بلوچ فن اور ثقافت کو پابزنجیر کرنے کی ایک اور واردات
تحریر نواز بگٹی
اطلاع آئ ہے کہ بلوچستان کے دو معروف گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ کے ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا - فن و ثقافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو چیزیں فطرت نے ابتداء ہی سے انسان کو تحفے میں دی ہیں – انسان پیدائشی طور پر بولنے اور رابطہ رکھنے کی صلاحیتوں کا مالک ہے – انسان اپنے ابتدائی دنوں سے ہی آواز اور تصویری ذرائع کو باہمی رابطے کے اوزاروں کی حیثیت سے بخوبی استعمال کرتا آیا ہے – شعر و شاعری کا استعمال اپنے ماحول کی بھر پور عکاسی اور معاشرے کی ان سنی آواز کی نمائندگی کے حوالے سے فنون لطیفہ میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں – کہتے ہیں کہ اچھا شاعر وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہو
شاعری کو عوامی زبان اور مقبولیت ہمیشہ گلوکاری کے صنف نے دی- یعنی اگر شاعر معاشرے کی آواز ہے تو گلوکار شاعر کی زبان- قومی احساسات اور شعور کو اجاگر کرنے میں سب سے اہم کردار شاعری اور گلوکاری نے ادا کیا- اور فن کو ثقافت کا درجہ ہمیشہ فن کے معاشرے میں رچ بس جانے کے بعد حاصل ہوتا ہے – جب ہم فن و ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسا فن ہوتا ہے جو مکمل طور معاشرے کے دوسرے اجزاء میں تحلیل ہو کر روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاۓ
اگر قوم اپنے جہد آزادی کے ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شاعر معاشرے کے ان احساسات کی عکاسی میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو – اور ایک ایماندار شاعر کو نظر انداز کرنا کسی بھی گلوکار کے بس کی بات نہیں – ایسے میں قابض قوتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی طرح معاشرے کے ان اجتماعی آوازوں کو خاموش کروا دیا جاۓ
بلوچ گلوکار علی جان اور شہزاد ندیم کا اغوا بھی انہی غاصبانہ حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے – لیکن تاریخ سے بے بہرہ ، سماجی سائنس سے نا بلد ، طاقت کے نشے میں چور ان ریاستی افواج کو نہیں معلوم کہ تنگ و تاریک کوٹھریوں سے گونجنے والی آوازیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیں – دو معصوم گلوکاروں کو اغوا کرنے ، انھیں انسانیت سوز مظالم کا شکار بنانے سے ایک قوم کی آواز دبے گی تو کیا بلکہ مزید اونچی ہو کر ان کے ایوانوں کو زمین بوس کر دے گی
ہم مغوی علی جان اور شہزاد ندیم کی با سلامت واپسی کی دعا ہی کر سکتے ہیں
نوٹ ( ١٧ جنوری ٢٠١١) : بلوچ قوم کی دعاؤں میں بھی شاید کوئی اثر نہیں رہی ، متذکرہ بالا بلوچ گلوکاروں کی مسخ شدہ لاشیں بسیمہ ( بلوچستان ) کے پاس مل گئی ہیں