گزشتہ سے پیوستہ ……
چھاپہ مار جنگ – شہری ماحول- حکمت عملی
تحریر نواز بگٹی
گزشتہ مضمون میں آئرش ریپبلکن آرمی کی جنگی حکمت عملی کا بغور جائزہ لیا گیا ، اس مضمون میں ماضی قریب کی مشہور زمانہ افغان چھاپہ مار جنگ یا افغان مجاہدین کی اختیار کردہ حکمت عملیوں پر غور کیا جاۓ گا – واضح رہے روسی افواج کے خلاف اس جنگ میں افغانوں کو امریکہ ، سعودی عرب، اور پاکستان کی واضح حمایت بھی حاصل تھی – اور افغان چھاپہ ماروں کی تربیت امریکی و پاکستانی افواج نے انتہائی پیشہ ورانہ خطوط پر کی تھی -
افغان جنگ کے بارے میں امریکی عسکری تجزیہ نگار “بمن . روبرٹ. ایف ” لکھتے ہیں ” روسی افواج نے تقریباً تمام بڑی شاہراہوں پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں ، خاص طور پر شمالی صوبہ جات کابل اور تمریز کے مابین تو واضح طور پر انتہائی فعال نظر آتے تھے – اس اہتمام کے باوجود کابل میں حکام اپنے عہدیداران کی حفاظت کے لئے سخت مشکلات کا شکار تھے ، جنھیں دارلحکومت ہی میں آۓ روز حملوں کا سامنا تھا – مزاحمتی تحریک کی جانب سے نشانہ بازی ، بم حملے ،اور قتال کا سلسلہ جاری تھا-”
مجاہدین کی نسبتاً چھوٹی ٹکڑیاں گھات لگا کر حملہ آور ہوتی تھیں – ایسے حملوں کی اہمیت عسکری کم ، سیاسی و نفسیاتی زیادہ ہوتی تھی -ایسے حملوں کی زد میں زیادہ تر حکومتی و سیاسی ڈھانچہ ہی رہتا تھا – روسی ہمیشہ ایسے حملوں کو دہشت گردی اور سبوتاژ کی کاروائیوں کا نام دیتے رہے - روسیوں کے خیال میں یہ ایسے رجعت پسند دہشت گردوں کا ٹولہ تھا جنھیں پڑوسی ملک پاکستان سے ایسے حملوں کی تربیت دے کر بھیجا جاتا تھا-
اگرچہ مجاہدین کو شہر کے مضافاتی علاقوں اور اہم شاہراہوں سے ذرا ہٹ کے اندروں شہر کے گلی کوچوں میں آمد و رفت میں کوئی خاص مشکل درپیش نہیں تھی ، اور اکثر وہاں وہ اپنی کاروائیاں بھی کرتے تھے ، لیکن انھیں با سلیقہ اور مناسب منصوبہ بندی کی نا کافی صلاحیتوں کی بنا پر بہت کم کامیابی نصیب ہوتی تھی -
وقت ، تجربے ، اور بیرونی پیشہ وارانہ تربیت نے مجاہدین کی صلاحیتوں کو واضح طور پر نکھارنا شروع کیا – کچھ ایسے قصبے بھی چھاپہ مار کاروائیوں کا نشانہ بنے جو نہ تو براہ راست روسی افواج کے قبضے میں تھے نہ ہی وہاں روسی حمایت یافتہ افغان افواج کے – ان لڑائیوں کی شدّت بھی کچھ زیادہ ہی ہوتی تھی ، اور ایسی لڑائیوں کا بنیادی مقصد شاید مذکورہ قصبے پر اپنے اختیار کو مستحکم کرنا ہوتا تھا .ان لڑائیوں میں بھی معروف چارہ ڈالنے والی حکمت عملی ہی استعمال ہوتی تھی ، مجاہدین قصبے کے باہر گزرتی ہوئی روسی افواج کے کاروانوں پر فائرنگ کرتے ہوے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق پیچھے ہٹتے ، اور روسی افواج کو اپنے پیچھے لگا کر قصبے میں داخل ہونے پر مجبور کرتے ، قصبے کی کچی دیواریں کسی مضبوط مورچے کا کام دیتی تھیں -
نسبتاً بڑی کاروائیوں کی منصوبہ بندی میں حفاظتی پہلووں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانے لگا ، جس کی واضح مثال کابل میں ” میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی ” پر کیا جانے والا مشہور حملہ ہے- افغان مجاہدین کے مربی امریکہ کے ایک عسکری مبصر ” ڈبلیو .گرو ” اپنی تصنیفات میں اس حملے کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ اس حملے میں کم و بیش ١٢٠ مجاہدین نے حصّہ لیا ، اور حقیقی منصوبے کا علم سواۓ چند کمانداروں کے کسی کو نہ تھا ، حصّہ لینے والی سپاہ جوں جوں مقررہ جگہ پر پہنچتی گئی انھیں ان کے انفرادی فرائض کے براۓ میں اختصار سے بتا دیا جاتا نہ کہ مکمل منصوبے کے بارے میں – ( واضح رہے کہ مذکورہ مصنف کو مجاہدین کی صفوں میں واضح اثر و رسوخ حاصل تھا اور مجاہدین کی منصوبہ بندی کے بارے میں انکی انکشافات یا معلومات کو بہت حد تک منطقی اور حقیقت سے قریب تر سمجھا جاتا ہے – )
افغان جنگ میں شہری معرکوں کے اہداف کا انتخاب دوراندیشی سے کیا جاتا تھا ، اور ان سے کوئی فوری نتائج کا حصول شاید منصوبہ سازوں کا مطمع نظر نہیں تھا -دور رس نتائج کے حصول میں مختلف چھاپہ مار تنظیمیں نظریاتی اختلافات کے باوجود متحد نظر آتی تھیں – یہاں تک کہ بعض مواقع پر شیعہ اور سنی ، روایتی طور پر حریف مذہبی مسالک کی شناخت رکھنے کے باوجود اکٹھی کاروائیوں میں مصروف عمل نظر آے-
مجاہدین کو یہاں بھی تربیتی مسائل کا سامنا بڑی شدت سے رہا ، اور اکثر معرکوں کے دوران ہی نئی پود کی تربیت کی جاتی تھی -صرف مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے یا پڑوسی ممالک کی سرحدوں کے قریب رہائشی چھاپہ ماروں کو نشانے بازی اور آر.پی-جی- چلانے کی معمولی تربیت دینا ممکن تھا ، لیکن جنگی مہارت کا فقدان اور ضروری تربیت کی کمی افغان چھاپہ ماروں کی بھی سب سے بڑی کمزوری شمار کی جاتی ہے -
افغانستان کی روایتی طرز رہائش کی بنا پرشہری عمارتوں کی کم بلندی اور ایک دوسرے سے نسبتاً زیادہ فاصلے کی وجہ سے بلندیوں کی روایتی بر تری سے افغان چھاپہ مار تقریباً محروم ہی رہے ، بہر حال تمام تر محرومی کے باوجود حسب حال بلندی سے استفادہ بھی کیا جاتا رہا -چونکہ افغان شہری ماحول سه جہتی جنگ کے لیۓ کم سازگار تھی ، لہذا زیادہ تر معرکے زمین یا پھر عمارتوں کی پہلی منزل ہی سے لڑے جاتے تھے – اکثر روسی فضائیہ ، توپ خانے یا بکتر بند حملوں سے بچنے کی خاطر چھاپہ مار گلیوں میں لڑنے کو ترجیح دیتے تھے – زیر زمین مورچوں کے کوئی خاص شواہد نہیں مل پاۓ-
گھات لگانے کے لیۓ ایسے مصروف مضافاتی بازاروں کا انتخاب کیا جاتا تھا جہاں روسی افواج کی آمد و رفت نسبتاً زیادہ ہوتی تھی -چھاپہ مار ایسی کاروائیوں کے لیۓ اکثر چھوٹے گروہوں کی شکل میں لڑنا پسند کرتے تھے – عام طور پر ایسے گروہ چار سے پانچ افراد پر مشتمل ہوتے تھے – افغان چھاپہ ماروں کی امتیازی خصوصیات شاید یہ بھی ہے کہ ایسے ہر گروہ کے پاس کم از کم ایک آر -پی-جی- ضرور ہوتی تھی – ایسے کوئی شواہد دستیاب نہیں کہ چھاپہ ماروں نے روسی افواج کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیۓ آر-پی-جی- کا دانستہ استعمال کیا ہو، بلکہ اس ہتھیار کو دوران جنگ بکتر بند گاڑیوں سے سامنا ہونے کی صورت میں ہی استعمال کیا جاتا تھا – ضروری نہیں کہ ہر معرکے میں انکا سامنا بکتر بند گاڑیوں سے ہوتا ، لیکن ہر معرکے میں آر-پی-جی کا ہونا انکی احتیاط پسندی کہی جا سکتی ہے -
مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیۓ عمارتوں میں گھسنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا تھا ، افغان چھاپہ مار عمارتوں کی چھت سے اندر آنے کو پسند کرتے تھے ، اس مقصد کے لیۓ قرب و جوار کی کچی پکّی دیواروں کو استعمال کیا جاتا ، اور اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوتا تو رسی یا سیڑھی بھی استعمال کی جاتی تھی -اگر کسی غیر مقبوضہ قصبے یا دیہات میں کوئی لڑائی مقصود ہوتی تو مجاہدین چھتوں پر نسبتاً بھاری ہتھیار بھی نصب کر لیتے تھے-
چھاپہ مار کسی بھی عمارت کو محفوظ کرنے یا وہاں سے عام افراد کو حملے سے قبل ہٹانے کی زحمت نہیں کرتے تھے – افغان چھاپہ مار حادثاتی طور پر ہونے والے غیر فوجی نقصانات پر بھی کسی تاسف کا شکار نظر نہیں آۓ – بم حملوں میں ہونے والے نا دانستہ غیر عسکری اموات سے اگرچہ چھاپہ ماروں کو سیاسی نقصان سے دو چار ہونا پڑتا تھا لیکن انھیں مخصوص اہداف کے حصول کی خاطر یہ سب گوارا تھا- چھاپہ ماروں کی بمباری / آر-پی-جی حملوں کے بنیادی اہداف روسی افواج ، انکی حمایت یافتہ افغانی افواج یا پھر کمیونسٹ پارٹی کے عھدے دار ہی ہوتے تھے – چونکہ فطری طور پر عوام کے درمیان بسنے والے اہداف پر ایسے حملوں میں معصوم لوگوں کو بھی موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچایا جا سکتا ،افغان چھاپہ مار بھی اس سلسلے میں بے بس ہی تھے -
اگرچہ نشانہ بازی چھاپہ مار جنگ میں ایک کلیدی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس جنگ میں کوئی خاص نشانہ بازی یا سنیپنگ نظر نہیں آتی ، شاید اس کی وجہ حریف طاقتوں کی صفوں میں مشاق نشانہ بازوں کی کمی تھی -
افغان سرزمین پر لڑی جانے والی اس تاریخی جنگ میں چھاپہ ماروں کی غیر متوقع حملہ کرنے کی صلاحیت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا – اگر چہ یہ سب عوامی تائید کے بل بوتے ہی پر ممکن تھا ، لیکن بعض مواقع پر ایسے حملوں کے لیۓ مطلوبہ مقام سے باہر سرگرم چھاپہ ماروں کو بھی مدعو کیا گیا – افغان چھاپہ مار اہداف تک پہنچنے اور با حفاظت واپسی کے لیۓ انتہائی عرق ریزی سے منصوبہ بندی کے عادی تھے – اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کی غرض سے حملوں کے لیۓ چھاپہ ماروں کی عام گزرگاہوں کا انتخاب کیا جاتا تھا تا کہ حملے کے لیۓ موافق موقع کے منتظر کسی چھاپہ مار کی سرگرمی روسی افواج یا ان کے جاسوسوں کی نظروں سے محفوظ رہے- مضافاتی آبادی میں موجود چھاپہ ماروں کے ہمدرد اور شہروں کے بارے میں ان کی جامع معلومات ، منصوبہ بندی میں بہت کارآمد ثابت ہوتی تھیں – زیادہ تر نقل و حرکت پیدل ہی ہوتی تھی اور عام افغانوں کے دور دراز علاقوں سے شہروں تک پیدل آنے اور پیدل واپسی کی عادت کے پیش نظر یہ ایک کامیاب حکمت عملی تھی – عام طور پر قرب و جوار کے دیہاتوں میں رہ کر کسی بھی مہم کی منصوبہ بندی کی جاتی ، ضروری ہتھیاروں اور افرادی قوت کے بارے میں حتمی تسلی کے بعد پیش قدمی کا فیصلہ کیا جاتا – شہر میں داخل ہونے کے بعد وہ (اپنی جامع معلومات کی بدولت ) تیزی سے اپنے مطلوبہ مقام کی جانب پیش قدمی کے قابل ہوتے تھے – روسی افواج عام طور پر غیر محفوظ علاقوں میں محتاط نقل و ہرقت کی عادی تھی ، اور بلا ضرورت گشت کرنے سے گریز کرتے تھے ، ایسے علاقوں سے بخوبی واقف چھاپہ مار دشمن کی نظروں میں آۓ بغیر با آسانی ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے تھے – اور با وقت ضرورت مختصر سے وقت میں چھاپہ ماروں کی بڑی تعداد کا جمع ہونا غیر معمولی نہیں تھا -بسا اوقات کسی کاروائی میں زیادہ افرادی قوت کے پیش نظر مختلف چھاپہ مار تنظیمیں علاقے میں موجود اپنی اپنی افرادی قوت کو جمع کرتے تھے ، اور متحد ہو کر ہدف پر دھاوا بول دیا جاتا تھا – کاروائی کے بعد ممکنہ شدید رد عمل کا خوف چھاپہ ماروں کے جلد از جلد منتشر ہونے کا متقاضی ہوتا ہے ، جس کے لیۓ افغان چھاپہ مار ممکنہ کم وقت میں مقامی لوگوں میں گھل مل کر اپنے پرانے راستے سے محفوظ مقامات کی طرف چلے جاتے تھے -
