Let we struggle our way

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare on February 3, 2011 at 3:35 pm
چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا
حصّہ (x )
مترجم نواز بگٹی
باب دوئم – چھاپہ مار گروہ
چھاپہ مار جنگجو – سماجی مصلح

ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ چھاپہ مار جنگجو عوامی آزادی کے خواہش میں ساجھے دار کی حیثیت سے ، ( جدو جہد آزادی کی ) پر امن راہوں کے مسدود ہونے کی بناء پر  ، عوام کے ہر اول دستے کے مسلح سپاہی کی حیثیت سے جنگ کا آغاز کرتا ہے – جدوجہد کے با لکل ابتداء ہی سے اسکی نیت ظلم و جبر کو نیست و نابود کرنے کی ہوتی ہے ، اسکی اس نیت میں قدیم کو جدید سے بدلنے کا ارادہ پوشیدہ ہوتا ہے –

ہم یہ بھی پہلے بتا چکے ہیں کہ امریکہ میں ، بلکہ ناقص اقتصادی ترقی کے حامل  تمام  ممالک میں اندرون ملک ( دیہی ) علاقے ہی جنگ کے لئے مثالی حالات مہیا کرتے ہیں – اسی لئے چھاپہ مار اپنے سماجی ڈھانچے کی بنیادیں رکھنے کا آغاز زرعی زمین کے ملکیت کی تبدیلی سے کرتا ہے –

ابتداء میں چاہے اپنے اصلاحاتی اہداف کا جامع اظہار ہو پاۓ یا نہ ہو پاۓ ،یا پھر  یہ بے زمین کسانوں کی صدیوں پرانی  خواہش یعنی اپنی زیر کاشت زمین کی ملکیت کے مالکانہ حقوق کا سادہ سا حوالہ ہی ہو ، لیکن اس پوری مدّت میں جنگی پرچم  زرعی اصلاحات کے بنیادوں پر ہی بلند کیا جاۓ  گا –
اب زرعی اصلاحات کے نفاز کی صورت کیا ہو ، اس کا انحصار جنگ شروع ہونے سے پہلے کے حالات اور جدوجہد کی سماجی گہرائی پر ہوتا ہے – لیکن چھاپہ مار جنگجو کو ، بلند مرتبہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جن مقاصد کی نگہبانی کے لئے عوام کے ہراول دستے کا کردار نبھا رہا ہے ، ان مقاصد کا حقیقی داعی وہی ہے – جنگ کے مشکل حالات کی مسلط کردہ خوشی اور غم کی کیفیات میں اسے خود پر سختی سے قابو رکھنا ہوگا ، تا کہ وہ (اپنے مقصد سے ) ذرا بھی روگردانی کا شکار نہ ہو ، ذرا سی بھی زیادتی کا مرتکب نہ ہو – چھاپہ مار جنگجو کو چاہیے کہ وہ  اپنے آپ کو ( اپنے مقصد کی حصول کے لئے ) وقف کر دے –
جہاں تک سماجی تعلقات کا سوال ہے ، یہ رشتے بڑھتے ہوۓ جنگ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں – ابتداء میں تو چھاپہ مار جنگجو کے لیۓ ممکن ہی نہیں ہو گا کہ وہ کسی سماجی تبدیلی کی کوشش بھی کرے –
ایسی اشیاء جن کی خریداری میں نقد ادائیگی نہ کی جا سکتی ہو ، انھیں ضمانتوں کے عوض خریدا جا سکتا ہے ، اور ان ضمانتوں کو موقع ملتے ہی چھڑا لینا چاہیے –
کاشتکاروں کی ہمیشہ ، تکنیکی ، اقتصادی ، اخلاقی اور ثقافتی مدد کرنی چاہیے – غریبوں کے لیۓ ہمیشہ مددگار ، اور جنگ کے ابتدائی مرحلے میں  امراء کو حتیٰ الا مکان کم سے کم پریشان کرتے ہوۓ ، چھاپہ مار جنگجو کو  ہمیشہ زمین پر اترنے والے ایک راہنماء فرشتے کی مانند ہونا چاہیے – لیکن یہ جنگ اپنی متعین کردہ راہ پر جاری رہے گی ، تضادات مسلسل بڑھتے رہیں گے ، اور ایک وقت ایسا آۓ گا جب کچھ لوگ جن کا رویہ انقلاب کے لیۓ ہمدردانہ تھا ، اب انقلاب کی مخالفت پر کمر بستہ نظر آئین گے ، اور یہی لوگ مقبول عوامی قوت کے مقابلے میں سب سے پہلے محاظ بنا لیں گے – ایسے وقت میں چھاپہ مار جنگجو کو چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی مقاصد سے اعلیٰ وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ہر قسم کی غداری کو منصفانہ سزا دے- جنگ زدہ علاقے کی شخصی جائدادیں سماجی مقاصد کے حصول کے ذرائع کی شکل دینی چاہیے ، مثال کے طور پر اضافی زمین ، یا مویشیوں کی کثیر تعداد کسی مخصوص خاندان کی امارت کا سبب ہونے کی بجاۓ ، انھیں منصفانہ طور پر برابری کی بنیاد پر غرباء میں تقسیم کیے جانے چاہیئں –
سماجی مقاصد کے لیۓ حاصل کی جانے والی اشیاء کے مالکان کے معاوزے کی خواہش کا ہمیشہ احترام کرنا چاہیے – اور اس معا وزے کی ادائیگی ہمیشہ ضمانتی ہوگی ( امید کی ضمانت ! جسے ہمارے استاد جنرل بایو قرض دینے والے اور قرض خواہ کے باہمی مفادات کے حوالوں سے بیان کرتے تھے )   – بد معاشوں اور انقلاب دشمنوں کی زمین و جائداد کو فوری طور پر انقلابی قوتوں کے ہاتھوں میں منتقل کر دینا چاہیے – مزید برآں جنگ کی حدّت سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ ، جب عوام میں برادرانہ تعلقات اپنے عروج پر پہنچ جائیں ، تو مقامی اقدار کے تناظر میں امداد باہمی کے تمام امور کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے –
چھاپہ مار جنگجو کو ایک سماجی مصلح کی حیثیت میں  صرف اپنے زندگی کی مثال فراہم نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ اسے نظریاتی مسائل سے بھی آگاہی فراہم کرنی ہوگی ، اسے وضاحت کرنی ہوگی کہ وہ کیا کچھ جانتا ہے اور صحیح وقت میں کیا کرنا چاہتا ہے- اس نے جو کچھ سیکھا ہوتا ہے اسے استعمال کرنا ہوگا ، جنگ کے ماہ و سال سے اس کے نظریات میں جو پختگی آئی ہے ، ہتھیاروں کی صلاحیت کا مظاہرہ اس کی انتہا پسندی میں جس اضافے کا سبب بنی ، عوامی نقطہء نظر جو اس کے روح ، اس کی زندگی کا حصّہ بن چکی ہے ، اور اسے جو انصاف کی سمجھ ملی ہے ، وہ تبدیلی کے تسلسل کی اہمیت کا جو ادراک رکھتی ہے ، اور ان سب عوامل کیجو اہمیت اس کے سامنے واضح ہوئی ، اور ان سب سے فوری محرومی کی حقیقت ، ہر شے میں دوسروں کو شریک کرنا ہوگا –
ایسے حالات اکثر پیدا ہونگے ، کیونکہ چھاپہ مار جنگ کے سپاہی ، یا چھاپہ مار جنگ کے ہدایتکار ان لوگوں میں سے نہیں جو کسی کے اشارہ ابرو پر جھکے ہوں – یہ تو وہ لوگ ہیں جو ضروری نہیں کہ خود اپنی ذاتی زندگی میں کسی ایسے  کڑوے تجربے سے گزرے ہوں ، بلکہ یہ لوگ  کھیت مزدوروں / کاشتکاروں کے نقطہء نگاہ سے ، سماجی رویوں میں  تبدیلی کی ضرورت کو سمجھتے ہیں -جب ایسا ہوتا ہے ( کیوبا کے تجربے کی روشنی میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں ) تو ان راہنماؤں کے درمیان حقیقی روابط پیدا ہوتے ہیں ، وہ جو اپنے عمل سے لوگوں کو مسلح جدو جہد کی بنیادی اہمیت کی تعلیم دیتے ہیں ، اور وہ  لوگ جو بغاوت کی پیداوار ہوتے ہیں اور اپنی قیادت کو ان عملی ضروریات  کی تعلیم دیتے ہیں جنکی ہم بات کر رہے ہیں – پس چھاپہ مار جنگجو اور اوکے لوگوں کے درمیان ان روابط کے نتیجے میں ایک ترقی پسند انتہا پسندی جنم لیتی ہے ، جو تحریک کی انقلابی خصوصیات پر زور دیتے ہوۓ اسے قومی تحریک کی حیثیت دیتی ہے-
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: