Let we struggle our way

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare on February 2, 2011 at 4:30 am

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا
حصّہ ( VIII )

مترجم نواز بگٹی

ناموافق میدانوں میں نظام جنگ

ایسے علاقے میں چھاپہ مار جنگ کو لڑنے کے لئے ، جہاں کچھ زیادہ پہاڑ نہیں ، جنگلات کی کمی ہے ، بہت زیادہ روڈ رستے ہیں ، چھاپہ مار جنگ کی تمام بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھنا چاہیے ، صرف صورتیں تبدیل ہونگی – چھاپہ مار جنگ کی ، صرف اور صرف عددی تبدیلی ہوگی نہ کہ معیاری تبدیلی – مثال کے طور پر ، پچھلی روایات کو برقرار رکھتے ہوۓ ، اس طرح کے چھاپہ ماروں کی نقل و حرکت غیر معمولی ہو ، رات کے وقت حملوں کو ترجیح دینی چاہیے ، حملوں کا تسلسل انتہائی تیز ہونی چاہیے ، لیکن چھاپہ ماروں کو چاہیے کہ وہ مسلسل متحرک رہیں ، جہاں سے آتے ہوں واپسی کے لئے وہاں جانے کی بجاۓ کسی دوسرے راستے سے نکل جائیں ، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوۓ کہ قرب و جوار میں ایسی کوئی بھی جگہ نہیں جو غاصبوں کی دست برد سے محفوظ ہو ، جسے وہ ( چھاپہ مار ) اپنی چھاؤنی یا عارضی آرام گاہ کے طور پر استعمال کر سکیں ، انہیں   کاروائی کے علاقے سے جتنا ممکن ہو دور نکل جانا چاہیۓ .
ایک جوان رات کے اوقات میں تقریباً تیس سے پچاس کلو میٹر تک سفر کر سکتا ہے ، اور ضرورت کے مطابق صبح سویرے تک سفر کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے ، بشر طیکہ کاروائی کے علاقے پر گہری نظر نہ رکھی جا رہی ہو ،علاقے کی مقامی آبادی سے کوئی خطرہ درپیش نہ  ہو ، نہ ہی آتے جاتے کسی گشتی دستے کی نظروں میں آنے کا خطرہ ہو کہ جس سے چھاپہ ماروں کی محل وقوع اور  آمد و رفت کے راستے دشمن کے نظروں میں آ سکتے ہوں –  حملوں کے لئے رات کی تاریکی کو ترجیح دینی چاہیۓ ، کاروائی سے قبل اور کاروائی کے بعد ممکنہ حد تک خاموشی کو برقرار رکھا جاۓ -حملوں کے لئے رات کے ابتدائی اوقات بہترین تصور کیے جاتے ہیں – حالات کو مد نظر رکھتے ہوۓ ، بنیادی قوائد سے روگردانی بھی کی جا سکتی ہے -حملے کے لئے  پو پھٹنے ( صبح سویرے ) کے وقت کا انتخاب بھی کیا جا سکتا ہے- دشمن کو مخصوص جنگی حالات کا عادی بنانا عقلمندی نہیں ہوگی ، لہٰذا ضروری ہے کہ اہداف ، اوقات اور طریقہء کار میں مسلسل تبدیلی جاری رکھی جاۓ –
جیسے کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اکثر کاروائیاں زیادہ لمبے وقت تک نہیں جاری رکھی جا سکتیں ، لیکن کاروائیوں کی تعداد میں تیزی لانی چاہیۓ ، انھیں زیادہ سے زیادہ مؤثر  ہونا چاہیۓ ، ان کا دورانیہ چند لمحوں پر مشتمل ہو ، اور پھر اسی تیزی سے فرار بھی اختیار کیا جاۓ –  یہاں ہتھیار بھی موافق میدانوں میں مستعمل ہتھیاروں سے مختلف ہونگے ، خود کار ہتھیاروں کی بارے تعداد کو ترجیح دی جاۓ گی- رات کی تاریکی میں نشانہ بازی کی صلاحیت کوئی فیصلہ کن کردار نہیں ادا کرتی ،بلکہ فائر پر زیادہ توجہ مبذول کرنی چاہیۓ ، کم فاصلے سے خود کار ہتھیاروں سے جارحانہ حملوں میں دشمن کو زیادہ سے زیادہ تباہی سے دو چار کرنا ممکن ہو جاتا ہے –
یہاں سڑکوں اور پلوں کوبارودی سرنگوں کے زریعے تباہ کرنے کی حکمت عملی بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے – تسلسل اور مستقل مزاجی حوالے سے دیکھا جاۓ تو چھاپہ مار جارحیت کم ہی نظر آۓ گی ، لیکن یہ بہت پر تشدد ہوتے ہیں ، اور وہ ( چھاپہ مار ) مختلف ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں ، جیسے بارودی سرنگیں یا شاٹ گن وغیرہ – کھلی گاڑیوں میں موجود سپاہ ، جو کہ سپاہیوں کی نقل و حرکت کا عمومی طریقہ بھی ہے ، حتیٰ کہ بند گاڑیوں یا بسوں وغیرہ کی حفاظت کا اہتمام نا ممکن ہوتا ہے ، لہٰذا انکے خلاف شاٹ گن کا استعمال بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے – لمبی شاٹ کا حامل شاٹ گن بہت مؤثر ہو سکتا ہے – یہ صرف چھاپہ ماروں کی خصوصیت نہیں بلکہ بڑی روایتی جنگوں میں بھی یہ ایک آزمودہ طریقہ ہے – مشین گنوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیۓ امریکیوں نے ، شاٹ گنوں کو بہتر گولہ بارود سے لیس  ، سنگین بردار فوجی ٹکڑیوں کا کامیاب استعمال کیا ہے –

