Let we struggle our way

Archive for the ‘baloch’ Category

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

The Occupying States’ Ongoing Crimes in Baluchistan

In abductions, baloch, Disappearences, FC, isi, mi on February 7, 2011 at 12:05 pm
The Occupying States’ Ongoing Crimes in Baluchistan

(International Voice of Baloch Missing Persons )


In the artificially structured boundaries of the states of Pakistan and Iran one thing that has no value is human lives. Both states are equipped to their teeth with modern armaments, Jihadist mercenaries and a medieval religious creed. They have used this cocktail of destruction to justify their untold atrocities. The Baluch people under illegal occupation of these unruly states have been among those who have suffered the most. Many hundreds and thousands of Baluch political and social activists have been abducted, displaced, tortured, disappeared and killed by these occupying states.

Enforced disappearance has become the daily experience of Baluch people living under occupation of these Islamic fundamentalist states. Over 8,000 Baluch activists have been abducted and disappeared in Eastern occupied Baluchistan since the year 2000. Families of these victims are not provided with any information about the missing persons. The families are threatened by security forces with dire consequences if they highlight the plight of their loved ones. From the last six months Pakistani state and military establishment have altered their policy about the abducted Baluch political and human rights activists. They have been imitating the policy of their replica counterpart, the Islamic regime of Iran. Ever since its creation, the Iranian Islamic government has been employing the ‘kill and dump’ policy against many of its opponents.

As result of this policy from July 2010 up to the present day Pakistani military agencies have killed and dumped over 100 Baluch activists. The victims of this policy for the year 2011, which barely a month is passed, are over 15 persons.

On 3 January 2011 five Baluch youths after leaving a public meeting were followed and attacked by Pakistani agencies in Karachi. Faraz Baluch, a member of BSO-Azad died in hospital from his injuries and Bilal Baluch, Umair Baluch, Salman Baluch and Saddam Baluch were kept under intensive care and survived this vicious attack.

On 4 January 2011 Pakistani security forces abducted Haji Nasir, and two teenage students, Ehsanullah and Khair Jan in Gawader. On the same day the severely tortured bodies of two prominent young Baluch political leaders were found in Pedarak area of Turbat. The victims were identified as Qamber Chakar Baluch 24 and Ilyas Nazar Baluch 26. Both victims were MSc students and a member of BSO- Azad. Qambar Chakar was abducted by Pakistan secret forces before on 10 July 2009 but was released without any charges on 22 April 2010. He was re-abducted on 26 November 2010 from Shai Tump Turbat. Ilyas Nazar Baluch was a Journalist for a Baluchi language magazine Dhorant. He was abucted on 22 December 2010 from a coach at Badok near Pasni.

Mohammad Sadiq Langov was abducted on 12 January 2011 and the bullet-riddled bodies of two Baluch traders, Taj Mohammad Marri and Meer Jan Marri were found from Bal Ghatar area of Panjgur on 8 January 2010. Pakistani security forces shot dead Sarvar Jamaldini and injured his companion in the same day in Taftan.

On 15 January 2011 Hashim Baluch, another Baluch teenage student, was abducted from an internet cafe in Hub. In the same day the body of the teenage member of BSO-Azad, Zakaria Zehri was recovered from Soorab area of Kalat. He was only 15 years old and was missing for over a month. Another victim whose body was recovered on the same day was Ghulam Hussain Mohammad Hasani. His body was found under a bridge in Singdaas area of Kalat.

The body of Mumtaz Kurd was found in Mastung on 20 January 2011. The two bodies of Baluch missing persons, Ahmed Dad Baluch and Naseer Kamalan, were found near Syedabad 23 miles away from Ormara on 17 January 2010. Ahmed Dad Baluch was abducted on 3 October 2010 and Naseer Kamalan on 5 November 2010. Both victims were well known Baluch political leaders. Naseer Kamalan was a senior leader of Baluch National Movement and he was also an inspiring Baluchi language poet. On the same day of discovery of the bodies of these two Baluch political leaders, Pakistan Frontier Corps (FC) attacked Kashi Nulla area of Dera Bugti. During the attack they killed Shakeel Baluch and injured and arrested Gabro and Sabz Ali Baluch.

Pakistani security forces raided the house of Mr Awal Khan Bugti on 21 January 2011. As he was not at home at the time of the raid Pakistan military officials abducted his wife Mai Hanifa.

Mohammad Azam Baluch was abducted by Pakistani secret agencies around 20 January 2011 from Suraab and his bullet riddled body was found near Kalat in Marjan National Highway on 25 January 2011. On the same day Abdul Rauf Qambari was abducted from Wahero area of Wadh in Balochistan. Abdul Rauf is the cousin of Waheed Qambarani, a Baluch teacher, whose mutilated body was found a month earlier.

On Monday 24 January 2011 four more Baluch youths were abducted from Tasp area of Panjgur. They were named as Waqeer, Shamsheer, Sagaar and abdul Malik. These teenage Baluch students were released few days after suffering violent physical and psychological ordeal. A day earlier, on 23 January 2011 the body of Ali Jan Kurd was recovered from Aktharbad area of Quetta, the capital of Balochistan. He was abducted by Pakistan security forces on 23 November 2010 near Sibbi. Ali Jan Kurd was only 18 years old and was a regional president of Baluch Students Organization – Azad.

Two lifeless Baluch youths were recovered on Thursday morning of 27 January 2011 in Gwargo area of Panjgur. The youths were shot and severely tortured. One of the victims, Abid Rasool Baksh Baluch a 17 year student and member of BSO-Azad, was already dead but Nasir Dagarzai was still alive. These two Baluch students were abducted along their fellow students Mehrab Baluch and Abid Saleem Baluch from the residence of Naser Dagarzai Baluch on 23 January 2011.

On 4 February 2011 three bodies were recovered from Khuzdar. The victims were identified as Hamid Issazai, Lal Khan Sumalani and Mir Khan Sumalani. Few days earlier also, on 1 February, the body of the Baluch popular singer Ali Jan Issazai was discovered in Kanak area of Khuzdar. Ali Jan and Shahzad Nadeem were abducted by Pakistani secret agencies from a hotel in Quetta on 10 January 2011.

The occupying states have increased their systematic brutality against the Baluch to an alarming level. Baluch children are not even spared from the wrath of the fundamentalist states of Iran and Pakistan. In the Western occupied Baluchistan, Amin Noraee a 16 year student was killed by the Islamic regime of Iran security forces in 1980 in Sarawan. Another teenage Baluch political activist, Khosro Mobarki, was arrested and after enduring months of torture was executed in 1981. In March 2008 Iranian security abducted Ebrahim Mehrnehad age 16. Ebrahim is the brother of Baluch journalist and civil rights activist Yaguob Mehrnehad who was executed by the Iranian government on 4 August 2008. Another Baluch child who has been abducted by the Islamic regime security forces is Mohammad Saber Malk Raisee. At the time of his arrest on 24 September 2009 he was only 16 years old.

In the Eastern occupied Baluchistan the Pakistani rulers have launched an open war against the Baluch youths and children. Large number of Baluch political and human rights activists who have been made disappeared tortured and killed have been among Baluch children.

In addition to the names of the Baluch youths cited above, Pakistani security forces abducted 17-year old Jamal Baluch on 4 October 2010. He was injected with unknown substance and subjected to extreme torture to such an extent that he has become partially paralyzed.

Abdul Majeed Baluch, a member of BSO-Azad was abducted by Pakistani Frontier Corps on 18 October 2010. Pakistani security forces murdered him and dumped his tortured body in the Koshak River at Khuzdar district on 24 October 2010. Another Baluch child and political activist, Mohammad Khan Zohaib was abducted in July 2010 by the same agencies. His mutilated body was found in Khuzdar on 20 October 2010. They were both 14 years old.

The house of Mir Ayub Gichiki was attacked by occupying security forces on 1 December 2010. In the attack Pakistani forces killed five Baluch political activists in the house. Among the victims were two of Mr Gichiki’s teenage sons, Murad Jan and Zubiar Gichki.

This policy is the natural outcome of the forceful occupation of Baluch homeland and the resistance of the native Baluch against occupying states. The most valuable assets of a society are its inspiring and forward-looking children. Premeditated and systematic infliction of pain to the tender body of a child and then murdering him or her in the most gruesome way, by organised state sponsored military forces, is only done and justified by these and similar occupying fundamentalist fascist states. We urge all Baluch to recognise the gravity of situation in Baluchistan and get united to put an end to occupying state barbarism against our people and children.

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

In abductions, baloch, Current Political, FC, isi, mi on January 12, 2011 at 11:19 pm

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

تحریر نواز بگٹی

اطلاع آئ ہے کہ بلوچستان کے دو معروف گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ کے ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا – فن و ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو چیزیں فطرت نے ابتداء ہی سے انسان کو تحفے میں دی ہیں – انسان پیدائشی طور پر بولنے اور رابطہ رکھنے کی صلاحیتوں کا مالک ہے – انسان اپنے ابتدائی دنوں سے ہی آواز اور تصویری ذرائع کو باہمی رابطے کے اوزاروں کی حیثیت سے بخوبی استعمال کرتا آیا ہے – شعر و شاعری کا استعمال  اپنے ماحول کی بھر پور  عکاسی اور  معاشرے کی ان سنی آواز کی نمائندگی کے حوالے سے فنون لطیفہ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں – کہتے ہیں کہ اچھا شاعر وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہو

شاعری کو عوامی زبان اور مقبولیت ہمیشہ گلوکاری کے صنف نے دی- یعنی اگر شاعر معاشرے کی آواز ہے تو  گلوکار شاعر کی زبان- قومی احساسات اور شعور کو اجاگر کرنے میں سب سے اہم کردار  شاعری اور گلوکاری نے ادا کیا- اور فن کو ثقافت کا درجہ ہمیشہ فن کے معاشرے میں رچ بس جانے کے بعد حاصل ہوتا ہے – جب ہم  فن و ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسا فن ہوتا ہے جو مکمل طور معاشرے کے دوسرے اجزاء میں تحلیل ہو کر روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاۓ
اگر قوم اپنے جہد آزادی کے ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شاعر معاشرے کے ان احساسات کی عکاسی میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو – اور ایک ایماندار شاعر کو نظر انداز کرنا کسی بھی گلوکار کے بس کی بات نہیں – ایسے میں قابض قوتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی طرح معاشرے کے ان اجتماعی آوازوں کو خاموش کروا دیا جاۓ
بلوچ گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کا اغوا بھی انہی غاصبانہ حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے – لیکن تاریخ سے بے بہرہ ، سماجی سائنس سے نا بلد ، طاقت کے نشے میں چور ان ریاستی افواج کو نہیں معلوم کہ تنگ و تاریک کوٹھریوں سے گونجنے والی آوازیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیں – دو معصوم گلوکاروں کو اغوا کرنے ، انھیں انسانیت سوز مظالم کا شکار بنانے سے ایک قوم کی آواز دبے گی تو کیا بلکہ مزید اونچی ہو کر ان کے ایوانوں کو زمین بوس کر دے گی
ہم مغوی علی جان اور شہزاد ندیم کی با سلامت واپسی کی دعا ہی کر سکتے ہیں

 

نوٹ ( ١٧ جنوری ٢٠١١) :  بلوچ قوم کی دعاؤں میں بھی شاید کوئی اثر نہیں رہی ، متذکرہ بالا بلوچ گلوکاروں کی مسخ شدہ لاشیں بسیمہ ( بلوچستان ) کے پاس مل گئی ہیں

