Let we struggle our way

Archive for the ‘abductions’ Category

ظالم کے تین مقاصد … تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر ترجمہ: لطیف بلیدی

In abductions, baloch, Baloch Freedom movement, Lateef Bulaidi, Mir Muhammad Ali Talpur on March 15, 2012 at 6:01 pm

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔

ظالم کے تین مقاصد ہیں: اول ، اپنے غلاموںکی توہین، وہ جانتا ہے کہ ایک کم ظرف آدمی کسی کے خلاف سازش نہیں کرے گا؛ دوم، ان کے درمیان بد اعتمادی کی پیدا کرنا؛ ایک ظالم کوتب تک اقتدار سے محروم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لوگ ایکدوسرے پر اعتماد کرنا شروع کردیں – اور یہی وہ وجہ ہے کہ جابر اچھوں کےخلاف جنگ کرتے ہے؛ وہ اس خیال میں ہوتے ہیں کہ ِان لوگوںسے اُن کی طاقت چھننے کا خطرہ ہے، نہ صرف اسلئے کہ اُن پر جابرانہ طور پرحکومت نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسلئے کہ وہ ایکدوسرے سے اور دوسرے لوگوں سے انتہائی حد تک وفادار ہوتے ہیں، اور ایکدوسرے کیخلاف یا دوسرے لوگوںکےخلاف مخبری نہیںکرتے ہیں؛ اور سوم، ظالم یہ چاہتا ہے کہ اسکے تمام غلام کسی بھی ممکنہ کارروائی کے قابل نہ ہوںاور کسی ایسے کام کی سعی نہ کرسکیں جوکہ ناممکن ہو اور اگر وہ بے سکت ہوںتو وہ کبھی بھی ظلم کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کرپائیں گے۔
– ارسطو (384 قبل مسیح – 322 قبل مسیح)

جبکہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، فوج، سیاستدانوں اور مقتدرہ کا عام طور پر بلوچ کے حقوق اور حالت زار کےلئے ہمدردی اور تشویش کا ڈرامہ جاری ہے، وہ بلوچوں کو مارنے اور غائب کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست ارسطو کی طرف سے بیان کردہ ظالم کے ان تین مقاصد کے حصول کی کوشش میں اغوائ، سفاکانہ قتل اور بلوچ عوام پر جبر کی ایک بے لگام اور انتھک پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ جابروں نے تاریخ کبھی نہیں سیکھا کہ جس تشدد کا ارتکاب وہ لوگوں کےخلاف کرتے ہیں وہ آخر کار انہیں بھی بھسم کردے گی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ 1 مارچ، 2012 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سریاب کے گوہر آباد کے علاقے میں چھاپہ مارا اور بلوچ گھروں کے حرمت پامال کی، عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ سات مرد اور تین لڑکوں کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں امیر خان ولد گُلبہار، میر جان ولدامیر خان، بلخ شیر ولد امیر جان، محمد شیر ولد امیر جان، لال ولد دوران (عمر10 سال) ، گل میر ولد دوران ، ہزار خان ولد حبیب خان، مزار خان ولد حبیب خان، جاویدولد حبیب خان (عمر10 سال) اور حنیف ولد حبیب خان ( عمر 8 سال)، شامل ہیں۔ ایک اور متاثرہ مری قبیلے کے مزارانی خاندان سے تعلق رکھنے والے میر حبیب خان ہیں ، جن کو 26 مارچ، 2011 کو اسی طرح کے ایک چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ریاست نے اس بات کو یقین بنایا ہوا ہے کہ اُنکی عورتیں ،ان تمام لاپتہ افراد کے پیاروں کی طرح، 8 مارچ کو’خواتین کاعالمی دن‘ اس ’پاک سر زمین‘ میں سب سے احسن طورپرسوگ میں منائیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ایک ہی خاندان کے تمام مرد ارکان کو اغوا کر لیا گیا ہو۔ گزشتہ اپریل کو، 70 سالہ احمد خان شیرانی، ایک مری خاندان کے نو ارکان کو کراچی سے ناردرن بائی پاس کے قریب اغوا کیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر تشدد کا نشانہ بنے اور بعد ازاں مردہ حالت میں پائے گئے۔ احمد خان کی لاش اسی سال 2 جون کو اُتھل سے برآمد ہوئی۔ اگر سول سوسائٹی، سپریم کورٹ اور میڈیا اسی خواب غفلت میں رہتے ہیں، تو حبیب خان مری کے خاندان کا انجام بھی احمد خان مری کے خاندان کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔

بلوچ عوام کےخلاف اس ظلم اور انکے غم و غصہ نے بہت کم توجہ حاصل کی ہے جبکہ سونا چڑھے جھوٹے مجسموں نے میڈیا پرخبط کا دورہ طاری کردیاہے۔ ایک تھپڑ کی خبر وائرس کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کوبہ آسانی ایک کونے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی انتخابیت نے بلوچ عوام کے ذہنوں میں شبہ اور غصہ پیدا کردیا ہے جو اب تیزی سے سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار کرتے ہوئے ان خبروںکو نشر کرتے ہیں جنہیں ریاست روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ اغواءبلوچ عوام کیلئے واحد بری خبر نہیں ہیں۔ 2 مارچ کو، محمد حسن، فتح محمد مری کی گولی سے چھلنی اور تشدد زدہ لاشیں – اس کی شناخت اس کی جیب سے برامد شدہ ایک نوٹ میں ظاہر کی گئی تھی – اور لسبیلہ کے عبدالرحمن کی بالترتیب منگوچر ، پشین اور وندر کے علاقوں سے پائی گئےں۔

3 مارچ کو، پہلے سے لاپتہ بلوچ عبدالقادر کی نعش، جعفرآباد کے علاقے نوتال سے پائی گئی۔ دوسری طرف بلوچ ریپبلکن پارٹی (BRP) کے اراکین زہرو ولد تگیو، لامبو ولد نوہک، منگل ولد زہرو اور رحیم بخش کی لاشیں ڈیرہ بگٹی میں پیرکوہ کے علاقے سے پائی گئےں۔ BRP کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ انہیں نے 1 مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے دوران اغواءکیا گیا تھا۔

قتل اور اغوا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بلا امتیاز اور سفاکانہ بن چکی ہیں۔ ریاست سماجی کارکنوں یا صحافیوں کو بھی نہیں بخشتا۔ گزشتہ سال 1 مارچ کو، نعیم صابر جمالدینی، جوکہ ایک دکاندار اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کوآرڈینیٹر تھے، خضدار میں مارے گئے جبکہ فیصل مینگل کو 10 دسمبر کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو، اپریل میں ہلاک کیے گئے۔ جاوید نصیر رند، منیر شاکر، رحمت اللہ شاہین اور پانچ دیگرصحافیوں کو گزشتہ سال قتل کیا گیا تھا۔

بلوچستان کی صورتحال پر بنائی گئی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے 29 فروری کے سیشن نے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے صفر رواداری کا مطالبہ کیاتھا۔ وہ بھول گئے تھے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بے جان کمیٹیوں اور کمیشنوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔

سندھ میں، ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر میر عالم مری اور عمر تیوانوکو حال ہی میں خفیہ اداروں کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حیدرآباد سے اٹھالیا تھا۔ گزشتہ ماہ دو لاپتہ سندھی کارکنوں، خادم لولاہی اور قربان جتوئی کی لاشیں لاڑکانہ کے قصبے مڈیجی میں پھینک دی گئیں۔ بشیر آریسر، مظفر بھٹو، افضل پنھور، ثناءاللہ عباسی، مرتضیٰ چانڈیو، محسن شاہ، احسن ملانو اور بابر جمالی سمیت بہت سے سندھی کارکن پہلے ہی سے لاپتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سندھی اور بلوچ افراد کے غائب ہونے پر کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