یہاں گولہ بارود کے حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی ضروری سمجھتے ہیں ، یہ تقریباً ہمیشہ دشمن ہی سے حاصل کیۓ جاتے ہیں -اس لیۓ ضروری ہے کہ ایسی جگہوں پر جارحانہ حملے کیۓ جائیں جہاں سے اسلحہ و گولہ بارود کا خاطر خواہ ذخیرہ ہاتھ لگنا یقینی ہو ، تا وقتیکہ ( چھاپہ مار ) اپنے محفوظ ذخائر کو بہت بڑھا نہیں لیتے – دوسرے الفاظ میں دشمن کے کسی گروہ کو برباد کرنے کے لیۓ اپنی گولہ بارود کو اس وقت تک داؤ پر نہیں لگانا چاہیۓ ، تا وقتیکہ اس ( اسلحہ ) کے متبادل کا حصول یقینی نہیں ہو جاتا – چھاپہ ماروں کو جنگ جاری رکھنے کے لیۓ اسلحہ کے حصول کی راہ  میں درپیش مشکلات کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیۓ – اس مقصد کے لیۓ چھاپہ ماروں کے لیۓ ضروری ہے کہ وہ بھی وہی ہتھیار استعمال کریں جو دشمن کے زیر استعمال ہیں ، سواۓ چند مخصوص اقسام کے ہتھیاروں کے ، جیسے کہ ریوالور یا شاٹ گن وغیرہ کہ ان کی گولیاں علاقے میں بآسانی دستیاب ہوتی ہیں یا پھر شہروں سے حاصل کی جا سکتی ہیں –
یہاں چھاپہ مار گروہ میں شامل جوانوں کی تعداد دس – پندرہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیۓ  – کسی بھی ایک جھڑپ کے لیۓ جوانوں کی تشکیل  میں محدود تعداد کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیۓ ، دس-بارہ- پندرہ لوگ کہیں بھی آسانی سے چھپ سکتے ہیں ، اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کی بہتر مدد کر دشمن کے مقابلے میں شدید مزاحمت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں- چار یا پانچ کی تعداد شاید کم ہو ، جبکہ اگر یہی تعداد دس سے تجاوز کر جاۓ تو اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ یہ (چھاپہ مار ) اپنی کمین گاہوں میں ہی دشمن کی نظروں میں آ جائیں یا پھر (ہدف کی جانب ) پیشقدمی کے دوران دشمن ان کی نشاندہی کر لے-
یاد رکھیں کہ چھاپہ مار گروہ کی سرعت رفتار ہمیشہ گروہ میں شامل کمزور ترین شخص کی رفتار کے برابر ہوتی ہے – اس لیۓ مشکل ہے کہ بیس ، تیس ، یا چالیس افراد پر مشتمل گروہ کا رفتار ، دس افراد پر مشتمل گروہ کے برابر ہو – اور میدانی علاقوں میں تو چھاپہ مار کو بنیادی طور پر بہترین بھاگنے والا ہونا چاہیۓ – یہاں مارنے اور بھاگنے کی بنیادی مشق کا استعمال کا بہترین مظاہرہ ہوتا ہے – میدانی علاقوں کے چھاپہ ماروں کے پاس چونکہ جم کر مزاحمت کرنے کے لیۓ کسی بھی مقام کے انتخاب کے لیۓ غیر یقینی کی سی کیفیت ہوتی ہے ، اسی لیۓ انھیں ( چھاپہ ماروں کو ) ہر وقت محاصرے میں آنے کے شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں ، اسی لیۓ انھیں چاہیۓ کہ لمبے عرصے تک رازداری سے روپوش رہیں ، کسی بھی ہمساۓ پر بھروسہ کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، تاوقتیکہ ان کی وفاداریوں کا واضح تعین نہ کیا جاۓ – دشمن کا جبر اتنا پرتشدد ہوتا ہے ، عام طور پر اتنا ظالمانہ ہوتا ہے ، کہ نہ صرف خاندان کا سربراہ ، بلکہ بچے اور خواتین بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہتے ، اس قدر شدید دباؤ میں کوئی بھی ایسا فرد جس کی وابستگی متزلزل ہو ، کسی بھی موقع پر دشمن کو ایسی معلومات دے سکتا ہے جس سے چھاپہ ماروں کے کمین گاہوں کی نشاندہی ہو سکے یا ان کے طریقہء کار کی ،کہ وہ کس طرح کام کرتے ہیں- جس کے نتیجے میں ہمیشہ محاصرے کا خطرہ سر ابھارتا ہے ، جو ہمیشہ  غیر متوقع نتائج کا حامل ہوتا ہے ، اگرچہ ضروری نہیں کہ محاصرے کے نتیجے میں بھاری نقصان بھی ہو – جب اسلحہ کی فراوانی ہو ، لوگوں میں بغاوت کا شدید جزبہ ہو، اور چھاپہ مار گروہ میں جوانوں کی تعداد بڑھانا نا گزیر ہو ،  تو ایسے حالات میں چھاپہ مار گروہ کو تقسیم کر دینا چاہیۓ -اگر ضرورت محسوس کی جاۓ تو یہ منقسم گروہ کسی مخصوص کاروائی کی انجام دہی کے لیۓ اکٹھے ہو جائیں ، اور کاروائی کے مکمل ہوتے ہی دوبارہ دس-بارہ- پندرہ کی تعداد میں منتشر ہو کر الگ الگ مقامات کی جانب نکل جائیں –

یہ بالکل ممکن ہے کہ تمام چھوٹی بڑی  (چھاپہ مار ) افواج کو ایک قیادت کی چھتری تلے جمع کیا جا سکے ، اوراس قیادت کے احترام اور اسکی تابعداری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ، بغیر اس سوال کے کہ تمام افواج (چھاپہ ماروں ) کا تعلق ایک ہی گروہ سے ہے یا نہیں – اسی لیۓ چھاپہ ماروں کے سربراہوں کے انتخاب میں ضروری ہے کہ اس کی  (منتخب سربراہ کی ) نظریاتی اور شخصی حیثیت میں تمام علاقائی سربراہان سے ہم آہنگی کو مد نظر رکھا جاۓ –

بزوکه اگرچہ ایک بھاری ہتھیار ہے لیکن نقل و حمل میں آسانی اور آسان طریقہء استعمال کی بناء پر اسے چھاپہ مار استعمال کر سکتے ہیں – آج کل کے رائفل کے ذریعے فائر ہونے والے اینٹی ٹینک گرنیڈ، اس (بزوکه ) کا بہتر متبادل ہو سکتے ہیں- ظاہر ہے یہ وہ ہتھیار ہیں جنھیں دشمن ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے – بزوکه ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ، اور غیر بکتر بند ایسی گاڑیوں کو بھی جو دشمن افواج سے بھری ہوئی ہوں ، یا پھر کم جوانوں کی مدد سے کسی بھی (دشمن کے ) مرکز پر کم سے کم وقت میں قبضہ کیا جا سکتا ہے ، لیکن یہاں یاد رکھنے کا نقطہء یہ ہے کہ کوئی بھی جوان تین سے زیادہ (بزوکه کے ) گولے نہیں اٹھا سکتا ، اور اس یہی نقطہ ہمیشہ مد نظر رہنا چاہیۓ –

دشمن سے چھینے ہوۓ بھاری ہتھیاروں کا استعمال کسی عار کی بات نہیں ، لیکن کچھ بھاری بھرکم ہتھیار جیسے ٹرائی پاڈ مشین گن ، یا بھاری  پچاس ملی میٹر مشین گن 3  جیسے ہتھیاروں کے ہاتھ آنے کے بعد ان کے  استعمال کا مطلب ہوگا دوبارہ ان سے ہاتھ دھو بیٹھنا – دوسرے الفاظ میں نا موافق حالات جنگ ، جنکا ہم تجزیہ کر رہے ہیں ، ٹرائی پاڈ مشین گن یا اس طرح کی دوسری بھاری ہتھیاروں کا دفاع کرنے کی اجازت نہیں دیتے – انھیں (بھاری ہتھیاروں کو )  با لکل بھی استعمال نہیں کرنا چاہیۓ ، تا وقتیکہ  کسی اہم موقع کے پیش نظران ہتھیاروں سے دست بردار ہونا ضروری نہیں ہو جاتا – ہمارے کیوبائی جنگ آزادی میں ، ہتھیاروں سے دست برداری کو سنگین جرم سمجھا جاتا تھا ، اور کبھی بھی ایسی صورتحال نہیں پیدا ہوئی کہ ان ہتھیاروں سے دست بردار ہونا پڑتا – پھر بھی ہم نے ایسے حالات  کی واضح نشاندہی کر دی ہے جب ہتھیاروں سے دست برداری کو قابل ملامت عمل نہیں سمجھنا چاہیۓ- ناموافق میدانوں میں چھاپہ مار سپاہی کا ہتھیار ، تیز فائر کرنے والا ذاتی ہتھیار ہی ہوتا ہے –

کسی بھی علاقے میں آسان رسائی کا مطلب ہوتا ہے کہ  وہاں آبادی ملے گی ، کاشتکار بھی خاصی تعداد میں ہونگے ، یہی سہولیات رسد میں حیران کن آسانی کا سبب ہوتے ہیں – قابل اعتماد لوگوں ، اور علاقے کو خوراک و رسد پہنچانے والے ذرائع سے اچھے روابط استوار کر کے ،رسد کے طویل اور پر خطر روایتی ذرائع پر وقت صرف کیۓ بنا ، بھاری بھرکم رقم خرچ کیۓ بغیر ہی  چھاپہ مار گروہ کو بہترین حالت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے -یہاں اس بات کا اعادہ کرنا مناسب ہوگا کہ تعداد جتنی کم ہو خوراک کا حصول اتنا ہی آسان ہوگا – بنیادی ضروریات جیسے ، بستر، واٹر پروف سامان ، مچھر دانیاں ، جوتے ، ادویات ، اور خوراک وغیرہ تو علاقے ہی سے براہ راست  دستیاب ہو سکتی ہیں ، کیونکہ یہ مقامی آبادی کی  روز مرّہ استعمال کی اشیاء ہی ہیں-

زیادہ افرادی قوت اور زیادہ سڑکوں پر انحصار کر کے روابط کو تو بہتر بنایا جا سکتا ہے ، لیکن ایسے میں دور دراز مقامات تک پیغامات کی حفاظت کے سنگین سوال ابھر سکتے ہیں ، اس لیۓ ضروری ہے کہ قابل بھروسہ روابط کا ایک سلسلہ قائم کیا جاۓ – دشمن کی صفوں میں مسلسل آمد و رفت کی وجہ سے کسی بھی پیغام رساں کی اچانک گرفتاری کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے – اگر پیغام کم اہمیت کا حامل ہے تو یہ زبانی ہونا چاہیۓ ، اگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے تو لکھنے کے لیۓ مخصوص مخفی طریقہ استعمال کرنا چاہیۓ – تجربےسے ظاہر ہوتا ہے کہ لفظ بہ لفظ پیغامات اکثر روابط کو بگاڑ نے کا سبب بنتے ہیں –

اسی طرح کی  وجوہات کی بناء پرصنعتکاری کی اہمیت کم ہو جاتی ہے ، اور بیک وقت اسے آگے بڑھانا بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے -اسلحہ اور جوتا سازی کے کارخانے لگانا نا ممکن ہے – عملی بات ہے کہ کاریگروں کو چھوٹے دوکانوں کی حد تک محدود کیا جاۓ ، ایسے دوکانوں میں جنھیں مخفی رکھنے میں انتہائی احتیاط برتی گئی ہو، جہاں شاٹ گن کی گولیوں کو دوبارہ بھرا جا سکے ، بارودی سرنگیں اور گرنیڈ وغیرہ ،اور اس وقت کی  دوسری کم از کم ضروریات کی تیاری ممکن ہو  دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ علاقے میں موجود دوستانہ دوکانوں کو اسی مقصد کے لیۓ حسب ضرورت  استعمال کیا جا سکتا ہے –

ہم اس منطقی گفتگو سے دو طرح کے نتائج اخذ کرتے ہیں – ایک یہ کہ چھاپہ ماروں کے لیۓ جوعلاقے موافق میدان کہلاتے ہیں، اور جہاں چھاپہ مار اپنے مضبوط مراکز قائم کرتے ہیں وہ علاقےعام طور پر اپنے کم  پیداوار اور غیر آباد کاری کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں ، جبکہ ایسے علاقے جہاں زندگی کے پنپنے کو تمام  موافق حالات ،اور آباد کاری کے تمام ضروری سہولیات موجود ہیں وہاں چھاپہ ماروں کے لیۓ صورتحال بالکل برعکس ہے – (انتہائی دلچسپ اور غور طلب صورتحال ہے )- یعنی جتنی زیادہ سہولیات ، جتنی اچھی سماجی زندگی ہو گی ، وہاں چھاپہ ماروں کو اتنی ہی غیر یقینی اور خانہ بدوشی کی سی صورتحال کا سامنا ہوگا – یہ درحقیقت اس ایک ہی سادہ سی اصول کا نتیجہ ہے – اس باب کا عنوان ہے ” نا موافق میدان میں نظام جنگ ” ، یعنی ہر وہ چیز جو انسانی زندگی کے موافق ہو ، ذرائع رسل و رسائل ،بڑی تعداد میں شہری و نیم شہری آبادی ، مشینوں سے ہموار کیا گیا زمین ، یہ تمام حالات چھاپہ ماروں کو نا موافق صورتحال سے دو چار کرتے ہیں –

دوسرا نتیجہ ، اگر چھاپہ مار طرز جنگ کے لیۓ عوامی راۓ عامہ کو ہموار کرنا ضروری ہے تو نا موافق میدان میں تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ، جہاں دشمن کا ایک حملہ بہت زیادہ تباہی کا سبب بن سکتا ہے – یہاں اپنے نظریے کی تبلیغ جاری رکھنی  چاہیۓ اور اس کے ساتھ ساتھ کارکنوں ،کاشتکاروں اور اس علاقے میں رہائش پذیر دوسرے تمام طبقوں کی ، یکجہتی کی جدوجہد بھی کی جاۓ تا کہ چھاپہ مار گروہوں کی یکجہتی کو برقرار رکھا جا سکے – عوامی رابطوں کے اس مہم میں ، چھاپہ ماروں اور مقامی آبادی کے رشتوں کے اس مشکل مہم میں ، اگر دشمن کے کسی اڑیل سپاہی سے سامنا ہو جاۓ، اور وہ خطرناک محسوس ہو تو اسے ختم کرنے میں با لکل بھی  ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے – ان معاملات میں چھاپہ مار گروہ کو انتہائی سختی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ، ایک غیر محفوظ علاقے میں اپنے درمیان دشمن سپاہی کی موجودگی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: