی مثال ١٧ مارچ ١٩٩٥ کے خونی واقعے سے دی جا سکتی ہے- اس روز غاصب ریاستی افواج نے ڈیرہ بگٹی شہر پر بمباری کر کے ٧٠ ہندو بلوچوں کو شہید کر دیا تھا –
پنجابی افواج نے اپنی روایات کے  مطابق بلوچ قوم پر ظلم و جبر ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی – غاصب ریاستی قوتوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بلوچ اس قوت سے مزاحمت کریں گے – بلوچ قومی مزاحمت مقابلہ کرنے کے لئے غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقے اپناۓ گۓ- بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انکی مسخ شدہ لاشوں کو قوم کے لئے تحائف کا نام دیا جارہا ہے- اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کے لئے  ریاستی افواج نے اپنا نام بدل کر لشکر اسلام رکھ دیا – اب جبکہ اقوام عالم پاکستانی افواج کے پروپگینڈے سے متاثر نہیں ہو رہی تھیں تو غاصبوں نہیں ایک نئی چال چلی – انتہائی منظم طریقے سے معاشرے میں موجود مجرم عناصر کی سرپرستی کی جانے لگی ، پاکستان کی فوجی اسلحہ ساز کارخانے پی-او-ایف واہ کینٹ سے بھاری پیمانے پر ان عناصر کو جدید اسلحہ فراہم کر کے ایک سابق وفاقی وزیر کے زیر سرپرستی جعلی تنظیم تشکیل دی گئی- اس تنظیم کے لبادے میں پاکستان کی خفیہ اداروں کے اہل کار جہاں بلوچوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں وہیں بلوچوں کو تقسیم کرنے کی ناکام سازش بھی کی جا رہی ہے –
بلوچ قومی تحریک نے  ریاستی مظالم کا پردہ چاک کرنے اور اقوام عالم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں جو غیر متوقع کامیابی حاصل کی ، اس سے ریاستی افواج نے بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لئے تحریک آزادی کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دینے کا فیصلہ کیا – عالمی امدادی اداروں کے اہل کاروں کا اغوا ، افغانستان کے لئے جانے والے راستے سامان رسد کی لوٹ مار کے علاوہ ایک منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچ ہندووں کو اغوا کر کے صرف انکے غیر محفوظ ہونے کا ریاستی تصور بھی اسی حکمت عملی کا حصّہ ہیں-
بدقسمتی سے ہمارے کچھ دوست بھی شاید انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت  بلوچستان میں صرف ہندووں کے غیر محفوظ ہونے کا نقطہ اٹھا کر لا شعوری طور پر ریاستی پروپگینڈے کی مدد کر رہے ہیں-ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلوچستان میں ہر بلوچ ، بلا امتیاز مذہب ، نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ ریاستی دہشت گردی کا شکار بھی ہے- اور بلوچ ہندووں کو بھی اپنی قوم کا حصّہ سمجھتے ہیں

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٦

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, war game on January 11, 2011 at 4:13 pm

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٦
تحریر نواز بگٹی

طاقت، تبادلہ اور تشہیر -٢

-اس تحریر میں جن اشاریوں کا استعمال کیا جے گا ، ان سے صرف طلب حمایت کی وضاحت ہو پاۓ گی – مزاحمت کاروں کی امدادی ضروریات کا تعین نہیں ہو پاۓ گا-مزاحمت کاروں کے مقاصد ، کثیر القومی کمپنیوں ، مالیاتی اداروں ، یا ریاستی معاملات کی حکمت عملیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لانے کے ہو سکتے ہیں –  یہ مقاصد کچھ بھی ہو سکتے ہیں ، کسی ڈیم پر کام روکنے سے لے کر کسی ملک کے دو لخت کیے جانے کی کوشش تک-ایک بات دھیان میں رہے اگر ان کے مقاصد آسانی سے حاصل ہونے والے ہوں تو وہ کبھی بھی بیرونی امداد کی جانب راغب نہیں ہوتے- یقیناً کسی بھی تحریک کے ذمہ دار یہ نہیں چاہیں گے کہ انکی امدادی اپیلیں رائیگاں جائیں ، اس لئے کسی بھی بین الا قوامی امدادی ایجنسی ، یا غیر ریاستی تنظیم کو با قاعدہ درخواست دینے سے پہلے ، اسکی امدادی صلاحیتوں ،تنظیمی مفادات ،  طریقہ کار ، اور اسے دستیاب وسائل کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے -اور یہ  بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مزاحمت کاروں کو بھاری اور مسلسل امداد چاہیے ہوتی ہے-

