Let we struggle our way

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare on February 6, 2011 at 11:16 am
چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا
مترجم نواز بگٹی
حصّہ (XI )
باب دوئم – چھاپہ مار گروہ

چھاپہ مار سپاہی – ایک جنگجو ( قسط – ١)

چھاپہ ماروں کی زندگی اور سرگرمیوں کا عمومی خطوط پر جائزہ لیا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ  مخصوص حالات میں تفویض کردہ مہم کی  بخوبی انجام دہی ، جسمانی ، ذہنی اور اخلاقی خصوصیات کے تسلسل کی متقاضی ہوتی ہے –
اگر پوچھا جاۓ کہ چھاپہ مار جنگجو کیسا ہونا چاہیے تو اس کا پہلا جواب یہی ہوگا کہ ترجیحی طور پر اسے ، اسی علاقے کا باشندہ ہونا چاہیے – اگر ایسا ہی معاملہ ہے تو اس کے کچھ دوست ہونگے جو اسکی مدد کر سکتے ہیں ، اگر وہ اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے تو اسے علاقے سے بھی بخوبی واقفیت ہوگی ( زمینی حقائق کا گہرا علم چھاپہ مار جنگ کا ایک اہم ترین پہلو بھی ہے ) ، اور جیسے کہ وہ مقامی عادات و اطوار کا عادی ہوتا ہے وہ بہتر طور پر کام کر سکتا ہے ، یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اپنے لوگوں کے دفاع اور اپنی دنیا کو تکلیف میں مبتلا کیۓ رکھنے والی سماجی اقدار کی تبدیلی کے لئے لڑنے میں وہ کتنا پرجوش ہوتا ہے-
چھاپہ مار جنگجو راتوں کا مجاہد ہوتا ہے ، ایسا کہتے ہوۓ یہی کہنا چاہیۓ کہ اسے (چھاپہ مار کو ) ان جنگوں کے لیۓ ضروری تمام خصوصی صفات کا حامل ہونا چاہیۓ- وہ اسقدر شاطر ہو کہ میدانوں یا پہاڑوں میں پھیلے دشمن پر حملے کے جگہ تک اس انداز میں پہنچے کہ کوئی اس پر توجہ نہ دے سکے ، پھر اچانک دشمن پر ٹوٹ پڑے ، اس طرح کی لڑائیوں میں اچانک حملے کی اہمیت اس بات کی حقدار ہے کہ اس پر دوبارہ زور دیا جاۓ – اچانک حملے سے دہشت پیدا کرنے کے بعد اسے چاہیۓ کہ اپنے ہمراہیوں کو کوئی بھی کمزوری دکھاۓ بغیر شدید جنگ چھیڑ دے ، اور دشمن کی ایک ایک کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھا ۓ- ایک طوفان کی طرح حملہ آور ہو تے ہوۓ ، ہر چیز کو تباہ کرتے ہوۓ ، کوئی بھی کونہ چھوڑے بغیر ( تا وقتیکہ حکمت عملی کا کوئی تقاضا نہ ہو ) ، ہر اس شے کی شناخت کرتے ہوۓ کہ جن کی شناخت ضروری ہو ، دشمن سپاہ میں دہشت پھیلاتے ہوۓ ، آگے بڑھنا چاہیۓ ، اگرچہ اسے لاچار قیدیوں سے اچھے سلوک اور ( دشمن سپاہ کی ) نعشوں کا احترام کرنا چاہیۓ-
ایک زخمی دشمن کا خیال رکھا جاۓ اور اس سے احترام کا برتاؤ ہونا چاہیۓ ، تاوقتیکہ اس کی پچھلی زندگی اسے سزاۓ موت کا حقدار نہیں ٹھہراتا ، ایسی صورت میں اس کے ساتھ برتاؤ اس کے اعمال کے مطابق کیا جاۓ – جو کام ہرگز نہیں کرنی چاہیۓ ، وہ ہے دشمن سپاہیوں کو قیدی بناۓ رکھنا، تا وقتیکہ دشمن کی دست برد سے محفوظ مستقر  کا قیام یقینی نہیں ہوجاتا – ورنہ یہی قیدی (خدا نخواستہ ) دوبارہ اپنے ساتھیوں سے مل کر نہ صرف مقامی آبادی کے تحفظ کے لیۓ بہت بڑا خطرہ  ثابت  ہو سکتے ہیں ، بلکہ (دوران قید اپنے مشاہدات کی رو سے حاصل کردہ ) معلومات دشمن تک پہنچا کر چھاپہ مار گروہ کی بقاء و کارکردگی کے لیۓ بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں – اگر وہ ( قیدی ) کوئی خطرناک مجرم نہیں تو اسے مختصر اخلاقی درس کے بعد آزاد کر دینا چاہیۓ-
چھاپہ مار جنگجو سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی زندگی کا خطرہ مول لیتا ہے ، اور ضرورت پڑنے پر اپنی زندگی قربان کرنے سے سر مو دریغ نہیں کرتا ، لیکن بیک وقت اس سے انتہائی احتیاط کی بھی توقع کی جاتی ہے اور اسے بغیر کسی خاص ضرورت کے سامنے نہیں آنا چاہیۓ- شکست و بربادی سے بچنے کے لیۓ لازمی ہے کہ تمام ممکنہ احتیاتی تدابیر اختیار کی جائیں – اسی لیۓ ضروری ہے کہ ہر لڑائی میں ان تمام مقامات پر نظر رکھنی چاہیۓ جہاں سے دشمن افواج کو کمک مل سکتی ہو ، اور محاصرے میں آنے سے بچنے کے لیۓ ہر ممکن احتیاط کی جانی چاہیۓ ، اس ( محاصرے ) کے نتائج ضروری نہیں کہ بہت بڑی جانی نقصان کی صورت میں سامنے آئین ، لیکن جدوجہد کے تناظر میں، اعتماد کا  فقدان پورے عمل کی حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتا ہے –
بہر حال اسے بہادر ہونا چاہیۓ ، اور کسی بھی کاروائی کے دوران تمام ممکنہ خطروں کا تجزیہ کرنے کے بعد ، اسے حالات کے تناظر میں پرامید طریقہ کار اپناتے ہوۓ کسی موافق فیصلے تک پہنچنے کے وجوہات تلاش کرنے چاہیئں ، حتیٰ کہ ایسے اوقات میں بھی جب موافق و نا موافق کے تجزیے میں کوئی حوصلہ افزاء توازن تک نظر نہ آۓ-
زندگی اور دشمن کی کاروائیوں کے درمیان پیدہ شدہ حالات میں زندہ رہنے کے قابل رہنے کے لیۓ ، چھاپہ مار جنگجو کو چاہیۓ کہ وہ مطابقت کے ایسے نقطے تک پہنچ جاۓ جو اسے ان حالات میں شناخت کی اجازت دیں جن میں وہ رہتا ہے ، وہ ان (مخصوص حالات )  کا حصّہ بن جاۓ ، اور اپنے اتحادی کی حیثیت سے ان (حالات )  کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاۓ-اسے تیز فہم ، جدت اور فوری فیصلے کی صلاحیت سے لیس ہونا چاہیۓ ، تا کہ وہ کاروائی کے غالب پہلو کے تناظر میں اپنی حکمت عملی کی مناسب تبدیلی کے قابل ہو –
چھاپہ مار جنگجو کو اپنے کسی زخمی ساتھی کو کبھی بھی دشمن افواج کے رحم و کرم پر کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہیۓ ، کیونکہ اس کا مطلب ہوگا اسے تقریباً یقینی موت کے حوالے کرنا- اسے ہر قیمت پر دشمن کے علاقے سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جاۓ – اس انخلاء میں زیادہ سے زیادہ خطرہ بھی مول لیا جا سکتا ہے- چھاپہ مار جنگجو کا ساتھ بھی یقیناً غیر معمولی انسان ہوگا-
بیک وقت چھاپہ مار کو اپنا منہ بند رکھنا ہوگا ، جو کچھ بھی اس کے سامنے کہا یا کیا جاۓ اسے اپنے ذہن تک محدود رکھنا ہوگا – اسے کبھی بھی اپنے آپ کو کسی غیر ضروری لفظ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دینی چاہیۓ ، حتیٰ کہ اپنی صفوں میں اپنی سپاہ کے سامنے بھی ، کیوں کہ دشمن کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ چھاپہ مار گروہ کی صفوں میں اپنے جاسوس داخل کیۓ جائیں تاکہ انکے منصوبوں ،محل وقوع  ، اور انکی زندگی کے ذرائع کے بارے میں معلومات حاصل کر پائیں-
متذکرہ اخلاقی صلاحیتوں کے  ساتھ ساتھ ، چھاپہ مار جنگجو کا بہت ساری جسمانی صلاحیتوں کا حامل ہونا بھی ضروری ہے- اسے ہر حال میں نہ تھکنے والا ہونا چاہیۓ -جب تھکن نا قابل برداشت ہو تو ایسے میں اسے لازمی طور پر  نئی کوشش کرنی چاہیۓ – اسکے چہرے سے جھلکتا گہرا اعتقاد ، اسے ایک اور قدم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے ، اور یہ آخری قدم نہیں ہوتا بلکہ ایک اور پھر ایک اور حتیٰ کہ وہ اپنی قیادت کی جانب سے نامزد جگہ تک پہنچ جاتا ہے –

اسے انتہاؤں کو بھی برداشت کرنے کے قابل ہونا چاہیۓ ،انھیں ( چھاپہ ماروں کو )  نہ صرف کم خوراکی، پانی ، کپڑوں اور چھت کی کمی  کے ساتھ گزارا کرنا ہوتا ہے (کہ ان حالات کا تو انہیں اکثر سامنا ہوتا ہی ہے ) ، بلکہ  ان میں بیماری اور زخموں کو برداشت کرنے کی بھی غیر معمولی صلاحیت ہونی چاہیۓ جو کسی جرا ح/ طبیب کی خاص مدد کے بغیر فطری طور پر مندمل ہوتے ہیں- یہ بہت ضروری ہے ، کیونکہ دشمن ہمیشہ ان افراد کو قتل کرتے ہیں جو زخموں یا بیماری کی صورت میں علاج کے لیۓ چھاپہ ماروں کے زیر تسلط علاقے سے باہر نکل آتے ہیں-
ان شرائط کو پورا کرنے کے لیۓ اسے ( چھاپہ مار کو ) آہنی اعصاب کا مالک ہونا چاہیۓ ، جو اسے بیمار ہوۓ بغیر ان تمام مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے قابل بنا دیتی ہے ، اور اسکی ، شکار کیۓ ہوۓ جانور کی زندگی سے مماثل کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے میں مدد دیتی ہیں – مطابقت پیدا کرنے کی اپنی فطری صلاحیت کے بدولت ، وہ اس زمین کا حصّہ بن جاتا ہے جس پر وہ برسر پیکار ہوتا ہے-

(…… جاری ہے )
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: