علیحدگی پسند تحریکیں ، اور بیرونی امداد کی اہمیت – حصّہ ٥
تحریر نواز بگٹی
طاقت ، تبادلہ ، اور تشہیر
حمایت کے حصول کی خاطر مزاحمتی تحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اقوام عالم سے اپنے روابط استوار کرے ، اپنی راہ میں قربانیاں دے ، اور بہت کم داؤ پر لگاتے ہوۓ نسبتاً زیادہ مراعات حاصل کر سکے – اور اکثر مزاحمتی تحریکوں کو حالت کے دباؤ ، دشمن کے کشت و خون ، وسائل کی کمی ، یا غیر نمایاں مقام ایسا کرنے پر مجبور بھی کرتی ہیں – بین الا قوامی برادری سے مربوط رشتے تحریکوں کو اپنی جیسی مسابقتی تحریکوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہیں – تاہم امداد کے وعدے علاقائی تنظیموں کو عالمی برادری کی جانب راغب ضرور کرتی ہے – لیکن یہاں انھیں اپنے تصور سے کچھ زیادہ ہی بے وقعت ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے – یقیناً بیرونی دنیا کے لئے پایا جانے والا ہمدردی کا جزبہ این-جی-اوز کومنافع خور کثیر القومی کمپنیوں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں سرشار ریاستوں سے ممتاز کرتی ہیں – جیسے کہ این -جی-اوز کا مرکزی مطمع نظر ، خیالات ، اصول و ضوابط ، اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کی ترویج ہوتی ہے – انکے حالیہ بڑھتے ہوۓ اثر و رسوخ نے دنیا بھر میں تنازعات پر مقالموں و مباحثوں کے انعقاد ،وسیع تر انتخاب ، اور بہتر نتائج کے ذریعے عالمی سیاست کے بارے میں اقوام عالم کو ایک نۓ نقطہء نظر سے متعارف کروایا – مظلوموں کی طرف سے رضاکارانہ کاروائی انکے بنیادی اقدار میں سے ایک ہے – اور اکثر این-جی-اوز کے عمال اپنی متعین کردہ راہ عمل کو انتہائی اخلاص اور خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں – لیکن این-جی-اوز اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود -ایک تنظیم ہی ہوتی ہیں – انہیں بھی ، کسی بھی تنظیم کی طرح ، بقا ، بحالی ، اور نشونما کے بنیادی مسائل کا سامنا رہتا ہے- عالمی رشتے استوار کرتے وقت ان مسائل سے نمٹنا بذات خود ایک مسلہ ہوتا ہے -مزاحمتی تحریک چاہے کتنی بھی مربوط نیٹ ورک کا حامل کیوں نہ ہو ، اس کے اغراض و مقاصد، دائرہ عمل ،اور طریقہء کار کسی بھی این-جی-او سے یکسر مختلف ہوتے ہیں – حالانکہ دونوں ہی محکومانہ سیاسی نظام ، اور پیسے ہوۓ طبقے کے درمیان کام کر رہے ہوتے ہیں
دو مختلف کرداروں کے تناظر میں مزاحمتی تحریک اور کسی بھی این-جی-او کے درمیان رشتے کو صرف با ہمی تبادلے کا نام دیا جا سکتا ہے – ایک مدت سے سماجی تجزیوں میں باہمی تبادلے کا یہ تصور تو رائج ہے ہی لیکن بین الا قوامی نیٹ ورکس کے پڑھنے والے شاید اس تصور کے بصیرت کی گہرایوں کو جانچنے سے قاصر رہے- اس تناظر میں ایک طرف تو مزاحمتی تحریک اپنے لیے اخلاقی جواز کے ساتھ ساتھ معاشی ، مادی ، اور معلوماتی مدد کی منتظر ملتی ہے تاکہ اپنے سے طاقتور دشمن کا مقابلہ کر سکے – جبکہ دوسری طرف این-جی-او اپنے محدود مفادات اور مخصوص مقاصد لئے – مقامی تحریکوں کی حمایت کر کے این-جی-اوز ضرورت مندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے ، اور اپنے اصولی یا سیاسی مقاصد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں – انہیں اہم غیر مادی وسائل تک بھی رسائی حاصل ہو جاتی ہے – سب سے اہم این-جی-او کے لئے بین الا قوامی طور پر متحرک ہونے کا اخلاقی جواز فراہم ہونا ہوتا ہے ، انکی یہ ضرورت کبھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہے- اپنے دائرہ اثر میں پر وقار مقام دلا کر ، یا دوسری تحریکوں کے بارے میں کارآمد معلومات فراہم کر کے، اکثر امداد وصول کرنے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کو وسیع تر مہمات کے کی تیاری میں مدد فراہم کر رہے ہوتے ہیں- مزید برآں عقلمندی سے کام لینے والی تحریکیں ، اپنی سرپرست این-جی-اوز کے محدود وسائل کو حتیٰ الا مکان بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں تا کہ انھیں کسی اور جگہ / کسی اور مقصد یا جدوجہد کے لئے استعمال کیا جا سکے
اسی طرح کی باہمی مفادات عالمی حمایت کی فضا ہموار کرتی ہیں – لیکن اس منڈی میں فریقین کے ما بین طلب و رسد کا فرق بہت زیادہ ہوتا ہے-طلب کی طرف ،امداد کے حصول کی خاطر ، (حالات سے تنگ یا پھر موقع اور وسائل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف )، بہت سارے مزاحمت کار وں کی مسلسل اپیلیں ہوتی ہیں – اگرچہ مزاحمت کاروں کے درست اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہو سکتے ، لیکن امدادی اداروں کو ، بذریعہ ای-میل ، فیکس، یا پھر براہ راست درخواستیں دی جاتی ہیں- مزاحمت کاروں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے انٹر نیٹ پر موجود انکے ویب سائٹس کو بھی اشاریے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے – ان ویب سائٹس کا بنیادی مقصد دنیا کو اپنے دعوؤں کے بارے میں آگاہ رکھنا ہوتا ہے – ایسی سینکڑوں ویب سائٹس کا حالیہ سالوں میں اندراج دیکھا گیا ہے – مقامی مزاحمت کار ماحولیات کے مسائل سے لے کر نسلی و انسانی مسائل پر مباحثے کے لئے منعقدہ بین الا قوامی اجتماعات میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں-
پچھلے ٣٠ سالوں میں اقوام متحدہ کے تعاون سے منعقد ہونے والے مباحثوں میں غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت میں ڈرامائ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے – انہیں نہ صرف شرکت کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ان کے اپنے طریقہ کار کے مطابق مختلف معاملات پر اخذ کیے گے ان کے تجزیوں اور نتائج پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے- حتیٰ کہ مقامی باشندوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورکنگ گروپ فار انڈیجینیس پاپولشن ، کے با قاعدہ سالانہ اجتماعات مزاحمت کاروں کی بڑی تعداد کے لیے پر کشش بن گئی ہیں- اگرچہ ان اجتماعات کے کئی ایک مقاصد ہوتے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ اہمیت باہمی رابطے کے بین الا قوامی موقع کو دیا جاتا ہے
(جاری ہے …..)