 

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر – پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری

In baloch, FC, state on January 12, 2011 at 9:04 pm

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر – پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری

تحریر نواز بگٹی


اقبال نے یہ شعر چاہے کسی بھی پیراۓ میں کہی ہو ،لیکن  آج کے بلوچستان میں حاکموں کی سحر انگیز حکمت عملیوں کی شاید بہترین عکاسی کرتا ہے – ایک طویل اور جان لیوا جدو جہد ، ہزاروں انسانی جانوں ، خواہشات اور امنگوں کی قربانیوں کے بعد آج بلوچ قوم قبائلی تعصبات سے نکل کر ایک قوم کی تشکیل میں کامیاب ہوئی – تربت میں چلنے والی گولی کا درد ڈیرہ بگٹی میں محسوس کیا جاتا ہے تو کوہلو کا غم گوادر میں- غاصب ریاست اپنی تمام تر جبر کے با وجود اس یکجہتی کو ختم کرنے میں یکسر ناکام نظر آتی ہے-بلوچ قوم کی اسی جدوجہد کا ثمر ہے کہ ریاستی گماشتے بھی اپنی محفلوں میں ریاست پر تنقید میں عافیت سمجھتے ہیں
جب پنجابی ریاست نے محسوس کیا کہ بلوچ قوم لفظ بلوچ پر متحد ہوئی ہے تو انھوں نے اپنے حق میں الجھی ہوئی اس دور کو سلجھانے کے لئے بھی لفظ بلوچ کا استعمال کرنا شروع کیا – کبھی بلوچ قوم کو بلوچی روایات یاد دلائی جاتی ہیں تو کبھی ان سے معافی مانگنے کے ڈھونگ رچا کر بلوچی انا کی تشفّی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – ریاستی اداروں نے جب بلوچ مزاحمت کا نہ ٹوٹنے والا دم خم محسوس کیا تو ، اپنے زر خرید غلام ابن غلام ، نام نہاد سرداروں کو بلوچ وطن دفاعی تنظیم کے جھنڈے تلے ، بلوچوں کی نسل کشی کے نہ صرف اختیارات سونپ دیے بلکہ احکامات بھی جاری کر دیے -ایک طرف تو بلوچوں کی نسل کشی میں اپنے لیے آسانی کا سامان پیدا کیا گیا ، دوسری طرف بلوچ قوم کو اپنے مخلص سردار و نواب طبقے سے متنفر کرنے کی بھی مذموم کوشش کی گئی- حالانکہ آج کا با شعور بلوچ بخوبی جانتا ہے کہ بلوچ قومی تحریک سے وابستہ بلوچ نواب و سردار تحریک کے ایک عام کارکن ہی کی طرح پورے اخلاص اور نیک نیتی سے سرگرم ہیں- یہ جنگ کسی نواب کی اجارہ داری ، یا سردار کی سرداری کو محفوظ کرنے کی نہیں بلکہ بلوچ قوم کی آزادی و خود مختاری کی جنگ ہے
ریاست کی ایک اور چال بلوچوں کو نام نہاد بلوچ پارلیمانی سیاستدانوں کے توسط سے  یرغمال بنانے کی کوشش  بھی ہے- یہ سیاستداں ہر فورم پر بلوچوں کی بدقسمتی کا رونا رونے کا ڈرامہ تو خوب رچاتے ہیں ، لیکن استعماری قوتوں کے اقتدار کی کشتی سے اترنے کی زحمت نہیں کرتے- بلوچستان پیکج کے نام پر بلوچ قوم کو چند ہزار نوکریوں کے لولی پاپ سے بہلانے کی کوشش ہو ، یا بلوچ معدنی ذخائر کو پنجاب کے حوالے کرنے کو خود مختاری کا نام دینا ،یا پھر سمگلنگ روکنے کے بہانے بلوچ قوم پر ریاستی افواج کے مضبوط پہروں کا بندوبست ، ہر سیاہ کاری کا سہرا بلوچ قوم کے نام پر اپنے سر باندھنا انکا وطیرہ رہا ہے
ریاست اپنی ہر ناکام ہوتی چال کے بعد ایک نئی سحر انگیز چال کے ساتھ نمودار ہوتی ہے – آج کل ریاستی افواج کے بلوچ مقبوضہ و مفتوحہ علاقوں کے سربراہ ، آئ – جی – ایف -سی  بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے طوفانی دورے فرما رہے ہیں- بلوچوں کے نام نہاد رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے صاحب بہادر بلوچ دوستی کا لبادہ اوڑھے اپنی سپاہ کے شاندار کرتوتوں کا بچشم خود نظارہ فرما رہے ہیں- خفیہ اداروں کے جال کو جواز فراہم کرنے کے لئے آرمی-پبلک – سکول ، ایف-سی-پبلک سکول، ایف-سی- ڈیری فارم، آرمی – زرعی فارم ، ایف-سی- ماربلز اور نہ جانے کون سی نت نئی استحصالی اصطلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں
ریاستی قابض افواج کے مرکزی سربراہ بھی اسی ڈرامے بازی میں اپنے جرنیلوں کا ساتھ دیتے ہوے سوئی میں ملٹری کالج کے نام سے اپنے اداروں کے لئے ایک اسٹیشن کا اضافہ کر چلے -اور اس اجتماع میں بلوچوں کے نام نہاد عمائدین کو بھی آقاؤں کے ہمرکاب دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچوں کی غلامی انکی اپنی مرضی سے ہے
حیرت ہوتی ہے ان ساحروں کی سحر کاری پر ، آخر کس کو بیوقوف بنانے چلے ہیں؟ بلوچ قوم کو کہ جن کے گھر اپنے پیاروں کی لاشیں عید کے تحفے کے طور پر بھیجی جا رہی ہیں ؟ اقوام عالم کو کہ اب وہ بھی بلوچوں پر ہوتے مظالم کو دیکھ کر چیخ اٹھے ؟ یا پھر اپنی پنجابی قوم کو کہ دیکھو ہم اب بھی تمہارے مفادات کی خاطر ایک پورے قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے بیٹھے ہیں

اقبال ہی کا مصرعہ نام نہاد قبائلی عمائدین اور سرکاری سرداروں کی خدمت میں

از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن


غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

In baloch, Baloch Freedom movement, balochistan on January 12, 2011 at 2:17 pm

غیر مسلم بلوچوں کا احساس عدم تحفظ – ایک منظم سازش

تحریر نواز بگٹی


اگرچہ ارادہ تو تحریروں کے پچھلے سلسلے کو جاری رکھنے کا تھا لیکن حالات سے چشم پوشی بھی آخر کب تک . مذہبی جنون کے حوالے سے جنوبی ایشیاء کے بنیاد پرست ریاستوں ،ایران ، پاکستان ، اور افغانستان کی سرحد پر وا قع  ہونے کے باوجود بلوچ دھرتی  پورے خطّے میں مذہبی رواداری کے حوالے سے اپنی ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے – بلوچ جہاں کسی کو بھی اپنی شناخت دینے کے روادار نہیں ، وہیں غیر مسلم خصوصاً ہندو مذہب کے پیروکار فخر سے خود کو بگٹی ، بھوتانی ، جمالی ، مینگل ، اور زہری کہلوانا پسند کرتے رہے ہیں- یہ بھی اس معاشرے کی انفرادی خصوصیت رہی ہے کہ ایک بھائی مسلم تو دوسرا زکری – (مذہبی علماء کی جانب سے زکری فرقے کو ان کے مذہبی عقائدکی بناء پر غیر  مسلم قرار دیا جاتا ہے ) – تاریخ شاہد ہے کہ یہاں ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے  مذہبی عقائد پر عمل کرنے  اور اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ جینے کی آزادی حاصل رہی ہے –
بلوچستان میں جہاں مسلمانوں کو آزادی سے مساجد ، امام بارگاہوں  اور خانقاہوں میں عبادت کی سہولتیں میسر ہیں ،  وہیں غیر مسلموں کو بھی مندر ، گردوارے اور چرچ کی حفاظت کے لئے کسی خاص انتظام کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی – بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلی ہندوؤں کی مقدس مذہبی مقامات ، اور دنیا بھر سے ان مقامات پر عبادت کی غرض سے آنے والے ہندو مذہب کے پیروکار اس معاشرے کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں-بلوچ من حیث القوم اپنی سرزمین پر تاریخ کے بدترین استحصال کا شکار ہے ، اور استعماری قوتیں بھی ہندوؤں کو بھی بلوچوں سے الگ تصور نہیں کرتیں – اس کی مثال ١٧ مارچ ١٩٩٥ کے خونی واقعے سے دی جا سکتی ہے- اس روز غاصب ریاستی افواج نے ڈیرہ بگٹی شہر پر بمباری کر کے ٧٠ ہندو بلوچوں کو شہید کر دیا تھا –
پنجابی افواج نے اپنی روایات کے  مطابق بلوچ قوم پر ظلم و جبر ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی – غاصب ریاستی قوتوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بلوچ اس قوت سے مزاحمت کریں گے – بلوچ قومی مزاحمت مقابلہ کرنے کے لئے غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقے اپناۓ گۓ- بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انکی مسخ شدہ لاشوں کو قوم کے لئے تحائف کا نام دیا جارہا ہے- اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کے لئے  ریاستی افواج نے اپنا نام بدل کر لشکر اسلام رکھ دیا – اب جبکہ اقوام عالم پاکستانی افواج کے پروپگینڈے سے متاثر نہیں ہو رہی تھیں تو غاصبوں نہیں ایک نئی چال چلی – انتہائی منظم طریقے سے معاشرے میں موجود مجرم عناصر کی سرپرستی کی جانے لگی ، پاکستان کی فوجی اسلحہ ساز کارخانے پی-او-ایف واہ کینٹ سے بھاری پیمانے پر ان عناصر کو جدید اسلحہ فراہم کر کے ایک سابق وفاقی وزیر کے زیر سرپرستی جعلی تنظیم تشکیل دی گئی- اس تنظیم کے لبادے میں پاکستان کی خفیہ اداروں کے اہل کار جہاں بلوچوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں وہیں بلوچوں کو تقسیم کرنے کی ناکام سازش بھی کی جا رہی ہے –
بلوچ قومی تحریک نے  ریاستی مظالم کا پردہ چاک کرنے اور اقوام عالم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں جو غیر متوقع کامیابی حاصل کی ، اس سے ریاستی افواج نے بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لئے تحریک آزادی کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دینے کا فیصلہ کیا – عالمی امدادی اداروں کے اہل کاروں کا اغوا ، افغانستان کے لئے جانے والے راستے سامان رسد کی لوٹ مار کے علاوہ ایک منظم سازش اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچ ہندووں کو اغوا کر کے صرف انکے غیر محفوظ ہونے کا ریاستی تصور بھی اسی حکمت عملی کا حصّہ ہیں-
بدقسمتی سے ہمارے کچھ دوست بھی شاید انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت  بلوچستان میں صرف ہندووں کے غیر محفوظ ہونے کا نقطہ اٹھا کر لا شعوری طور پر ریاستی پروپگینڈے کی مدد کر رہے ہیں-ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ بلوچستان میں ہر بلوچ ، بلا امتیاز مذہب ، نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ ریاستی دہشت گردی کا شکار بھی ہے- اور بلوچ ہندووں کو بھی اپنی قوم کا حصّہ سمجھتے ہیں