علیحدگی پسند تحریکیں اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٦
تحریر نواز بگٹی
طاقت، تبادلہ اور تشہیر -٢
-اس تحریر میں جن اشاریوں کا استعمال کیا جے گا ، ان سے صرف طلب حمایت کی وضاحت ہو پاۓ گی – مزاحمت کاروں کی امدادی ضروریات کا تعین نہیں ہو پاۓ گا-مزاحمت کاروں کے مقاصد ، کثیر القومی کمپنیوں ، مالیاتی اداروں ، یا ریاستی معاملات کی حکمت عملیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لانے کے ہو سکتے ہیں – یہ مقاصد کچھ بھی ہو سکتے ہیں ، کسی ڈیم پر کام روکنے سے لے کر کسی ملک کے دو لخت کیے جانے کی کوشش تک-ایک بات دھیان میں رہے اگر ان کے مقاصد آسانی سے حاصل ہونے والے ہوں تو وہ کبھی بھی بیرونی امداد کی جانب راغب نہیں ہوتے- یقیناً کسی بھی تحریک کے ذمہ دار یہ نہیں چاہیں گے کہ انکی امدادی اپیلیں رائیگاں جائیں ، اس لئے کسی بھی بین الا قوامی امدادی ایجنسی ، یا غیر ریاستی تنظیم کو با قاعدہ درخواست دینے سے پہلے ، اسکی امدادی صلاحیتوں ،تنظیمی مفادات ، طریقہ کار ، اور اسے دستیاب وسائل کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے -اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مزاحمت کاروں کو بھاری اور مسلسل امداد چاہیے ہوتی ہے-
پچھلی تحریر میں ہم مزاحمت کاروں کی بڑی تعداد کے امداد و حمایت کے مستحق ہونے کا ذکر کر کر چکے ہیں – وہ جنھوں نہیں اپنی ویب سائٹس شروع کی ہوئی ہیں ، یا عالمی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں ، انھیں اس معاملے میں ان سب پر برتری حاصل ہے جو ان علامتی سنگ میلوں کو ابھی تک عبور نہیں کر پاۓ-
واضح ہو کہ اس بحث میں خفیہ امداد کی طلب کا پہلو تشنگی کا شکار رہے گا – بیتابی سے امداد کے منتظر لوگوں میں بیرونی امداد کی آمد کے جادوئی اثرات دیکھنے میں آئ ہیں- معروف مصنف کیری مایر کے بقول ” ایکواڈور کے دیہاتوں میں ، جیسے ہی بین الا قوامی اداروں کی جانب سے رقم کا بندوبست کیا گیا ، مقامی ماحولیاتی تنظیموں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا -” وسیع تجریدی بنیادوں کے مشاہدے میں ماہرین سماجیات کے مطابق اس تیرہ کی امداد سیاسی مواقع میں اضافے کا سبب بنتی ہے، یعنی وسائل اور اتحادیوں کی موجودگی سماجی تحریکوں کو مہمیز کرتی ہیں-پس بیرونی وسائل تک رسائی سے مزاحمت کاروں کی تعداد یا انکے مطالبات میں مقامی ضروریات کے مطابق اضافہ ہو جاتا ہے
ضروری نہیں کہ غاصب و طاقتور کا مقابلہ کرنے والی ہر تنظیم /گروہ/تحریک اپنے مقاصد کو بین الا قوامی سطح پر اجاگر کرے – بسا اوقات مخصوص مذہبی اعتقادات یا قومی تصورات کے تقاضوں کے پیش نظر کچھ تحریکیں اپنے معاملات کو بین الا قوامیت کا درجہ دینے سے گریز کرتی ہیں- شاید یہی وجہ ہے کہ پیرو کی مشہور ” شائننگ پاتھ ” نامی مزاحمتی تحریک خود کو بین الا قوامی سطح پر بہت کم متعارف کرواتی ہے- کچھ مزاحمت کاروں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی ہی آبادیوں سے مناسب وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں-ہندوستان کے کچھ مذہبی گروہ اپنے علیحدہ ریاستوں ( صوبائی یونٹس ) کے قیام کی جدجہد میں ، مقامی وسائل کے استعمال سے کامیاب ہوئی ہیں ، انھوں نے کبھی بین الا قوامی امداد نہیں حاصل کی -مقامی سیاست کے تقاضے بھی بیرونی امداد سے پہلو تہی کی وجہ ہو سکتے ہیں- جیسے کہ فیڈل کاسترو کی حکومت کے مقامی مخالفین ، امریکی امداد قبول کرنے سے انکار کرتے آۓ ہیں- ملائیشیا میں بھی شہری سماج کی تنظیمیں بیرونی این-جی-اوز سے امداد لینے سے گریز کرتی ہیں کیوں کہ ملک کی سیاسی قیادت این-جی-اوز کو مغربی دنیا کی پیادہ سپاہ سے تشبیہ دیتے ہیں- ان اصولوں سے سیاسی بنیادوں پر اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہے ، جیسے کہ کے امریکا کے معروف ماہر سیاسیات ” ایلمر ایرک ایس “ کے خیال میں تمام سیاسی دساتیر کی بنیاد توسیع پسندی ہے ، اپنے مقاصد میں کامیابی کے لئے دستیاب وسائل کی کمی سے تنگ آ کر ہی مزاحمت کار بیرونی امداد کا طلبگار ہوتا ہے
بین الا قوامی امداد کی ترسیل پر اگر نگاہ ڈالی جاۓ تو ، گزشتہ چند سالوں میں این-جی-اوز کے وسائل میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے- اس کے با وجود اہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ مقامی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں-ہیومن رائٹس واچ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک معتبر تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے ، اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ” ہم واضح طور پر بہت سارے سنگین انسانی حقوق کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ” – اسی طرح امریکی شہر واشنگٹن ڈی-سی- میں قائم ” انٹر نیشنل فاونڈیشن فار الیکشن سسٹمز ” نامی تنظیم اپنی ایک رپورٹ میں دنیا بھر سے جمہوریت اور انتظامی مدد کے طلبگاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا انکشاف کرتی ہے-عالمی بینک کے مطابق ترقی کے میدان میں کام کرنے والی این-جی-اوز کے وسائل ، غربت کے دائرہ کار اور گہرائی کے مقابلے میں بونوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں- صرف انسانی حقوق یا غربت کے خاتمے کی تنظیموں کا ہی یہ حال نہیں ہے ، ماحولیاتی میدان میں کام کرنے والی تنظیموں کے وسائل پر اگر نظر ڈالی جاۓ تو ان کے حالات بھی دگر گوں نظر آتے ہیں- ماحولیات پر کام کرنے والی ایک تنظیم انٹر نیشنل ریور نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ وہ کم وسائل کی بنا پر صرف ان معاملات پر دھیان دینے کی کوشش کرتے ہیں جن سے عالمی ماحول کو شدید خطرات لاحق ہوں
ایک طرف این-جی-اوز کو مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معاشی مشکلات کا سامنا ہے ، تو دوسری جانب انھیں اپنے ریاستی سرپرستوں ،اور مخیر حضرات سے تنظیم کے لئے مالی وسائل کا بندوبست کرنے کے لئے شدید مسابقت کا سامنا ہے-گزشتہ تھوڑے سے عرصے میں جہاں کئی ایک نئی این-جی-اوز ظہور پذیر ہوئی ہیں ، وہاں درجنوں وسائل کی کمی کا شکار ہو کر معدوم بھی ہو گئیں- مسابقت کا ماحول این-جی-اوز کو انفرادیت برقرار رکھنے پر مجبور کرتی ہے ، جس کی بناء پر این-جی-اوز مخصوص مسائل پر ہی اپنی توجہ مرکوز کرتی ہیں یا پھر کسی مخصوص میدان میں مہارت کا مظاہرہ کرتی ہیں- مسائل و مصائب کے اس گورکھ دھندے میں گھرے رہنے کے باوجود این-جی-اوز کسی تحریک کی مدد کو مردانہ وار آگے آتی ہیں- بنیادی طور پر دنیا بھر کے مخیر حضرات / اداروں اور مستحقین کے بیچ ان تنظیموں کا کردار دربان کا سا ہوتا ہے- اپنی سالوں کی محنت سے اس دربان کو یہ محترم جگہ بھی مل جاتی ہے کہ وہ کسسی بھی خطّے میں ، کسی بھی تحریک کی مدد کا فیصلہ کرے- این-جی-اوز کے کردار کے علاوہ جو چیز اہم ہے ، وہ ہے انکی معلومات کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی صلاحیت- کیونکہ دوسری این – جی – اوز ، صحافیوں اور سرکاری اداروں تک انکی رسائی کسی دوسرے کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے- ایسی صورتحال میں اگر یہ دربان براہ راست کسی تحریک کے حق میں کوئی بات نہ بھی کریں تو ،دوسرے ذرائع سے کسی بھی تحریک کو نہ صرف زبان ، اور پہچان دے سکتے ہیں بلکہ انکے تحریک کے جائز اور اہم ثابت کر کے انکی حمایت پر اپنی رضامندی بھی ظاہر کی جاتی ہے- بہت سارے معاملات پر ایسے دربان تلاش کرنا قدرے آسان ہوتا ہے- انسانی حقوق کے میدان میں ، ہیومن رائٹس واچ ، اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کردار ، ماحولیات کے میدان میں گرین پیس اور فرینڈز آف ارتھ نامی تنظیمیں کچھ اس طرح ہی کا کردار ادا کرتی ہیں
چونکہ اکثر این-جی-اوز کے پاس مزاحمتی تحریکوں کے دعووں کو پرکھنے کے لئے ضروری مہارت اور وسائل نہیں ہوتے اسی لئے وہ ان دربان صفت این-جی-اوز کی سفارشات پر بہت حد تک انحصار کرتے ہیں- ایسے این -جی-اوز کو پیروکار این-جی-اوز کہنا غلط نہ ہوگا – در حقیقت یہ پیروکار این-جی-اوز جن تحریکوں کی مدد یا حمایت کر رہے ہوتے ہیں ، ان سے باہمی روابط بھی براۓ نام ہی رکھ پاتے ہیں – امریکی سیریا کلب کا ایک نمائندہ دربان صفت این-جی-اوز پر اپنے انحصار کی وجہ بیرونی دنیا میں اپنے تنظیمی ڈھانچے کے نہ ہونے کو قرار دیتے ہیں- انکا کہنا ہے ” چونکہ امریکا سے باہر ہمارے منظم دفاتر نہیں ہیں ، اسی لئے ہم “ایمنسٹی انٹر نیشنل ، ہیومن رائٹس واچ ، اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ” جیسے اداروں کی دی گئی معلومات پر تکیہ کرتے ہیں
امدادی کاموں میں انتہائی اہم کردار کے باوجود ممکن ہے کہ دربان صفت این-جی-اوز کسی مزاحمتی تحریک کے پہلے حمایتیوں میں نہ ہوں – بہتر ہوگا کہ تحریک ابتدائی مراحل میں غیر نمایاں تنظیموں سے اپنے رابطے استوار کرے ، ایسی تنظیمیں ان کے مقاصد کو مناسب انداز میں معروف دربانوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں- ایسی غیر نمایاں تنظیموں کی جگہ ایسے افرادبھی لے سکتے ہیں ، جن کے تحریک سے گہرے روابط ہوں – یا پھر اساتذہ کرام / علماء کرام بھی جز وقتی طور پر تحریک کے مقاصد کو مناسب آواز دے سکتے ہیں- امریکا کے ماہرین بشریات نے امریکا کے بسنے والے قدیم نسلوں کی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک ایسا ہی کامیاب تجربہ کیا ہے- کچھ این-جی-اوز پیشہ ور انداز میں اسس طرح کے کام کے لئے بھی اپنی خدمات وقف کرتی ہیں -تا کہ مقامی تحریکوں کی مناسب امدادی اداروں اور ممکنہ امدادی ڈھانچے سے رابطے استوار کرنے کے لئے راہنمائی کر سکیں- اس سلسلے میں نایجیریا کے ” کدرت انیشیٹو فار ڈیولپمنٹ ” نامی ادارے کی مثال دی جا سکتی ہے ، جیسا بنیادی مقصد شہری سماج کی تنظیموں کو مناسب و ممکنہ امدادی اداروں تک رسائی کے لئے سہولیات کی فراہمی ہے- وسیع تر معنوں میں اس تمام صورتحال کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ” بین الا قوامی امدادی تنظیمیں ،دربان صفت تنظیموں کی سفارشات کے بنیاد پر مقامی امدادی تنظیموں کے توسط سے انسانی امداد کی مقامی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں
دو باتیں تو بہت واضح ہو جاتی ہیں ، پہلی یہ کہ امدادی سلسلہ ہمیشہ یکطرفہ نہیں ہوتا ، اور دوسری بات یہ کہ ہر امدادی سلسلے کے پیچھے کئی ایک راہنما قوتیں کار فرما ہوتی ہیں- لیکن ایک بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ ہر معاملے میں متعلقہ این-جی-اوز کا کردار یکساں نہیں رہتا – مختلف تنازعات کے امدادی کاموں میں سرگرم این-جی-اوز کے کردار کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ایک ہی این-جی-او کسی ایک معاملے میں دربان کا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے تو اسی وقت کسی دوسرے معاملے میں پیروکار کا- اسی لئے کسی بھی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ بین الا قوامی سطح پر امداد کی اپیل سے پہلے مناسب غیر ریاستی تنظیم کے انتخاب میں ضروری عرق ریزی سے کام لے
(جاری ہے …………….)