جیسا کہ افغان چھاپہ ماروں کی تربیت کے بارے میں دو طاقتور افواج (امریکہ و پاکستان ) کا ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیں ، اسی تربیت کا اثر تھا کہ افغان چھاپہ ماروں نے میدان جنگ کے بارے میں اپنے تصور کو روایتی فلسفوں کی حدود سے زیادہ وسیع کر لیا – اب چھاپہ مار بہتر منصوبہ بندی کے اہل ہونے لگے تھے ، وہ اپنے منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دینے لگے – ایک وقت تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ مہم میں سرگرم ٨٠ فی صد افرادی قوت کو صرف حفاظت پر ہی تعینات کیا جانے لگا- چونکہ اکثر شہروں میں رات کو کرفیو کا نفاذ رہنے لگا اور بڑی تعداد میں روسی افواج رات بھر شہر کی گلیوں میں تعینات رہنے لگیں، جس کی وجہ سے چھاپہ ماروں کو مشکلات بھی پیش آنے لگیں-
مجاھدین/چھاپہ ماروں کی انہی عادات کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد روسی افواج لڑائی کے بعد گرفتاریوں ، یا استعمال شدہ اسلحہ کی برآمدگی پر بہت کم ہی وقت زیاں کرتی تھیں -اگرچہ شہر میں مصروف عمل چھاپہ مار تنظیموں کو دیہاتوں میں مصروف گوریلا تنظیموں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سستی اور نا اہلی کے الزامات کا سامنا بھی رہا ، لیکن ان کی اہداف کی نشاندہی ، جاسوسوں سے ملنے والی معلومات کا بروقت اور مناسب استعمال کرنے کی صلاحیت ، اور دشمن کو اخلاقی و نفسیاتی طور پر پستی کی طرف دھکیلنے میں شاید ہی کوئی دیہات کی تنظیم مقابلہ کر سکی – اصل میں شہری چھاپہ ماروں کی ان صلاحیتوں میں اضافے کی وجہ انہیں دستیاب مقامی آبادی میں گھلنے ملنے کے خاطر خواہ مواقع تھے ، انہیں اپنے اہداف کو قریب سے دیکھنے ، انکی کمزوریوں کا بغور جائزہ لینے کے متعدد مواقع میسر تھے – یہی وجہ تھی کہ انکی تباہ کن منصوبہ بندی کے سامنے دیہی علاقوں میں برسر پیکار تنظیموں کا قد انتہائی گھٹ جاتا ہے - جبکہ انکے برعکس دیہاتوں میں سرگرم عمل چھاپہ مار تنظیموں کے ارکان اپنی کمین گاہوں میں تنہائی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے - انکے فطری حدود و پیشہ وارانہ مجبوریاں انکی صلاحیتوں کے محدود ہونے کی وجہ تھیں ، لیکن دیہی علاقوں میں بر سر پیکار تنظیموں کی پوری تحریک میں اہمیت چنداں کم نہیں ہوتی – دیہی تنظیموں کے منصوبوں میں اہداف کے انتخاب کا طریقہ کار بھی ذرا مختلف ہوتا تھا ، جہاں شہری تنظیمیں گنجان آباد علاقوں کو پسند کرتے تھے وہیں دیہی تنظیمیں غیر آباد علاقوں میں کاروائی کو زیادہ سہل اور قابل عمل سمجھا جاتا تھا – اگر قابض افواج کے کسی کارواں کو کوئی لمبا سفر درپیش ہوتا تو حتیٰ لا مکان تمام راستوں پر مناسب فاصلے پر مشاہداتی چوکیاں تعینات کی جاتی تھیں ، اور مستقل گشت کا ضروری اہتمام بھی کیا جاتا تھا – تاکہ دیہی چھاپہ مار تنظیموں کے ممکنہ حملوں سے بچا جا سکتا- ایسے بندو بست سے نمٹنے کے لیۓ چھاپہ مار تنظیمیں ہر ایسی چوکی کو مصروف رکھنے کے لیۓ ایک الگ گروہ ترتیب دیا جاتا تھا جو ممکنہ طور پر چھاپہ مار کاروائی کے لیۓ کوئی مسائل پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا – تھوڑی سی نفری کو اصل ہدف پر حملے کے لیۓ استعمال کیا جاتا تھا ، جبکہ حفاظتی اقدامات اور ممکنہ جوابی کاروائی کے لیۓ آنے والی افواج کا راستہ روکنے پر تعینات کیا جاتا تھا -
دیہی تنظیموں کا ضمنی ذکر ذرا طویل ہو گیا جس کے لیۓ معذرت ، بات ہو رہی تھی شہروں میں بر سر پیکار گوریلا تنظیموں کی ، مقامی آبادی میں انکے گھلنے ملنے کی صلاحیت انھیں روسی افواج اور روسی حمایت یافتہ افغان حکّام کو با آسانی ہدف بنانے کا موقع فراہم کرتی تھی ، جس سے کما حقہ فائدہ بھی اٹھایا جاتا تھا – روسی افواج کی خدمات پر مامور غیر فوجی افغانوں کو لالچ ، دھونس ، دھمکی یا پھر فطری ہمدردی کی بنا پر اپنے حق میں استعمال کرنا چھاپہ ماروں کے لیۓ نسبتاً آسان اور سود مند ثابت ہوا- ایسے افراد کے تعاون سے انھیں اہم روسی / روس کے حمایتی افراد کو ان کے محفوظ عمارتوں میں کامیابی سے نشانہ بنانے کافی مدد ملتی تھی – عمارت میں موجود افراد ، انکی مصروفیات ، انکے اوقات کار ، عمارت کی حفاظت پر مامور عملے کی تعداد ، حفاظتی عملے کے تعیناتی کے جگہوں کی درست نشاندہی ، غرضیکہ تمام ضروری معلومات ان ایجنٹوں سے حاصل کی جاتی تھی -
شہری چھاپہ مار کسی بھی تیرہ کی جداگانہ شناخت نہیں رکھتے تھے نہ ہی کوئی شناختی علامت اور وردی استعمال کرتے تھے – انکی دانستہ کوشش ہوتی تھی کہ عسکریت پسندوں اور عام شہری آبادی میں تفریق کسی کے لیۓ بھی انتہائی دشوار ہو -اس حکمت عملی کی وجہ سے وہ عام طور پر روسی افواج کے سامنے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے روز مرّہ کے کام انجام دیتے تھے -عام طور پر بزرگ شہریوں کو ہتھیاروں کی نقل و حمل اور پیغام رسانی کے لیۓ استعمال کیا جاتا تھا – کچھ مخصوص مواقع پر تو برقع پوش خواتین سے بھی سرکاری عمارتوں میں بم نصب کرنے کا کام لیا گیا – ایک روسی فوجی صلاحکار کو اغوا کرنے کے لیۓ چھاپہ مار افغان فوجیوں کی مخصوص وردی میں آے تھے ، چند دیگر مواقع پر بھی چھاپہ ماروں نے دھوکہ دینے کے لیۓ روسی / سرکاری سپاہ کی مخصوص وردی استعمال کی -
ایک مرتبہ تو کچھ لوگ مقامی کسانوں کی تیرہ کے کپڑے پہنے ، کئی روز تک روسی افواج کے لیۓ مخصوص بس اڈے پر ، ریڑھی لگا کر تازہ پھل اور سبزیاں بیچتے رہے ، کئی روز کی مشق کے بعد انھوں نیں پھلوں کے نیچے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز بارود رکھ کر ریڑھی کو اس وقت بذریعہ ریموٹ اڑا دیا ، جب آس پاس روسی سپاہ کی بڑی تعداد موجود تھی - ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب چھاپہ ماروں نے غیر متوقع طور پر روسی افواج / سرکاری عھدے داروں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بغیر کوئی نقصان اٹھاۓکامیاب کاروائیاں کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور روسی افواج بے بسی سے تماشہ دیکھتی رہی-
جاری ہے ……….
(اگرچہ افغان تحریک ، دیہی علاقوں میں گوریلا تنظیموں کے شدید مزاحمت کے ذکر کے بغیر ادھورہ ہی رہ جاتا ہے کیونکہ تحریک کی ٧٠ فیصد جنگیں دیہی خطوں میں خالص دیہی ماحول میں لڑی گئیں، لیکن دیہی جنگی حکمت عملیوں کا ذکر کسی دوسرے مضمون میں مفصل رہے گا )