Let we struggle our way

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare on February 2, 2011 at 1:41 pm
چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا
(حصّہ IX )
مترجم نواز بگٹی
مضافاتی جنگ

اگر دوران جنگ چھاپہ مار کسی مضافاتی مقام تک پہنچ جاتے ہیں ، اور شہروں میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں ، انھیں حفاظتی نقطہء نگاہ سے مناسب صورتحال پیدا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے – ایسے میں ضروری ہے کہ ان مضافاتی چھاپہ مار گروہوں کو خاص تعلیم دی جاۓ بلکہ خاص انداز میں منظم کیا جاۓ –

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مضافاتی چھاپہ مار ایک خود رو مخلوق نہیں ہے – یہ صرف اس وقت پیدا کیے جا سکتے ہیں جب اس کی بقاء کے لیۓ ضروری حالات تیار کیۓ جائیں – اسی لیۓ مضافاتی چھاپہ مار ہمیشہ کسی دوسرے علاقے میں موجود قیادت سے براہ راست ہدایات لیتے ہیں  – یہ مضافاتی چھاپہ مار آزادانہ حیثیت سے کوئی سرگرمی  نہیں دکھا سکتے ، بلکہ یہ اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کچھ اس انداز میں کرتی ہیں کہ یہ بڑی حکمت عملی کے حصّے کے طور پر  کسی دوسرے علاقے کے عوامی مفادات کی کاروائیوں میں معاونت کا کردار ادا کرتی ہیں ، کیونکہ یہاں کسی دوسرے چھاپہ مار گروہ کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی ، اس طرح کی کاروائیوں کا  مقصد مخصوص اہداف کا حصول ہوتا ہے – مثال کے طور پر مضافاتی چھاپہ مار گروہ اس قابل نہیں ہوتی کہ ٹیلیفون لائنوں کی تباہی ، کسی دوسرے علاقے میں جا کر حملہ کرنے ، یا پھر دور دراز سڑکوں پر دشمن افواج کے کسی گشتی پارٹی پر اچانک حملہ کرنے جیسی اہداف میں سے اپنے لیۓ کوئی انتخاب کر سکیں ، یہ صرف وہی کچھ کرتے ہیں جس کے بارے میں انھیں کہا جاتا ہے – اگر اس کو دیا ہوا ہدف ٹیلیفون کے کھمبے گرانے ، بجلی کی تاریں کاٹنے ، نکاسی کے نظام کو تباہ کرنے ، ریل کے راستوں یا پھر پانی کے ذخیروں کی تباہی ہو ، یہ ( مضافاتی چھاپہ مار ) خود کو اسی حد تک محدود کر لیتے ہیں تا کہ مخصوص ہدف کو بہتر طور پر حاصل کیا جا سکے –

انہیں چار سے پانچ افراد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیۓ – یہاں محدود تعداد کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ مضافاتی چھاپہ مار کی تعیناتی کو انتہائی نا موافق حالات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا ، جہاں دشمن کی نگرانی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں ، اور یہاں شدید رد عمل کے ساتھ ساتھ دھوکا دہی کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں -ایک اور مشکل صورتحال کا بھی ذکر کرتے چلیں کے مضافاتی چھاپہ مار گروہ جس علاقے میں سرگرم ہوتے ہیں وہاں سے دور بھی نہیں جا سکتے – کاروائی اور انخلاء کی رفتار کے سلسلے میں ، کاروائی کی جگہ اور کمین گاہ میں فاصلے کو بھی محدود کیا جانا چاہیۓ ، اور دیں کے وقت مکمل اخفاء / روپوشی بھی ایک اہم ضرورت ہوتی ہے – یہ انتہائی حد تک رات کی تاریکی میں سرگرم رہنے والا چھاپہ مار گروہ ہوتا ہے ، تا وقتیکہ حالات ایسے ہو جائیں کہ یہ کسی شہر کے محاصرے کے دوران جھڑپ میں براہ راست حصّہ لینے کے قابل ہوں –

ان حالات میں چھاپہ ماروں کی ضروری خصوصیات ہوتی ہیں ، تنظیم ( شاید یہاں اس خصوصیت کی انتہائی حد تک ضرورت ہوتی ہے ) اور صوابدیدی صلاحیتیں – خوراک کی فراہمی کے معاملے میں وہ دو سے تین دوست گھرانوں سے زیادہ پر انحصار نہیں کر سکتا ، اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ ان گھروں کے محاصرے کا نتیجہ موت ہی ہوگا – مزید برآں ان کا اسلحہ بھی دوسرے چھاپہ ماروں کے زیر استعمال اسلحے سے مختلف نوعیت کا ہوتا ہے – یہ اسلحہ کچھ اس طرح کا ہونا چاہیۓ جسے ذاتی حفاظت کے مقاصد کے لیۓ استعمال کیا جا سکے ، جس سے فوری انخلاء کے راستے میں کوئی مشکل نہ  پیش آۓ، اور نہ ہی چھاپہ مار کے خفیہ کمین گاہ کی نشاندہی کا سبب بنے – ہتھیاروں کے معاملے میں یہ گروہ اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ ایک کاربائن یا پھر ایک یا دو مخفی شاٹ گن ، اور باقی اراکین کے لیۓ پستول رکھ سکتا ہے –

انہیں محض مخصوص سبوتاژ کی کاروائی پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھنی چاہیۓ ، اور مسلح حملے کبھی نہیں کرنے چاہیۓ ، سواۓ دشمن  کے ایک یا دو سپاہیوں یا دشمن کے ایک آدھ ایجنٹ پر اچانک حملے کے-

سبوتاژ کے لیۓ چھاپہ ماروں کے پاس جامع اوزاروں کا ہونا بہت ضروری ہے – چھاپہ ماروں کے پاس بہترین آری ، دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ ، پکس اور شاولز ( بھاری وژن اٹھا نے کی جدید مشینیں ) ، ریل کی پٹریوں کو اکھاڑنے کے مناسب اوزار ، غرضیکہ اپنے ہدف کے حصول کے لیۓ تمام میکانیکی اوزار اس کے پاس ہونے چاہیئں – ان اوزاروں کو محفوظ جگہوں پر بڑی احتیاط سے چھپانا چاہیۓ ، اور ان افراد کے آسان دسترس میں جنھیں یہ سب استعمال کرنا ہے ( چھاپہ ماروں کے سرگرم اراکین کے ) –

اگر وہاں ایک سے زیادہ چھاپہ مار گروہ سرگرم ہیں تو وہ سب ایک ہی قیادت تلے ہونگے ، جو انھیں عام زندگی جینے والے قابل بھروسہ افراد کے ذریعے کسی مخصوص کاروائی کے بارے میں ہدایات کاری کرے گا – مخصوص معاملات میں چھاپہ مار اپنے زمانہ امن کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے قابل تو ہوتا ہے ، لیکن ایسا بہت مشکل ہوتا ہے – عملی طور پر کہا جاۓ تو ” مضافاتی چھاپہ مار گروہ ایسے افراد پر مشتمل ہوتا ہے ، جو پہلے ہی قانون کے دائرہ کار سے نکل چکے ہوتے ہیں ، حالت جنگ میں رہتے ہوۓ ، انتہائی نا موافق حالات میں سرگرم رہتے ہیں ، جنکا ہم پہلے احاطہ کر چکے ہیں “-

مضافاتی چھاپہ ماروں کے کردار کی اہمیت کو عام طور پر کم تر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، بہت خوب – اس طرح کی اچھی کاروائیاں  ، جو بہت بڑے علاقے تک پھیلاۓ جائیں ، تقریباً پورے علاقے کی تجارتی و صنعتی زندگی کو مفلوج کر دیتے ہیں ، جس کے نتیجے میں پوری آبادی میں بے چینی اور غم و غصّے کی کیفیت  پیدا ہوتی ہے ، پرتشدد حالات کے معاملے میں عدم برداشت جنم لیتی ہے ، جس سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو جاتا ہے – اگر جنگ کے ابتدائی دنوں ہی سے ، مستقبل میں اس طرح کی جنگی حکمت عملی کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوۓ ، ماہرین کو منظم کرنا شروع کیا جاۓ ، تو تیز ترین کاروائیوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ، اور اس سے نہ صرف انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ قوم کے انمول وقت کو بھی بچایا جا سکتا ہے –
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: