Let we struggle our way

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا

In BLA, bnf, bra, gurriella warfare on February 1, 2011 at 1:04 pm

 

چھاپہ مار جنگ – ارنسٹو چہ گوارا
(حصّہ VII )
مترجم نواز بگٹی
موافق میدان کا نظام جنگ

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ چھاپہ مار جنگ ، ایسے موافق میدان میں لڑی جاۓ جہاں انہیں ( چھاپہ ماروں ) کو اپنی حکمت عملیاں اختیار کرنے میں آسانی ہو ؛ لیکن ایسا تب ہوتا ہے جب چھاپہ مار جنگ دشوار گزار علاقوں میں لڑی جا رہی ہو ، اسکی وجہ چاہے گھنے جنگلات ہوں ، بلند و بالا پہاڑ ہوں ، یا پھر بے آب و گیاہ میدان ، چھاپہ مار جنگ کی بنیادی و مسلمہ  حقائق کی بناء پر عمومی حکمت عملی ہمیشہ ایک سی ہونی چاہیئں – یہاں  ایک اہم اور غور طلب نقطۂ ہے دشمن سے سامنا ہونے  کا – اگر علاقہ اتنا گنجان ہے یا پھر اس قدر دشوار گزار ہے کہ وہاں کسی منظم فوج کا گزر مشکل ہو جاتا ہے تو چھاپہ ماروں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں کی جانب پیش قدمی کریں جہاں دشمن افواج کی رسائی اور اس سے  مقابلے کے امکانات ہوں-
جیسے ہی چھاپہ ماروں کی بقاء یقینی بن جاۓ ، انھیں چاہیے کہ لڑنے کے لیۓ اپنی کمین گاہوں سے مسلسل باہر نکلیں – غیر موافق میدانوں میں انکی نقل و حرکت یقیناً اتنی بہتر نہیں ہوگی ، لیکن انہیں اپنے آپ کو دشمن کی صلاحیتوں سے یقینی طور پر ہم آہنگ کرنا ہوگا ، لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ ایسے علاققوں کی جانب پیش قدمی میں پھرتی دکھائی جاۓ جہاں دشمن انتہائی کم وقت میں اپنی سپاہ کو بڑی آسانی کے ساتھ ، بڑی تعداد میں جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو – چھاپہ مار جنگ کی تاریکی سے فائدہ اٹھانے کی روایت اتنی اہمیت کی حامل نہیں ، بہت سارے معاملات میں، دن کے وقت بھی کاروائی کے امکانات موجود ہوتے ہیں ، خصوصاً دن کے وقت نقل و حرکت ، اگرچہ اسے دشمن کی فضائی و زمینی نگرانی سے مشروط ہی کیا جاۓ – یہ بھی ممکن ہے کہ کسی جھڑپ کو لمبے وقت تک طول دیا جاۓ ، خصوصاً پہاڑوں میں ، جوانوں کی تھوڑی سی تعداد بھی لڑائی کو لمبے وقت تک طول دے سکتی ہے ، اور بہت حد تک ممکن ہے کہ دشمن کے کمک کو میدان جنگ تک پہنچنے ہی نہ دیا جاۓ –
تمام قابل رسائی جگہوں پر قریبی نظر رکھنا ایک ایسی بنیادی و آفاقی حقیقت ہے جسے چھاپہ مار کسی بھی طور پر نہیں بھول سکتے – دشمن کے کمک کو درپیش مشکلات کے سبب انکی (چھاپہ ماروں کی ) جارحیت حد درجہ بڑھ جاتی ہے ، وہ دشمن کے زیادہ قریب تک جا سکتے ہیں ، دو بہ دو اور زیادہ وقت تک لڑنا ممکن ہو سکتا ہے – اگرچہ ان قوائد کو   ، دوسرے پہلوؤں سے بھی پرکھنا لازمی ہوتا ہے ، جیسے کہ دستیاب گولہ بارود وغیرہ –
موافق میدان جنگ کی آسانیاں اپنی جگہ ، لیکن اس میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ، وہ ہیں ،  دشمن کے احتیاطی تدابیر کی وجہ سے  کہ کسی بھی کامیاب جھڑپ کے نتیجے میں خاطر خواہ گولہ بارود کا ہاتھ نہ آنا ، ( چھاپہ مار جنگجو کو یہ حقیقت کبھی بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ انھیں ہتھیاروں کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ دشمن افواج ہی ہیں .) لیکن نا موافق میدان کے برعکس ،دشمن کے بھاری توپخانے کی پہنچ سے دور ، فضائی حملوں سے محفوظ ، یہاں چھاپہ مار سرعت سے اپنی جڑیں مضبوط کر سکتے ہیں ، یہاں ایک مضبوط مرکز کا قائم کیا جاسکتا ہے  جس کے ذریعے دشمن کو جنگ میں مصروف رکھا جا سکے ، جہاں حسب ضرورت چھوٹی صنعتیں قائم کی جائیں ، جیسے ہسپتال ، تعلیمی و تربیتی مراکز ، ذخیرہ اندوزی کی سہولیات ، اور پروپگینڈہ کی بنیادی تنصیبات وغیرہ –
ان (موافق ) میدانوں میں چھاپہ مار اپنی افرادی استعداد بھی بڑھا سکتے ہیں ، اس افرادی قوت میں ایسے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کی ذمہ داریاں براہ راست جنگجوانہ نہیں ہوتیں ، اور ایسے افراد کو بھی  ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دی جا سکتی ہے جواچانک  چھاپہ ماروں کی قوت میں اضافے کا سبب بنے ہوں-
چھاپہ مار گروہ اپنے ساتھ کتنے افراد رکھ سکتا  ہے ، اس کا انحصار علاقے میں موجود عوامل کے  انتہائی لچکدار تخمینوں کی بنیاد پر ہوتا ہے ، حصول  رسد کے دستیاب ذرائع ، دوسرے علاقوں سے مظلوموں کی بھاری تعداد میں آمد ، دستیاب اسلحہ ، تنظیمی ضروریات ، وغیرہ – لیکن ہر طرح کے معاملے میں ، نئی آمدہ جنگجوؤں کے تعاون سے وسعت کے عملی  امکانات  بہت حد تک موجود ہوتے ہیں- ایسے گروہ کی کاروائیوں کے لیۓ میدان کی وسعت اس قدر زیادہ ہوتی ہے جتنی کہ  حالات ، اور منسلکہ علاقوں میں مصروف عمل دوسرے گروہوں کا دائرہ کار اجازت دیتے ہوں – چھاپہ مار گروہوں کے عملی دائرہ کار کے تعین میں ، مصروف عمل علاقے اور محفوظ مرکز کے درمیان فاصلے کا بھی خاطر خواہ کردار ہوتا ہے- رات کی تاریکی میں نقل و حرکت کے عمومی اصول کو مد نظر رکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا (چھاپہ ماروں کا ) عملی دائرہ کار ، اپنے محفوظ مرکز سے چھہ – سات گھنٹوں کے فاصلے تک ہی محدود ہوتا ہے – چھوٹے چھاپہ مار گروہ جو مسلسل کسی مخصوص علاقے میں دشمن کو کمزور کرنے میں مصروف ہوں ، اپنے محفوظ مرکز سے نسبتاً زیادہ دور تک جا سکتے ہیں-
ایسی لڑائیوں کے لیۓ ہتھیاروں کی ترجیحی  اقسام ، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے ہتھیاروں کی ہوتی ہے  جن کی گولیوں پر اٹھنے والے اخراجات کم ہوں ، اور مدگار ہتھیاروں کے طور پر خود کار و نیم خودکار ہتھیاروں کی مناسب تعداد بھی ساتھ رکھی جا سکتی ہے -اگر رائفلوں یا مشن گنوں کی بات کی جاۓ تو ،   امریکی منڈیوں میں دستیاب  گرینڈ کے نام سے مشہور (M -1 ) رائفل ایک بہتر انتخاب ہو سکتا ہے –  بہر حال اسے صرف مناسب تربیت یافتہ افراد کو ہی استعمال کرنا چاہیے ، کیونکہ اس کے غیر مناسب استعمال میں گولیوں کے بڑی تعداد میں غیر ضروری استعمال  کا خطرہ مضمر ہوتا ہے – بھاری ہتھیاروں کی درمیانی اقسام ، جیسے ٹرائی پاڈ مشین گن وغیرہ کو موافق میدان میں استعمال کیا جا سکتا ہے جسکے استعمال سے جنگجو اور ہتھیار  کی حفاظت کو بڑی حد تک یقینی بنایا جا سکتا ہے ، لیکن ایسے ہتھیار دشمن کو خود سے دور رکھنے کے لیۓ تو کارگر ہوتے ہیں ، حملے کے لیۓ نہیں –
٢٥ (پچیس ) افراد پر مشتمل ایک چھاپہ مار گروہ میں ہتھیاروں کی مثالی تقسیم کچھ یوں ہو سکتی ہے کہ ، دس سے پندرہ سنگل شاٹ رائفل لیۓ جائیں ، اور کم و بیش دس عدد خود کار ہتھیار ہوں ، گرینڈس یا دستی مشین گن ، بشمول ہلکے اور بآسانی اٹھاۓ جانے والے خود کار ہتھیاروں کے ، جیسے کہ ” براؤننگ ” یا زیادہ جدید بیلجین ایف – اے – یل (FAL ) یا ایم – ١٤ ( M -14 ) خود کار رائفل –
دستی مشین گنوں میں بہترین ہتھیار  وہی  ٩ ملی میٹر والے ہی ہیں ، جن کے گولیوں کی بھاری مقدار کو لانا لے جانا آسان ہوتا ہے – جس قدر سادہ ہتھیار ہوں اتنے ہی بہتر ہوتے ہیں ، کیوں کہ اپنی سادہ جوڑ جکھ کی بناء پر انکے پرزوں کی تبدیلی بہت آسان ہوتی ہے – یہ تمام دشمن کے زیر استعمال ہتھیاروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ، ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب ہم اسی سے چھینے ہوۓ ہتھیار اس کے خلاف استعمال کر رہے ہوں – بھاری ہتھیاروں کا استعمال عملی طور پر نا  ممکن ہوتا ہے – جہاز کچھ دیکھ نہیں پاتے اور اپنی کاروائی روک دیتے ہیں ، ٹینک اور توپ دشوار گزار علاقوں میں کسی کام نہیں آتے –
ایک انتہائی غور طلب نقطۂ ہوتا ہے رسد کا – اپنی دشوار گزاری کی وجہ سے  ایسے علاقے واقعی مشکلات کا سبب بنتے ہیں ، چونکہ  ایسے علاقوں میں کاشتکاروں کی قلیل تعداد ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ جانوروں اور خوراک کی فراہمی بھی تکلیف دہ حد تک کم ہی ہوتی ہے – اس لیۓ بے حد ضروری ہوتا ہے کہ  ذرائع رسد و رسائل کو مستحکم کیا جاۓ تا کہ خوراک کی کم سے کم ضروری مقدار کو ذخیرہ کیا جا سکے جو کسی بھی برے وقت میں بہت اہمیت اختیار کر سکتی ہے – نا قابل رسائی ہونے کی بناء پر ایسے علاقوں میں سبوتاژ کی کوئی بھی بڑی کاروائی کرنے کے امکانات نہیں ہوتے ،  کیونکہ یہاں تعمیرات ، مواصلات اور کاریزوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ، جنھیں براہ راست کروائی سے تباہ کیا جا سکتا ہو-