پچھلی تحریر میں ہم مزاحمت کاروں کی بڑی تعداد کے امداد و حمایت کے مستحق ہونے کا ذکر کر کر چکے ہیں – وہ جنھوں نہیں اپنی ویب سائٹس شروع کی ہوئی ہیں ، یا عالمی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں ، انھیں اس معاملے میں ان سب پر برتری حاصل ہے جو ان علامتی سنگ میلوں کو ابھی تک عبور نہیں کر پاۓ-
واضح ہو کہ اس بحث میں خفیہ امداد کی طلب کا پہلو تشنگی کا شکار رہے گا – بیتابی سے امداد کے منتظر لوگوں میں بیرونی امداد کی آمد کے جادوئی اثرات دیکھنے میں آئ ہیں- معروف مصنف کیری مایر کے بقول ” ایکواڈور کے دیہاتوں میں ، جیسے ہی بین الا قوامی اداروں کی جانب سے رقم کا بندوبست کیا گیا ، مقامی ماحولیاتی تنظیموں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا -” وسیع تجریدی بنیادوں کے مشاہدے میں ماہرین سماجیات کے مطابق اس تیرہ کی امداد سیاسی مواقع میں اضافے کا سبب بنتی ہے، یعنی وسائل اور اتحادیوں کی موجودگی سماجی تحریکوں کو مہمیز کرتی ہیں-پس بیرونی وسائل تک رسائی سے مزاحمت کاروں کی تعداد یا انکے مطالبات میں مقامی ضروریات کے مطابق اضافہ ہو جاتا ہے
ضروری نہیں کہ غاصب و طاقتور کا مقابلہ کرنے والی ہر تنظیم /گروہ/تحریک اپنے مقاصد کو بین الا قوامی سطح پر اجاگر کرے – بسا اوقات مخصوص مذہبی اعتقادات یا قومی تصورات کے تقاضوں کے پیش نظر کچھ تحریکیں اپنے معاملات کو بین الا قوامیت کا درجہ دینے سے گریز کرتی ہیں- شاید یہی وجہ ہے کہ پیرو کی مشہور ” شائننگ پاتھ ” نامی مزاحمتی تحریک خود کو بین الا قوامی سطح پر بہت کم متعارف کرواتی ہے- کچھ مزاحمت کاروں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی ہی آبادیوں سے مناسب وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں-ہندوستان کے کچھ مذہبی گروہ اپنے علیحدہ ریاستوں ( صوبائی یونٹس ) کے قیام کی جدجہد میں ، مقامی وسائل کے استعمال سے کامیاب ہوئی ہیں ، انھوں نے کبھی بین الا قوامی امداد نہیں حاصل کی -مقامی سیاست کے تقاضے بھی بیرونی امداد سے پہلو تہی کی وجہ ہو سکتے ہیں- جیسے کہ فیڈل کاسترو کی حکومت کے مقامی مخالفین ، امریکی امداد قبول کرنے سے انکار کرتے آۓ ہیں- ملائیشیا میں بھی شہری سماج کی تنظیمیں بیرونی این-جی-اوز سے امداد لینے سے گریز کرتی ہیں کیوں کہ ملک کی سیاسی قیادت این-جی-اوز کو مغربی دنیا کی پیادہ سپاہ سے تشبیہ دیتے ہیں- ان اصولوں سے سیاسی بنیادوں پر اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہے ، جیسے کہ  کے امریکا کے معروف ماہر سیاسیات ” ایلمر ایرک ایس ” کے خیال میں تمام سیاسی دساتیر کی بنیاد توسیع پسندی ہے ، اپنے مقاصد میں  کامیابی کے لئے دستیاب وسائل کی کمی سے تنگ آ کر ہی مزاحمت کار بیرونی امداد کا طلبگار ہوتا ہے
بین الا قوامی امداد کی ترسیل پر اگر نگاہ ڈالی جاۓ تو ، گزشتہ چند سالوں میں این-جی-اوز کے  وسائل میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے- اس کے با وجود  اہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ مقامی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں-ہیومن رائٹس واچ  دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک معتبر تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے ، اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ” ہم واضح طور پر بہت سارے سنگین انسانی حقوق کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ” – اسی طرح  امریکی شہر واشنگٹن ڈی-سی- میں قائم  ” انٹر نیشنل فاونڈیشن فار الیکشن سسٹمز ” نامی تنظیم اپنی ایک رپورٹ میں  دنیا بھر سے جمہوریت اور انتظامی مدد کے طلبگاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا انکشاف کرتی ہے-عالمی بینک کے مطابق ترقی کے میدان میں کام کرنے والی این-جی-اوز کے وسائل ، غربت کے دائرہ کار اور گہرائی کے مقابلے میں بونوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں- صرف انسانی حقوق یا غربت کے خاتمے کی تنظیموں کا ہی یہ حال نہیں ہے ، ماحولیاتی میدان میں کام کرنے والی تنظیموں کے وسائل پر اگر نظر ڈالی جاۓ تو ان کے حالات بھی دگر گوں نظر آتے ہیں- ماحولیات پر کام کرنے والی ایک تنظیم انٹر نیشنل ریور نیٹ ورک  کا کہنا ہے کہ وہ کم وسائل کی بنا پر صرف ان معاملات پر دھیان دینے کی کوشش کرتے ہیں جن سے عالمی ماحول کو شدید خطرات لاحق ہوں
ایک طرف این-جی-اوز کو  مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے  معاشی مشکلات کا سامنا ہے ، تو دوسری جانب انھیں اپنے ریاستی سرپرستوں ،اور مخیر حضرات سے  تنظیم کے لئے مالی وسائل کا بندوبست کرنے کے لئے شدید مسابقت کا سامنا ہے-گزشتہ تھوڑے سے عرصے میں جہاں کئی ایک نئی این-جی-اوز ظہور پذیر ہوئی ہیں ، وہاں  درجنوں وسائل کی کمی کا شکار ہو کر معدوم بھی ہو گئیں- مسابقت کا ماحول این-جی-اوز کو انفرادیت برقرار رکھنے پر مجبور کرتی ہے ، جس کی بناء پر این-جی-اوز مخصوص مسائل پر ہی اپنی توجہ مرکوز کرتی ہیں یا پھر کسی مخصوص میدان میں مہارت کا مظاہرہ کرتی ہیں- مسائل و مصائب کے اس گورکھ دھندے میں گھرے رہنے کے باوجود این-جی-اوز کسی تحریک کی مدد کو مردانہ وار آگے آتی ہیں- بنیادی طور پر دنیا بھر کے مخیر حضرات / اداروں اور مستحقین کے بیچ ان تنظیموں کا کردار دربان کا سا ہوتا ہے- اپنی سالوں کی محنت سے اس دربان کو یہ محترم جگہ بھی مل جاتی ہے کہ وہ  کسسی بھی خطّے میں ، کسی بھی تحریک کی مدد کا فیصلہ کرے- این-جی-اوز کے کردار کے علاوہ جو چیز اہم ہے ، وہ ہے انکی معلومات کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی صلاحیت- کیونکہ دوسری این – جی – اوز ، صحافیوں اور سرکاری اداروں تک انکی رسائی کسی دوسرے کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے- ایسی صورتحال میں اگر یہ دربان براہ راست کسی تحریک کے حق میں کوئی بات نہ بھی کریں تو ،دوسرے ذرائع سے کسی بھی تحریک کو نہ صرف زبان ، اور پہچان دے سکتے ہیں بلکہ انکے تحریک کے جائز اور اہم ثابت کر کے انکی حمایت پر اپنی رضامندی بھی ظاہر کی جاتی ہے- بہت سارے معاملات پر ایسے دربان تلاش کرنا قدرے آسان ہوتا ہے- انسانی حقوق کے میدان میں ، ہیومن رائٹس واچ ، اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کردار ،  ماحولیات کے میدان میں گرین پیس اور فرینڈز آف ارتھ نامی تنظیمیں کچھ اس طرح ہی کا کردار ادا کرتی ہیں
چونکہ اکثر این-جی-اوز کے پاس مزاحمتی تحریکوں کے دعووں کو پرکھنے کے لئے ضروری مہارت اور وسائل نہیں ہوتے اسی لئے وہ ان دربان صفت این-جی-اوز کی سفارشات پر بہت حد تک انحصار کرتے ہیں- ایسے این -جی-اوز کو پیروکار این-جی-اوز کہنا غلط نہ ہوگا – در حقیقت یہ پیروکار این-جی-اوز جن تحریکوں کی مدد یا حمایت کر رہے ہوتے ہیں ، ان سے باہمی روابط بھی براۓ نام ہی رکھ پاتے ہیں –  امریکی سیریا کلب کا ایک نمائندہ دربان صفت این-جی-اوز پر اپنے انحصار کی وجہ بیرونی دنیا میں اپنے تنظیمی ڈھانچے کے نہ ہونے کو قرار دیتے ہیں- انکا کہنا ہے ” چونکہ امریکا سے باہر ہمارے منظم دفاتر نہیں ہیں ، اسی لئے ہم “ایمنسٹی انٹر نیشنل ، ہیومن رائٹس واچ ، اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ” جیسے اداروں کی دی گئی معلومات پر تکیہ کرتے ہیں
امدادی کاموں میں انتہائی اہم کردار کے باوجود ممکن ہے کہ دربان صفت این-جی-اوز کسی مزاحمتی تحریک کے پہلے حمایتیوں میں نہ ہوں – بہتر ہوگا کہ تحریک ابتدائی مراحل میں غیر نمایاں تنظیموں سے اپنے رابطے استوار کرے ، ایسی تنظیمیں ان کے مقاصد کو مناسب انداز میں معروف دربانوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں- ایسی غیر نمایاں تنظیموں کی جگہ  ایسے افرادبھی لے سکتے ہیں ، جن کے تحریک سے گہرے روابط ہوں – یا پھر اساتذہ کرام / علماء کرام بھی جز وقتی طور پر تحریک کے مقاصد کو مناسب آواز دے سکتے ہیں- امریکا کے ماہرین بشریات نے امریکا کے بسنے والے قدیم نسلوں کی حقوق کے  تحفظ کے لئے ایک ایسا ہی کامیاب تجربہ کیا ہے- کچھ این-جی-اوز پیشہ ور انداز میں اسس طرح کے کام کے لئے بھی اپنی خدمات وقف کرتی ہیں -تا کہ مقامی تحریکوں کی  مناسب امدادی اداروں اور ممکنہ امدادی ڈھانچے سے رابطے استوار کرنے کے لئے راہنمائی کر سکیں- اس سلسلے میں نایجیریا کے ” کدرت انیشیٹو فار  ڈیولپمنٹ ” نامی ادارے کی مثال دی جا سکتی ہے ، جیسا بنیادی مقصد شہری سماج کی تنظیموں کو مناسب و ممکنہ امدادی اداروں تک رسائی کے لئے سہولیات کی فراہمی ہے- وسیع تر معنوں میں اس تمام صورتحال کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ  ” بین الا قوامی امدادی تنظیمیں ،دربان صفت تنظیموں کی سفارشات کے بنیاد پر  مقامی امدادی تنظیموں کے توسط سے انسانی امداد کی مقامی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

دو باتیں تو بہت واضح ہو جاتی ہیں ، پہلی یہ کہ امدادی سلسلہ ہمیشہ یکطرفہ نہیں ہوتا ، اور دوسری بات یہ کہ ہر امدادی سلسلے کے پیچھے کئی ایک راہنما قوتیں کار فرما ہوتی ہیں- لیکن ایک بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ ہر معاملے میں متعلقہ این-جی-اوز کا کردار یکساں نہیں رہتا – مختلف تنازعات کے امدادی کاموں میں سرگرم این-جی-اوز کے کردار کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ایک ہی این-جی-او کسی ایک معاملے میں دربان کا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے تو اسی وقت کسی دوسرے معاملے میں پیروکار کا- اسی لئے کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ بین الا قوامی سطح پر امداد کی اپیل سے پہلے مناسب غیر ریاستی تنظیم کے انتخاب میں ضروری عرق ریزی سے کام لے

(جاری ہے …………….)

علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 11, 2011 at 3:29 am

علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥
تحریر نواز بگٹی
طاقت ، تبادلہ ، اور تشہیر
حمایت کے حصول کی خاطر مزاحمتی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے اپنے روابط استوار کرے ،  اپنی راہ میں قربانیاں دے ، اور بہت کم داؤ پر لگاتے ہوۓ نسبتاً زیادہ مراعات حاصل کر سکے – اور اکثر مزاحمتی تحریکوں کو حالت کے دباؤ ، دشمن کے کشت و خون ، وسائل کی کمی ، یا غیر نمایاں مقام ایسا کرنے پر مجبور بھی کرتی ہیں – بین الا قوامی  برادری سے مربوط رشتے تحریکوں کو اپنی جیسی مسابقتی تحریکوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہیں – تاہم امداد کے وعدے علاقائی تنظیموں کو عالمی برادری کی جانب راغب ضرور کرتی ہے – لیکن یہاں انھیں اپنے تصور سے کچھ زیادہ ہی بے وقعت ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے – یقیناً بیرونی دنیا کے لئے پایا جانے والا ہمدردی کا جزبہ این-جی-اوز کومنافع خور  کثیر القومی کمپنیوں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں سرشار ریاستوں سے ممتاز کرتی ہیں – جیسے کہ  این -جی-اوز کا مرکزی مطمع نظر ، خیالات ، اصول و ضوابط ، اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کی ترویج ہوتی ہے – انکے حالیہ بڑھتے ہوۓ اثر و رسوخ نے دنیا بھر میں تنازعات  پر مقالموں و مباحثوں کے انعقاد ،وسیع تر انتخاب ، اور بہتر نتائج کے ذریعے  عالمی سیاست کے بارے میں اقوام عالم کو ایک نۓ نقطہء نظر سے متعارف کروایا – مظلوموں کی طرف سے رضاکارانہ کاروائی انکے بنیادی اقدار میں سے ایک ہے – اور اکثر این-جی-اوز کے عمال اپنی متعین کردہ راہ عمل کو انتہائی اخلاص اور خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں – لیکن این-جی-اوز اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود -ایک تنظیم ہی ہوتی ہیں – انہیں  بھی  ، کسی بھی تنظیم کی طرح ، بقا ، بحالی ، اور نشونما کے بنیادی مسائل کا سامنا رہتا ہے- عالمی رشتے استوار کرتے وقت ان مسائل سے نمٹنا بذات خود ایک مسلہ ہوتا ہے -مزاحمتی تحریک  چاہے کتنی بھی مربوط نیٹ ورک کا حامل کیوں نہ ہو ، اس کے اغراض و مقاصد، دائرہ عمل ،اور  طریقہء کار  کسی بھی این-جی-او سے یکسر مختلف ہوتے ہیں – حالانکہ دونوں ہی محکومانہ سیاسی نظام ، اور پیسے ہوۓ طبقے کے درمیان کام کر رہے ہوتے ہیں
دو مختلف کرداروں کے تناظر میں مزاحمتی تحریک اور کسی بھی این-جی-او کے درمیان رشتے کو صرف با ہمی تبادلے کا نام دیا جا سکتا ہے – ایک مدت سے سماجی تجزیوں میں باہمی تبادلے کا یہ تصور تو رائج ہے ہی لیکن بین الا قوامی نیٹ ورکس کے پڑھنے والے شاید اس تصور کے بصیرت کی گہرایوں کو جانچنے سے قاصر رہے- اس تناظر میں ایک طرف تو مزاحمتی تحریک اپنے لیے  اخلاقی جواز کے ساتھ ساتھ  معاشی ، مادی ، اور معلوماتی مدد کی منتظر ملتی ہے تاکہ اپنے سے طاقتور دشمن کا مقابلہ کر سکے – جبکہ دوسری طرف این-جی-او اپنے محدود مفادات اور  مخصوص مقاصد لئے – مقامی تحریکوں کی حمایت کر کے این-جی-اوز  ضرورت مندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے ، اور اپنے اصولی یا سیاسی مقاصد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں – انہیں اہم غیر مادی وسائل تک بھی رسائی حاصل ہو جاتی ہے – سب سے اہم این-جی-او کے لئے بین الا قوامی طور پر متحرک ہونے کا اخلاقی جواز فراہم ہونا ہوتا ہے ، انکی یہ ضرورت کبھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہے- اپنے دائرہ اثر میں پر وقار مقام دلا کر ، یا دوسری تحریکوں کے بارے میں کارآمد معلومات فراہم کر کے،  اکثر امداد وصول کرنے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کو وسیع تر مہمات کے  کی تیاری میں مدد فراہم کر رہے ہوتے ہیں- مزید برآں عقلمندی سے کام لینے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کے محدود وسائل کو حتیٰ الا مکان بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں تا کہ انھیں کسی اور جگہ / کسی اور مقصد یا جدوجہد  کے لئے استعمال کیا جا سکے
اسی طرح کی باہمی مفادات عالمی حمایت کی  فضا ہموار کرتی ہیں – لیکن اس منڈی میں فریقین کے ما بین طلب و رسد کا فرق بہت زیادہ ہوتا ہے-طلب کی طرف ،امداد کے حصول کی خاطر ، (حالات سے تنگ یا پھر موقع اور وسائل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف )،   بہت سارے مزاحمت کار وں کی مسلسل اپیلیں ہوتی ہیں – اگرچہ مزاحمت کاروں کے درست اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہو سکتے ، لیکن امدادی اداروں کو ، بذریعہ ای-میل ، فیکس، یا پھر براہ راست  درخواستیں دی جاتی ہیں- مزاحمت کاروں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے انٹر نیٹ پر موجود انکے ویب سائٹس کو بھی اشاریے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے – ان ویب سائٹس کا بنیادی مقصد دنیا کو اپنے دعوؤں کے بارے میں آگاہ رکھنا ہوتا ہے – ایسی سینکڑوں ویب سائٹس کا حالیہ سالوں میں اندراج دیکھا گیا ہے – مقامی مزاحمت کار  ماحولیات کے مسائل سے لے کر نسلی و انسانی مسائل پر مباحثے کے لئے منعقدہ بین الا قوامی اجتماعات میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں-
پچھلے ٣٠ سالوں میں اقوام متحدہ کے تعاون سے منعقد ہونے والے مباحثوں میں غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت میں ڈرامائ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے – انہیں نہ صرف شرکت کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ان کے اپنے طریقہ کار کے مطابق مختلف معاملات پر اخذ کیے گے ان کے تجزیوں اور نتائج پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے- حتیٰ کہ مقامی  باشندوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے  ورکنگ گروپ فار انڈیجینیس پاپولشن ، کے با قاعدہ سالانہ اجتماعات مزاحمت کاروں کی بڑی تعداد کے لیے پر کشش بن گئی ہیں-  اگرچہ ان اجتماعات کے کئی ایک مقاصد ہوتے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ اہمیت  باہمی رابطے کے بین الا قوامی    موقع کو دیا جاتا ہے

(جاری ہے …..)

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٣

In Baloch Freedom movement, BLA, bnf, bra, gurriella warfare, war game on January 10, 2011 at 9:55 pm

علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٣

تحریر نواز بگٹی

انتہائی خطرناک ہونے کے باوجود طرفین کی کوشش ہوتی ہے کہ عالمی راۓ عامہ کو اپنے لئے ہموار کرنے اور ہمدردیاں حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں – اس تحریری سسلسلے میں ہماری کوشش ہو گی کہ ان تمام اسباب پر غور کیا جاۓ جن کی وجہ سے مخصوص مزاحمتی تحریکیں تو اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجوڑنے میں کامیاب ہوتی ہیں ، جب کہ دیگر تحریکیں ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں – مجھے یہ لکھتے ہوے بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتا  کہ تحریکوں کی انفرادی کاروائیاں ،جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور ان  کی صلاحیتیں بھی اس سارے تناظر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

اکثر تحریکوں کی غیر معمولی پزیرائی ان کے زیر اثر علاقے کی بین الا قوامی اہمیت ، یا پھر کسی بھی بڑے نشریاتی ادارے کی غیر معمولی دلچسپی کے سبب  بھی ہوتی ہے اس تحریر میں مقامی تنظیم کو مرکزی سطح پر رکھتے ہوے ،عالمی لاپرواہی سے مشتعل ہو کر ، اپنی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے انکے  اختیار کردہ مشکل اور  پر خطر طریقہ کار پر بھی نظر ڈالی جاۓ گی

کسی بھی تحریک کی بنیادی اور فوری ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی آواز کو اقوام عالم غریب اور پسسے ہوۓ انسانوں کی آواز سمجھ کر سنیں – ایسا کرنے کے لئے وہ مقدور بھر کوشش کرتے ہیں کہ براہ راست توجہ حاصل کرنے اور اقوام عالم کی سرپرستی کے حصول کی خاطر  میڈیا کو توڑ کر اپنے حق میں استعمال کیا جاۓ – اسکے بعد اپنے اغراض و مقاصد کو بڑھاتے ہوۓ شدت پسندوں کی جانب سے محدود مطالبات ، صوبائی / نسلی تنازعات ، اور ایک مخصوص شناخت سامنے لے جاتے  ہیں – آج کی عالمی اخلاقیات کی منڈی میں ضروری ہے کہ مزاحمت کار اپنے ہاں کی صورت حال کی تشہیر کریں ، تنازعات کے تناظر میں اپنی جدوجہد کو جائز ثابت کریں ، اور اپنی آواز کو ایسی صورت میں ڈھالیں کہ اس کی گونج بہار کی دنیا تک کو سنائی دے – اسی تناظر میں ہی چند نقاط پر اپنی بحث کو مرکوز کرتے ہیں – – کسی بھی معروف این-جی-او کی حمایت حاصل کرنا نہ تو آسان ہے ، نہ ہی خودکار ، بلکہ ایک مسابقتی طریقہ کار سے ہی یہ حمایت حاصل کی جا سکتی ہے ، لیکن اس طرح کی حمایت کو بلکل یقینی بھی نہیں بنایا جا سکتا – کئی ایک تحریکوں کی اپنے ہی ملک / خطے ہی  میں کسی غیر ریاستی تنظیم کے توجہ کے حصول کی کوششوں کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا – تا ہم باہر بیٹھے لوگوں کو مخاطب کرنے کے لئے دھیان رکھا جاۓ کہ انھیں کوئی بنیادی معلومات حاصل نہیں ہیں -صحافی و علماء ہمیشہ ان تنازعات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جو عالمی سطح پر واضح شناخت رکھتے ہوں – یقین جانیے کے کہکشاں میں دور چمکتے ہوۓ ستاروں کی قسمت میں عمومی توجہ نہیں ہوتی – اور بدقسمت کے ہر کوشش کو نظرانداز کیا جاتا ہے – یا پھر کہا جا سکتا ہے کہ عالمی وسائل کا بھاؤ ان تھوڑے قسمت کے دہانی لوگوں کی جانب ہوتا ہے – اپنا قسمت بدلنے میں ناکام رہنے والی تحریکوں کو چاہیے کہ اپنی توانائیاں کہیں اور استعمال کریں ، کیونکہ ایسی بد قسمت مزاحمت انھیں موت کی اندوہناک گھاٹیوں میں دھکیل دے گی

امداد کی بڑھوتری اور تسلسل  کا انحصار تحریک کی ضروریات سے زیادہ اپنے ہمدردوں سے استوار رشتوں پر ہوتا ہے – امداد کی فراہمی کے تناظر میں بہت کم غیر ریاستی تنظیمیں نظر آتی ہیں جو  بلا امتیاز ، انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتی ہیں ، اور کسی بھی مزاحمتی تحریک کو دوسری تحریک پر فوقیت نہیں دیتیں – چونکہ امدادی تنظیموں کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور دنیا مسائل کی آمجگاہ بنی ہوئی ہے – ہر مزاحمتی تحریک خود کو انسانی و اخلاقی امداد کا مستحق تصور کرتی ہے ، ایسے میں ایک مسابقتی ماحول کا پیدا ہونا فطری عمل کہلاۓ گا –  اور پھر غیر ریاستی تنظیمیں کسی خاص ریاستی ضابطے میں بندھی ہوئی نہیں ہوتیں ، ان کی کچھ اپنی ترجیحات بھی ہوتی ہیں – یہ تنظیمیں امداد کی فراہمی کے وقت غیر رسمی طور پرضرورت مند تحریک سے زیادہ اپنی ترجیحات سے قریب تر تحریکوں کا انتخاب کرتی ہیں –  اس تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوۓ کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ دنیا اس کی درخواستوں  کو خالص انسانی ضروریات کے تناظر میں دیکھے – اب تحریک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے لئے عالمی برادری کی پہلی ترجیحات میں جگہ بناۓ، یعنی تحریک کو اپنی ترجیحات کی تشریح کچھ اس ادا سے کرنی ہو گی کہ اپنی بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر انہیں عالمی مفادات کی شکل میں پیش کر سکے – بظاھر سادہ نظر آنے والا یہ کام فنی اعتبار سے بہت باریکیوں کا حامل ہے ، اور ذرا سی بے احتیاطی سے غاصب کو مد مقابل تحریک کے بارے میں مہلک  پروپیگنڈہ  کا جواز فراہم کر سکتا ہے
کسی بھی غیر ریاستی ، یا غیر رسمی تنظیم سے امداد کا حصول چونکہ اخلاقی منڈی میں مسابقتی صلاحیتوں پر منحصر ہے ، ایسے میں کسی بھی تحریک کا معاشی ، ثقافتی ، اور تنظیمی ڈھانچہ بہت اہمیت رکھتے ہیں –  جو تحریکیں ان معاملات پر  خصوصی توجہ دیتی ہیں انکے لئے اقوام عالم میں جگہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے – کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے مخاطب ہوتے وقت اپنے لیے مخصوص امداد کی درخواست  اور اس امداد کے استعمال کا واضح طریقہ کار نمایاں کرنے کے قابل ہو – کوئی بھی درخواست ، ضروریات و اہداف کی واضح اور جامع  نشاندہی کے بغیر قابل پزیرائی نہیں ہوتی – ان تمام خصوصیات کے باوجود اگر تنظیمی ڈھانچے میں کوئی جھول نظر آ جاۓ تو یقیناً ایسی تحریک کے لئے بیرونی امداد کا حصول جوے شیر لانے کے مترادف ہو گا – ان تمام لوازمات کو نظر انداز کرنے والی تحریکیں ، سیاسی ، سماجی اور مالی اعتبار سے نہ صرف تنہا ہوتی ہیں بلکہ انھیں اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود دیوالیے پن کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے

– تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ ہے تحریک کو پیش کرنے کا زاویہ – یعنی تحریک  کی مارکیٹنگ –

زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ ممالک / اقوام کی امداد مظلوم و محکوم تک پہنچ کر انکی قسمت بدل دیتی ہے ،اور انکی اس راۓ سے اختلاف کی بہت کم گنجائش ہے –   لیکن یاد رہے یہ امداد خودکار طریقے سے نہیں پہنچ پاتی ، یا پھر اگر پہنچتی ہے بھی تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے – اس لئے ضروری ہے کہ اپنی تحریک  کے مقاصد ، اپنے لوگوں کے مسائل ، اور غاصب کے ظلم و جبر کی مناسب تشہیر کی جاۓ ، تاکہ عالمی برادری کی جانب سے بر وقت اور موزوں امداد کو یقینی بنایا جا سکے – کسی بھی تحریک کی تشہیری مہم کے دو بنیادی مقاصد ہوتے ہیں ، ایک تو اپنے معاملات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنا ، اور دوسرے  ضروری اور بروقت امداد کا حصول
امدادی منڈی کا سب سے اہم مسلہ امداد کے اثرات کا غیر مرئی  ہونا ہے – چاہے امداد حاصل کرنے والی تحریک احسان مندی کا اظہار ہی کیوں نہ کرے – بہت سارے صحافیوں اور سکالرز کی نظر میں سرحد پار مصروفیات نظر نہ آنے والی رحمتوں کے مترادف ہوتی ہیں – غیر سرکاری تنظیمیں اثرات کے  غیر مرئی ہونے کی وجہ سے کوئی واضح امداد کرنے سے کتراتی ہیں – ایک طرف تو مقامی مزاحمت کاروں کو حاصل شدہ امداد کو اپنے مقاصد کے لئے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے – دوسری جانب کسی بھی غیر ریاستی فلاحی تنظیم کے لئے کسی خاص مزاحمتی تحریک کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے – اس لئے تمام تر امداد خفیہ / یا مہارت سے ترتیب دی ہوئی انسانی ضروریات کے پیش نظر دی جاتی ہے – خفیہ امداد چونکہ مسلسل و مربوط نہیں ہو سکتی لہذا ہمیشہ اس کے ختم ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے – خاص طور پر عالمگیر توجہ پانے کے بعد اگر مزاحمت کار غاصب کے خلاف اپنی کاروائیوں میں زیادہ شدت لے آتے ہیں ، اور ایسے موقعے پر اگر امدادی سلسلہ منقطع ہو جاۓ تو تحریک کی زندگی کے سامنے سوالیہ نشان لگ سکتا ہے – اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خفیہ امداد کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے – اس تمام صورت حال کے لئے تحریک کو نہ صرف تیار رہنا پڑتا ہے بلکہ متبادل منصوبہ بھی تیار رکھنا پڑتا ہے

(جاری ہے……..)

انقلابی تحریک -چھاپہ مار جنگ ایک امتیازی حکمت عملی

In Baloch Freedom movement, BLA on January 1, 2011 at 8:53 pm

انقلابی تحریک -چھاپہ مار جنگ ایک امتیازی حکمت عملی

تحریر نواز بگٹی

اگر مجموعی طور پر دیکھا جاۓ تو انقلابی تحریکیں حالت جنگ میں بھی مروجہ جنگی حکمت عملیوں سے مختلف و ممتاز حثیت رکھتی ہیں . تحریک چاہے بہت ہی چھوٹے پیمانے پر ہو یا وسیع  قومی تحریک کی شکل اختیار کر جاۓ اس کی کاروائیوں اور روایتی جنگ میں اتنا ہی فرق ہو گا جتنا کہ روایتی اور نیوکلیائی جنگ میں ہو سکتا ہے – روایتی جنگ کے مقابلے میں کم از کم چار  بنیادی نقاط ایسے ہیں جو اس جنگ کو امتیازی حیثیت دیتی ہیں –

– طاقت کے مرکز کا ایک ہونا

انقلابی تحریکوں کی پشت پرہمیشہ  ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ اور وسیع عوامی حمایت  کار فرما  ہوتی ہے ، اگر بوجوہ تحریک عوامی مقبولیت کھو دیتی ہے یا تحریک کی عوامی پذیرائی میں کمی آتی ہے تو بہت حد تک ممکن ہے کہ تحریک کی عسکری سپاہ خود کو جارح و قابض افواج کی نظروں سے نہ چھپا پائیں ، جو کہ تباہی اور تحریک کی یقینی ناکامی پر منتج ہو سکتا ہے -عوامی حمایت بہت واضح بھی ہو سکتی ہے اور اگر قابض افواج کی جارحیت و بر بریت وحشیانہ ہو تو تحریک  کے لئے عوام کی خاموشی  اور غیر جانبداری بھی حمایت ہی تصور کی جاتی ہے –
یہی عوامی مقبولیت ہی در اصل تحریک کو ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے کی بنیادیں فراہم کرتی ہے کوئی بھی تحریک سیاسی بازو کے بغیر لولی لنگڑی تصور کی جاتی ہے -( اور لولے لنگڑوں پر  ترس تو کھایا جا سکتا ہے لیکن قوموں کی تقدیر کے فیصلوں کا اختیار انھیں نہیں دیا جا سکتا )-سیاسی بازو سے محرومی کا مطلب ہے تحریک کا  سراغرسانی جیسے  جنگ کے انتہائی اہم پہلو سے محروم ہو جانا ،جس کا مطلب ہے  نہ صرف دشمن کی چالوں سے بے خبری بلکہ موثر حکمت عملی سے بھی محروم ہونا – اس پر طرہ یہ کہ جو سیاسی ڈھانچہ تحریک کے لیۓ افرادی قوت کا بندوبست کرنے کے حوالے سے اہم ہوتی ہے اس کے بغیر تحریک بجاۓ پھیلنے کے مزید سکڑ جاتی ہے -تحریک کو مادی وسائل کے بارے میں بھی بلکل اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے – یعنی مضبوط و مربوط سیاسی ڈھانچے کے بغیر تحریک جنگجووں کے ایک جتھے سے زیادہ اہمیت اختیار ہی نہیں کر سکتی ، اور کسی بھی منظم قابض طاقت کے لیۓ چند جنگجوؤں کو کچلنا چنداں پریشانی کا سبب نہیں ہو سکتا –
ایک طرف تو ثابت ہوتا ہے کہ انقلابی تحریکوں کی طاقت کا اصل منبع عوام ہی ہیں ، جبکہ دوسری طرف قابض افواج  کو بھی اپنے اقتدار ا علی  کو قائم رکھنے اور ایک طاقتور تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کے لیۓ اسی عوامی طاقت سے رجوع کرنا پڑتا ہے – چونکہ مد مقابل تحریک آزادی کو مادی ، طبّی ، عسکری اور افرادی وسائل کا سرچشمہ یہی عوام ہی ہیں لہذا قابض افواج  لالچ ،دھونس ، دھمکی غرضیکہ ہر طریقہ آزمائیں گے تا کہ عوام کو نہ صرف عسکریت پسندوں کی مدد کرنے  سے باز رکھا جاۓ بلکہ انہیں تحریک کے خلاف مبینہ طور پر استعمال بھی کیا جا سکے – قابضین کے لیۓ عوام کا سب سے بہترین ا ستعمال تحریک کے خلاف سراغرسانی کی صورت میں کیا جاتا ہے –
طویل المدت اقتدار اور طاقتور مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیۓ عوامی حمایت کا حصول قابض افواج کے لیۓ بھی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے –
غرضیکہ روایتی  جنگوں میں طاقت کے مختلف مراکز کے برعکس انقلابی جدو جہد آزادی میں مد مقابل افواج کی حقیقی طاقت کا مرکز ایک یعنی عوام ہی ہوتے ہیں –
روایتی جنگوں میں جانبین کی کوشش ہوتی ہے کہ مخالف کے طاقت کے مرکز کو تباہی سے دو چار کیا جاۓ اور اپنے مرکز کی حفاظت کی جاۓ ، لیکن موجودہ صورت حال میں طاقت کے مراکز کی غیر مرئی اور نا قابل تفریق تصور سے طرفین کو مروجہ جنگی حکمت عملی بجاۓ کوئی فائدہ پہنچانے کے نقصان پہنچاتی ہے -اور یہی صورت حال  تحریک کی قیادت کو غداروں کا تعین کرنے ، اور ان کے لیۓ سزائیں تجویز کرنے میں بے حد احتیاط کا  متقاضی ہوتا ہے -ذرا سی کوتاہی خدا نخواستہ کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے

عسکریت پسند میدان جنگ میں ہار کر بھی اصل معرکہ نہیں ہارتا

انقلابی تحریکوں کی ایک دوسری امتیازی وصف شاید یہ بھی ہے کہ وہ معرکہ ہار کر بھی شکست کی ہزیمت نہیں اٹھاتے – تحریک آزادی کی عسکری قیادت اپنی محدود افرادی قوت کے سبب کسی بھی ایسی لڑائی سے گریز کرتی ہے جو کسی فیصلہ کن  شکست کا سبب بن سکے – گوریلا حکمت عملی کی وجہ سے بیک وقت کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے محاذ تحریک کو ایک شکست کے بدلے کئی جیت کا تفاخر عطا کرتے ہیں . جب کہ اس کے برعکس قابض افواج کا بھاری بھرکم وجود  ، بھاری و خطرناک اسلحہ ، تمام ضروری تربیت سے لیس سپاہ اور ان کے مقابلے میں مٹھی بھر نو جوانوں سے شکست  کو عسکری میدان کا بد نما داغ بنا دیتی ہیں  یوں عوامی حمایت یافتہ تحریک آزادی اپنے حریفوں کے مقابلے میں اخلاقی فتوحات سے سرشار نۓ معرکوں کی تیاری میں مصروف ہوتی ہے ، جب کہ دشمن زخم چاٹتا ، اپنے سپاہ کی نفسیاتی تربیت کر رہا ہوتا ہے -گوریلا قوت کی موجودگی ، اور اس کی بقا ہی دراصل قابضین کی شکست ہوتی ہے

وقت کا تباہ کن ہتھیار

روایتی جنگوں میں فریقین کی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم وقت میں فیصلہ کن فتح حاصل کیا جاۓ ، لیکن اس کے بلکل بر عکس  چھاپہ مار جنگ میں عسکریت پسند  جنگ  کو انتہائی طویل اور صبر آزما بنا دیتے ہیں ، ان کے پاس دوسری عسکری لوازمات میں کمی کے برعکس وقت وافر سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے – چھاپہ ماروں کو فتح سے کہیں زیادہ حریف کی شکست سے دلچسپی ہوتی ہے اور کبھی کبھار تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ مد مقابل کی سسکتی ہوئی صورت حال سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں –  چونکہ قابضین کی با قاعدہ افواج کی تربیت بے بنیاد جذباتیت پر ہوتی ہے ، ان کے سر پر بر تری کا بھوت سوار ہوتا ہے ، وہ اپنی فتح میں چند لمحوں کی تاخیر بھی برداشت کرنے کے قائل نہیں ہوتے سو بے مقصد انتظار سے اکتاہٹ کا شکار ہو کر اپنی شکست کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں

رسد کی الٹی گنگا

روایتی جنگوں میں ہمیشہ طرفین کو رسد ان کی پشت پر موجود رسد کے مراکز سے حاصل ہوتی  ہے ، ان کے لیۓ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے رسد کے ذرا یع اور راستوں کی حفاظت  بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے . لیکن اس کے برعکس تحریک آزادی کے چھاپہ ماروں کو رسد میدان جنگ میں موجود ان کے ہمدردوں سے ہی حاصل ہوتی ہے – ایک طرف تو وہ رسد کے  ذرا یع اور اس کی حفاظت سے بے فکر ہو جاتے ہیں تو دوسری طرف مد مقابل کے رسد کو کاٹ کر اس کے لیۓ میدان میں بقا کا سوال کھڑا کر لیتے ہیں . چونکہ چھاپہ ماروں کی رسد بہت پہلے ہی ان کے منتخب کردہ نشانے کے آس پاس پہنچ چکی ہوتی ہے لہذا قابض افواج کے لیۓ اس عسکری ساز و سامان کو استعمال کرنے سے قبل تباہ کرنا تقریباً نا ممکن بن جاتا ہے –
سواۓ چند ایک مخصوص صورتوں کے جہاں چھاپہ مار بیرونی رسد وصول کر رہے ہوں قابض افواج کی فضائی صلاحیت بھی ناکام ہو جاتی ہے

( اہل زبان نہ ہونے  اور اردو ٹائپنگ سے کم واقفیت کی بنا پر زبان و بیان اور پروف کی غلطیوں پر معذرت )