ریاست اور ’اسٹابلشمنٹ‘ بلوچ اور سندھی کے عوام کےخلاف اپنی اندھا دھند تشدد کے ساتھ انہی مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ بہ گفتارِ ارسطو ایک ظالم کے مقاصد ہیں، یعنی غلاموں کی تذلیل، ان کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنا اور انھیں کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے عاجز بنا نا تاکہ وہ جابرانہ حکمرانی کو تسلیم کرلیں۔ گزشتہ 65 سال سے، یہی مقاصد ذہن میں لئے، ریاست بلوچ قوم کی روح کو توڑنے کی سعی میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ نے ہمیشہ تجدید جوش اور عزم کے ساتھ ان تسلسل سے بڑھتے ہوئے مظالم کا جواب دیا ہے۔

بلوچ نے ظالم ریاست کے اُن تین مقاصد کو حاصل کرنے کے مقصد کو شکست دے دی ہے کہ جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا تھا،انھوں نے اپنے وقار ، اپنی مزاحمت کی روح اور اپنے قومی افتخارکو برقرار رکھا اورکم ظرف نہیں بنے۔ دوم، اگرچہ ریاست نے ’اچھوں کیخلاف جنگ‘ میں اپنی مدد کرنے کیلئے کچھ بلوچ کاسہ لیس تو پیدا کئے ہیں، لیکن بلوچ عوام ایک دوسرے کے وفادار رہیں اور عمومی طور پر’ ایک دوسرے کےخلاف یا دیگر لوگوں کےخلاف مخبری نہیں کرتے‘۔ تیسرے، ریاستی دہشت گردی بلوچ کو ’ناقابل عمل‘نہیں بناسکی اور وہ بہادری سے ظلم کا تختہ الٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام منظم دہشت گردی نے جو کہ اب ’نسلی صفائی‘ پر مرکوز ہے، انھیں بے طاقت نہیں کرسکی، اور انہوں نے ’جبر کی حکمرانی‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بلوچ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ولیم رالف اِنگے کا قول:”ایک شخص اپنے لئے سنگینوں کا ایک تخت تو بنا سکتا ہے لیکن وہ اس پر بیٹھ نہیں سکتا“، سچ ہے۔

مصنف کا بلوچ حقوق کی تحریک سے 1970 کے عشرے کے ابتداءسے ایک تعلق ہے

Advertisements

Pakistan continues abductions, kill and dump policy of Baloch student and political activists

In abductions, Baloch genocide, Baloch Martyers, Disappearences, FC on February 11, 2011 at 10:05 am

Two bullet-riddled bodies found near Turbat, three missing person found in severely injured condition, BRP member attack and wounded in Mashky, a resident of Pasi town of Balochistan has been abducted from Hub town.

Occupied Balochistan: Pakistan’s spy agencies tortured to death another two Baloch missing persons whose bodies were found from the Herrnok area, around 40 kilometres away from Turbat city, on Thursday morning. The incident triggered violence in Awaran, Mashkey and Turbat where two government offices and a Balochistan Rural Support Programme (BRSP) office were set on fire.

According to sources, a passer-by spotted the bodies and informed the Turbat Levies Thana. Levies official rushed to the spot and took the bodies to the Civil Hospital Turbat, where they were identified as comrade Abdul Qayyum, leader of the Baloch Student Organization (BSO-Azad) in Gwadar, and Jamil Yaqoob, a member of the Turbat zone of Balochistan National Party (BNP -Mengal). Hospital sources said comrade Qayyum received five bullets in his upper torso while Jamil Ahmed received three bullet wounds.

Family sources said Qayyum was taken from his residence in Gwadar on December 11. “Security personnel had arrested Qayyum and killed him during his illegal detention,” they said, adding that the case was also registered against FC personnel in the Gwadar Police Station.

Meanwhile sagaar publications, BSO-Azad’s official website, reported that the Organisation’s CC member Comerade Qayum Baloch was abducted on December 11, 2010 by Pakistan army from his house in Gawader and he was kept in segregation for 61 days. During the two months his whereabouts remained unknown to the BSO-Azad and his family members neither did he had any access to a legal representation. His brutally tortured and riddled with bullets body was found on Thursday Morning (10/02/2011) in herronk area near Turbat. “Marks of horrific torture on body of Qayum Baloch prove that during his detention period he had been subjected to severe torture and inhuman treatment”, sagaar reports read.

Qayum Baloch was one of the most politically conscience and active member of BSO-azad in Gwader area. Apart from being politically active Mr Baloch was also an active social worker and an advocate of human rights, a friend to almost every resident in his home city, Gawader.

Apart from this murder, another body was found in Heronk, which was identified as Jameel Yaqoob Baloch, who was abducted by Pakistan on 28th of August 2010, from Turbat. Jameel Yaqoob Baloch was a labor, working on wages to help his family. His body was severely tortured as Qayum Baloch’s was.

The statement published on the official website of BSO-azad further read that “Qayum Baloch’s murder certainly raises serious questions on the willingness or ability of the international peace rights campaigners to bring an end to the Human Rights abuses in Balochistan. Baloch Student Organization (Azad) believes that each of its activist, along with the support of the Baloch masses would continue the struggle of Kamber Chaker, Qayum Baloch, Sohrab Marri Baloch, Sami Baloch, Bebagr Baloch, Zahoor Baloch, Abid Rasool Baloch, Asim Kareem Baloch, young Majeed Baloch, Sikander Baloch, Junaid Baloch, Ilyas Nazar Baloch and all other prestigious names who have sacrificed their lives for liberation of their motherland and for creating a society based on justice and equality.

Three missing persons found in severely injured condition: Three Baloch disappeared person have been found in a critically wounded condition on National high at Jeewa Cross between Tuesday and Wednesday night. The victims hands were tied behind and they were blind folded. Levis staff has brought them to Suraab Police station.

The three badly injured youth have been identified as Sohrab Khan S/O Mir Jan Samali of Nemurgh region of Kalat town who has been abducted from Hub Chowki about one month ago, Shahzad Nadeem S/O Khan Mohammad Essazai as resident of Besima who had been abducted from a Hotel in Quetta along with Balochi folk singer Ali Jan Essazai Baloch in second week of January. The third victim has been named as Wali Mohammad S/O Mohammad Ismael Miragi a resident of Saarona area of Khuzdar. He was also abducted from Hub industrial town of Balochistan about one month ago.

On one their alive recovery send waves of happiness to their families whereas on the other hand all three youth are stated to be in critical condition. It must be mentioned here that last monthMr.Nasir Dagarzai was also found in a severely injured condition. According online Radio Gwank Balochistan, Nasir Baloch had been shot in the neck and legs but he survived miraculously. However, he had later succumbed to his injuries due to constant bleeding.

BRP member attacked in Mashky: unknown armed men open fire at a member of BRP (Baloch Republican Party), Liaqat Baloch here on Wednesday on his way back from Gujar Bazaar. The masked man fired live rounds at the BRP leader; Mr Baloch was immediately taken to Mashky’s Gujar Hospital where according doctor his condition is critical but stable.

Resident of Pasni abducted from Hub: Mr Abid Bashir Baloch a resident of Pasi town of Balochistan has been abducted by Pakistani security forces from Hub town. According to detail Mr Abid along with a cousin was travelling by his own car from Karachi to Pasi on Thursday night. When they arrived at Baba-e-Balochistan roundabout in Hub industrial town of Balochistan their car was stopped by personnel of security forces.

The forces after checking the IDs of both men have dragged Mr Abid out of his car and put him into another vehicle already parked alongside the road. They, however, allowed his cousin Mr Dad Baksh to continue his journey. The family of detained Baloch youth have register a case against his abduction at Hub police station.

The Occupying States’ Ongoing Crimes in Baluchistan

In abductions, baloch, Disappearences, FC, isi, mi on February 7, 2011 at 12:05 pm
The Occupying States’ Ongoing Crimes in Baluchistan

(International Voice of Baloch Missing Persons )


In the artificially structured boundaries of the states of Pakistan and Iran one thing that has no value is human lives. Both states are equipped to their teeth with modern armaments, Jihadist mercenaries and a medieval religious creed. They have used this cocktail of destruction to justify their untold atrocities. The Baluch people under illegal occupation of these unruly states have been among those who have suffered the most. Many hundreds and thousands of Baluch political and social activists have been abducted, displaced, tortured, disappeared and killed by these occupying states.

Enforced disappearance has become the daily experience of Baluch people living under occupation of these Islamic fundamentalist states. Over 8,000 Baluch activists have been abducted and disappeared in Eastern occupied Baluchistan since the year 2000. Families of these victims are not provided with any information about the missing persons. The families are threatened by security forces with dire consequences if they highlight the plight of their loved ones. From the last six months Pakistani state and military establishment have altered their policy about the abducted Baluch political and human rights activists. They have been imitating the policy of their replica counterpart, the Islamic regime of Iran. Ever since its creation, the Iranian Islamic government has been employing the ‘kill and dump’ policy against many of its opponents.

As result of this policy from July 2010 up to the present day Pakistani military agencies have killed and dumped over 100 Baluch activists. The victims of this policy for the year 2011, which barely a month is passed, are over 15 persons.

On 3 January 2011 five Baluch youths after leaving a public meeting were followed and attacked by Pakistani agencies in Karachi. Faraz Baluch, a member of BSO-Azad died in hospital from his injuries and Bilal Baluch, Umair Baluch, Salman Baluch and Saddam Baluch were kept under intensive care and survived this vicious attack.

On 4 January 2011 Pakistani security forces abducted Haji Nasir, and two teenage students, Ehsanullah and Khair Jan in Gawader. On the same day the severely tortured bodies of two prominent young Baluch political leaders were found in Pedarak area of Turbat. The victims were identified as Qamber Chakar Baluch 24 and Ilyas Nazar Baluch 26. Both victims were MSc students and a member of BSO- Azad. Qambar Chakar was abducted by Pakistan secret forces before on 10 July 2009 but was released without any charges on 22 April 2010. He was re-abducted on 26 November 2010 from Shai Tump Turbat. Ilyas Nazar Baluch was a Journalist for a Baluchi language magazine Dhorant. He was abucted on 22 December 2010 from a coach at Badok near Pasni.

Mohammad Sadiq Langov was abducted on 12 January 2011 and the bullet-riddled bodies of two Baluch traders, Taj Mohammad Marri and Meer Jan Marri were found from Bal Ghatar area of Panjgur on 8 January 2010. Pakistani security forces shot dead Sarvar Jamaldini and injured his companion in the same day in Taftan.

On 15 January 2011 Hashim Baluch, another Baluch teenage student, was abducted from an internet cafe in Hub. In the same day the body of the teenage member of BSO-Azad, Zakaria Zehri was recovered from Soorab area of Kalat. He was only 15 years old and was missing for over a month. Another victim whose body was recovered on the same day was Ghulam Hussain Mohammad Hasani. His body was found under a bridge in Singdaas area of Kalat.

The body of Mumtaz Kurd was found in Mastung on 20 January 2011. The two bodies of Baluch missing persons, Ahmed Dad Baluch and Naseer Kamalan, were found near Syedabad 23 miles away from Ormara on 17 January 2010. Ahmed Dad Baluch was abducted on 3 October 2010 and Naseer Kamalan on 5 November 2010. Both victims were well known Baluch political leaders. Naseer Kamalan was a senior leader of Baluch National Movement and he was also an inspiring Baluchi language poet. On the same day of discovery of the bodies of these two Baluch political leaders, Pakistan Frontier Corps (FC) attacked Kashi Nulla area of Dera Bugti. During the attack they killed Shakeel Baluch and injured and arrested Gabro and Sabz Ali Baluch.

Pakistani security forces raided the house of Mr Awal Khan Bugti on 21 January 2011. As he was not at home at the time of the raid Pakistan military officials abducted his wife Mai Hanifa.

Mohammad Azam Baluch was abducted by Pakistani secret agencies around 20 January 2011 from Suraab and his bullet riddled body was found near Kalat in Marjan National Highway on 25 January 2011. On the same day Abdul Rauf Qambari was abducted from Wahero area of Wadh in Balochistan. Abdul Rauf is the cousin of Waheed Qambarani, a Baluch teacher, whose mutilated body was found a month earlier.

On Monday 24 January 2011 four more Baluch youths were abducted from Tasp area of Panjgur. They were named as Waqeer, Shamsheer, Sagaar and abdul Malik. These teenage Baluch students were released few days after suffering violent physical and psychological ordeal. A day earlier, on 23 January 2011 the body of Ali Jan Kurd was recovered from Aktharbad area of Quetta, the capital of Balochistan. He was abducted by Pakistan security forces on 23 November 2010 near Sibbi. Ali Jan Kurd was only 18 years old and was a regional president of Baluch Students Organization – Azad.

Two lifeless Baluch youths were recovered on Thursday morning of 27 January 2011 in Gwargo area of Panjgur. The youths were shot and severely tortured. One of the victims, Abid Rasool Baksh Baluch a 17 year student and member of BSO-Azad, was already dead but Nasir Dagarzai was still alive. These two Baluch students were abducted along their fellow students Mehrab Baluch and Abid Saleem Baluch from the residence of Naser Dagarzai Baluch on 23 January 2011.

On 4 February 2011 three bodies were recovered from Khuzdar. The victims were identified as Hamid Issazai, Lal Khan Sumalani and Mir Khan Sumalani. Few days earlier also, on 1 February, the body of the Baluch popular singer Ali Jan Issazai was discovered in Kanak area of Khuzdar. Ali Jan and Shahzad Nadeem were abducted by Pakistani secret agencies from a hotel in Quetta on 10 January 2011.

The occupying states have increased their systematic brutality against the Baluch to an alarming level. Baluch children are not even spared from the wrath of the fundamentalist states of Iran and Pakistan. In the Western occupied Baluchistan, Amin Noraee a 16 year student was killed by the Islamic regime of Iran security forces in 1980 in Sarawan. Another teenage Baluch political activist, Khosro Mobarki, was arrested and after enduring months of torture was executed in 1981. In March 2008 Iranian security abducted Ebrahim Mehrnehad age 16. Ebrahim is the brother of Baluch journalist and civil rights activist Yaguob Mehrnehad who was executed by the Iranian government on 4 August 2008. Another Baluch child who has been abducted by the Islamic regime security forces is Mohammad Saber Malk Raisee. At the time of his arrest on 24 September 2009 he was only 16 years old.

In the Eastern occupied Baluchistan the Pakistani rulers have launched an open war against the Baluch youths and children. Large number of Baluch political and human rights activists who have been made disappeared tortured and killed have been among Baluch children.

In addition to the names of the Baluch youths cited above, Pakistani security forces abducted 17-year old Jamal Baluch on 4 October 2010. He was injected with unknown substance and subjected to extreme torture to such an extent that he has become partially paralyzed.

Abdul Majeed Baluch, a member of BSO-Azad was abducted by Pakistani Frontier Corps on 18 October 2010. Pakistani security forces murdered him and dumped his tortured body in the Koshak River at Khuzdar district on 24 October 2010. Another Baluch child and political activist, Mohammad Khan Zohaib was abducted in July 2010 by the same agencies. His mutilated body was found in Khuzdar on 20 October 2010. They were both 14 years old.

The house of Mir Ayub Gichiki was attacked by occupying security forces on 1 December 2010. In the attack Pakistani forces killed five Baluch political activists in the house. Among the victims were two of Mr Gichiki’s teenage sons, Murad Jan and Zubiar Gichki.

This policy is the natural outcome of the forceful occupation of Baluch homeland and the resistance of the native Baluch against occupying states. The most valuable assets of a society are its inspiring and forward-looking children. Premeditated and systematic infliction of pain to the tender body of a child and then murdering him or her in the most gruesome way, by organised state sponsored military forces, is only done and justified by these and similar occupying fundamentalist fascist states. We urge all Baluch to recognise the gravity of situation in Baluchistan and get united to put an end to occupying state barbarism against our people and children.

ایاز بلوچ – ایجنسیوں کا ایک اور شکار

In abductions, Disappearences, FC, isi, mi on January 14, 2011 at 10:25 am

ایاز بلوچ – ایجنسیوں کا ایک اور شکار


تحریر نواز بگٹی

مقامی اخبارات کی اطلاع کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان یونیورسٹی کے ، ایم – بی- اے – کے طالبعلم ایاز بلوچ کو یونیورسٹی کے باہرخفیہ  ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا  کر لیا- ایاز بلوچ کا تعلق تربت کے “بگی ” قبیلے کے ایک خاندان سے ہے ، وہ کوئٹہ میں تعلیم کے حصول کی خاطر مقیم تھے
بلوچستان میں بلوچ طلباء کی پراسرار گمشدگیوں کا سلسلہ اس تیزی سے جاری ہے کہ اب کسی کے بارے میں لکھتے ہوے خود سے شرم آنے لگی ہے – محسوس ہوتا ہے کہ گوشہ نشین ہو کر نا مردی کا شکار ہم جسے منشی ٹائپ بلوچ کسی بہت برے گناہ کا مرتکب ہو رہے ہیں- بس جناب حیدر بخش جتوئی صاحب کے چند اشعار ہی لکھنے کی ہمّت ہو رہی ہے

بھرو تم قید خانوں کو

کرو قابو جوانوں کو

بجھاؤ شمع دانوں کو

اڑا دو نقطہ دانوں کو

لاؤ رشوت ستانوں کو

جو بنگلے اور محل جوڑیں

شرم آے آسمانوں کو

پڑھو قومی ترانوں کو

کہ پاکستان زندہ باد

(حیدر بخش جتوئی)

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

In abductions, baloch, Current Political, FC, isi, mi on January 12, 2011 at 11:19 pm

بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات

تحریر نواز بگٹی

اطلاع آئ ہے کہ بلوچستان کے دو معروف گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ کے ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا – فن و ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو چیزیں فطرت نے ابتداء ہی سے انسان کو تحفے میں دی ہیں – انسان پیدائشی طور پر بولنے اور رابطہ رکھنے کی صلاحیتوں کا مالک ہے – انسان اپنے ابتدائی دنوں سے ہی آواز اور تصویری ذرائع کو باہمی رابطے کے اوزاروں کی حیثیت سے بخوبی استعمال کرتا آیا ہے – شعر و شاعری کا استعمال  اپنے ماحول کی بھر پور  عکاسی اور  معاشرے کی ان سنی آواز کی نمائندگی کے حوالے سے فنون لطیفہ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں – کہتے ہیں کہ اچھا شاعر وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہو

شاعری کو عوامی زبان اور مقبولیت ہمیشہ گلوکاری کے صنف نے دی- یعنی اگر شاعر معاشرے کی آواز ہے تو  گلوکار شاعر کی زبان- قومی احساسات اور شعور کو اجاگر کرنے میں سب سے اہم کردار  شاعری اور گلوکاری نے ادا کیا- اور فن کو ثقافت کا درجہ ہمیشہ فن کے معاشرے میں رچ بس جانے کے بعد حاصل ہوتا ہے – جب ہم  فن و ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسا فن ہوتا ہے جو مکمل طور معاشرے کے دوسرے اجزاء میں تحلیل ہو کر روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاۓ
اگر قوم اپنے جہد آزادی کے ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شاعر معاشرے کے ان احساسات کی عکاسی میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو – اور ایک ایماندار شاعر کو نظر انداز کرنا کسی بھی گلوکار کے بس کی بات نہیں – ایسے میں قابض قوتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی طرح معاشرے کے ان اجتماعی آوازوں کو خاموش کروا دیا جاۓ
بلوچ گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کا اغوا بھی انہی غاصبانہ حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے – لیکن تاریخ سے بے بہرہ ، سماجی سائنس سے نا بلد ، طاقت کے نشے میں چور ان ریاستی افواج کو نہیں معلوم کہ تنگ و تاریک کوٹھریوں سے گونجنے والی آوازیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیں – دو معصوم گلوکاروں کو اغوا کرنے ، انھیں انسانیت سوز مظالم کا شکار بنانے سے ایک قوم کی آواز دبے گی تو کیا بلکہ مزید اونچی ہو کر ان کے ایوانوں کو زمین بوس کر دے گی
ہم مغوی علی جان اور شہزاد ندیم کی با سلامت واپسی کی دعا ہی کر سکتے ہیں

 

نوٹ ( ١٧ جنوری ٢٠١١) :  بلوچ قوم کی دعاؤں میں بھی شاید کوئی اثر نہیں رہی ، متذکرہ بالا بلوچ گلوکاروں کی مسخ شدہ لاشیں بسیمہ ( بلوچستان ) کے پاس مل گئی ہیں