رسد کے لیۓ بار برداری کے  جانور رکھنا بہت اہم ہوتا ہے ، اس مقصد کے لیۓ  دشوار گزار علاقوں میں خچر ایک بہترین جانور ہے – جانوروں کے لیۓ خوراک کے حصول کی خاطر مناسب چراگاہ بھی اپنی دسترس میں ہونی چاہیے – خچر ان دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بآسانی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں سے دوسرے جانوروں کا گزرنا نا ممکن ہوتا ہے – انتہائی نا مساعد حالات میں بار برداری کے انسانی ذرائع بھی استعمال کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے ، ہر شخص ٢٥ (پچیس ) کلو گرام تک کا وژن ، کئی گھنٹوں تک ، کئی روز کے لیۓ اٹھا سکتا ہے –
رسد کے راستے میں مناسب تعداد میں درمیانی مقامات کا تعین ہونا بھی ضروری ہے ،ان درمیانی مقامات پر مکمل طور پر قابل بھروسہ لوگ تعینات ہوں  ، تا کہ  ان مقامات پر مشکل حالات میں نہ صرف سامان کو ذخیرہ کیا جا سکے بلکہ اپنے ( سامان کے نقل و حمل کے ذمہ دار ) جوانوں کو چھپنے کی سہولت بھی مہیا ہو- سامان رسد کی نقل و حمل کے لیۓ چھاپہ مار گروہ کے ما بین داخلی راستے بھی بناۓ جاۓ سکتے ہیں ، ان کو چھاپہ مار گروہ کی بڑھتی ہوئی استعداد کو مد نظر رکھتے ہوۓ وسعت دی جا سکتی ہے- حالیہ کیوبا کی لڑائی میں ، کئی کلو میٹر لمبی ٹیلیفون لائنیں بچھائی گئیں ، سڑکیں بنائی گئیں اور پیغام رسانی کا مناسب انتظام کیا گیا ، تا کہ تمام علاقوں تک رسائی کو کم سے کم وقت میں ممکن بنایا جا سکے –
رابطوں اور پیغام رسانی کے دوسرے ذرائع بھی ہیں ، جنھیں اگرچہ کیوبا کی لڑائی میں استعمال تو نہیں کیا گیا لیکن انکی افادیت مسلمہ ہے ، جیسے کے دھویں کے اشارے (Smoke Signalz )، آئینے کے ذریعے سورج کی شعاؤں کو منعکس کر کے یا پھر پیغام رساں کبوتروں کا استعمال –
اپنے ہتھیاروں کو ہمیشہ اچھی حالت میں رکھنا ، گولہ بارود پر  قبضہ کرنا ، اور سب سے بڑھ کر مناسب جوتے ، چھاپہ ماروں کی اہم ضروریات میں شیمار ہوتی ہیں ، لہٰذا سب سے پہلے پیداواری صلاحیتوں کو ان ضروریات کے حصول پر مرکوز کرنا چاہیے –  جوتے بنانے کے لیۓ ابتدائی طور پر موچیوں کی روایتی تنصیبات سے مدد لیا جا سکتا ہے ، جو دستیاب جوتوں کی تلووں کو تبدیل کریں ، اس کے بعد جوتا سازی کی منظم صنعت کا انتظام کیا جاۓ جو روزانہ بنیادوں پر مناسب مقدار میں جوتوں کی پیداوار دے سکے – پاؤڈر ( بارودی مواد ) کا بنانا بہت سادہ ہے ، اسکے لیۓ ایک چھوٹے تجربہ گاہ کی ضرورت ہوتی ہے اور باہر سے ضروری اجزاء لے کر تجربہ گاہ میں پہنچانے کی – بارودی سرنگوں کا علاقہ دشمن کو شدید خطرات سے دو چار کر سکتا ہے ، بیک وقت بڑی تعداد میں دھماکوں کی غرض سے بہت بڑے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھائی جا سکتی ہیں ، بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے دشمن کے سینکڑوں سپاہیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے –
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: